• 19 اکتوبر, 2021

جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض

’’اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے، تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو، اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو اور بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو۔ میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصّہ کا نقص اب تک موجود ہے۔ تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔ اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ ہر ایک جماعت کی اصلاح اول اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔ چاہئے کہ ابتداء میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بد گوئی کرے تواس کے لئے درد دل سے دعا کرے۔ کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے اور دل میں کینہ کو ہرگز نہ بڑھاوے۔ جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے ہی خدا کا بھی قانون ہے، جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔ پس جب تک تبدیلی نہیں ہو گی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں، خداتعالیٰ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔ اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کرو گے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤ گے۔ لیکن مجھےافسوس ہے کہ جماعت کا ایک حصہ ابھی تک ان اخلاق میں کمزور ہے ان باتوں سے صرف شماتت اعداء ہی نہیں ہے بلکہ ایسے لوگ خود ہی قرب کے مقام سے گرائے جاتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ سب انسان ایک مزاج کے نہیں ہوتے اسی لئے قرآن شریف میں آیا ہے کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ (بنی اسرائیل: 85) بعض آدمی ایک قسم کے اخلاق میں اگر عمدہ ہیں تو دوسری قسم میں کمزور، اگر ایک خلق کا رنگ اچھا ہے تو دوسرے کا برا، لیکن تا ہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصلاح ناممکن ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد4 صفحہ99-100 ایڈیشن1988ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

چھوٹی مگر سبق آموز بات