• 26 فروری, 2024

مجالس کے آداب

• ہمارا مذہب تو یہ ہے اور یہی مومن کا طریق ہونا چاہئے کہ بات کرے تو پوری کرے ورنہ چپ رہے۔ جب دیکھو کہ کسی مجلس میں اللہ اور اس کے رسول پر ہنسی ٹھٹھا ہورہا ہے تو یا تو وہاں سے چلے جاؤ تاکہ ان میں سے نہ گنے جاؤ اور یا پھر پورا پورا کھول کر جواب دو۔ دو باتیں ہیں یا جواب یا چپ رہنا۔ یہ تیسرا طریق نفاق ہے کہ مجلس میں بیٹھے رہنا اور ہاں میں ہاں ملائے جانا۔ دبی زبان سے اخفاء کے ساتھ اپنے عقیدے کا اظہار کرنا۔

(ملفوظات جلد5 صفحہ449)

• یہ بات بہت ضروری ہے کہ تم لوگ دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے معرفت طلب کرو۔ بغیر اس کے یقین کامل ہرگز حاصل نہیں ہوسکتا۔ وہ اس وقت حاصل ہوگا جبکہ یہ علم ہو کہ اللہ تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے میں ایک موت ہے۔ گناہ سے بچنے کے لئے جہاں دعا کرو وہاں ساتھ ہی تدابیر کے سلسلہ کو ہاتھ سے نہ چھوڑو اور تمام محفلیں اور مجلسیں جن میں شامل ہونے سے گناہ کی تحریک ہوتی ہے ان کو ترک کرو اور ساتھ ہی دعا بھی کرتے رہو اور خوب جان لو کہ ان آفات سے جو قضاء وقدر کی طرف سے انسان کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں جب تک خدا تعالیٰ کی مدد ساتھ نہ ہو ہر گز رہائی نہیں ہوتی۔

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ96)

• اس سلسلہ سے خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے اور اُس نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ تقویٰ کم ہو گیا ہے۔ بعض تو کھلے طور پر بے حیائیوں میں گرفتار ہیں اور فسق و فجور کی زندگی بسر کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ایک قسم کی ناپاکی کی ملونی اپنے اعمال کے ساتھ رکھتے ہیں۔ مگر انہیں نہیں معلوم کہ اگر اچھے کھانے میں تھوڑا سا زہر پڑ جاوے تو وہ سارا زہریلا ہوجاتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو چھوٹے چھوٹے (گناہ) ریاکاری وغیرہ جن کی شاخیں باریک ہوتی ہیں اُن میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے۔ اسی غرض کے لیے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔ وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اس کامنشاء ہے۔

(ملفوظات جلد سوم صفحہ83 ایڈیشن 1988ء)

پچھلا پڑھیں

جلسہ جو بلی جماعت احمدیہ۔ مہدی آباد جرمنی

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 فروری 2023