• 20 جولائی, 2024

ربط ہے جان ِمحمد سے مری جاں کو مدام (قسط 47)

ربط ہے جان ِمحمد سے مری جاں کو مدام
محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں
قسط 47

محبت، نرمی، رفق، لطافت، بردباری، آسانی، سہولت، نفع پہنچانا، ملائمت، درگزر کرنا، معاف کرنا، بخش دینا، بھلائی سوچنا اور احسان کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اللہ تعالیٰ بھی ایسے نرم خو سے بخشش کا سلوک فرماتا ہے۔ بے جا غصہ، درشتی، نفرت اور سختی کرنا ناپسندیدہ امور ہیں۔

رب العالمین جو رحیم ہے رؤف ہے رفیق اورحلیم ہے۔ بندوں سے بلا تفریق نرم سلوک کرتا ہے۔ ایسی ہی صفات سے سب انبیاء اور سب سے بڑھ کر حضرت نبی کریم ﷺ کو متصف فرمایا۔ آپ ﷺ سب بڑوں، چھوٹوں، امیروں، غریبوں، اجنبی، آشنا سے ہمدردی اور پیار سے بات کرتے۔ آپ ﷺ کے فرائضِ منصبی میں پیغام توحید عام کرنا تھا۔ آپ ﷺ کے شیریں لہجے کی کشش سے لوگ آپ ﷺ کی طرف مائل ہوتے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے:
پس اللہ کی خاص رحمت کی وجہ سے تُو ان کے لئے نرم ہو گیا۔ اور اگر تُو تندخو (اور) سخت دل ہوتا تو وہ ضرور تیرے گِرد سے دُور بھاگ جاتے۔ پس ان سے دَرگزر کر اور ان کے لئے بخشش کی دعا کر اور (ہر) اہم معاملہ میں ان سے مشورہ کر۔ پس جب تُو (کوئی) فیصلہ کر لے تو پھر اللہ ہی پر توکل کر۔یقیناً اللہ توکل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔

(اٰلِ عمران: 160)

نیز آپ ﷺ کو حسنِ سلوک کے وہ گُر بتا ئے جس سے دشمن بھی دوست ہوجائیں:
نہ اچھائی برائی کے برابر ہو سکتی ہے اور نہ برائی اچھائی کے (برابر)۔ ایسی چیز سے دفاع کر کہ جو بہترین ہو۔ تب ایسا شخص جس کے اور تیرے درمیان دشمنی تھی وہ گویا اچانک ایک جاں نثار دوست بن جائے گا۔

(حٰم سجدہ: 35)

مکہ کے بدّو پیکر ِمحسوس کو اپنا خالق و مالک سمجھنے کے خوگر تھے اُن کو اَن دیکھے خدائے واحد پر ایمان لانے کا درس دینا آسان کام نہ تھا کسی گزرگاہ میں، کسی بازار میں، کسی دوستوں کی محفل میں، کہیں کچھ لوگ اکٹھے دیکھ کر۔ آپ ﷺ نرمی سے بات کا آغاز فرماتے: کیا آپ لوگ میری کچھ باتیں سن سکتے ہیں؟ میں آپ کی بھلائی کی بات بتاؤں گا پھر اسلام کی دعوت دیتے اور قرآن شریف کی آیات سُناتے۔ نیک فطرت لوگ آپ ﷺ کی بات سنتے اور مانتے۔ مگر مخالفین کا لاوا اُبل پڑتا لوگ زبان ہی سے نہیں ہاتھوں سے بھی جواب دیتے۔آپ ﷺ نے نہ کبھی پلٹ کر وار کیا نہ غصہ دکھایا نہ انتقام لیا۔ حتی کہ طائف کی شدید ترین اذیتوں کے بعد لہو لہان ہو کر بھی پہاڑوں کے فرشتے سے فرماتے ہیں: ’’نہیں انہیں پہاڑ ٹکرا کر مت پیسنا مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘

(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

ہر انسان سے محبت پیار اور احترام کے سلوک اورعاجزانہ راہوں نے آپ ﷺ کو ہر دلعزیز بنا دیا تھا۔ آپ ﷺ نے کبھی اپنے خدمت گاروں کو بھی سخت الفاظ نہیں کہے۔ ایک دفعہ جب آپ ﷺ کے رعب سے ایک شخص پر کپکپی طاری ہو گئی تو فرمایا۔ ’’گھبراؤ نہیں، میں کوئی جابر بادشاہ نہیں۔ میں تو ایک عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی۔‘‘

(سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ باب القدید حدیث نمبر 3312)

آپ ﷺ کے گرد پروانے جاں نثار ہونے کو تیار رہتے۔ ایسا بھی نظارہ دیکھا گیا کہ آپ ﷺ کی طرف آنے والے تیروں کوہاتھ پر اس طرح روکا کہ ہاتھ نہ رہا۔ وضو کے پانی کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے عشاق ہاتھوں پہ لیتے اور بدن پر ملتے۔

عام دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ نرم طبیعت والوں کے گرد چاہنے والوں کا ہجوم رہتا ہے جبکہ درشت رویے والوں سے لوگ دور بھاگتے ہیں۔ آپ ﷺ نے والدین، بیوی بچوں، قریبی عزیزوں، رشتہ داروں، غیر رشتہ داروں غرضیکہ سارے انسانوں سے نرمی اور رفق اپنانے کا درس دیا۔ ان تعلیمات پر عمل گھروں معاشرے اور ساری دنیا میں منفی رویوں کو دور کرکے امن اور سکون لا سکتا ہے۔ چند احادیث پیش ہیں:

1۔  اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے۔ نرمی کو پسند کرتا ہے۔ نرمی کا جتنا اجر دیتا ہے اُتنا سخت گیری کا نہیں دیتا بلکہ کسی اور نیکی کا بھی اتنا اجر نہیں دیتا۔

(صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ والآداب باب فضل الرفق حدیث نمبر6601)

2۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال اور میری عظمت کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ آج جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں۔ مَیں اُنہیں اپنے سایہ رحمت میں جگہ دوں۔

(صحیح مسلم کتاب البر و الصلۃوالآداب حدیث نمبر6548)

3۔  ایک دوسرے سے بُغض نہ رکھو۔ حسدنہ کرو۔ بے رُخی اور بے تعلقی اختیار نہ کرو۔ باہمی تعلقات نہ توڑو بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے اور اُس سے قطع تعلق رکھے۔

(صحیح البخاری کتاب الادب باب الھجرۃ حدیث نمبر6076)

4۔  کیا مَیں تم کو بتاؤں کہ آگ کس پر حرام ہے؟ وہ حرام ہے ہر اُس شخص پر جو لوگوں کے قریب رہتا ہے۔

(سنن الترمذی کتاب القیامۃوالرقائق حدیث نمبر2488)

5۔  جو شخص رزق کی فراخی چاہتا ہے یا خواہش رکھتا ہے کہ اُس کی عمر اور ذکرِ خیر زیادہ ہو، اُسے صلہ رحمی کا خُلق اختیار کرنا چاہئے۔

(صحیح مسلم کتاب البر و الصلۃ و الآداب حدیث نمبر 6523)

6۔  اُس شخص کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں جو چھوٹے پر رحم نہیں کرتا، بڑوں کا شرف نہیں پہچانتا۔ یعنی اُس کی عزت نہیں کرتا۔

(سنن الترمذی کتاب البر و الصلۃ باب ما جاء فی رحمۃالصبیان حدیث نمبر 1920)

7۔  تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی عیال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات میں سے وہ شخص پسند ہے جو اُس کے عیال کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے۔ اور اُن کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔

(الجامع لشعب الایمان للبیہقی جلد نمبر9 صفحہ نمبر523 حدیث نمبر7048 مکتبۃ الرشد 2004ء)

8۔  رحم کرنے والوں پر رحمان خدا رحم کرے گا۔ اہلِ زمین پر رحم کرو تو آسمان پر اللہ تم پر رحم کرے گا۔

(سنن الترمذی کتاب لابر و الصلۃ باب ما جاء فی رحمۃ المسلمین حدیث نمبر 1924)

9۔  تین باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اُسے اپنی حفاظت اور رحمت میں رکھے گا اور اُسے جنت میں داخل کرے گا۔ پہلی یہ کہ وہ کمزوروں پر رحم کرے۔ دوسری یہ کہ وہ ماں باپ سے محبت کرے۔ تیسری یہ کہ خادموں اور نوکروں سے اچھا سلوک کرے۔

(سنن الترمذی کتاب القیامۃ و الرقائق باب 113/48حدیث نمبر2494)

10۔  کسی چیز میں جتنا بھی رِفق اور نرمی ہو اُتنا ہی یہ اُس کے لئے زینت کا موجب بن جاتا ہے۔ اُس میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے اور جس سے رفق اور نرمی چھین لی جائے وہ اتنی ہی بدنما ہو جاتی ہے۔ سختی جو ہے وہ (عمل کو بھی) بدنما کر دیتی ہے۔

(صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ والآداب باب فضل الرفق حدیث نمبر 6602)

11۔ جسے نرمی سے محروم کیا جاتا ہے وہ خیر سے محروم کیا جاتا ہے۔

(صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ والآداب،باب فَضْلِ الرِّفْقِ، حدیث:4680)

12۔  مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

(بخاری کتاب الایمان۔ باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ)

اب ایک واقعہ دیکھئے!۔ عجیب سا سوال تھا پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تحمل سے جواب عطا فرمایا، دعا دی، نصیحت بھی محبت سے کی جس کا فوری اثر ہؤا اور سوال کرنے والے کی کایا پلٹ گئی:
ایک دفعہ ایک نوجوان نے عجیب سوال کر ڈالا کہ یارسول اللہ ﷺ! مجھے زنا کی اجازت دیجئے۔ لوگوں نے اسے ملامت کی کہ کیسی نامناسب بات کردی اور اسے سوال کرنے سے روکنے لگے۔ نبی کریم ﷺ سمجھ گئے کہ اس نوجوان نے گناہ کا ارتکاب کرنے کی بجائے جو اجازت مانگی ہے تو اس میں سعادت کاکوئی شائبہ ضرور باقی ہے۔ آپ ﷺ نے کمال شفقت سے اسے اپنے پاس بلایا اور فرمایا پہلے یہ بتاؤ کہ کیا تمہیں اپنی ماں کے لئے زنا پسند ہے؟ اس نے کہا نہیں خدا کی قسم! ہرگز نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسی طرح باقی لوگ بھی اپنی ماؤں کے لئے زنا پسند نہیں کرتے۔آپ ﷺ نے دوسراسوال یہ فرمایا کہ کیا تم اپنی بیٹی کے لئے بدکاری پسند کرو گے؟ اس نے کہا خدا کی قسم! ہرگز نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لئے یہ پسند نہیں کرتے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا تم اپنی بہن سے بدکاری پسند کرتے ہو؟ اس نے پھر اسی شدت سے نفی میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اپنی بہنوں کے لئے یہ پسند نہیں کرتے۔پھر آپ ﷺ نے بدکاری کی شناعت خوب کھولنے کیلئے فرمایا کہ تم پھوپھی اور خالہ سے زنا پسند کرو گے؟ اس نے کہا خدا کی قسم ہرگز نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اپنی پھوپھیوں اور خالاؤں کے لئے بدکاری پسند نہیں کرتے۔ مقصود یہ تھا کہ جو بات تمہیں اپنے عزیز ترین رشتوں میں گوارا نہیں۔ وہ دوسرے لوگ کیسے گوارا کریں گے اور کوئی اس کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ پھر نبی کریم ﷺ نے اس نوجوان پردست شفقت رکھ کر دعا کی اَللّٰھُمَّ اغْفِرْذَنْبَہٗ وَطَھِّرْ قَلْبَہٗ وَ حَصِّنْ فَرْجَہٗ اے اللہ! اس نوجوان کی غلطی معاف کر۔ اس کے دل کو پاک کر دے۔ اسے باعصمت بنادے۔ اس نوجوان پر آپ ﷺ کی اس عمدہ نصیحت کے ساتھ دعا کا اتنا گہرا اثر ہواکہ اس نے بدکاری کا خیال ہی دل سے نکال دیا اور پھر کبھی اس طرف اُس کا دھیان نہیں گیا۔

(مسند احمد جلد1 صفحہ335 بیروت)

؎آں ترحمہا کہ خلق از وے بدید
کس ندیدہ در جہاں از مادرے

ہمدردی خلق اور رحم وکرم کے جو نظارے مخلوق خدا نے آپؐ کے بابرکت وجود میں دیکھے، ایسے نظارے تو کسی شخص نے اپنی ماں سے بھی نہ دیکھے ہوں گے۔

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
میں تو آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے احیائے نَو کے لئے آیا ہوں۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ490 ایڈیشن 2003ء)

اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا:
’’لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی سے پیش آ۔ اور اُن پر رحم کر۔ تو اُن میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے۔ اور اُن کی باتوں پر صبر کر۔‘‘

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1 صفحہ605)

یا داوٴد عامل بالناس رفقا واحسانا واذاحییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا۔ واما بنعمت ربک فحدث

اے داؤد! خلق اللہ کے ساتھ رفق اور احسان کے ساتھ معاملہ کر۔ اور سلام کا جواب احسن طور پر دے۔ اور اپنے رب کی نعمت کا لوگوں کے پاس ذِکر کر۔ میری نعمت کا شکر کر۔

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 665)

خُذُواالرِّفْقَ فَاِنَّ الرِّفْقَ رَاْسُ الْخَیْرَاتِ

(تذکرہ صفحہ323 موجودہ ایڈیشن)

نرمی کرو۔ نرمی کرو۔ کہ تمام نیکیوں کا سر نرمی ہے۔ اس الہام الٰہی کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح پاک علیہ السلام فرماتے ہیں:
اس الہام میں تمام جماعت کے لئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رِفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔ وہ ان کی کنیزیں نہیں ہیں۔۔۔ روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ ان کے لیے دعا کرتے رہو۔‘‘

(اربعین نمبر 3، روحانی خزائن جلد17 صفحہ428 حاشیہ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام سرتا پا آنحضور ﷺ کا عکس تھے فرماتے ہیں کہ ’’خدا نے مجھے دنیا میں اس لئے بھیجا کہ تا مَیں حِلم اور خُلق اور نرمی سے گم گشتہ لوگوں کو خدا اور اس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں اور وہ نور جو مجھے دیا گیا ہے اس کی روشنی سے لوگوں کو راہ راست پر چلاؤں۔‘‘

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15 صفحہ143)

مذہب سے دور انسانوں کو دعوت الی اللہ آسان کام نہیں۔ آپ ﷺ بھی اپنے آقا و مطاع کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انتہائی نرم زبان میں خاکساری کے ساتھ پیغام دیتے۔ بات کا آغاز شائستگی اور نرمی سے کرتے۔ اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے بھائیو! جیسے محبت بھرے الفاظ سے مخاطب کے دل کی گرہیں کھلنے لگتیں۔ اس پیارے طرز تخاطب کے ساتھ اپنے بہشت اپنے خدا، اپنے پیشوا محمد مصطفیٰﷺ اور اپنے چاند اپنے کعبہ قرآن پاک کی توصیف بیان کرکے نیکی کی ترغیب دیتے جس سے دلوں میں رضائے الٰہی کا شوق جوش اور تپش پیدا ہوتی۔

؎اے عزیزو! سنو! کہ بے قرآں
حق کو ملتا نہیں کبھی انسان
مجھ سے اُس دِل ستاں کا حال سُنیں
مجھ سے وہ صورت و جمال سُنیں

(براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ268 مطبوعہ 1882ء)

آپ علیہ السلام کی مبارک حیات میں آپ علیہ السلام کی نرمی،رفق،ضبط و تحمل اور سہار کے ان گنت واقعات ہیں جو جہاں تک آپ علیہ السلام کے روابط کی وسعتیں ہیں دیکھے جاسکتے ہیں۔

1۔ ایک اخبار کی دریدہ دہنی پر نالش کرنے کا مشورہ ملا تو جواب دیا ’’ہمارے لئے خدا کی عدالت کافی ہے، یہ گناہ میں داخل ہوگا اگر ہم خدا کی تجویز پر تقدم کریں۔ اس لئےضروری ہے کہ صبر اور برداشت سے کام لیں۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود ؑ ازشیخ یعقوب علی عرفانیؓ صفحہ114)

2۔ ایک دفعہ ایک ہندوستانی مولوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تلفظ پر اعتراض کیا اس وقت حضرت مولوی عبد اللطیف صا حب شہید رضی اللہ عنہ بھی مجلس میں حضرت صاحب کے پاس بیٹھے تھے ان کو بہت غصہ آگیا انہوں نے اسی جوش میں اس مولوی کے ساتھ فارسی میں گفتگو شروع کر دی۔ آپ علیہ السلام نے ان کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا۔ بعد میں کسی وقت فرمایا:
’’اس وقت مولوی صاحب کو بہت غصہ آگیا تھا چنانچہ میں نے اسی ڈر سے کہ کہیں وہ اس غصہ میں اس مولوی کو کچھ مار ہی نہ بیٹھیں مولوی صاحب کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں دبائے رکھا تھا۔‘‘

(روایت نمبر 336 سیرت المہدی حصہ اول صفحہ337)

3۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے چچا زاد بھائیوں نے مسجد مبارک کے راستہ میں دیوار کھینچ کر آپ علیہ السلام اور آپ کی جماعت کو شدید تکالیف پہنچائی تھیں- جب آپ علیہ السلام ان سے انتقام کی پوزیشن میں تھے تو فرمایا:
’’ہم کو دنیاداروں کی طرح مقدمہ بازی اور تکلیف دہی سے کچھ کام نہیں، خدا تعالیٰ نے مجھے اس غرض کے لئے دنیا میں نہیں بھیجا۔‘‘

حضور علیہ السلام نے نہ صرف مرزا صاحب کو دل سے معاف کیا بلکہ اُن کی درخواست پر زمین کا ایک ٹکڑا بھی انہیں عنایت فرمادیا۔

4۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں کسی غریب عورت نے کچھ چاول چُرا لئے۔ لوگوں نے اسے دیکھ لیا اور شور پڑ گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس وقت اپنے کمرہ میں کام کر رہے تھے۔ شور سن کر باہر تشریف لائے تو یہ نظارہ دیکھا کہ ایک غریب عورت چیتھڑوں میں کھڑی ہے اور اس کے ہاتھ میں تھوڑے سے چاولوں کی گٹھڑی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو واقعہ کا علم ہوا اور اس غریب عورت کا حلیہ دیکھا تو آپ علیہ السلام کا دل پسیج گیا۔ فرمایا یہ بھوکی اور کنگال معلوم ہوتی ہے۔ اسے کچھ نہ کہو بلکہ کچھ اور چاول دے کر رخصت کر دو۔

(سیرت مسیح موعود مصنفہ یعقوب علی عرفانیؓ حصہ اول صفحہ98)

محبتیں عام کرنے اور نرمی اپنانے کے لئے حضرت اقدس علیہ السلام کی ایمان افروز ہدایات:
1۔  ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ نرمی اور رفق سے معاملہ کرو۔ اپنی ساری مصیبتیں اور بلائیں خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ یقیناً سمجھو اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ ہر شخص کی شرارت پر صبر کرتا ہے اور خدا پر اُسے چھوڑتا ہے۔ تو خدا تعالیٰ اُسے ضائع نہیں کرے گا۔

(ملفوظات جلد5 صفحہ131 ایڈیشن 2003ء)

2۔  ’’تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔ عجب، خود پسندی، مال حرام سے پرہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَن (المؤمنون: 97) اب خیال فرمایئے یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے؟ اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر مخالف گالی بھی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دو بلکہ صبر کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ تمہاری فضیلت کا قائل اور شرمندہ ہو گا اور یہ سزا اس سزا سے کہیں بڑھ کر ہو گی جو انتقامی طورپر تم اس کو دے سکتے ہو۔ یوں تو ایک ذرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں ہے۔ خوش اخلاقی ایک ایسا جوہر ہے کہ موذی سے انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ کیا اچھا کہا ہے کہ لُطف کُن لُطف کہ بیگانہ شود حلقہ بگوش‘‘

(تفسیر حضرت مسیح موعود سورة حٰم سجدہ صفحہ116۔117)

3۔ ’’مَیں یہ بھی کہتا ہوں کہ سختی نہ کرو اور نرمی سے پیش آؤ۔ جنگ کرنا اس سلسلہ کے خلاف ہے۔ نرمی سے کام لو اور اس سلسلہ کی سچائی کو اپنی پاک باطنی اور نیک چلنی سے ثابت کرو۔ یہ میری نصیحت ہے اس کو یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔‘‘ آمین

(ملفوظات جلد4 صفحہ185 جدید ایڈیشن)

4۔  اگر اپنے کسی بھائی کی غلطی دیکھو تو اس کے لئے دعا کرو کہ خدا اُسے بچالے۔ یہ نہیں کہ منادی کرو۔ جب کسی کا بیٹا بدچلن ہو تو اس کو سرِدست کوئی ضائع نہیں کرتا بلکہ اندر ایک گوشہ میں سمجھاتا ہے کہ یہ برا کام ہے اس سے باز آ جا۔ پس جیسے رِفق، حِلم اور ملائمت سے اپنی اولاد سے معاملہ کرتے ہو، ویسے ہی آپس میں بھائیوں سے کرو۔ جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبر کی ایک جڑ ہے۔ اگر خدا راضی نہ ہو تو گویا یہ برباد ہو گیا۔ پس جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تو اسے دوسرے کو کہنے کا کیا حق ہے؟

(ملفوظات جلد6 صفحہ368-369 ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

5۔ ’’کسی پر تکبر نہ کرو گو اپنا ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔ غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔ بہت ہیں جو حِلم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے بھیڑئیے ہیں۔ بہت سے ہیں جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندرسے سانپ ہیں۔ سو تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔ بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو، نہ ان کی تحقیر۔ اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو، نہ خود نمائی سے ان کی تذلیل۔ اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو، نہ خود پسندی سے ان پر تکبر۔ ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔ خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو۔‘‘

(کشتیٔ نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ11)

زندگی میں بعض دفعہ صرف نرمی اور عفو سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ بلکہ اصلاح کی غرض سے سزا دینی پڑتی ہے۔ اس میں بھی نرمی کا پہلو رکھا گیا ہے۔ جرم کی مناسبت سےسزا دی جائے اور تائب ہونے کی صورت میں معاف کردیا جائے۔ گناہ پر ندامت دکھانے والا ایسا ہی ہے کہ گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔

قرآن کریم مجبور مقروض کے لئے بھی نرمی کا درس دیتا ہے۔ ارشاد ہے: اور اگر کوئی تنگ دست ہو تو (اسے) آسائش تک مہلت دینی چاہئے۔ اور اگر تم خیرات کر دو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے، اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔ (البقرہ: 281)

اعلیٰ خُلق کا اظہار باہر غیروں کے سامنے دکھاوا کرنے کے لئے نہ ہو بلکہ سارے ماحول میں نظر آئے۔ ہر احمدی کے چہرے کے پیچھے اسلام کا چہرہ ہے۔ دعا ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توقعات پر پورا اتریں اور آپ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے بن کر آپ علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث بنیں۔ آمین اللّٰھم آمین۔

(امة الباری ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

سانحہ ارتحال

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 جنوری 2023