• 29 ستمبر, 2020

ملک تنزانیہ کے ریجن شیانگا میں پندرہ روزہ علمی وتربیتی کلاس کا انعقاد

مشرقی افریقہ کی ساحلی پٹی پر واقع خوبصورت ملک تنزانیہ میں احمدیہ مسلم جماعت محض اللہ تعالی کے فضل سے دن رات ترقیات کی منازل طے کر رہی ہے۔ اور سعید فطرت روحیں خلیفہ وقت کی قیادت میں امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہوکراحمدیت یعنی حقیقی اسلام کے جھنڈے تلے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا حصہ بن رہی ہیں۔

تنزانیہ کے شمالی ریجن شیانگا میں ۲ اگست سے ۱۵ اگست تک پندرہ روزہ تربیتی کلاس کا انعقاد ہوا۔ الحمدللہ علی ذلک۔

مکرم عمران محمود صاحب ریجنل مبلغ سلسلہ شیانگا (Shinyanga) ریجن تحریر کرتے ہیں:۔
’’ہمارے اس ریجن میں کل ۵۴ جماعتیں ہیں جن کی تعلیمی و تربیتی ضروریات کے لئے ١٦ لوکل معلمین خدمت کا موقع پا رہے ہیں۔ اس ریجن میں احباب جماعت کی ایک کثیر تعداد بیعت سے قبل چونکہ غیر مسلم تھی، لہذا قبول احمدیت کے بعد بنیادی اسلامی تعلیمات سکھانا اور ایسے احباب تیار کرنا جو اپنی جماعتوں میں واپس جاکر امام بن کر نمازیں اور جمعہ پڑھا سکیں بہت ضروری تھا ۔ اس ضرورت کے پیش نظر مکرم امیر صاحب تنزانیہ کی ہدایات کے مطابق تربیتی کلاس شروع کی گئی۔

دینی تعلیم کا شوق اورقربانی کا جذبہ

اگرچہ اس کلاس میں شاملین کے قیام و طعام کے انتظامات مرکزی سطح پر کئے گئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جماعتوں کو بھی تحریک کی گئی تانو مبائعین میں قربانی کی روح پیدا ہو، چنانچہ شاملین کی اکثریت باوجود غربت کے حسب توفیق کچھ نہ کچھ لے کر آئے۔ ایک دوست جس کے بارے خیال تھا کہ سب سے غریب ہے، اللہ تعالی کے فضل سے چالیس کلو چاول لے کر آیا۔ مزید برآں اس ریجن کے مخیر حضرات نے بھی اس موقع پر قربانی کی روح کو قائم رکھا۔ ایک مخلص دوست مکرم یوسف مگیلیکا صاحب ریجنل صدر جماعت نے۱۲۰ کلو چاول، ۲۰ کلو آٹا، پینے کا پانی اور ۲۰ معززین علاقہ کے کھانے کا انتظام اپنے ذمہ لیا، اور ۵۰، ۰۰۰ تنزانین شلنگز نقد اس تربیتی کلاس کے لئے پیش کئے۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔ اللہ تعالی تمام قربانی کرنے والوں کے ایمان اوراموال و نفوس میں برکت ڈالے آمین۔

نصاب علمی و تربیتی کلاس

اس ریجن کےنو مبائعین قبول احمدیت سے قبل اسلامی تعلیمات سے نا بلد تھے اور اکثر تو لادینی عقائد رکھتے تھے۔ اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کلاس کا نصاب مرتب کیا گیا۔

دوران تربیتی کلاس درج ذیل عناوین پر شاملین کو تقاریر و لیکچرز سننے کا موقع ملا؛۔ ہستی باری تعالی، مذہب کی ضرورت و اہمیت، میں اسلام کوکیوں مانتا ہوں، سیرت النبیﷺ، سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام، احمدیت کی برکات، خلافت، بائبل اسلام کی طرف راہنمائی کرتی ہے، نماز سادہ، خطبہ جمعہ، مالی قربانی کی برکات۔ مزید برآں درج ذیل تربیتی عناوین پر بھی سیر حاصل تعلیم و تدریس کا انتظام کیا گیا؛۔ نماز باجماعت، نماز جمعہ، تقوی و طہارت، نکاح وشادی، خدمت دین کی اہمیت۔

مندرجہ بالا علمی و تربیتی عناوین پر تقاریر و لیکچرز کے ساتھ ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ بھی جاری رہا جس سے شاملین نے بہت فائدہ اٹھایا۔ شاملین کلاس میں شوق و دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے تفریحی پروگرامز بھی نصاب کا حصہ تھے، جس کے تحت پہیلیاں اور لطائف سنانے کا بھی وقت رکھا گیا تھا۔

وقار عمل

شاملین کی اکثریت خدام پرمشتمل تھی اس لئے جماعتی روایات کے مطابق اپنے ہاتھ سے کام کرنے کے جذبہ کی ترویج کے لئے ریجنل قائدخدام الاحمدیہ کے زیر انتظام ۲ مثالی وقارعمل بھی کروائے گئے۔ نیز خدام کی عملی تربیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف ڈیوٹیاں ان کے سپرد کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شاملین کے ذمہ نماز پڑھانے کی ڈیوٹی بھی تھی تا تعلیم و تربیت کی عملی مشق کا موقع بھی میسر ہو۔

اس تربیتی کلاس میں گزشتہ ماہ بننے والی تین نئی جماعتوں کی نمائندگی بھی تھی۔ تینوں جماعتوں میں عیسائیت سےاحمدی ہونے والے پانچ(۵) احباب شامل تھے۔ اب اس پندرہ روزہ تربیتی کلاس کے بعد وہ خدا کے فضل سے اپنی جماعتوں میں امام الصلاة کے فرائض ادا کریں گے ان شاء اللہ۔

شاملین کے اظہار خیال

شاملین کلاس میں سے ایک دوست مکرم شعبان صاحب نے اظہار خیال کرتےہوئے کہا: ’’مجھے احمدیت قبول کرنے کےبعد اس کلاس میں شامل ہوکر نماز کے مسائل اور اہمیت کا پتہ چلا ہے اب میں باقاعدگی سے نماز ادا کرونگا۔‘‘ (ان شاء اللہ)

ایک اور دوست مکرم محمد راشد صاحب نے کہا: ’’چندے کی برکات کا مجھے اب علم ہوا ہے، اب میں نماز اور نماز جمعہ بھی باقاعدگی سے ادا کروں گا۔‘‘ (ان شاء اللہ)

ایک دوست جو عیسائیت سے جماعت احمدیہ مسلمہ میں شامل ہوئےتھے انہوں نے کہا: ’’مجھے سیرت النبیﷺ اور بھائی چارہ کی تعلیم کااب علم ہوا ہے۔ واپسی پرریجنل مبلغ سلسلہ عمران محمودصاحب کو ایک بار پھر اپنے گاؤں آنے کی دعوت دی اور کہا کہ میں نے جو سیکھا اپنے لوگوں کوسکھاؤں گا، جب آپ آئیں گے آپ ہماری تعداد میں اضافہ اور نمازوں کے قیام کو دیکھ کر خوش ہونگے۔‘‘ (ان شاء اللہ)

ایک نو احمدی مسلم مکرم لوقس پؤل نے کہا: ’’مجھے سچے خدا کا پتہ چلا ہے، مذہب کی ضرورت و اہمیت کا پتہ چلا ہے، مقصد حیات کا اب علم ہوا ہے۔‘‘

اختتامی تقریب: مقا می مجلس عاملہ کے مشورہ سے تربیتی کلاس کی اختتامی تقریب میں اہل علاقہ کو بھی شامل کر کے اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے کا پروگرام بنایا گیا۔ مورخہ پندرہ (۱۵) اگست ۲۰۲۰ صبح گیارہ (۱۱) بجے تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، نظم کے بعد مکرم عمران محمود صاحب ریجنل مبلغ سلسلہ نےدعا کروائی مکرم یوسف مگلیکا صاحب نے پروگرام اور جماعت کا تعارف کروایا۔ اسکے بعد ریجنل مبلغ سلسلہ نے ہستی باری تعالی اور اسلام احمدیت کی سچائی کے عنوان پرتقریر کی۔ بعد ازاں مکرم سلیمان مگانا صاحب معلم سلسلہ نے تربیتی کلاس کی رپورٹ پڑھ کر سنائی۔ نصاب کے مطابق امتحان بھی لیا گیا تھا اس میں نمایاں پوزیشنز لینے والوں کو انعامات دئے گئے، اسی طرح کلاس تدریس کے فرائض ادا کرنے والے معلمین اور دو معاونین کو بھی خصوصی انعامات دئیےگئے۔

امیر و مبلغ انچارج تنزانیہ محترم طاہر محمود چوہدری صاحب بذریعہ فون اس اختتامی تقریب میں شامل ہوئے اور شاملین کو نصائح سے کرتےہوئے فرمایا:۔
’’چونکہ آپ لوگوں کی اکثریت ان علاقوں سے تعلق رکھتی ہےجہاں باقاعدہ معلم سلسلہ فی الوقت نہیں ہیں، سو آپ سب نے ان پندرہ ایام میں جو کچھ بھی سیکھا ہے اسے پہلے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور آگے اپنے علاقوں میں دوسرے احباب جماعت کو بھی سکھائیں، اللہ تعالی آپ کے ساتھ ہو۔ آپ کا عملی نمونہ دوسروں کے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ان شاء الله‘‘

اختتامی تقریب میں نوّے (۹۰) غیر از جماعت مہمانان سمیت کل۱۲۵ افراد شامل ہوئے۔ اہل سنت کے امام مسجد بھی شامل تھے۔ آخر پرتمام احباب کو کھانا کھلایا گیا۔ اللہ تعالی جملہ مساعی قبول فرمائے۔ کارکنان اور شاملین کو علم وعمل میں بڑھاتا چلا جائے۔ آمین۔

(رپورٹ: ڈاکٹر فضل الرحمن بشیر از تنزانیہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 ستمبر 2020