• 18 اکتوبر, 2021

کتاب، تعلیم کی تیاری (قسط 15)

کتاب، تعلیم کی تیاری
قسط 15

اس عنوان کے تحت درج ذیل تین عناوین پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔

1۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ہمارے کیا فرائض ہیں؟
2۔ نفس کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟
3۔ بنی نوع کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں؟

اللہ تعالیٰ کے حضور ہمارے کیا فرائض ہیں

میں سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے پانے کے واسطے بڑی بڑی سخت مشکلات اور دشوار گزار گھاٹیاں ہیں۔ ایمان صرف اسی کا نام نہیں کہ زبان سے کلمہ پڑھ لیا۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ایمان ایک نہایت باریک اور گہرا راز ہے اور ایک ایسے یقین کا نام ہے جس سے جذبات نفسانیہ انسان سے دور ہو جاویں۔ اور ایک گناہ سوز حالت انسان کے اندر پیدا ہو جاوے۔ جن کے وجود میں ایمان کا سچا نُور اور حقیقی معرفت پیدا ہو جاتی ہے۔ ان کی حالت ہی کچھ الگ ہو جاتی ہے اور وہ دنیا کے معمولی لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ممتاز ہوتے ہیں۔ کوئی ایک گناہ چھوڑ کر ایسا مغرور ہو جانا اور مطمئن ہو جانا کہ بس اب ہم مومن بن گئے اور تمام مدارج ایمان ہم نے طے کر لئے۔ یہ ایک اپنا خیال ہے۔

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 275، ایڈیشن 1984ء)

ایک شخص ہمارے پاس آیا تھا۔ اس نے ذکر کیا کہ ہمارے شہر میں طاعون نے سخت تباہی ڈالی ہے۔ بہت لوگ تیار ہیں کہ حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کریں اور اصل بات یہی ہے کہ مجھے بھی طاعون ہی حضور کے پاس لائی ہے۔ اس سال طاعون کسی قدر کم ہے اس وجہ سے دل بھی سخت ہیں۔ دلیر ہیں۔ مگر کسی کو علم کیا ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ پس مطمئن نہیں رہنا چاہیئے اور قبل اس کے کہ عذاب نازل ہو جاوے توبہ کرنی چاہیئے اور خدا تعالیٰ کی طرف جُھکنا اور حفاظت طلب کرنی چاہیئے مگر یہ سب کچھ اسی کی توفیق سے ہو سکتا ہے۔ انسان کو بعض اوقات شیطان بڑے بڑے وسوسے پیدا کر دیتا ہے۔ میرے رشتے ناطے ٹوٹ جاوینگے میرے جاہ و عزت میں فرق آ جاوے گا یا وجوہ معاش بند ہو جاویں گے یا میرے حکام مجھ سے ناراض ہو جاویں گے۔ مگر یاد رکھو کہ ہدایت کے قبول کرنے سے یہ سب امور روکتے نہیں۔

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 253، ایڈیشن 1984ء)

انسان کو جس قدر خدا تعالیٰ کے اقتدار اور سطوت کا علم ہو گا اور جس قدر یقین ہو گا کہ اس کی نافرمانی کی سخت سزا ہے اسی قدر گناہ اور نافرمانی اور حکم عدولی سے اجتناب کرے گا۔ دیکھو۔ بعض لوگ موت سے پہلے ہی مَر رہے ہیں۔ یہ اخیار، ابدال اور اقطاب کیا ہوتے ہیں؟ اور ان میں کیا چیز زائد آ جاتی ہے؟ وہ یہی یقین ہوتا ہے۔ یقینی اور قطعی علم ضرورتًا اور فطرتًا انسان کو ایک امر کے واسطے مجبور کر دیتا ہے۔ خدا تعالےٰ کی نسبت ظن کفایت نہیں کر سکتا۔ شبہ مفید نہیں ہو سکتا۔ اثر صرف یقین ہی میں رکھا گیا ہے۔ خدا تعالےٰ کی صفات کا یقینی علم ایک ہیبت ناک بجلی سے بھی زیادہ اثر رکھتا ہے۔ اسی کے اثر سے تو یہ لوگ سر ڈال دیتے اور گردن جھکا دیتے ہیں۔ پس یاد رکھو کہ جس قدر کسی کا یقین بڑھا ہوا ہو گا اسی قدر وہ گناہ سے اجتناب کرتا ہو گا۔

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 320، ایڈیشن 1984ء)

نفس کے ہم پر کیا حقوق ہیں

انسان نفس امّارہ کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ جب تک اللہ تعالےٰ کا فضل اور توفیق اس کے شامل حال نہ ہو کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ لہٰذا انسان کو چاہیئے کہ دعائیں کرتا رہے تاکہ خدا تعالےٰ کی طرف سے اُسے نیکی پر قدرت دی جاوے اور نفس امّارہ کی قیدوں سے رہائی عطا کی جاوے۔ یہ انسان کا سخت دشمن ہے۔ اگر نفس امّارہ نہ ہوتا تو شیطان بھی نہ ہوتا۔ یہ انسان کا اندرونی دشمن اور مار آستین ہے۔ اور شیطان بیرونی دشمن ہے۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جب چور کسی کے مکان میں نقب زنی کرتا ہے تو کسی گھر کے بھیدی اور واقف کار سے پہلے سازش کرنی ضروری ہوتی ہے۔ بیرونی چور بجز اندرونی بھیدی کی سازش کے کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ پس یہی وجہ ہے کہ شیطان بیرونی دشمن، نفسِ امّارہ اندرونی دشمن۔ اور گھر کے بھیدی سے سازش کر کے ہی انسان کے متاعِ ایمان میں نقب زنی کرتا ہے اور نورِ ایمان کو غارت کرتا ہے۔ اللہ تعالےٰ فرماتا ہے وَمَاۤ اُبَرِّیُ نَفۡسِیۡۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ (یوسف: 54)۔ یعنی میں اپنے نفس کو بَری نہیں ٹھہراتا اور اس کی طرف سے مطمئن نہیں کہ نفس پاک ہو گیا ہے بلکہ یہ تو شریرالحکومت ہے۔

تزکیہ نفس بڑا مشکل مرحلہ ہے اور مدار نجات تزکیہ نفس پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰہَا (الشمس: 10)۔ اور تزکیہ نفس بجز فضلِ خدا میسّر نہیں آ سکتا۔ یہ خدا تعالےٰ کا اٹل قانون ہے لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا (الاحزاب: 63)۔ اور اس کا قانون جو جذب فضل کے واسطے ہمیشہ سے مقرر ہے وہ یہی ہے کہ اتباع رسول اللہ صلے اللہ علیہ و سلم کی جاوے۔ مگر دنیا میں ہزاروں ایسے موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم بھی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتے ہیں۔ نیک اعمال بجا لاتے ہیں۔ اعمال بد سے پرہیز کرتے ہیں۔ اصل میں ان کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ ان کو اتباع رسول کی ضرورت نہیں مگر یاد رکھو یہ بڑی غلطی ہے اور یہ بھی شیطان کا ایک بڑا دھوکہ ہے کہ ایسا خیال لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام پاک میں تزکیہ اور محبت الہٰی کو مشروط با تباع رسُول رکھا ہے تو کون ہے کہ وہ دعویٰ کر سکے کہ میں خود بخود ہی اپنی طاقت سے پاک ہو سکتا ہوں۔ سچا یقین اور کامل معرفت سے پُر ایمان ہر گز ہر گز میسّر ہی نہیں آ سکتا جب تک انبیاء کی سچی فرماں برداری اور محبّت اختیار نہ کی جاوے گناہ سوز ایمان اور خدا کو دکھا دینے والا یقین بجُز اقتداری اور غیب پر مشتمل زبردست پیشگوئیوں کے جو انسانی طاقت اور وہم و گمان سے بالا تر ہوں۔ ہر گز ہر گز میسّر نہیں آ سکتا۔ دنیا اپنے کاروبار دنیوی میں جس استغراق اور انہماک سے مصروف ہوتی اور جیسی جیسی جانکاہ اور خطرناک مشکل سے مشکل کوششیں اپنی دنیا کے واسطے کرتی ہے۔ اگر خدا تعالےٰ کی طرف بھی اسی طرح کی کوشش سے قدم اُٹھاویں اور اس وقت جو ایک آسمانی سلسلہ خدا تعالیٰ نے اس غرض کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ اس کی طرف متوجہ ہوں تو ہم یقین سے کہتے ہیں کہ ضرور اللہ تعالےٰ ان کے واسطے رحمت کے نشان دکھانے پر قادر ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ لوگ اس پہلو سے لاپروا ہیں ورنہ دینی امور اور اعمال کیا مشکل ہیں۔ نماز میں کوئی مشکل نہیں۔ پانی موجود ہے۔ زمین سجدہ کرنے کے واسطے موجود ہے۔ اگر ضرورت ہے تو ایک فرماں بردار اور پاک دل کی جس کو محبت الہٰی کی سچی تڑپ ہو۔ دیکھو اگر ساری نمازوں کو جمع کیا جاوے اور ان کے وقت کا ندازہ کیا جاوے تو شاید ایک گھڑی بھر میں ساری پوری ہو سکیں۔ آخر پاخانہ بھی جاتے ہیں۔اگر اتنی ہی قدر نماز کی ان لوگوں کے دلوں میں ہو تو بھی یہ نماز کو ادا کر سکتے ہیں۔ مگر افسوس اسلام اس وقت بہت خطرے میں ہے اور مسلمان در حقیقت نُور ایمان سے بے نصیب ہیں۔ اگر کسی کو ایک مہلک مرض لگ جاوے تو کیسا فکر لگ جاتا ہے مگر اس روحانی جذام کی کسی کو بھی پروا نہیں جس کا انجام جہنّم ہے۔

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 290-292، ایڈیشن 1984ء)

دیکھو انسان کی فطرت ہی ایسی ہے کہ ہمیشہ ایک حالت پر قائم نہیں رہتی۔ پس جب تک لمبے تجربہ اور استقامت سے یہ امر بپایٔہ ثبوت نہ پہنچ جاوے کہ واقعی اب تم نے خدا تعالےٰ کو مقدم کر لیا ہے اور تمہاری حالت گناہ سوز مستقل ہو گئی ہے اور تم کو نفس امّارہ اور لوّامہ سے نِکل کر نفس مطمئنّہ عطا کیا گیا ہے اور عملی طور سے سچی پاکیزگی تم نے حاصل کر لی ہے۔ تب تک مطمئن ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔

دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی (الاعلیٰ: 15)۔ فلاح وہ شخص پاوے گا جو اپنے نفس میں پوری پاکیزگی اور تقویٰ طہارت پیدا کر لے اور گناہ اور معاصی کے ارتکاب کا کبھی بھی اس میں دورہ نہ ہو اور ترکِ شر اور کسب خیر کے دونو مراتب پورے طور سے یہ شخص طے کر لے تب جا کر کہیں اسے فلاح نصیب ہوتی ہے۔ ایمان کوئی آسان سی بات نہیں۔ جب تک انسان مر ہی نہ جاوے تب تک کہاں ہو سکتا ہے کہ سچا ایمان حاصل ہو۔

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 275-276، ایڈیشن 1984ء)

بنی نوع کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں

والدہ کا حق بہت بڑا ہے اور اس کی اطاعت فرض۔ مگر پہلے یہ دریافت کرنا چاہیئے کہ آیا اس ناراضگی کی تہہ میں کوئی اور بات تو نہیں ہے جو خدا کے حکم کے بموجب والدہ کی ایسی اطاعت سے بری الذمہ کرتی ہو مثلًا اگر والدہ اس سے کسی دینی وجہ سے ناراض ہو یا نماز روزہ کی پابندی کی وجہ سے ایسا کرتی ہو تو اُس کا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر کوئی ایسا مشروع امر ممنوع نہیں ہے جب تو وہ خود واجب الطلاق ہے۔

اصل میں بعض عورتیں محض شرارت کی وجہ سے ساس کو دُکھ دیتی ہیں۔ گالیاں دیتی ہیں۔ ستاتی ہیں۔ بات بات میں اس کو تنگ کرتی ہیں۔ والدہ کی ناراضگی بیٹے کی بیوی پر بے وجہ نہیں ہوا کرتی۔ سب سے زیادہ خواہشمند بیٹے کے گھر کی آبادی کی والدہ ہوتی ہے اور اس معاملہ میں ماں کو خاص دلچسپی ہوتی ہے۔ بڑے شوق سے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے خدا خدا کر کے بیٹے کی شادی کرتی ہے تو بھلا اس سے ایسی امید وہم میں بھی آ سکتی ہے کہ وہ بے جا طور سے اپنے بیٹے کی بہو سے لڑے جھگڑے اور خانہ بربادی چاہے۔ ایسے لڑائی جھگڑوں میں عمومًا دیکھا گیا ہے کہ والدہ ہی حق بجانب ہوتی ہے۔ ایسے بیٹے کی بھی نادانی اور حماقت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ والدہ تو ناراض ہے مگر میں ناراض نہیں ہوں۔ جب اس کی والدہ ناراض ہے تو وہ کیوں ایسی بے ادبی کے الفاظ بولتا ہے کہ میں ناراض نہیں ہوں۔ یہ کوئی سوکنوں کا معاملہ تو ہے نہیں۔ والدہ اور بیوی کے معاملہ میں اگر کوئی دینی وجہ نہیں تو پھر کیوں یہ ایسی بے ادبی کرتا ہے۔ اگر کوئی وجہ اور باعث اَور ہے تو فورًا اُسے دور کرنا چاہیئے۔ خرچ وغیرہ کے معاملہ میں اگر والدہ ناراض ہے اور یہ بیوی کے ہاتھ میں خرچ دیتا ہے تو لازم ہے کہ ماں کے ذریعہ سے خرچ کرادے اور کل انتظام والدہ کے ہاتھ میں دے۔ والدہ کو بیوی کا محتاج اور دست نگر نہ کرے۔

بعض عورتیں اوپر سے نرم معلوم ہوتی ہیں مگر اند ہی اندر وہ بڑی بڑی نیش زنیاں کرتی ہیں۔ پس سبب کو دُور کرنا چاہیئے اور جو وجہ ناراضگی ہے اس کو ہٹا دینا چاہیئے اور والدہ کو خوش کرنا چاہیئے۔ دیکھو شیر اور بھیڑیئے اور اَور درندے بھی تو ہلائے سے ہل جاتے ہیں اور بے ضرر ہو جاتے ہیں۔ دشمن سے بھی دوستی ہو جاتی ہے اگر صلح کی جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدہ کو ناراض رکھا جاوے۔

فرمایا کہ
ایک شخص کی دو بیویاں تھیں۔ بیویوں میں باہم نزاع ہو جانے پر ایک بیوی خود بخود بلا اجازت اپنے گھر میکے چلی گئی۔ وہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں طلاق دے دوں۔ میں نے سوچا کہ یہ معاملات بہت باریک ہوتے ہیں۔ سوکن کو بڑی بڑی تلخیاں اُٹھانی پڑتی ہیں اور بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ بعض عورتیں اپنی مشکلات کی وجہ سے خود کشی کر لیتی ہیں۔ جس طرح سے دیوانہ آدمی مرفوع القلم ہوتا ہے اسی طرح سے یہ بھی ایسے معاملات کی وجہ سے مرفوع القلم اور واجب الرحم ہوتی ہیں کیونکہ سوکن کی مشکلات بھی دیوانگی کی حد تک پہنچا دیتی ہیں۔

اصل بات یہ تھی کہ وہ شخص خود بھی دوسری بیوی کی طرف ذرا زیادہ التفات کرتا تھا اور وہ بیوی بھی اس بیچاری کو کوستی اور تنگ کرتی تھی۔ آخر مجبور ہو کر اور ان کی مشکلات کی برداشت نہ کر کے چلی گئی۔ چنانچہ اس شخص نے خود اقرار کیا کہ واقعی یہی بات تھی اور اپنے ارادے سے باز آیا۔

ایسے قصوروں کو تو خود خدا تعالےٰ بھی معاف کر دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے لَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ (البقرہ: 287) جو امر فوق الطاقت اور ناقابل برداشت ہو جاوے اس سے خدا بھی درگذر کرتا ہے۔ دیکھو حضرت ہاجرہ کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے جو کہ مومنین کی دادی تھی پہلی مرتبہ جب وہ نکالی گئی تو فرشتہ نے اُسے آواز دی اور بڑی تسلّی دی اور اس سے اچھا سلوک کیا مگر جب دوسری مرتبہ نکالی گئی تو سوکن نے کہا کہ اس کو ایسی جگہ چھوڑو جہاں نہ دانہ ہو نہ پانی۔ اس کی غرض یہی تھی کہ وہ اس طرح سے ہلاک ہو کر نیست و نابود ہو جائے گی۔ اور حضرت ابراہیم کا ایسا منشاء نہ تھا مگر خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو کہا کہ اچھا جس طرح یہ کہتی ہے اسی طرح کیا جاوے اور سارہ کی بات کو مان لے۔

اصل میں بات یہ تھی کہ خدا تعالےٰ کا منشاء قدرت نمائی کا تھا۔ توریت میں یہ قصّہ مفصّل لکھا ہے۔ بچہ جب بوجہ شدت پیاس رونے لگا تو بی بی ہاجرہؓ پہاڑ کی طرف پانی کی تلاش میں ادھر ادھر گھبراہٹ سے دوڑتی بھاگتی پھرتی رہی مگر جب دیکھا کہ اب یہ مَرتا ہے تو بچّے کو ایک جگہ ڈال کر پہاڑ کی چوٹی پر دُعا کرنے لگ گئی کیونکہ اس کی موت کو دیکھ نہ سکتی تھی۔ اسی اثناء میں غیب سے آواز آئی کہ ہاجرہ، ہاجرہ لڑکے کی خبر لے وہ جیتا ہے۔ آکر دیکھا تو لڑکا جیتا تھا اور پانی کا چشمہ جاری تھا۔ اب وہی کنواں ہے جس کا پانی ساری دنیا میں پہنچتا ہےاور بڑی حفاظت اور تعظیم اور شوق سے پیا جاتا ہے۔

غرض یہ سارا معاملہ بھی سوکنوں کے باہمی حسد و ضد کی وجہ سے تھا۔

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 192-195، ایڈیشن 1984ء)

ترتیب وکمپوزڈ:(فضل عمرشاہد۔خاقان احمدصائم،لٹویا)

پچھلا پڑھیں

خطباتِ امام کوئز جامعۃ المبشرین گھانا

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 اکتوبر 2021