• 21 ستمبر, 2020

طہارت اور پاکیزگی۔ روحانیت کے لوازم

فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُطَّہِّرِیۡنَ

(التوبہ: 108)

ترجمہ: اس میں ایسے مرد ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ وہ پاک ہو جائیں اور اللہ پاک بننے والوں سے محبت کرتا ہے۔

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ فرماتے ہیں: دس باتیں فطرت انسانی میں داخل ہیں۔ قَصُّ الشَّا رِبِ: مونچھیں تراشنا، وَاِئفَاءُ اللِّحْیَۃِ: اور داڑھی رکھنا، وَ السِّوَاکُ: اور مسواک کرنا۔ وَاسْتِنْشَقُ الْمَاءِ: اور پانی سے ناک اچھی طرح صاف کرنا۔ وَ قَصٌّ الْأَظْفَارِ: اور ناخن کاٹنا، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ: اور انگلیوں کے پورے صاف رکھنا۔ وَ نِتْفُ الأِ بِطِ: اور بغلوں کے بال مونڈنا، وَ حَلْقُ الْعَانَۃِ: اور زیر ناف بال کاٹنا۔ وَ ا نْتِقَاصُ الْمَاءِ: اور استنجا کرنا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں دسویں بات بھول گیا ہوں شائد وہ (کھانے کے بعد) کُلی کرنا ہے۔

(صحیح مسلم، کتاب الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ)

آپ ﷺ فرماتے ہیں: اے انصار کی جماعت! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَ ثْنَی عَلَیْکُمْ فِی الطُّھُوْرِ فَماَ طُھُوْرُ کُمْ۔ اللہ تعالیٰ نے طہارت اور صفائی سُتھرائی کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے،پس تمہاری طہارت کیا ہے؟ انصار نے عرض کی کہ ہم نماز کے لئے وضوء کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: فَھُوَ ذَاکَ فَعَلَیْکُمُوْہُ یہی وہ چیز ہے اور اسی کو لازم پکڑو۔

(سنن ابن ماجہ، کتاب الطھارۃ و سننھا، الاستنجاء بالماء)

حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ پراگندہ حال اور بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ ہےتو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: أَمَا کَانَ یَجِدُ ھَذَا مَا یُسَکِّنُ بِہِ شَعْرَہُ۔ کیا اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس سے یہ بال سنوار لے اور انہیں صاف رکھے۔ آپ ﷺ نے ایک اور شخص کو دیکھا کہ اس کے کپڑے میلے کچیلے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ: أَمَا کَانَ یَجِدُ ھَذَا مَاءً یَغْسِلُ بِہِ ثَوْبَہُ۔ کیا اسے پانی میسّر نہیں جس سے یہ اپنے کپڑے کو دھو سکے؟

(سنن ابی داؤد، اللباس،فی غسل الثوب و فی الخلقان)

حضرت عائشہ ؓ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ جمعہ کے دن اپنے گھروں اور مدینہ کے مضافات سے باری باری آتے تھے،وہ گرد میں چلتے تو انہیں گرد لگ جاتی اور پسینہ بہنے لگتا،ان میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور آپ ﷺ اس دن میرے پاس تھے،آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: لَوْ أَنّکُمْ تَطَھَّرْ تُمْ لِیَوْ مِکُمْ ھَذَا: کہ کاش تم آج کے دن نہا دھو لیتے تو اچھا ہوتا۔

(صحیح بخاری، کتاب الجمعہ، من این توتی الجمعہ و علی من تجب)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ان دونوں کو ان قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے اور انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا: أَمَّا أَحَدُ ھُمَا فَکَانَ لَا یَسْتَتِرُ مِنْ الْبَوْلِ: ان میں سے ایک تو پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چُغل خوری کرتا تھا۔

(صحیح بخاری،کتاب الوضو، جآءفی غسل البول)

حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ: تَنَظَّفُوْ ا فَاِنَّ الاِسْلَامَ نِظِیْفٌ: کہ تم صاف ستھرے رہا کرو کیونکہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو خود صاف ستھرا ہے۔
حضرت سعید بن مُسیّب بیان کرتے ہیں کہ: اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ یُحِبُّ الطَّیِّبَ نَظِیْفٌ یُحِبُّ النَّظا فَۃَ : یعنی اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاکیزگی پسند فرماتا ہے۔ وہ صاف ہے اور صفائی کو پسند کرتا ہے۔

(سنن ترمذی،کتاب الادب عن رسول اللہ۔ جآءفی لنظافۃ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جو شخص جسمانی پاکیزگی کی رعایت کو بالکل چھوڑ دیتا ہے وہ رفتہ رفتہ وحشیانہ حالت میں گر کر روحانی پاکیز گی سے بھی بے نصیب رہ جاتا ہے۔

(ایام صلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 332)

اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلَی آلِ اِبَرَھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ
اللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍکَمَا بَارَکْتَ عَلَی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلَی آلِ اِبَرَھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ

٭…٭…٭

(تحریر: ظہیر احمد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 12 اگست 2020ء