• 26 فروری, 2024

فقہی کارنر

اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں دینا

ایک شخص نے (حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں) عرض کیا کہ اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں کیوں دیتے ہیں؟

فرمایا:
اس میں حکمت یہ ہے کہ کان میں انگلی دینے سے آواز کو قوت ہو جاتی ہے۔ پہلے آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان بغیر کانوں میں انگلی دے دیا کرتے تھے۔ ایک روز حضرت بلالؓ کی آواز میں آپ نے ضعف پایا تو فر مایا بلال کانوں میں انگلی دے کر اذان کہو۔ سو بلال نے ایسا کیا تو آواز میں قوت پیدا ہو گئی اور ضعف جاتا رہا۔ پھر یہ فعل حسبِ فر مودہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سنت ٹھہر گیا۔ پھر فر مایا کہ اکثر گویّوں اور کلامتوں کو دیکھا گیا ہوگا کہ وہ گانے کے وقت جو اونچی اور بلند آواز اُٹھاتے ہیں تو کان پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں تا کہ آواز کی کمزوری جاتی رہے اور قوت پیدا ہو جائے۔

(تذکرة المہدی حصہ اول صفحہ70)

(مرسلہ: داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

جلسہ جو بلی جماعت احمدیہ۔ مہدی آباد جرمنی

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 فروری 2023