• 20 ستمبر, 2020

دو بزرگ۔ دو کتابیں

1960ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے ۔ استاد محترم حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری کراچی تشریف لائے۔حضرت مولوی صاحب کی آمد سے ساری جماعت خوش ہوتی تھی۔ کئی جلسوں اور ملاقاتوں کا اہتمام ہوتا تھا اور خوب چہل پہل اور رونق رہتی تھی۔ حضرت مولوی صاحب سے ان کے ایک پرانے ملنے والے نے پرانی باتوں کی یاد دلاتے ہوئے بااصرار درخواست کی کہ وہ ان کے ہاں تشریف لائیں۔ حضرت مولوی صاحب اپنے اس پرانے جاننے والے کی خواہش کو پورا کرنے کےلئے ان کے ہاں جانے کو تیار ہوگئے۔ جیسا کہ احباب جانتے ہیں کراچی میں تانگے بہت کم چلتے تھے، تاہم اس محلے میں جہاں وہ صاحب رہتے تھے وہاں تانگوں کارواج تھا۔ حضرت مولوی صاحب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تانگے پر سوارجارہے تھے کہ اتفاق سے وہ تانگہ راستہ میں الٹ گیا ۔ حضرت مولوی صاحب کو چوٹیں آئیں۔ ڈاکٹری معائنے اور ایکسرے وغیرہ سے پتہ چلا کہ حضرت مولوی صاحب کی تین چار پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں اور ان کا علاج سیدھے لیٹے رہنا اور آرام کرنا ہے۔ خاکسار ان دنوں کراچی میں مربی تھا۔ حضرت مولوی صاحب سے ملنے گیا۔ مولوی صاحب اپنےشاگردوں کی خوب حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔خاکسار واپس آنے لگا تو حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ اب اور تو کوئی کام نہیں ہے لیٹے لیٹے مطالعہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ آپ دوبارہ آئیں توکوئی کتاب لیتے آئیں۔ خاکسار نے اس وقت تو بخوشی یہ ذمہ داری لے لی کیونکہ خاکسار کی رہائش دارالمطالعہ بندر روڈ (ایم اے جناح روڈ) پرتھی۔ اس لئے یہ کام بہت آسان لگا تاہم جب میں کتاب کا انتخاب کرنے لگا تو مجھے اس کام کی مشکل کا احساس ہوا۔ اگر تفسیر یا حدیث کی کوئی کتاب لے جاؤں تووہ حضرت مولوی صاحب نے متعدد مرتبہ پڑھی ہوئی ہوگی ۔اگر کوئی اور کتاب لے جاؤں گا تو خود میرے ذوق مطالعہ کا بھی خوب اندازہ ہو سکے گا… آخر سوچ سوچ کر ’’ناقابل فراموش‘‘ جو مشہور صحافی دیوان سنگھ مفتون کی ایک کتاب ہے لے گیا۔ حضرت مولوی صاحب نے اسے پسند فرمایا۔ بعض واقعات پڑھے ،ان پر تبصرہ بھی ہوتا رہا۔ ایک دن خاکسار نے عرض کیا کہ یہ کتاب سردار صاحب موصوف کی ان یادوں پر مشتمل ہے جو وہ کبھی کبھار اپنے اخبار ’’ریاست‘‘ میں شائع کیا کرتے تھے۔ اگر آپ بھی اپنے ماہنامہ ’الفرقان‘ میں اسطرح اپنی زندگی کے واقعات تحریر فرمائیں تو ہم جیسے آپ کے شاگردوں اور جماعت کے دوسرے افراد کیلئے بھی بہت دلچسپ اور مفید ہوں گے۔ خاکسار کی بات پر حضرت مولوی صاحب نے کچھ تامل کے بعد فرمایا کہ مجھے اور بھی کئی لوگوں نے کہا ہے اب آپ نے بھی توجہ دلائی ہے۔دیکھیں خدا تعالیٰ کو کیا منظور ہے … میری خوشگوار حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے کچھ عرصہ کے بعد رسالہ الفرقان میں ’’حیاتِ ابی العطاء‘‘ کے عنوان سے حضرت مولوی صاحب کی زندگی کے واقعات پڑھے۔ یہ واقعات اب ’’خالد احمدیت‘‘ کتاب کی زینت ہیں اور ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔

حضرت مولانا عبدالمالک خان صاحب لمبا عرصہ کراچی میں مربی رہے۔ خاکسار کی خوش قسمتی ہے کہ میری ابتدائی تقرری کراچی میں ہوئی ۔ حضرت مولوی صاحب سے براہ راست استفادہ کا موقع ملا۔ کراچی سے حضرت مولوی صاحب غانا تشریف لے گئے خاکسار بھی کراچی کے بعد ملتان، حیدرآباد وغیرہ مقامات پر رہا اور جب حضرت مولوی صاحب بطور ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ میں خدمات بجا لارہے تھے تو اس وقت بھی ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل گیا۔ الحمدللہ۔

ان دنوں خاکسار کی بطور مربی لاہور میں تقرری ہوئی۔ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ اب ہم لاہور میں آپ کے پاس ہی رہا کریں گے۔ خاکسار نے اپنے دل میں سوچا کہ حضرت مولوی صاحب کے لاہور میں ہزاروں جاننے والے ہیں، حضرت مولوی صاحب کے رشتہ دار بھی لاہور میں ہی موجود ہیں، میرے جیسے درویش کو حضرت مولوی صاحب کی میزبانی کا شرف کہاں حاصل ہوگا۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد آپ کا لاہور آنے کا پروگرام بن گیا اور مجھے بھی اپنی اس خوش قسمتی کی اطلاع مل گئی کہ حضرت مولوی صاحب میرے پاس تشریف لائیں گے ۔ لاہور کے احباب خوب جانتے ہیں دہلی دروازہ کی پرانی مسجد کے ساتھ مربی کی پرانی طرز کی رہائش گاہ ہوتی تھی۔ خاکسار مرکز سے جاتے ہوئے اپنا بستر ساتھ لے گیا تھا اور اس طرح وہاں میری کل کائنات ایک چارپائی اور چند کتابیں ہی تھیں۔ بہرحال جماعت نے حضرت مولوی صاحب کی رہائش کا انتظام کردیا۔ برسبیل تذکرہ یہ بھی ذکر کردوں کہ جب خاکسار نے حضرت مولوی صاحب سے ناشتہ کیلئے پوچھا تو انہوں نے سادہ نان، مکھن اور چائے کی فرمائش کی … جس بات کا یہاں ذکر کرنا مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے دوپہر کے وقت کچھ مطالعہ کرنا چاہا اور میری کتابوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔وہاں جوش ملیح آبادی کی مشہور کتاب ’’یادوں کی بارات‘‘ رکھی تھی جو میرے ایک جاننے والے یہ کہہ

کر مجھے دے گئے تھے کہ آج کل یہ نئی کتاب آئی ہے شاید آپ نے ابھی نہیں دیکھی ہوگی یادوں کی بارات میں جوش صاحب نے بہت کھل کر اپنی آزاد روی کا ذکر کیا ہے۔ حضرت مولوی صاحب کے ہاتھ میں وہ کتاب دیکھ کر مجھے کچھ گھبراہٹ ہوئی ہم عصر کی نماز کیلئے مسجد میں گئے۔ حضرت مولوی صاحب نے نماز پڑھائی اور پھر ہم میں سے کسی کی درخواست پر نہایت عمدہ برجستہ نصائح فرمائیں۔ یہاں یہ بتانے یا لکھنے کی ضرورت تو نہیں ہے کہ حضرت مولوی صاحب میدان خطابت کے شہسوار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جن خوبیوں سے نوازا تھا ان میں قوت بیان کی خوبی بہت نمایاں تھی ۔ حضرت مولوی صاحب نے ان نصائح کے درمیان فرمایا کہ ابھی میں جوش صاحب کی کتاب ’’یادوں کی بارات‘‘ دیکھ رہا تھا (خاکسار تو کچھ اور دبک کر بیٹھ گیا کہ نجانے کیاذکر ہونے لگا ہے) اس میں جوش صاحب نے ایک بزرگ کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ لوٹے اور مصلے کے آدمی تھے جبکہ میں جام و ساغر کا آدمی ہوں ۔وہ کوئی نماز چھوڑتے نہیں تھے او رمیں ادھر کارُخ بھی نہیں کرتا۔ وغیرہ ،مگر اس بزرگ کا بہت اچھے رنگ میں ذکر کیا ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئے کہ جو بھی کسی احمدی کوملے اور دیکھے وہ اس کی نیکی سے ضرور متاثر ہو۔

حضرت مولوی صاحب نے شہد کی مکھی کی طرح اس کتاب سے بھی اچھی اور اپنے مطلب کی بات حاصل کرلی ۔ اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کی نیکیوں کو قائم رکھے ۔ بہترین جزا سے نوازے اور ہمیں ان خوبیوں سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

(عبدالباسط شاہد۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 12 اگست 2020ء