• 20 مئی, 2024

خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍جنوری 2023ء

خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20؍جنوری 2023ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

’’یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔ تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔ پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

گذشتہ دنوں براعظم افریقہ کے ملک برکینا فاسو میں عشق و وفا اور اخلاص اور ایمان اور یقین سے پُر افرادِ جماعت نے جو نمونہ مجموعی طور پر دکھایا ہے وہ حیرت انگیز ہے، اپنی مثال آپ ہے

اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینا نہ صرف اپنے لیے بلکہ جماعت کی زندگی کا بھی باعث بن رہا ہے۔
یہی تو ہیں جو پیچھے رہنے والوں کی زندگی اور ترقیات کا بھی ذریعہ بن رہے ہیں۔ پھر وہ مردہ کس طرح ہو سکتے ہیں!

11؍جنوری کو عشاء کے وقت 9؍ احمدی بزرگوں کو مسجد کے صحن میں باقی نمازیوں کے سامنے اسلام احمدیت سے انکار نہ کرنے کی بنا پر ایک ایک کر کے شہید کر دیا گیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ

میرا سر قلم کرنا ہے تو کر دیں لیکن میں احمدیت نہیں چھوڑ سکتا۔ جس صداقت کو میں نے پالیا ہے اس سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔ ایمان کے مقابلے میں جان کی حیثیت کیا ہے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِؕ﴿۴﴾ إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّلٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۵﴾ وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۶﴾ۙ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾

(البقرہ: 155-157)

اور جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں ان کو مردے نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔ اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ آزمائیں گے اور صبر کرنےو الوں کو خوشخبری دے دے۔ اُن لوگوں کو جن پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم یقیناً اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقیناً اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنےو الوں کے بارے میں یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وہ مردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں۔ جماعتِ احمدیہ میں گذشتہ سو سال سے زائد عرصہ سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان کی قربانیاں پیش کی جا رہی ہیں۔ کیا ان کی قربانیاں رائیگاں گئیں؟ نہیں! بلکہ جہاں اللہ تعالیٰ ان شہداء کے مقام کو اپنے وعدے کے مطابق بلند کرتا رہا وہاں جماعت کو پہلے سے بڑھ کر ترقیات سے بھی نوازتا رہا۔ ان شہیدوں نے جہاں اگلے جہان میں وہ مقام پایا جو انہی کا حصہ ہے اور ان کے درجات ہمیشہ بڑھتے چلے جانے والے ہیں وہاں اِس دنیا میں بھی ہمیشہ کے لیے ان کے نام روشن ہوئے ہیںاور ان کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینا نہ صرف اپنے لیے بلکہ جماعت کی زندگی کا بھی باعث بن رہا ہے۔ یہی تو ہیں جو پیچھے رہنے والوں کی زندگی اور ترقیات کا بھی ذریعہ بن رہے ہیں۔ پھر وہ مردہ کس طرح ہو سکتے ہیں! یہ جان کی قربانی جو حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف شہید کی قربانی سے شروع ہوئی جماعت احمدیہ میں عموماً افغانستان اور برصغیر کے احمدیوں کے حصہ میں رہی۔ افریقہ میں بھی ایک مخلص احمدی نے کانگو میں اپنی جان کا نذرانہ 2005ء میں خالصةً جماعت کی خاطر پیش کیا تھا لیکن

گذشتہ دنوں براعظم افریقہ کے ملک برکینا فاسو میں عشق و وفا اور اخلاص اور ایمان اور یقین سے پُر افرادِ جماعت نے جو نمونہ مجموعی طور پر دکھایا ہے وہ حیرت انگیز ہے، اپنی مثال آپ ہے۔

جن کو موقع دیا گیا کہ مسیح موعودؑ کی صداقت کا انکار کرو اور اس بات کو تسلیم کرو کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور آسمان سے اتریں گے تو ہم تمہاری جان بخشی کر دیتے ہیں۔ لیکن ان ایمان اور یقین سے پُر لوگوں نے جن کا ایمان پہاڑوں سے زیادہ مضبوط نظر آتا ہے جواب دیا کہ

جان تو ایک دن جانی ہے، آج نہیں تو کَل، اِس کے بچانے کے لیے ہم اپنے ایمان کا سودا نہیں کر سکتے۔ جس سچائی کو ہم نے دیکھ لیا ہے اسے ہم چھوڑ نہیں سکتے اور یوں ایک کے بعد دوسرا اپنی جان قربان کرتا چلا گیا۔

ان کی عورتیں اور بچے بھی یہ نظارہ دیکھ رہے تھے اور کوئی واویلا کسی نے نہیں کیا۔

پس یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے افریقہ میں بلکہ
دنیائے احمدیت میں اپنی قربانیوں کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی جو قربانی تھی اس کے بعد یہ اپنی دنیاوی زندگیوں کی قربانی دے کر ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے والے بن گئے جنہوں نے جان، مال، وقت کو قربان کرنے کا جب عہد کیا تو پھر نبھایا اور ایسا نبھایا کہ بعد میں آ کر پہلے آنے والوں سے سبقت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ اِن میں سے ہر ایک کو اُن بشارتوں کا وارث بنائے جو اللہ تعالیٰ نے اُس کی راہ میں قربانیاں کرنےو الوں کو دی ہیں۔

اب مختصراً ان

شہداء کے حالات زندگی

بیان کروں گا جن سے ان کے ایمان کی پختگی کا پتا چلتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق برکینا فاسو کا شہر ڈوری ہے وہاں مہدی آباد جماعت ہے جہاں نئی آبادی ہوئی تھی وہاں

11؍جنوری کو عشاء کے وقت 9؍ احمدی بزرگوں کو مسجد کے صحن میں
باقی نمازیوں کے سامنے اسلام احمدیت سے انکار نہ کرنے کی بنا پر
ایک ایک کر کے شہید کر دیا گیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

رپورٹ کے مطابق عشاء کے وقت چار موٹر سائیکلوں پر آٹھ مسلح افراد مسجد میں آئے۔ یہ مسلح افراد احمدیہ مسجد میں آنے سے پہلے قریب واقع مسجد، جو وہابیوں کی مسجد ہے وہاں موجود تھے جہاں انہوں نے مغرب سے عشاء تک کا وقت گزارا ہے لیکن وہاں کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا کیونکہ آئے صرف احمدیوں کے لیے تھے۔ جب یہ دہشت گرد احمدیہ مسجد میں آئے تو اُس وقت مسجد میں عشاء کی اذان ہو رہی تھی۔ اُس وقت تک کچھ نمازی بھی آ چکے تھے اور باقی بھی آ رہے تھے۔ اذان ختم ہونے کے بعد دہشت گردوں نے مؤذن سے اعلان کروایا کہ احباب جلدی مسجد میں آ جائیں کچھ لوگ آئے ہیں انہوں نے بات کرنی ہے۔ جب یہ لوگ جمع ہو گئے تو پھر دہشت گردوں نے پوچھا بھی کہ

یہاں امام مسجد کون ہے؟

الحاج ابراہیم بدیگا (Bidiga) صاحب نے بتایا کہ وہ امام مسجد ہیں۔ پھر انہوں نے یہ پوچھا کہ نائب امام کون ہے؟ تو آگ عمر آگ عبدالرحمٰن صاحب نے بتایا کہ وہ نائب امام ہیں۔ جب نماز کا وقت ہو گیا تو امام ابراہیم صاحب نے دہشت گردوں سے کہا کہ ہمیں نماز پڑھ لینے دیں لیکن انہوں نے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔

مسلح افراد نے امام سے جماعتِ احمدیہ کے عقائد کے متعلق کافی سوالات کیے جن کے جوابات امام صاحب نے تسلی اور بہادری سے دیے۔ امام صاحب نے بتایا کہ ہم لوگ مسلمان ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہیں۔

انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں کا تعلق کس فرقے سے ہے؟ امام صاحب نے بتایا کہ ہمارا تعلق احمدیہ مسلم جماعت سے ہے۔ پھر دہشت گردوں نے پوچھا کہ کیا آپ کے عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ زندہ ہیں یا فوت ہو گئے ہیں؟ امام صاحب نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ بہرحال اس پر دہشت گردوں نے کہا کہ نہیں۔ عیسیٰ زندہ آسمان پر موجو دہیں اور واپس آ کر دجال کو قتل کریں گے اور مسلمانوں کے مسائل حل کریں گے۔ (اسی امید پر یہ بیٹھے ہوئے ہیں۔) پھر انہوں نے پوچھا کہ امام مہدی کون ہے؟ امام صاحب نے کہا کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام امام مہدی اور مسیح موعود کے طور پر آئے ہیں۔ یہ باتیں سن کے آخر پر

مسلح افراد نے کہا کہ احمدی مسلمان نہیں بلکہ پکے کافر ہیں۔

اس کے بعد وہ لوگ امام صاحب کو مسجد کے ساتھ ملحق احمدیہ سلائی سینٹر میں لے گئے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی تصاویر لگی ہوئی تھیں۔ وہ تصاویر لے کر امام صاحب کے ساتھ واپس مسجد میں آگئے اور پھر ان تصاویر کے حوالے سے امام ابراہیم سے سوالات کیے۔ امام صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کے نام بتائے اور ایک ایک تصویر کا تعارف کروایا اور کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بطور امام مہدی اور مسیح موعود آئے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ نعوذ باللہ مرزا غلام احمد کا نبوت کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ پھر دہشت گردوں نے مسجد میں موجود نمازیوں میں سے بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کے الگ الگ گروپ بنائے۔ اس وقت مسجد میں بچوں اور نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین سمیت ساٹھ سے ستّر افراد موجود تھے۔ پردے کی دوسری طرف دس سے بارہ لجنہ اس وقت نماز کے لیے موجود تھیں۔ عمر کے لحاظ سے گروپس بنانے کے بعد دہشت گردوں نے بڑی عمر کے افراد سے کہا کہ وہ مسجد کے صحن میں آ جائیں۔ اس وقت کل دس انصار مسجد میں موجود تھے جن میں سے ایک معذور بھی تھے۔ جب وہ معذور دوست بھی باقی انصار بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر باہر جانے لگے تو انہوں نے یہ کہہ کر بٹھا دیا کہ تم کسی کام کے نہیں، بیٹھے رہو۔ باقی نو(9)کو وہ لے کے صحن میں آگئے۔ مسجد کے صحن میں کھڑا کر کے امام ابراہیم بدیگا صاحب سے کہا کہ اگر وہ احمدیت سے انکار کر دیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ امام صاحب نے جواب دیا کہ

میرا سر قلم کرنا ہے تو کر دیں لیکن میں احمدیت نہیں چھوڑ سکتا۔ جس صداقت کو میں نے پا لیا ہے اس سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔ ایمان کے مقابلے میں جان کی حیثیت کیا ہے۔

دہشت گردوں نے امام صاحب کی گردن پر بڑا چاقو رکھا اور ان کو لٹا کر ذبح کرنا چاہا لیکن امام صاحب نے مزاحمت کی اور کہا کہ میں لیٹ کر مرنے کی نسبت کھڑے رہتے ہوئے جان دینا پسند کروں گا۔ اس پر

انہوں نے امام صاحب کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔
سب سے پہلی شہادت امام الحاج ابراہیم بدیگا صاحب کی ہوئی۔

امام صاحب کو بے دردی کے ساتھ شہید کرنے کے بعد دہشت گردوں نے خیال کیا کہ باقی لوگ خوفزدہ ہو کر اپنے ایمان سے پھر جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اگلے احمدی بزرگ سے کہا کہ

احمدیت سے انکار کرنا ہے یا تمہارا بھی وہی حشر کریں جو تمہارے امام کا کیا ہے؟

اس بزرگ نے بڑی دلیری سے اور بہادری سے کہا کہ

احمدیت سے انکار ممکن نہیں۔ جس راہ پر چل کر ہمارے امام نے جان دی ہے ہم بھی اسی راہ پر چلیں گے۔ اس پر انہیں بھی سر میں گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔

پیچھے رہ جانے والے افراد سے بھی فرداً فرداً یہی مطالبہ کیا گیا کہ امام مہدی کا انکار کر دیں اور احمدیت چھوڑ دیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا اور زندہ چھوڑ دیا جائے گا۔

لیکن سب احمدی بزرگوں نے پہاڑوں جیسی استقامت کا مظاہرہ کیا اور مظاہرہ کرتے ہوئے جرأت اور بہادری سے شہادت کو گلے لگانا قبول کر لیا۔ کسی ایک نے بھی ذرا سی کمزوری نہ دکھائی اور نہ ہی احمدیت سے انکار کیا۔ ایک کے بعد ایک شہید گرتا رہا لیکن کسی کا ایمان متزلزل نہیں ہوا۔ سب نے ایک دوسرے سے بڑھ کر یقینِ محکم اور دلیری کا مظاہرہ کیا اور ایمان کا عَلم بلند رکھتے ہوئے اللہ کے حضور اپنی جانیں پیش کر دیں۔

ہر شہید کو کم و بیش تین گولیاں ماری گئیں۔ ان نو شہداء میں دو جڑواں بھائی بھی شامل تھے۔ جب آٹھ افراد کو شہید کیا جا چکا تو آخر پر آگ عمرآگ عبدالرحمٰن صاحب جن کی عمر چوالیس سال تھی وہ رہ گئے۔ عمر کے لحاظ سے سب شہداء سے چھوٹے تھے۔ دہشت گردوں نے ان سے پوچھا کہ

تم جوان ہو۔ احمدیت سے انکار کر کے اپنی جان بچا سکتے ہو تو انہوں نے بڑی شجاعت سے جواب دیا کہ جس راہ پر چل کر میرے بزرگوں نے قربانی دی ہے جو حق کی راہ ہے مَیں بھی اپنے امام اور بزرگوں کے نقش قدم پر چل کرایمان کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس پر انہیں بھی بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے تذکرة الشہادتین میں ایک رؤیا کا ذکر فرماتے ہوئے لکھا کہ

’’خدا تعالیٰ بہت سے ان کے قائم مقام پیدا کر دے گا۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ76)

آپؑ نے اپنی رؤیا سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مجھے امید ہے کہ صاحبزادہ صاحب کی شہادت کے بعد اللہ تعالیٰ بہت سے ان کے قائم مقام پیدا کر دے گا۔

ہم گواہ ہیں کہ آج افریقہ کے رہنے والوں نے اجتماعی طور پر اس کا نمونہ دکھا دیا اور قائم مقامی کا حق ادا کر دیا۔

دہشت گردوں کے مسجد میں آنے سے لے کر سوال و جواب کرنے، عقائد پر تفصیلی بحث کرنے اور ساری کارروائی کر کے مسجد سے نکلنے تک کم و بیش ڈیڑھ گھنٹے کا وقت بنتا ہے۔ اس دوران میں بچے اور باقی افراد جس کرب اور تکلیف سے گزرے ہوں گے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے سامنے ان کے بزرگوں کو شہید کیا جا رہا تھا۔ مسجد سے نکل کر دہشت گرد فوری طور پر فرار نہیں ہوئے بلکہ کافی دیر مہدی آباد میں ہی رہے اور

مسلح افراد نے مسجد میں موجود لوگوں کو یہ دھمکی بھی دی کہ بہتر ہو گا کہ تم سب احمدیت چھوڑ دو۔ ہم دوبارہ آئیں گے۔ اگر تم لوگوں نے احمدیت ترک نہ کی یا کسی نے دوبارہ مسجد کھولنے کی کوشش کی تو تم سب کو ختم کر دیا جائے گا۔

اس

مہدی آباد کی جماعت کا آغاز کب ہوا۔ اس کا تعارف کیا ہے؟

اس بارے میں یہ لکھتے ہیں۔ 1998ء کے آخر پر یہاں باقاعدہ مشن شروع کیا گیا تھا۔ جماعت نے تیزی سے ترقی کی۔ 1999ء میں ایک گاؤں تکنے ویل (Tickneville) کی بھاری اکثریت احمدی ہو گئی اور ایک مخلص جماعت اس جگہ قائم ہو گئی۔ اس گاؤں کے امام الحاج ابراہیم بدیگا احمدیت قبول کرنے سے پہلے اس علاقے کے سب سے بڑے وہابی امام تھے۔ آپ نے بہت تحقیق کے بعد بیعت کی تھی۔ بیعت کرنے کے بعد ایک پُرجوش داعی، ایک نڈر مبلغ اور جری سپاہی کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا میں نے پہلے ذکر نہیں کیا کہ جب انہوں نے بیعت کی ہے تو ان کے ساتھیوں نے، بعض علماء نے ان کو کہا کہ تم کیوں ماننے لگے ہو؟ انہوں نے کہا

جب سونا میں نے دیکھ لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم بھی دیا ہوا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بھی پوری ہو رہی ہیں، باتیں بھی پوری ہو رہی ہیں، قرآن کریم اس کی گواہی دیتا ہے تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ اب میں اس کا انکار کر دوں اور محروم رہوں۔

بہرحال امام صاحب ایک بہت صاحب علم آدمی تھے۔ اس گاؤں کے تمام لوگ تماشق قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور تماشق زبان بولتے ہیں۔ تماشق لوگوں کی تعداد دو لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔ یہ برکینا فاسو، نائیجر، مالی اور الجیریا میں پائے جاتے ہیں۔ 99.9فیصد مسلمان ہیں۔ زیادہ تر متشدّد وہابی عقائد رکھتے ہیں۔ تماشق لوگوں میں احمدی ہونے والے زیادہ نہیں ہیں تاہم

برکینا فاسو میں مہدی آباد کے تماشق باشندے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے میں سبقت لے گئے اور اب اتنی بڑی قربانی دے کر اپنا ایک خاص مقام بھی حاصل کر چکے ہیں۔

2004ء میں اس علاقے میں سونے کے بہت سے ذخائر دریافت ہوئے تو مائننگ کمپنی نے اس گاؤں کی آبادی کو قریب ہی ایک نئی جگہ پر مکانات بنا کر دیے اور کہا کہ وہاں منتقل ہو جائیں۔ ان منتقل ہونے والوں کی بھاری اکثریت احمدیوں کی تھی، چند ایک گھرانے دوسرے تھے۔ نیا گاؤں بنا تھا جو تقریباً احمدیوں کا ہی گاؤں تھا۔ ابراہیم صاحب نے یہ تجویز دی کہ اس گاؤں کا نام وہ پرانا نہیں رکھنا۔ چنانچہ انہوں نے مجھے لکھا کہ اس گاؤں کا کوئی نام رکھیں اور پھر

اس کا نام مہدی آباد رکھا گیا

اور 2008ء میں یہاں IAAAE کے تحت ماڈل ولیج بھی بنایا گیا۔ پانی،بجلی کی سہولتیں مہیا کی گئیں۔ یہ برکینا فاسو بلکہ دنیا بھر میں پہلا ماڈل ولیج پراجیکٹ تھا۔ اس کے تحت گاؤں میں بجلی، پانی، سلائی سکول وغیرہ کی سہولیات دی گئیں۔

ان کی تدفین کے بارے میں

انہوں نے اپنی رپورٹ میں یہ لکھا ہے کہ دہشت گردوں نے مسجد میں ڈیڑھ گھنٹہ گزار کر اس قدر خوف کی فضا پیدا کی تھی کہ جس مقام پر شہادتیں ہوئیں شہداء کی لاشیں رات بھر اسی جگہ پڑی رہیں کیونکہ خدشہ تھا کہ دہشت گرد گاؤں سے باہر نہیں گئے اور اگر کوئی لاش اٹھانے گیا تو اسے بھی مار دیا جائے گا۔ قریب ہی آرمی کیمپ تھا، اس واقعہ کی اطلاع ان کو دی گئی لیکن وہاں سے بھی کوئی نہیں آیا نہ ہی سیکیورٹی اداروں کا کوئی فرد صبح تک پہنچا۔ پھر شہداء کی تدفین بارہ جنوری کو صبح دس بجے مہدی آباد میں کر دی گئی۔

اب

ہر ایک کا مختصر تعارف

بیان کر دیتا ہوں۔

الحاج ابراہیم بدیگا صاحب جو امام ہیں،

جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ شہادت کے وقت ان کی عمر اٹھاسٹھ (68) سال تھی۔ تعلیم کے سلسلے میں سعودی عرب میں بھی مقیم رہے۔ تماشق زبان کے بہت بڑے عالم تھے اور اس زبان میں قرآن مجید کے مفسر بھی تھے۔ آپ نے 1999ء میں بیعت کی۔ قبولِ احمدیت سے قبل امام ابراہیم بدیگا صاحب کئی دیہات کے چیف امام تھے۔ اس زون کے دیگر علماء آپ کے پاس آ کر بیٹھنے اور اکتسابِ علم کرنے کو اپنی شان سمجھتے تھے چنانچہ ہر سال کم از کم ایک دفعہ علاقے بھر کے علماء، معلمین اور ائمہ آپ کے پاس آ کر قیام کرتے اور فیض پاتے۔ یہ تعداد پانچ سو تک بھی چلی جاتی اور قیام ایک ہفتہ تک ہوتا۔کہا جا سکتا ہے کہ علاقے کے علماء اور ائمہ کی سالانہ میٹنگ آپ کے پاس ہوا کرتی تھی۔ ان کے شاگرد بیان کرتے ہیں کہ اُن دنوں میں بھی امام صاحب اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ ابھی صداقت ظاہر نہیں ہوئی کیونکہ حق اور صداقت کو ماننے والے تھوڑے ہوتے ہیں۔ جس طرح سینکڑوں کی تعداد میں یہ ائمہ میرے پاس آ کر بیٹھتے ہیں اور بظاہر ایک دوسرے کو مسلمان خیال کرتے ہیں لیکن جب صداقت ظاہر ہو گی تو اس وقت ماننے والے تھوڑے رہ جائیں گے۔ یہ لوگ میرے پاس سے بھی اٹھ کر چلے جائیں گے۔

نیکی تھی، تقویٰ تھا، علم تھا اس لیے زمانے کے حالات کے مطابق اندازہ لگا لیا کہ صداقت نے ظاہر ہونا ہے اور اس کے بعد جو ہمیشہ سے انبیاء کے مخالفین کا دستور رہا ہے یہ لوگ بھی مخالفت کریں گے۔

بہرحال جو انہوں نے دل میں مانا ہوا تھا کہ جب بھی حق پہنچا میں نے ماننا ہے۔ 1998ء میں ڈوری میں باقاعدہ احمدیہ مشن قائم ہوا تو امام ابراہیم صاحب تک بھی احمدیت کے پیغام کی بازگشت پہنچی۔ تبلیغی مہم کے دوران ایک مارکیٹ میں الحاج بدیگا صاحب نے احمدیت کا نام پہلی بار سنا تھا۔ انہیں پتہ چلا کہ احمدی وفات مسیح کے قائل ہیں اور مسیح اور مہدی کے آنے کی خبر دیتے ہیں تو ابراہیم بدیگا صاحب سات افراد کا ایک وفد لے کر تلاشِ حق کے لیے ڈوری مشن ہاؤس تشریف لائے۔ بہت تحقیق کے بعد آپ نے احمدیت قبول کی تھی۔ اپنی زون میں پہلا احمدی ہونے کا شرف پایا۔

یہ جو مخالفین کہتے ہیں ناں کہ غریب لوگ ہیں ان کو لالچ دے کر بیعت کروا لیتے ہیں۔ ان کو دین کا کچھ پتا نہیں ہے۔ ان شہیدوں نے ان کے منہ بند کر دیے ہیں۔ سمجھ کر صداقت کو قبول کیا اور پھر قربانی کی بھی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔

بہرحال ابراہیم صاحب کے بارے میں مزید لکھا ہے پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ جماعت کے ایک نڈر سپاہی تھے۔ بے خوف داعی الی اللہ تھے اور حقیقی معنوں میں ایک فدائی احمدی تھے۔ آپ کی تبلیغی کوششوں سے علاقے بھر میں احمدیت کا پیغام پھیل گیا۔ کئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ آپ بڑھ چڑھ کر جماعتی پروگراموں میں حصہ لیتے۔ قبولِ احمدیت سے قبل ان کے عقائد کے مطابق وہابیوں کے علاوہ باقی سب فرقے کافر تھے۔ ٹی وی دیکھنا، فٹبال کھیلنا یا دیکھنا، سکول جانا، تصویریں بنانا یہ سب چیزیں ان کے نزدیک حرام تھیں جیسا وہابیوں کا عقیدہ ہے لیکن پھر جب انہوں نے احمدیت قبول کر لی تو پھر ان فرسودہ خیالات سے انہوں نے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا اور لوگوں کو بھی سمجھایا کہ حقیقت کیا ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ کے زمانے میں سنہ 2000ء میں انہیں یہاں یوکے میں جلسہ میں بھی شامل ہونے کی توفیق ملی۔

تبلیغ کا ان کو جنون تھا۔

قبولِ احمدیت سے قبل بھی صاحب اثر و رسوخ اور کئی گاؤں کے چیف امام تھے جیسا کہ بیان ہواہے۔ قبولِ احمدیت کے بعد آپ نے اپنے آپ کو تبلیغ کے لیے وقف کر دیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ انہیں کسی اور چیز کی پروا ہی نہیں ہے۔ انہوں نے تبلیغ کے وٹس ایپ گروپ بنا رکھے تھے جس میں خاص طور پر تماشق لوگوں کے لیے ایک گروپ تھا۔ اس گروپ میں مالی، نائیجر، گھانا، سعودی عرب، لیبیا، تیونس،آئیوری کوسٹ وغیرہ ممالک سے لوگ شامل ہوتے تھے۔ آپ مسلسل ان کو تبلیغ کرتے۔ دن رات آڈیو پیغامات ریکارڈ کر کے بھجواتے رہتے۔ دن ہو کہ رات اسی کام میں مصروف رہتے۔ جواب میں بہرحال مخالفت ہوتی تھی۔ مخالفین آپ کو گالیوں کے پیغام بھی بھیجتے۔ وہ ان کو قتل کی دھمکیاں بھی دیتے تھے لیکن آپ کبھی کسی سے غصہ سے بات نہیں کرتے تھے بلکہ قتل کی دھمکیاں دینے والوں کو آپ کہا کرتے تھے کہ میں تمہیں کرایہ بھیج دیتا ہوں آؤ اور مجھے قتل کرو۔ جب حالات خراب ہوئے ہیں تو آپ مبلغین کو بھی اور معلمین کو بھی کہا کرتے تھے کہ تبلیغ کرنی چاہیے۔ یہ بہانہ ہے کہ حالات خراب ہیں اس لیے ہم تبلیغی دورے پر نہیں جا سکتے۔ کہتے ہیں میڈیا کے ذریعہ تبلیغ کریں اور اگر کسی کے پاس فون میں نیٹ پیکیج کرنے کے لیے رقم نہیں ہے تو مجھ سے لے لے۔ سوشل میڈیا گروپ بنائے اور گھر بیٹھ کر تبلیغ کے جہاد میں حصہ لے۔ ان کو ایک جنون تھا ایک شوق تھا۔

ناصر سدھو صاحب یہاں مربی رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ 1997ء میں برکینا فاسو آیا۔ خلیفة المسیح الرابعؒ نے دعوت الی اللہ کا کام سپرد کیا۔ تو کہتے ہیں کہ مجھے زبان نہیں آتی تھی اس لیے تین ماہ کا عرصہ لگ گیا پلاننگ کرنے میں۔ اس کے بعد دیہاتوں کا دورہ کیا۔ ان کے اس گاؤں کے امام کے پاس بھی گیا۔ ان کو جب وفاتِ مسیح کی اور مسیح اور مہدی کی آمد کی خبر پہنچی تو کہتے ہیں کہ ابراہیم بدیگا صاحب سات افراد کے ساتھ ہمارے مشن ہاؤس ڈوری آ گئے۔ وہاں سوال و جواب ہوئے۔ کہتے ہیں تین دن یہ میرے پاس رہے ہیں۔ نہ یہ تین دن خود سوئے نہ مجھے سونے دیا۔ اس کے بعد یہ لوگ چلے گئے۔ روزانہ صبح سے لے کر شام تک گفتگو ہوتی تھی۔ اگلے ہفتے دوبارہ آئے اور اپنے نئے امام لے کر آئے اور تحقیق کا یہ سلسلہ تین ماہ تک جاری رہا۔ ان کے پاس اکثر سوالات کے جوابات تو آ چکے تھے لیکن احمدیت میں داخل ہونے کا کبھی انہوں نے خیال ظاہر نہیں کیا تھا۔ بہرحال کہتے ہیں مَیں خلیفة المسیح الرابع ؒکو دعا کے لیے لکھتا رہا۔ ایک دن امام صاحب آئے اور بیعت کا فارم پُر کیا اور کہتے ہیں کہ ان سے میں نے کہا کہ باقی بھی جو متواتر آتے رہے ہیں وہ کہاں ہیں؟ وہ کب قبول کریں گے؟ تو انہوں نے کہا وہ سب قبول کریں گے مگر سب سے پہلے مَیں احمدیت میں داخل ہونا چاہتا تھا اس لیے مَیں آ گیا ہوں۔

خلافت سے بھی ان کو بے انتہا وفا کا تعلق تھا۔

امیر جماعت برکینا فاسو لکھتے ہیں کہ پینتالیس کے قریب گاؤں ان کے زیر اثر تھے۔ انہوں نے حج کیے۔ وہاں رہ کر تعلیم حاصل کی۔ بہت اچھی عربی جانتے اور بولتے تھے اور اس پورے علاقے میں بہت تبلیغ کی۔ سائیکل پر گاؤں جاتے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقے میں بہت لوگوں کو احمدیت کے نور سے منور کیا۔ ان کے ذریعہ اس علاقے کے بڑے بڑے علماء احمدیت میں داخل ہوئے اور علاقے کی اکثر جماعتیں ان کی تبلیغ کی وجہ سے قائم ہوئیں اور کہتے ہیں جب بھی لندن آنا ہوتا تو ہمیشہ یہ پوچھتے کہ خلیفہ وقت کا کیا حال ہے؟ بڑا محبت کا اظہار کیا کرتے تھے۔

کہتے ہیں اس محبت کی ایک مثال یہی ہے کہ ایم ٹی اے پر جو میری بچوں کے ساتھ کلاس ہوتی تھی وہ اردو زبان سے بالکل ناواقفیت کے باوجود بڑے انہماک سے دیکھتے رہتے تھے جس طرح سمجھ آرہی ہوتی ہے اور صرف یہی کہتے تھے کہ میرے لیے اس مجلس میں یہاں بیٹھنا اس کو دیکھنا ہی بہت ایمان کا اور اس میں ترقی کا باعث بنتا ہے۔

مہمان نواز اور خاموش طبع تھے
لیکن جب جماعت کی خاطر بولنا پڑتا تھا تو پھر بہت جذباتی ہو کے بولتے تھے۔

ایک مکمل مبلغ تھے۔ غیراحمدیوں سے انہوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پرکافی مناظرے اور سوال جواب کیے۔

پھر وہاں کے ایک اور مربی محب اللہ صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان بزرگان کو ذاتی طور پر جانتا تھا کیونکہ وہاں مَیں اکثر جاتا رہتا تھا۔ خلافت سے بے انتہا پیار کرنے والے، مہمان نواز، وفا دار لوگ تھے۔ کہتے ہیں جب سارے جوان سارا دن کام پر ہوتے تھے تو یہ بزرگان مسجد کے سامنے بنے ہوئے چھپر پر بیٹھ کر ایم ٹی اے دیکھتے رہتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جب اِن کی شہادت ہوئی ہے تو اس کے فوراً بعد مجھے ایک نوجوان کا فون آیا کہ اس طرح ہمارے بزرگوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ ان سے کہا گیا اگر آپ احمدیت سے پیچھے ہٹ جائیں تو ہم آپ کو چھوڑ دیں گے مگر انہوں نے شہادت کو ترجیح دی۔ اس نوجوان کا کہنا تھا کہ

اگر یہ لوگ ہم سب کو شہید کر دیں تو بھی ہم احمدیت سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں یہ تو صرف نو(9) انصار تھے،

اس نوجوان نے کہا یہ تو صرف نو۹ انصار تھے اگر ہم سب خدام لجنہ وغیرہ کو بھی شہید کردیں تو بھی ہم احمدیت نہیں چھوڑیں گے ان شاء اللّٰہ۔ یہ روح ہے ان مخلصین میں، اس جماعت میں جو انہوں نے پیدا کی۔ جب بڑوں کی تربیت ہو، ان کا نمونہ ہو تو تبھی نوجوانوں اور عورتوں میں یہ جذبہ اور ایمان پیدا ہوتا ہے۔

لوکل مبلغ مائیگا تیجان صاحب ہیں۔ کہتے ہیں کہ امام ابراہیم صاحب کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ شہادت سے کچھ دن پہلے انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ مجھے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ لوگ مجھے مار دیں گے۔ حسنِ خلق کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ اپنی فیملی اور رشتہ داروں کے ساتھ بہت حسنِ سلوک سے پیش آتے۔ سب سے ہمدردی کرنا آپ کی عادت تھی۔ دوسروں کی خاطر قربانی کرنا اور جذبۂ ایثار دکھانا نمایاں اوصاف تھے۔

علاقے کے بہت معزز فرد تھے۔ لوگ آپ کی بہت عزت کرتے تھے۔

ابراہیم صاحب کوئی فیصلہ کرتے یا کوئی بات کہتے تو لوگ اس کی لاج رکھتے اور اسے مان لیتے۔آپ کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے بعض دوسرے ہمسایہ ممالک میں امام اور معلم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ برکینا فاسو میں بھی بہت سارے بطور معلم اور لوکل مشنری کام کر رہے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ

نیکی اور تقویٰ اور مسابقت بالخیر میں دوسروں کے لیے ایک نمونہ تھے۔

جب بھی احبابِ جماعت کو کوئی تحریک کرتے تو سب سے پہلے خود اس میں حصہ لیتے۔ اگر کوئی مالی قربانی کی تحریک ہوتی تو سب سے پہلے خود شامل ہوتے۔ کبھی جماعتی کاموں میں، جلسہ جات میں، اجتماعات اور دیگر سرگرمیوں میں پیچھے نہیں رہے۔ پانچوں نمازوں کی ادائیگی مسجد میں کرتے۔ نماز تہجد کے پابند تھے۔ اگر کبھی کسی جماعتی سرگرمی میں موجود نہ ہوتے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ یا تو بیمار ہیں یا سفر پر گئے ہوئے ہیں۔ جماعتی کاموں میں شرکت کے لیے کبھی اخراجات کی پروا نہ کرتے۔ ان کی دو شادیاں تھیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو گیارہ بچے عطا کیے۔

خالد محمود صاحب مربی ہیں لکھتے ہیں کہ یہ لوگ اخلاص و وفا سے معمور تھے۔ خلافت کے شیدائی اور فدائی احمدی تھے۔ 2008ء میں جو خلافت جوبلی کا سال تھا جب مَیں نے گھانا کا دورہ کیا تھا، جلسہ پہ وہاں گیا تھا تو ہزاروں احمدی احباب برکینا فاسو اور مالی وغیرہ سے بھی مجھے ملنے کے لیے آئے تھے۔ اس موقع پر گھانا جماعت نے ضیافت اور رہائش کے انتظامات بھی اچھے کیے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود چند احباب جو ڈوری سے آئے تھے یہ لوگ بھی ان میں شامل تھے۔ ان کو کھانا ملنے میں دیر ہو گئی یا کھانا نہیں ملا۔ پھر کافی دیر سے رات کو بازار سے منگوایا گیا اور دیا گیا۔ اس پر مَیں نے ان مربی صاحب کو جب ان کی ملاقات ہوئی کہا تھا کہ ان کو میری طرف سے معذرت کر دیں اور دلداری کریں۔ توکہتے ہیں مَیں ان کے پاس فورًا گیا، معذرت کی۔ آپ کا یہ پیغام جب دیا تو الحاج ابراہیم صاحب صدر جماعت تھے انہوں نے بیک وقت باقی لوگوں کے ساتھ کہا کہ خلیفہ ٔوقت کو ہم دیکھنے یہاں آئے تھے، ملنے آئے تھے۔ جب دیکھ لیا اور مل لیا تو ہماری تھکان اور بھوک ختم ہو گئی ہے۔ کوئی شکایت نہیں ہے۔ بلکہ ہم تو آپس میں بیٹھ کے اس ملاقات کا ہی ذکر کر رہے ہیں اور اس کا لطف لے رہے ہیں۔ بہرحال اس وقت مجھے بھی پریشانی تھی کہ اتنا لمبا سفر کر کے آئے ہیں، بہت سارے اس وقت سائیکلوں پر بھی آئے تھے اور ان کا انتظام نہیں ہوا۔ فوری انتظام کروانے کی کوشش کی گئی لیکن دوسری طرف ان کا اخلاص و وفا ایسا تھا کہ حیران ہو گیا تھا۔ اس وقت بھی مجھے ان کا یہی پیغام ملا تھا اور

مَیں اس وقت بھی حیران تھا کہ یہ کیسے مضبوط ایمان کے لوگ ہیں۔

الحاج محمود ڈیکو صاحب معلم ہیں یہ کہتے ہیں کہ شریف عودہ صاحب بینن کے دورے پر آئے تو امام صاحب نے برکینا فاسو سے بس پہ سوار ہو کے رات سارا سفر کیا اور ایک ہزار کلو میٹر کا سفر طے کر کے صبح تین بجے وہاں پہنچے۔ تیس گھنٹے کا تھکا دینے والا سفر تھا۔ وہاں سڑکیں بھی اچھی نہیں ہیں اور بڑے ہشاش بشاش تھے۔ آگے پھر لمبا سفر کرنا تھا وہ بھی انہوں نے اُن کے ساتھ کیا اور سب پروگراموں میں شامل ہوئے۔

ان کو جماعتی خدمت کا ایک جوش تھا۔

بینن میں مساجد دیکھ کر بڑے خوش ہوتے تھے اور کہتے تھے یہ دیکھو! یہ بھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کی دلیل ہے۔ اسی طرح غیراحمدیوں سے جو بحثیں ہوتی تھیں اس میں یہ عربی میں بڑی فصیح و بلیغ تقریریں کیا کرتے تھے۔ شریف عودہ صاحب کے ساتھ بھی مولویوں کی debate ہو رہی تھی۔ اس وقت انہوں نے کوئی غلط باتیں کیں تو غصہ میں آ کے انہوں نے اٹھ کے جواب دینا چاہا لیکن ان کو جب خاموش کرایا گیا تو فوراً بیٹھ گئے۔ پھر غیر احمدیوں نے کہا کہ اچھا اگر تم لوگ سمجھتے ہو کہ ہم مسلمان ہیں تو ہمارے پیچھے نماز پڑھو۔ تو انہوں نے اس وقت کھڑے ہو کے کہا کہ جو ہمیں کافر کہتے ہیں۔ ہمارےاور وقت کے امام کو قبول نہیں کرتے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم آپ کے پیچھے نماز پڑھ لیں۔ یا تو یہ مان لو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وقت کے امام ہیں تو ہم نماز پڑھ لیتے ہیں۔

بینن کے ایک ریٹائرڈ لوکل معلم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ

خلیفہ وقت سے محبت کی ایک زندہ تصویر تھے۔

وہ کہا کرتے تھے کہ جب مجھے احمدیت کا پیغام ملا جو پاکستانی مبلغ نے دیا تو میں اسی دن سے احمدی ہوچکا تھا۔

مَیں نے یہ سیکھا ہے کہ دنیا کی فلاح صرف نظام خلافت سے وابستہ ہے
اور یہی اصل راستہ ہے اور مرتے دم تک اس پر قائم رہوں گا۔

معلم صاحب کہتے ہیں کہ حقیقتاً جو انہوں نے کہا تھا وہ انہوں نے کر دکھایا۔

پھر بینن کے لوکل معلم عیسیٰ صاحب ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا ایک لمبے عرصہ سے ان سے تعلق تھا۔ ایک ایسے احمدی تھے جن کو کسی سے کوئی اختلاف نہ تھا۔ وہ حقیقی احمدی تھے۔ ایسے احمدی جو ہر عمل میں آگے تھے،تبلیغ میں، چندے میں، ہر چیز میں اول تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وجہ سے باقی آٹھ انصار بھی ان کے پیچھے لبیک کہتے ہوئے اپنی جانیں خدا کے حضور قربان کرنے والے بن گئے۔

پرنسپل جامعہ برکینا فاسو لکھتے ہیں: کسی شخص نے ایک خواب دیکھی اس پر حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے امیر جماعت کو یہ لکھ کے بھیجا کہ

’’خواب مبارک ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ملک کی مٹی قبولِ حق کے لیے زرخیز ہے اور میرے دورے کے بعد ان شاء اللہ صداقت کو قبول کر کے نُور سے چمک اٹھے گی۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔‘‘

(خط مکرم ایڈیشنل وکیل التبشیر صاحب۔ لندن T.3360 بتاریخ 19؍جون 1990ء)

میرا خیال ہے خلیفة المسیح الرابعؒ کا وہاں دورہ تو نہیں ہوا۔ بہرحال میں دورے پہ 2004ء میں گیا تھا۔ اس کے بعد کہتے ہیں آپ نے بھی لکھا کہ اس کے بعد ’’مجھے پورا یقین ہے کہ برکینا فاسو کی سرزمین پر احمدیت کا جو بیج بویا گیا وہ جلد دائمی پھل لائے گا۔

برکینا کے لوگ حقیقتاً بڑے عظیم لوگ ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ خدا نے ان کو احمدیت کے نور سے منور کیا ہے۔ میں نے جو بیداری جماعت برکینا کے افراد میں دیکھی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ امید ہے کہ اگلے دو تین سالوں میں اس دورے کے عظیم الشان نتائج ظاہر ہوں گے اور جماعت تیزی سے ترقی کرے گی ان شاء اللہ۔‘‘

(زیرخط T.9653 بتاریخ یکم مئی 2004ء)

تو یہ مَیں نے اپنے دورے کے بعد ان کو لکھا تھا۔ افریقہ کی جماعتوں میں برکینا فاسو کے احمدیوں میں مَیں نے ایک خاص بات دیکھی ہے کہ ملاقات کے وقت ہر ایک کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ مجھ سے گلے لگے۔ اور پھر ان لوگوں کی محبت جو تھی وہ بھی دیکھنے والی ہوتی تھی۔ پرنسپل صاحب لکھتے ہیں کہ آج مہدی آباد کے مخلصین نے غیر معمولی قربانی دے کر ’’حقیقتاً بڑے عظیم لوگ ہیں‘‘ پر مہر تصدیق ثبت کر دی جو آپ نے لکھا تھا۔

دوسرے

الحسن آگ مالی آئل صاحب (Alhassane Ag Maliel)

ہیں۔ ان کی شہادت کے وقت عمر اکہتر (71) سال تھی۔ پیشے کے لحاظ سے کسان ہیں۔ 1999ء میں احمدیت قبول کی۔ گاؤں کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے۔ ابراہیم صاحب کے ساتھ مل کر ڈوری مشن میں جانے والے تحقیقاتی وفد میں شامل تھے۔ جب سے آپ نے بیعت کی اخلاص اور وفا میں ترقی کرتے چلے گئے۔ خلافت کے ساتھ بہت اخلاص کا تعلق رکھتے تھے۔ نماز باجماعت کے پابند، تہجد گزار، چندہ جات میں باقاعدہ، اپنی فیملی کے لیے اپنے پیچھے ایک نیک نمونہ قائم کیا۔ مجموعی طور پر آپ نے جماعت کے لیے جان، مال اور وقت کی جو قربانی کی وہ غیر معمولی ہے۔ آپ برکینا فاسو کی چار پانچ زبانیں بولتے تھے جو مختلف مقامی زبانیں ہیں جس کی وجہ سے آپ کا حلقۂ احباب پورے ملک کی جماعتوں میں تھا۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر دوسرے ریجن سے آنے والوں کے ساتھ ان کی زبان جاننے کی وجہ سے بہت گھل مل کر رہتے تھے۔ لوگ آپ کو بہت پسند کرتے۔ ان کی محفل میں بیٹھ کر محظوظ ہوتے۔ جب بھی جماعت کی طرف سے کوئی تحریک ہوتی اس میں آگے بڑھ کر حصہ لیتے۔ گذشتہ سال جماعت کی طرف سے وقفِ عارضی کرنے کی تحریک ہوئی تو مہدی آباد جماعت میں سے سب سے پہلے آپ نے نام لکھوایا۔ سانحہ مہدی آباد میں آپ کے جڑواں بھائی مکرم حسین آگ مالی آئل صاحب کی بھی شہادت ہوئی۔

حسین آگ مالی آئل صاحب

یہ بھی جیسا کہ بتایا اِن کے جڑواں بھائی ہیں۔ ان کی عمر بھی اکہتر (71) سال تھی۔ انہوں نے بھی 1999ء میں بیعت کرنے کی توفیق پائی۔ اپنے گاؤں کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے۔ الحاج ابراہیم صاحب کے ساتھ ڈوری مشن میں جا کر تحقیق کرنے والے گروپ میں شامل تھے۔ اس وقت مہدی آباد میں بطور زعیم انصار اللہ خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ انصار بھائیوں کو بہت اچھے طریق سے منظم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کو جماعتی پروگراموں اور سرگرمیوں میں متحرک رکھتے اور تربیت کے متعدد پروگرام منعقد کرواتے رہتے۔ مسجد کی صفائی اور دیگر مقامات پر وقارِ عمل کرواتے۔ چندہ جات میں باقاعدہ اور پانچوں نمازیں مسجد میں ادا کرنے کی پابندی کرتے۔ نمازِ تہجد باقاعدہ ادا کرنے والے تھے۔ سانحہ مہدی آباد میں جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے ان کے جڑواں بھائی بھی شہید ہوئے تھے۔ایک دن دنیا میں آئے اور ایک ہی دن دنیا سے گئے۔

حمیدو آگ عبدالرحمٰن صاحب۔

ان کی ستاسٹھ (67) سال عمر تھی۔ پیشے کے لحاظ سے یہ بھی کسان تھے۔ 1999ء میں انہوں نے بھی احمدیت قبول کی۔ دل کے بہت صاف، بہت حلیم طبع تھے۔ ہمیشہ جماعتی پروگراموں میں حصہ لینے والے صفِ اوّل میں شمار ہوتے تھے۔ کسی پروگرام سے غیر حاضر ہوتے تو یہ سمجھا جاتا یقیناً کوئی بہت اشد مجبوری یا بیماری ہو گی ورنہ غیر حاضر نہیں ہوتے تھے۔ امام ابراہیم صاحب کے مددگار ساتھیوں میں سے تھے۔ اپنی فیملی کو بھی نظام جماعت کے ساتھ جڑے رہنے اور جماعتی پروگرام میں شرکت کی تلقین کرتے رہتے۔ خلافتِ احمدیہ کے ساتھ وفا کا تعلق تھا۔ بہت سا وقت مسجد میں گزارتے۔ ایم ٹی اے پروگرام دیکھتے رہتے۔ خاص طور پر خطبہ بہت باقاعدگی سے اور توجہ سے سنتے۔

صُلِح (Souley) آگ ابراہیم۔

شہادت کے وقت ان کی عمر ستاسٹھ (67) سال تھی۔ پیشے کے اعتبار سے یہ بھی کسان تھے۔ نماز باجماعت کے بہت پابند، باقاعدگی سے چندہ جات ادا کرنے والے، مجلس انصاراللہ کے متحرک رکن تھے اور جماعت کے بہت مخلص تھے۔ ابراہیم صاحب کے دستِ راست اور مددگار تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے صاحبِ علم تھے۔ مذہبی اور علمی گفتگو کرنا آپ کی عادت تھی۔ جب بھی انصار ممبران جماعت میں علمی گفتگو ہو رہی ہوتی آپ ایسی محفل میں پائے جاتے۔ بہت حلیم اور شریف طبیعت کے مالک تھے۔ ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ حسن سلوک کرنا آپ کے اوصاف میں تھا۔ جلسہ سالانہ یا کسی اجتماع پر جاتے ہوئے اگر دیکھتے کہ کسی کے پاس کرایہ کی رقم نہیں ہے یا کم ہے تو اپنی طرف سے اس کی مدد کر دیتے تاکہ وہ بھی شامل ہو جائے۔ ان دنوں میں اس سال ڈوری کے علاقے سے نکل کر سفر کرنا بہت ہمت کا کام تھا کیونکہ ہر طرف دہشت گردوں نے اپنی دہشت پھیلائی ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود تمام خطرات کو دیکھتے ہوئے بھی مہدی آباد سے دسمبر کے آخری ہفتہ میں ہونے والے جلسہ سالانہ برکینا فاسو میں شامل ہوئے۔

پھر

عثمان آگ سُودے (Soudeye) صاحب

ہیں۔ ان کی عمر انسٹھ (59) سال تھی۔ مخلص اور جاں نثار احمدی تھے۔ جماعت کے لیے مال اور وقت کی قربانی کرنے والے تھے اور آخر پر اللہ تعالیٰ نے جان کی قربانی کی بھی توفیق عطا فرما دی۔ مہدی آباد کی مسجد کی تعمیر کے وقت پانی لے کر آتے اور تعمیر کے کاموں میں مسلسل تعاون کرتے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ نمازوں کے بہت پابند تھے۔ چندہ دینے میں باقاعدہ تھے۔ جو کچھ کما کے لاتے پہلے اس سے چندہ کی رقم ادا کرتے۔ کیا ایسی سوچ رکھنے والے پیسے کی لالچ میں بیعت کرتے ہیں جیسا کہ مخالفین کہہ رہے ہیں؟ پیشے کے اعتبار سے آپ ایک تاجر تھے۔ جوتے فروخت کرنے کا کاروبار کرتے تھے۔ کسی کے پاس اگر جوتا خریدنے کی استطاعت نہیں تھی یا رقم کم ہوتی تو پھر بھی اسے خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے تھے۔ کسی کو ننگے پاؤں واپس نہیں جانے دیا۔ اگر رقم نہیں ہے یا کم ہے تو کہتے کوئی بات نہیں بعد میں دے دینا۔

پھر

آگ علی آگ مگوئیل (Maguel)۔

یہ 1970ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد صاحب کے ساتھ 1999ء میں احمدیت قبول کی۔ پیشے کے اعتبار سے کسان تھے۔ جماعت احمدیہ بیلارے (Belare) کے مؤذن تھے۔ جب کچھ عرصہ قبل دہشت گردی کی وجہ سے ان کو اپنے گاؤں سے نقل مکانی کرنی پڑی تو انہوں نے مہدی آباد میں سکونت اختیار کر لی۔ بہت مخلص احمدی تھے۔ نمازوں اور چندہ جات میں باقاعدہ تھے اور جماعت کی تمام سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔

پھر

موسیٰ آگ ادراہی (Idrahi)۔

شہادت کے وقت ان کی عمر ترپن (53) سال تھی۔ یہ بھی کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے اور جماعت کے کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ احمدی ہونے سے قبل وہابیہ فرقہ کے بہت سرگرم رکن تھے۔ نمازوں کی بہت پابندی کرنے والے، تہجد باقاعدگی سے ادا کرنے والے۔ مغرب کی نماز پر مسجد میں آتے تو عشاء کی نماز پڑھ کر ہی واپس گھرجاتے۔ مغرب اور عشاء کا وقت مسجد میں گزارتے اور ذکر الٰہی میں مصروف رہتے۔ ان کے متعلق ہر کوئی گواہی دیتا ہے کہ ایک حقیقی مومن اور مخلص فدائی احمدی ہونے کا عملی نمونہ تھے۔ مجھے دعائیہ خطوط بھی یہ باقاعدہ لکھتے تھے اور کہتے تھے مَیں بھی خلیفۂ وقت کے لیے باقاعدہ دعا کرنے والا ہوں۔

پھر نویں ہیں

آگ عمر آگ عبدالرحمٰن۔

ان کی شہادت کے وقت عمر چوالیس (44)سال تھی۔ سب سے چھوٹی عمر کے تھے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ 1999ء میں بیس سال کی عمر میں انہوں نے احمدیت قبول کی۔ اس کے بعد جماعت کے ساتھ تعلق اور وفا میں ترقی کرتے چلے گئے۔ جماعت مہدی آباد کے بہت مخلص اور فدائی ممبر تھے۔ امام ابراہیم صاحب کے دستِ راست تھے۔ مہدی آباد کے نائب امام الصلوٰة بھی تھے۔ جب دہشت گرد مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے امام ابراہیم صاحب کا پوچھنے کے بعد پوچھا کہ نائب امام کون ہے؟ تو انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بتایا کہ مَیں ہوں۔ آپ ہمیشہ مسجد میں آنے والے اوّلین افراد میں سے ہوتے۔ بہت خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کیا کرتے تھے۔ نمازِ تہجد کی پابندی کرنے والے تھے۔ مسجد میں اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے کر آتے اور ان کی تربیت کا بہت خیال رکھتے اور ان میں بھی مجھے خط لکھنے میں بڑی باقاعدگی تھی۔ سائیکل چلانے کے بہت ماہر تھے اور پورے علاقے میں لمبے لمبے سفر کیا کرتے تھے۔ چار دفعہ ڈوری سے 265کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے واگا ڈوگوخدام الاحمدیہ کے اجتماع میں شامل ہوئے۔ 2008ء میں خلافت جوبلی کے جلسہ میں برکینا فاسو سے گھانا سائیکلوں پر جانے والے قافلے میں یہ شامل تھے۔

یہ جو ہر لفظ کے ساتھ ’آگ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ میں ان کی رپورٹوں سے جو سمجھا ہوں وہ یہی ہے کہ وہاں اس کا مطلب ’ابن‘ کے ہیں کہ فلاں کا بیٹا۔ آگ فلاں یا فلاں آدمی ابن فلاں۔ فلاں فلاں کا بیٹاابن فلاں۔

بہرحال ان کے بارے میں مزید یہ لکھتے ہیں کہ جب آٹھ افراد کو شہید کیا جا چکا تو آخر پر آگ عمر آگ عبدالرحمٰن صاحب رہ گئے۔ اپنی عمر کے لحاظ سے یہ سب سے چھوٹے تھے۔ دہشت گردوں نے ان سے پوچھا کہ تم جوان ہو۔ احمدیت سے انکار کر کے اپنی جان بچا سکتے ہو تو انہوں نے بڑی شجاعت سے جواب دیا کہ

جس راہ پر چل کر میرے بزرگوں نے قربانی دی ہے میں بھی اپنے امام اور بزرگوں کے نقش قدم پر چل کر ایمان کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس پر آپ کو بہت بےدردی سے چہرے پر گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔

برکینا فاسو میں عمومی طور پر حالات خراب ہیں۔ دہشت گرد بہت سارے علاقوں میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ کچھ دن قبل قائد صاحب مجلس دینیا (Denea) مرکز میں، سینٹر میں، مشن ہاؤس میں آئے تھے اور انہوں نے بتایا کہ میری گاؤں میں پرچون کی دکان ہے۔ ایک دن دہشت گردوں میں سے ایک ان کی دکان پر آیا۔ یہ بالکل دوسرا علاقہ ہے اور کچھ خریدنے کے لیے آیا۔ پھر اِدھر اُدھر دیکھتا رہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی تصاویر وہاں ان کی دکان پہ لگی تھیں۔ اس نے قائد صاحب سے پوچھا یہ کون ہیں؟ یہ کن کی تصویر تم نے دکان پہ لگائی ہوئی ہے؟ تو قائد صاحب نے جواب دیا کہ یہ مسیح موعود اور ان کے خلفاء کی تصاویر ہیں۔ کہنے لگا کہ مسیح موعود نہیں بلکہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے اکٹھے ہو کر ایک گروپ بنا لیا ہے یہ وہی لوگ ہیں اور یہ لوگ کافر ہیں اور جانے سے پہلے قائد کو کہا، دھمکی دے کر گیا کہ یہ تصاویر یہاں سے اتار لو ورنہ اگلی دفعہ جب مَیں آؤں گا اور یہ موجود ہوئیں تو پھر تمہارا بہت برا حال ہو گا۔ لیکن بہرحال قائد صاحب نے وہ تصویریں ادھر لگی رہنے دیں۔ کچھ دن کے بعد وہ دوبارہ آیا کچھ خریدنے کے لیے تو دیکھا کہ تصاویر ادھر لگی ہوئی ہیں۔ دیکھ کے چلا گیا تو کہتے ہیں کہ قائد صاحب نے ہمیں یہ واقعہ بتایا اور ساتھ اَور تصاویر بھی طلب کی ہیں۔ اب ڈرنے کی بجائے انہوں نے یہ کہا کہ اب مَیں اَور جگہوں پہ بھی تصویریں لگاؤں گا۔ یہ سارا علاقہ ایک لمبے عرصہ سے ان دہشت گردوں کے کنٹرول میں ہے اور حکومت کا وہاں کنٹرول کوئی نہیں۔ اس علاقے کا بارڈر جو ہے وہ مالی سے ملتا ہے یا دوسری طرف سے ڈوری کا علاقہ نائیجر سے ملتا ہے تو ایک پورا علاقہ، بیلٹ جو ہے تقریباً اس طرح ان کے قبضہ میں ہے۔

بہرحال

یہ احمدیت کے چمکتے ستارے ہیں، اپنے پیچھے ایک نمونہ چھوڑ کر گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اولادوں اور نسلوں کو بھی اخلاص و وفا میں بڑھائے۔ دشمن سمجھتا ہے کہ ان کی شہادتوں سے یہ اس علاقے میں احمدیت ختم کر دے گا لیکن ان شاء اللہ پہلے سے بڑھ کر احمدیت یہاں بڑھے گی اور پنپے گی۔

وہاں جو انتظامیہ ہے اس کو اور امیر صاحب کو بھی وہاں حکمتِ عملی کے ساتھ تبلیغی پروگرام بنانا چاہیے جہاں پہ ان لوگوں کی تسلی بھی کرانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر اور حوصلہ بھی دیتا رہے اور ان کے بزرگوں نے جس مقصد کے لیے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے ہیں اس کی اہمیت کو سمجھنے کی بھی ان کو توفیق عطا فرمائے۔ بہرحال

ایک حکمت اور منصوبہ بندی سے اب ہمیں وہاں کام کرنا ہو گا۔

اس بارے میں پہلے ہی مَیں ان کو کہہ چکا ہوں کہ وہاں جائیں اور مقامی لوگوں سے مل کر جامع منصوبہ بندی حکمت سے کریں۔

شہداء کے خاندانوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے، ان کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے خلافتِ رابعہ سے ہی ایک فنڈ

سیدنا بلال فنڈ

کے نام سے قائم ہے جس میں سے شہداء کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔ آج کل اس واقعہ کے بعد بعض لوگ انفرادی طور پر بھی اور تنظیمیں اور جماعت بھی یہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کچھ رقمیں بھیج رہی ہیں یہ ان کے لیے ہے۔ حالانکہ جب فنڈ ایک قائم ہے تو سب کو چاہیے کہ اپنی رقمیں جو بھی دینا چاہتے ہیں سیّدنا بلال فنڈ میں جمع کروائیں اور پھر بتا دیں کہ ہم نے یہ رقمیں جمع کروائی ہیں اور خاص طور پر ہمارا مقصد جو ڈوری کے، مہدی آباد کے شہداء ہیں ان کے لیے خرچ کرنا ہے تو بہرحال مرکز اس کے مطابق فیصلہ کر لے گا۔

مرکز نے تو چاہے رقمیں آئیں یا نہ آئیں ان لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھنا ہے اور پورا کرنا ہے اور کرے گا ان شاء اللّٰہ

لیکن لوگ جو دینا چاہتے ہیں وہ اس فنڈ میں، سیدنا بلال فنڈ میں رقمیں جمع کروائیں۔ اور

یہ کوئی ان شہداء کے خاندانوں پر احسان نہیں ہے بلکہ ہمارا فرض ہے کہ ان کی ضروریات کا خیال رکھیں اور انہیں پورا کریں۔

آخر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔ تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔‘‘ ان شاء اللہ۔ ’’پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے۔‘‘

(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد20 صفحہ309)

پس یہ قربانی کرنے والے تو اس آزمائش میں پورے اترے۔ اب پیچھے رہنے والوں کا بھی اپنے ایمان اور یقین میں بڑھنے کا امتحان ہے۔

اللہ تعالیٰ ان کو بھی توفیق دے اور ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اپنے ایمان اور یقین میں کامل رہیں۔

اللہ تعالیٰ ان شہداء کے مقام کو بلند تر فرماتا چلا جائے۔ ان کی قربانیوں کو وہ پھل پھول لگائے جس کے نتیجہ میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی تعلیم کو جلد از جلد دنیا میں ہم پھیلتا دیکھنے والے ہوں۔ جہالت دنیا سے ختم ہو اور خدائے واحد کی حقیقی بادشاہت دنیا میں قائم ہو جائے۔

ان شہداء کے جنازوں کے ساتھ جو میں پڑھاؤں گا ابھی نمازوں کے بعد

دو اَور مخلصین کے ذکر، جنازے

بھی ہیں جن میں سے ایک

ڈاکٹر کریم اللہ زیروی صاحب

ہیں جو صوفی خدا بخش زیروی صاحب کے بیٹے تھے۔ یہ امریکہ میں رہتے تھے۔ چار جنوری کو ان کی تراسی سال کی عمر میں وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔

ان کے والد صوفی خدا بخش صاحب نے سترہ سال کی عمر میں 1928ء میں قادیان جا کر خلیفہ ثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ کریم اللہ زیروی صاحب حضرت ملک سیف الرحمٰن صاحب کے داماد بھی تھے۔ بڑے علمی آدمی تھے۔ بعض کتب بھی انہوں نے لکھی ہیں۔ جماعتی خدمت کی بھی انہیں بہت توفیق ملی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

دوسرا جنازہ

زیروی صاحب کی اہلیہ امۃاللطیف زیروی صاحبہ

کا ہے جو کریم اللہ زیروی صاحب کی اہلیہ تھیں۔ امریکہ میں رہتی تھیں اور ملک سیف الرحمٰن صاحب کی یہ بیٹی تھیں۔ یہ 6؍جنوری کو اپنے میاں کی وفات کے دو دن بعد اٹھہتر سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

مرحومہ موصیہ تھیں اور جیسا کہ میں نے کہا ملک سیف الرحمٰن صاحب کی بیٹی تھیں۔ ان کی والدہ کا نام امۃالرشیدشوکت تھا جو رسالہ مصباح ربوہ کی مدیر رہی ہیں۔ ان کی پیدائش قادیان کی ہے۔ بڑا علمی ذوق رکھنے والی خاتون تھیں۔ پڑھی لکھی تھیں۔ ایم ایس سی کیا ہوا تھا۔ جماعتی خدمات کی بھی ان کو توفیق ملی۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ سے بھی مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ان کے بھائی ملک مجیب الرحمٰن صاحب اپنی بہن اور بہنوئی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ بہت محبت کرنے والا جوڑا تھا۔ انہوں نے بہت مشقتیں برداشت کیں لیکن کبھی کسی چیز کے بارے میں کوئی شکایت نہیں کی۔ میں نے انہیں کبھی کسی کے بارے میں کوئی منفی گفتگو کرتے نہیں دیکھا۔ دونوں علم کے گہرے سمندر تھے۔ زندگی کے آخری لمحات تک ہر کسی کے ساتھ محبت کرنے والے، ان کی ضروریات کا خیال رکھنے اور بے پناہ پیار و محبت کرنے والے تھے۔ ماشاء اللہ بڑی بھرپور اور بہترین زندگی گزاری۔ اپنے معاشرہ اور ماحول میں دوسروں پر نہایت مثبت اثر ڈالنے والے اور اچھا اثر و رسوخ رکھنے والے بزرگ انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

(الفضل انٹرنیشنل 10؍فروری 2023ء صفحہ5 تا 11)

پچھلا پڑھیں

جلسہ جو بلی جماعت احمدیہ۔ مہدی آباد جرمنی

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 فروری 2023