• 20 ستمبر, 2020

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ)

(قسط ہشتم)

چوتھی شق۔ جماعت کی عمومی حفاظت کا وعدہ

اب ہم پیشگوئی کی چوتھی شق کو لیتے ہیں جس میں جماعت احمدیہ کی عمومی حفاظت کاوعدہ کیا گیا تھا۔ اگرچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس دعویٰ میں اولیت حاصل تھی کہ یہ طاعون چونکہ عذاب الہٰی ہے اس لئے اس کا روحانی علاج ہی تجویز ہونا چاہئے۔ لیکن حضور علیہ السلام کے اس دعویٰ کے بعد بکثرت دوسرے مذاہب اور فرقوں کے رہنما بھی اس نقطہ نگاہ میں آپ سے متفق ہوگئے البتہ اس اصل کو تسلیم کرتے ہوئے جو نتیجہ نکالا وہ بالکل مختلف تھا۔ گو سبھی یہ تسلیم کرتے تھے کہ اس عذاب سے بچنے کے لئے کوئی روحانی علاج ہی تجویز ہونا چاہئے لیکن ان میں سے ہر ایک الگ الگ اور مختلف روحانی علاج تجویز کررہا تھا جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر مذہبی مقابلہ کی ایک دلچسپ صورت پیدا ہوگئی۔ خصوصاً پنجاب کی سرزمین تو اس پہلو سے ایک وسیع مذہبی اکھاڑے میں تبدیل ہوگئی جس کی مٹی کو بلائے طاعون نے ہل چلا چلا کر اس مقصد کے لئے نرم اور سازگاربنا رکھا تھا۔ طاعون سے بچنے کے لئے جو مختلف نسخہ جات منظر عام پر آرہے تھےان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’اور مسلمان لوگ جیسا کہ میاں شمس الدین سکرٹری انجمن حمایت اسلام لاہور کے اشتہار سے سمجھا جاتا ہے جس کو انہوں نے ماہ حال یعنی اپریل 1902ء میں شایع کیا ہے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام فرقے مسلمانوں کے شیعہ سنی مقلد غیر مقلد میدانوں میں آکر اپنے اپنے طریقہ مذہب میں دعائیں کریں اور ایک ہی تاریخ میں اکٹھے ہوکر نمازپڑھیں تو بس یہ ایسا نسخہ ہے کہ معاً اس سے طاعون دور ہوجائے گی مگر اکٹھے کیونکر ہوں اس کی کوئی تدبیر نہیں بتلائی گئی۔ ظاہر ہے کہ فرقہ وہابیہ کے مذہب کے رو سے تو بغیر فاتحہ خوانی کے نماز درست ہی نہیں پس اس صورت میں ان کے ساتھ حنفیوں کی نماز کیونکر ہوسکتی ہے۔ کیا باہم فساد نہیں ہوگا ماسوا اس کے اس اشتہار کے لکھنے والے نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ ہندو اس مرض کے دفع کے لئے کیا کریں۔ کیا ان کو اجازت ہے یا نہیں کہ وہ بھی اس وقت اپنے بتوں سے مدد مانگیں۔ اور عیسائی کس طریق کو اختیار کریں ۔اور جو فرقے حضرت حسین یا علی رضی اللہ عنہ کو قاضی الحاجات سمجھتے ہیں اور محرم میں تعزیوں پر ہزاروں درخواستیں مرادوں کے لئے گزارا کرتے ہیں اور یا جو مسلمان سید عبدالقادر جیلانی کی پوجا کرتے ہیں یا جو شاہ مدار یا سخی سرور کو پوجتے ہیں وہ کیا کریں اور کیا اب یہ تمام فرقے دعائیں نہیں کرتے بلکہ ہر ایک فرقہ خوف زدہ ہوکر اپنے اپنے معبود کو پکار رہا ہے …………

یہ تو مسلمانوں کے خیالات ہیں جو طاعون کو دور کرنے کے لئے سوچے گئے ہیں۔ اور عیسائیوں کے خیالات کے لئے ابھی ایک اشتہار پادری وائٹ بریخت صاحب اور ان کی انجمن کی طرف سے نکلا ہے اور وہ یہ کہ طاعون کے دور کرنے کے لئے اور کوئی تدبیر کافی نہیں بجز اس کے کہ حضرت مسیح کو خدا مان لیں اور ان کے کفارہ پر ایمان لے آویں۔

اور ہندوؤں میں سے جو آریہ دھرم کے لوگ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ بلائے طاعون وید کے ترک کرنے کی وجہ سے ہے تمام فرقوں کو چاہئے کہ ویدوں کی ست ودیا پر ایمان لاویں اور تمام نبیوں کو نعوذ باللہ مفتری قرار دے دیں تب اس تدبیر سے طاعون دور ہوجائے گی۔

’’اور ہندوؤں میں جو سناتن دھرم فرقہ ہے اس فرقہ میں دفع طاعون کے بارے میں جو رائے ظاہر کی گئی ہے اگر ہم پرچہ اخبار عام نہ پڑھتے تو شاید اس عجیب رائے سے بے خبر رہتے اور وہ رائے یہ ہے کہ یہ بلائے طاعون گائے کی وجہ سے آئی ہے۔ اگر گورنمنٹ یہ قانون پاس کردے کہ اس ملک میں گائے ہرگز ہرگزذبح نہ کی جائے تو پھر دیکھئے کہ طاعون کیونکر دفع ہوجاتی ہے۔ بلکہ اسی اخبار میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک شخص نے گائے کو بولتے سنا کہ وہ کہتی ہے کہ میری وجہ سے ہی اس ملک میں طاعون آیا ہے۔‘‘

(دافع البلاء ،روحانی خزائن جلد18، صفحہ223-224)

ان مختلف روحانی نسخہ جات کے بعد آپ نے اس بارہ میں اپنا موقف حسب ذیل الفاظ میں بیان فرمایا:۔
’’اس بیماری کے دفع کے لئے وہ پیغام جو خدا نے مجھے دیا ہے وہ یہی ہے کہ لوگ مجھے سچے دل سے مسیح موعود مان لیں۔‘‘

(دافع البلاء، روحانی خزائن جلد18، صفحہ226)

آئیے اب ہم دیکھیں کہ اس بلائے طاعون کی خود اپنی ادائیں کیا کہتی تھیں۔ عذاب الہٰی کے سے بامقصد اور سنجیدہ آداب تھے یا حوادث زمانہ کے سے لاابالی اور بے نظم و ضبط اطوار۔ اس زاویہ نگاہ سے واقعات کاایک سرسری جائزہ لینے سے ہی یہ حقیقت منکشف ہوجاتی ہے کہ اس طاعون کی روش اتفاقی حوادث کے تابع نہیں تھی بلکہ عذاب الہٰی کی بالا تر تقدیر کے ماتحت تھی۔ حوادث کا قانون تو اندھا ہوتا ہے، نیک و بد میں تمیز نہیں جانتا۔ سچے اور جھوٹے میں فرق نہیں کرسکتا بلکہ سب پر یکساں جاری ہوتا ہے لیکن طاعون کی یہ وباء اندھی نہ تھی۔ سچے اور جھوٹے میں فرق کرکے دکھاتی تھی۔ اس کی پکڑ کااصول سب پر یکساں جاری نہ تھا۔ بعضوں کو غیر معمولی سختی سے پکڑتی تھی اور بعضوں سے بڑی ملائمت کاسلوک کرتے ہوئے صرف نظر کرجاتی تھی۔اس نے حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں میں ایسا صاف اور بین فرق کرکے دکھایا کہ ایک زمانہ گواہ ٹھہرا اور وہ گواہیاں صفحہ ہستی پر ایک ایسا پائیدار نقش بن گئیں جو اس دعویدار کی صداقت پر گویابولتی تصویریں تھیں۔اگر یہ بیماری طبعی حوادث کا نتیجہ ہوتی تو بلاشبہ اسے حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے متبعین سے بھی ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے تھا جیسا اس نے دوسرے معالجین روحانی سے کیا۔ احمدی بستیاں بھی ویسے ہی اجڑ جاتیں جیسے دوسری بستیاں اجڑ رہی تھیں۔ بلکہ ان سے بڑھ کر گلشن احمدیت پرتباہی آنی چاہئے تھی۔ حضرت اقدس علیہ السلام اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کے دعاوی میں ایک بہت بڑا اور بنیادی فرق تھا۔ ان میں سے کسی کا یہ دعویٰ نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خاص خبر پاکر یہ علاج تجویز کررہا ہے۔ پس کوئی وجہ نہ تھی کہ مجوزہ روحانی علاج کی ناکامی کی صورت میں ان کے مرید اور حلقہ بگوش اپنے مذہب ہی سے ارتداد اختیار کرجاتے لیکن حضرت مرزاصاحب علیہ السلام کا معاملہ کچھ اور تھا۔ آپ اگر اپنے دعویٰ میں جھوٹے نکلتے تو بلاشبہ آپ کی ساری جماعت بدظن اور مرتد ہوکر اپنے آبائی فرقوں کی طرف لوٹ جاتی۔ وہ آپ کے گرد جمع ہی اس بنا پر ہوئے تھے کہ انہیں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ سے ہمکلام ہوتا ہے اور اس نے آپ کو زمانے کا امام بناکر بھیجا ہے۔ محض اس یقین کی بنا ء پر تو انہوں نے ایک ایسا مسلک اختیار کیا تھا جس کااختیار کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ احمدی ہوتے ہی اپنے پرائے ہوجاتے تھے۔ آشنا بیگانے بن جاتےتھے۔ بسا اوقات اپنے گھروں سے نکالے جاتے اور وطنوں سے بے وطن کئے جاتے۔ جاں نثار دوست خون آشام دشمن بن جاتا۔ باصفا مرید خشمناک معاندمیں تبدیل ہوجاتا۔ اموال لوٹ لئے جاتے۔ جائدادیں چھینی جاتیں۔ یہاں تک کہ بیوی بچے بھی الگ کردیئے جاتے جو چیزیں خدا تعالیٰ نے ان پر حلال رکھى تھىں بندے ان پر حرام کر دىتے۔ چىزوں کا تو ذکر کىا خود زندگى حرام ہو جاتى۔عزتىں ذلتوں مىں بدل جاتیں۔ پھول پتھروں، اکرام و احترام کے القابات غلىظ گالىوں مىں تبدىل کر کے کوڑا کرکٹ کى طرح ان پر صبح و شام انڈىلے جاتے۔ ىہ تھى وہ جماعت جو حضرت مرزا صاحب علىہ السلام کے گرد اکٹھى ہوئى تھى۔ اور ىہ وہ قىمت تھى جو اىمان کا سودا چکاتے ہوئے انہوں نے ادا کى تھى۔ کىوں؟ محض اس لئے اورمحض اس لئے اورمحض اس لئے کہ وہ اسے خدا کا فرستادہ سمجھتے تھے اور ىقىن جانتے تھے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے اپنے رب کى طرف سے کہتا ہے۔ اب سوچنے کا مقام ہے کہ اىک اىسى جماعت جو انتہائى صبر آزما اور پر آزار ابتلاؤں کى سختىاں محض اس بناء پر برداشت کر رہى ہو کہ وہ اىک دعوىدار کو خدا تعالىٰ کا سچا مرسل سمجھتى ہو۔ اگر اچانک ىہ مشاہدہ کرے کہ اس شخص کا خدا تعالىٰ سے ہمکلامى اور نصرت الہى کے مورد ہونے کا دعوى ٰمحض اىک ڈھکونسلا تھا تو کىا وہ اىک لمحہ کے لئے بھى مزىد اس کى تائىد و تصدىق کا دم بھر سکتى تھى۔ اگر مرزا صاحب کا ىہ دعوىٰ جھوٹا نکلتا کہ طاعون احمدىوں کے ساتھ اىک نماىاں اور امتىازى سلوک کرے گى اور اکادکا واقعات کے سوا عمومًا احمدى اس کى زد سے محفوظ رہىں گے تو احمدىوں کا کىاسر پھر گىا تھا کہ عذاب کى دوہرى چکى مىں پىسے جاتے۔ دنىا کا عذاب بھى سہىڑتے اور الہٰى عذاب کا مورد بھى بنتے۔ انسانى بغض و عناد کى آگ مىں بھى جلتے اور حوادث کى چکى مىں بھى پىسے جاتے ۔ کىا کوئى صاحب عقل اىک منٹ کے لئے بھى اس بعىد از قياس مفروضہ پر ىقىن کر سکتا ہے کہ طاعون کے زمانہ مىں دنىا کے دھتکارے ہوئے، مارے کوٹے، گھروں سے نکالے ہوئے، برادرىوں سے خارج کئے ہوئے، زمانے کے ستائے ہوئے، ٹوٹے ہوئے، دل جلائے ہوئے احمدى بستى بستى ىہ اعلان کرتے پھرتے ہوں کہ اے دنىا والو! اگر طاعون کے اس ہولناک سىلاب سے بچنا چاہتے ہو تو آؤ تم بھى ہمارى طرح نوح کےزمانہ کى اس کشتى مىں سوار ہو جاؤ جس مىں ہم سوار ہىں۔ اور اس اعلان کے ساتھ ساتھ طاعون کى ہلاکت خىز موجىں انہىں بھى اسى طرح لقمہ اجل بناتى چلى جائىں جس طرح دوسروں کى بناتى تھىں۔ کىا ىہ ممکن تھا کہ دنىا انہىں پہلے سے کہىں بڑھ کر طعن و تشنىع کا نشانہ نہ بناتى؟

اىک منٹ کے لئے نہىں کىا اىک لمحہ کے لئے بھى کوئى صاحب رشد ىہ سوچ سکتا ہے کہ اىسى صورت مىں کوئى احمدى بھى حضرت مرزا صاحب کى صداقت کا دم بھرنے والا باقى رہ جا تا؟ ىقىناً نہىں۔ آپ کے مبىنہ افتراء پر طاعون زده علاقوں مىں اس سے زىادہ قطعى اور اس سے زىادہ معتبر کوئى اور گواہ سوچا نہىں جا سکتا تھا۔ آپ کے خلاف طاعون کى ىہ گوائى اتنى قطعى، اتنى حقىقى اور اتنى نزدىک اور قوى اور شدىد ہوتى کہ کسى متنفس مىں ىہ امت اور استطاعت نہ ہوتى کہ اس کا انکار کر سکے۔

پس اس پُرآشوب زمانہ مىں جماعت احمدىہ کا غىرمعمولى استقامت اختىار کرنا اور حضرت اقدس علىہ السلام کے تمام دعاوى پر استقامت سے مہر تصدىق ثبت کرنا اس امر کا ناقابل تردىد گواہ ہے کہ افراد جماعت نے حضور علىہ السلام کے اس وعدہ کو پورا ہوتے دىکھا ہو گا کہ وہ طاعون کى رو سے غىر معمولى طور پر محفوظ رہىں گے۔

آج کے متلاشى حق کے لئے ىہ سمجھنا کچھ مشکل نہىں کہ اس زمانہ کے لوگوں کے لئے طاعون کى پىشگوئى کے سچا جھو ٹا نکلنے کى صورت مىں دو ہى راستے رہ جاتے تھے اىک وہ جو احمدىت مىں داخل ہونے کا راستہ تھا۔ واقعاتى شہادت کى مشعل ہاتھ مىں لئے ہوئے جب ہم مخالف سمتوں مىں چلنے والى ان دو ىکطرفہ راہوں پر نظر ڈالتے ہىں تو احمدىت سے نکل بھاگنے والى راہ کو سنسان اوروىران پاتے ہىں لىکن احمدىت مىں داخل ہونے والى ره پر خلائق کا اىسا ہجوم دىکھتے ہىں کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ جوق در جوق لوگ احمدىت مىں داخل ہو رہے ہىں اور اىسے علاقوں مىں بھى بکثرت نئى جماعتىں پىدا ہو رہى ہىں جہاں مخالفت کى شدت کے باعث اس سے قبل سوچا بھى نہىں جاسکتا تھا۔ طاعون کا ڈنڈا دنىا کى مخالفتوں کے مقابل پر زىادہ سخت ثابت ہواپس ىہى ڈنڈاجىتا اورپىہم شدىد ضربات کے ساتھ احمدىت کى چار دىوارى سے باہر کے بسنے والوں پر برستا رہا ىہاں تک کہ ہزار ہا بلکہ لاکھوں انسانوں نے عافىت اور امان اسى مىں دىکھى کہ حصار احمدىت مىں داخل ہو جائىں۔

ہمارے اس دعوىٰ کى صداقت کسى کاغذى شہادت کى محتاج نہىں۔ پنجاب کے طاعون زدہ علاقوں مىں وہ تمام دىہات اس امر کا زندہ ثبوت ہىں جہاں احمدىت کا پودا اذن الہٰى کے ماتحت طاعون کے ہاتھوں لگاىا گىا۔ اسى طرح وہ تمام احمدى جماعتىں اس دعوىٰ کى صداقت پر مزىد گواہى دے رہى ہىں جو طاعون سے پہلے قائم ہو چکى تھىں لىکن طاعون کے نتىجہ مىں کم ہونے کى بجائے اور بھى زىادہ نشو و نما پانے لگىں۔ پس کىا ىہ تعجب کى بات نہىں اور کىا اسے حادثہ طبعى قرار دىنا کسى بھى منطق کى رو سے درست ہو گا۔ سىاه موت کا ىہ ہاتھ ہر دوسرى سرزمىن پر تو موت کےبىج بکھىرتا رہے لىکن احمدىت کى سرزمىن مىں داخل ہو تو زندگى کے پودے لگانے لگے۔ ىہ صر صر جب دوسرے چمنستا نوں پر چلے تو انہىں اجاڑنے اور وىران کرنے لگے لىکن جب صحن احمدىت مىں داخل ہو تو اىک زندگى بخش باد بہار مىں تبدىل ہو جائے جس سے چمن کا بوٹا بوٹا پتہ پتہ راضى ہو جائے۔ نئے شگوفے پھوٹنے لگىں، نئى کونپلىں نمودار ہونے لگىں، نئے پھول کھلنے لگىں ،نئے پھل آنے لگىں، روش روش پر زندگى انگڑائىاں لے اور سرسبزى، اور شادابى نچھاور ہو اور زبان حال سے طىور چمن مسىحائے زمان کے ىہ نغمات الاپنے لگىں۔ ؎

بہار آئى ہے اس وقتِ خزاں مىں
لگے ہىں پھول مىرے بوستاں مىں
ملاحت ہے عجب اس دلستاں مىں
ہوئے بد نام ہم اس سے جہاں مىں
ہوا مجھ پر وہ ظاہر مىرا ہادى
فَسُبْحَانَ الَّذِىْ اَخْزَى الْاَعَادِىْ

ىہ کىسى بلائے زمانہ تھى، ىہ کىسا حادثہ طبعى تھا کہ احمدىت کو کم کرنے کى بجائے اور بھى بڑھا گىا دشمنان احمدىت کو بڑھانے کى بجائے کم کر گىا اور کمتر کرتا چلا گىاىہ سلوک ،ىہ اطوار، ىہ ادائىں تو بلاشبہ اىسے عذاب الہٰى کى نشاندہى کر رہے ہىں جو اپنے اور غىروں مىں ہمىشہ امتىاز کىا کرتا ہے۔

کوئى ہم پر شاعرى کا الزام نہ دھرے اور مضمون آفرىنى کے طعنے نہ دے۔ تارىخ احمدىت کا ىہ دور ہى کچھ اىسا وجد آفرىن ہے کہ اس کے نظارے سے طبيعت جھومنے لگتى ہے اور قلم روش روش پر دوڑتا ہے اور قابو مىں نہىں رہتا۔ پس قارئىن مجھے طرز تحرىر کى اس تھوڑى سى تبدىلى پر معاف کرىں اور معذور جا نىں۔ ىہ مشاہدہ بہت ہى ہىجان خىز ہے کہ وقت کا پہىہ اپنے ابدى سفرکے دوران جب طاعون کى خشمگىں فضا مىں سے گزرے تو ہر دوسرے مذہب اور فرقے کو تو کمزور اور چھوٹا کر جائے لىکن احمد ىت کو پہلے سے بھى بڑھ کر طاقتور اور کثىر التعداد بنا دے۔

لامذ ہب لوگوں کى طرف سے اس موقعہ پر اىک اعتراض ىہ اٹھاىا جاسکتاہے کہ ممکن ہے کہ خوف کے عام قانون کے تابع اىسا ہوا ہو۔ جب دنىاپر کوئى بڑى اور عام تباہى آتى ہے تو بالعموم زود اعتقاد عوام اس قسم کا رد عمل دکھاىا کرتے ہىں۔ عوام تو عوام خواص بھى اىسے موقعوں پر ىہ توہمات کا شکار ہو جاتے ہىں حتى کہ جان بچانے کے لئے تنکوں کے سہارے سے بھى گرىز نہىں کرتے۔ پس ممکن ہے اس قسم کى کوئى نفسىاتى کىفىت ان دنوں احمدىت کى طرف مىلان کا محرک مبنى ہو ۔ ىہ اعتراض بظاہر بڑا وزنى نظر آتا ہے لىکن جب ہم اسے حقائق کى مىزان پر تولتے ہىں تو وزن مىں خس کے اىک چھوٹے سے تنکے سے بھى کمترپاتے ہىں ۔ احمدىت کى طرف سے اس اعتراض کے جواب مىں ىہ سوال اٹھاىا جا سکتا ہے کہ اگر خوف و ہراس کى کوئى عام نفسىاتى کىفىت ہى احمدىت کى طرف لوگوں کے رحجان کى ذمہ دار تھى تو اس عام نفسىاتى کىفىت نے دوسرے مذاہب اور فرقوں کى مدد کىوں نہ کى اور کىوں عوام و خواص کى زود اعتقادى صرف احمدىت کى جانب ہى مائل رہى؟ احمدىت اس دعوىٰ مىں تنہا تو نہ تھى کہ صرف وہى امن کا نجات کا ذرىعہ ہےجىسا کہ گزر چکا ہے ہر مذہب اور فرقے نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھانے کى کوشش کى اور گھبرائى ہوئى خوف زدہ اور بدکى ہوئى حواس باختہ انسانىت کو امن اور حفاظت کا وعدہ دے کر اپنى طرف بلاىا۔ ان کى طرف جانے والى راہىں بظاہر زىادہ کشادہ تھىں اور کم بے خطر۔ ان راہوں مىں ابتلاء اور مخالفتوں اور شدىد دشمنىوں کے وىسے کانٹے نہ تھے جىسے احمدىت کى راہ مىں بچھے ہوئے تھے۔ قدرت کا ىہ اٹل قانون ہے کہ متحرک چىزىں کم تر مدافعت اور مزاحمت کى راہىں اختىار کىا کرتى ہىں۔ پانى ڈھلوان ہى کى طرف بہتا ہے۔ دوسرے فرقوں ىا مذاہب کو قبول کرنا احمدىت کى نسبت کہىں زىادہ آسان تھا اور اپنے پہلے مذہب پر ہى جمے رہنا اس سے بھى آسان تر پھر کىوں اىسا نہ ہوا کہ اور کىوں زود اعتقادى کا پانى ان طبعى آسان تر ڈھلوانوں کوچھوڑ کر احمدىت کى پُر مشقت اور صبرآزما چڑھائى کى طرف بہنے لگا۔ لازماً کوئى مختلف اور قوى تر محرک اس سمت مىں کام کر رہا تھاجواس کے سوا نہىں ہو سکتا کہ جس شخص کو بھى قرىب سے احمدىت کے حالات دىکھنے کا موقع ملا اس نے ىہ فرق مشاہدہ کىاکہ طاعون احمدىوں کے ساتھ نماىاں امتىازى سلوک کرتى ہے اور دوسروں مىں اگر 10 فىصدى اموات ہىں تو احمدیوں مىں 10 فىصد ى بھى نظر نہىں آتىں۔

اگر ہمارےطرز استدال کو قبول کرنے پر کوئى طالب حق ابھى تک مترددہو اور مزىد عقلى اور نقلى ثبوت کا مطالبہ کرے تو اس کے دل کى تسلى کے لئے ہم ىہ راہ تجوىز کرتے ہىں کہ سارے مشرقى ىا مغربي پنجاب مىں کسى اىک بھى اىسى ہندو، عىسائى، شیعہ، سنى، چکڑالوى، دىوبندى،اہل حدىث ىا برىلوى بستى کى تلاش کر کے دکھائے جوطاعون کے زمانہ مىں اپنا آبائى مذہب ىا فرقہ ترک کر کے محض اس لئے ہندو، عىسائى، شیعہ، سنى، چکڑالوں، دىوبندى، اہلحدىث ىا برىلوى ہوگئى ہو کہ اس اسے اپنے پہلے مذہب ىا فرقے کے مقابلہ پر اسے نئے مذہب ىا فرقہ مىں بلائے طاعون سے بچنے کے زىادہ امکانات نظر آتےتھے۔ اگرکوئى اىسى بستى تلاش نہ کر سکے اور ىقىناً نہىں کر سکےگا تو ہمارے پاس آئے ہم اسے سىنکڑوں اىسى جماعتىں دکھا ئىں جو طاعون کے زمانے مىں طاعون کے خوف سے امن مىں آنے کى خاطر معرض وجود مىں آئىں ىا جن مىں احمدىت اس مشا ہده کے نتىجہ مىں پہلے سے زىادہ پھىلنے لگى کہ طاعون احمدىت سے خاص رعاىت کا سلوک کرتى تھى۔ ہم ىہ بستىاں دکھا کر ہر شک کرنے والے فرقہ سے ىہ پوچھنے کا حق رکھتے ہىں کہ آخر کىوں اىک عام نفسىاتى خوف و ہراس اورزود اعتقادى نے سارى دنىا کے بڑے بڑے طاقتور مذاہب اور فرقےچھوڑ کر احمدىت کى اىک چھوٹى سى غرىب جماعت کا رخ کىا۔اہل بصىرت کے لئے کىا اس مىں کوئى نشان نہىں؟

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 12 اگست 2020ء