• 4 مارچ, 2024

خطبہ جمعہ فرمودہ 17؍فروری 2023ء

خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ 17؍ فروری 2023ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

‘‘قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر! تجھ پر سلام’’

’’تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذرّیت و نسل ہو گا ‘‘

حضرت مصلح موعودؓ کو اللہ تعالیٰ نے جو علم اور عرفان عطا فرمایا تھا اس کا کوئی بڑے سے بڑا عالم بھی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ آپؓ کا دیا ہوا لٹریچر ایک جماعتی خزانہ ہے۔
آپؓ کے خطابات، خطبات، مضامین اکثر شائع ہو چکے ہیں۔ کچھ ہو رہے ہیں۔ انہیں ہمیں پڑھنا چاہیے

اس بیٹے کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیے جانے، ذہین و فہیم ہونے اور دوسری خصوصیات کا حامل ہونے کے اپنے بھی اور غیر بھی معترف ہیں اور خوب جانتے ہیں اور اس کا اعتراف غیروں نے کھل کر کیا ہے

اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویہ ٔفکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔ آپ کی تبحرِ علمی، آپ کی وسعتِ نظر، آپ کی غیر معمولی فکر و فراست، آپ کا حسنِ استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے (علامہ نیاز فتح پوری)

مرزا محمود کی تفسیر کے پایہ کی ایک تفسیر بھی کسی زبان میں نہیں ملتی۔ آپ جدید تفسیریں بھی مصر وشام سے منگوا لیجئے اور چند ماہ بعد مجھ سے باتیں کیجئے(اختر اورینوی)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِؕ﴿۴﴾ إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

جیسا کہ ہر احمدی جانتا ہے کہ 20؍ فروری کا دن جماعت میں

پیشگوئی مصلح موعود

کے حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے اور اس مناسبت سے جماعتوں میں جلسےبھی ہوتے ہیں۔ 20؍فروری تو اس دفعہ تین دن کے بعد آنا ہے لیکن مَیں نے مناسب سمجھا کہ آج کے خطبہ میں اس حوالے سے کچھ باتیں کروں۔

یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاں ایک لڑکے کی ولادت کی تھی جو بہت سی خوبیوں کا مالک ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت اسے حاصل ہو گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بات کو، پیشگوئی کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔ فرمایا:’’پہلی پیشگوئی بالہام اللہ تعالیٰ و اعلامہ عزوجل خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر یک چیز پر قادر ہے (جلّ شانہ و عزّاسمہ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ مَیں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اُسی کے موافق جو تُو نے مجھ سے مانگا۔ سو مَیں نے تیری تضرعات کو سنااور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپایہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا۔ سو

قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر! تجھ پر سلام۔

خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰؐ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔ سو

تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہو گا۔

خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے اس کا نام عَمَانُوایل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رِجس سے پاک ہے۔ وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اُس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے اپنے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے وا لا ہوگا… دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ‘‘۔ تین کو چار کرنے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ’’(اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے۔)‘‘ بہرحال آگے فرمایا ’’دو شنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔ فرزند دلبند گرامیٔ ارجمند۔ مَظْہَرُ الْاَوَّلِ وَ الْآخر، مَظْہَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ کَأَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآءِ۔ جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔ نور آتا ہے نور۔ جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اُس کے سر پر ہو گا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رَستگاری کا موجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وَ کَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ647)

چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق اُس مدت کے اندر جو آپؑ نے بیان فرمائی تھی بیٹا پیدا ہوا جس کا نام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خلیفة المسیح الثانی کے مقام پر بھی بٹھایا۔ پھر ایک لمبے عرصےبعد خلیفہ ثانیؓ نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر یہ اعلان فرمایا کہ جس بیٹے کی مصلح موعود ہونے کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خبر دی تھی وہ مَیں ہی ہوں۔

اس بیٹے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیے جانے، ذہین و فہیم ہونے اور دوسری خصوصیات کے اپنے بھی اور غیر بھی معترف ہیں اور خوب جانتے ہیں اور اس کا اعتراف غیروں نے کھل کر کیا ہے۔

اس وقت میں

حضرت مصلح موعودؓ کے علمی اور متفرق کارناموں میں سے بعض کا ذکر

پیش کروں گا۔

ان باتوں کے سننے سے پہلے جو پیش کرنے لگا ہوں اس بات کو سامنے رکھنا چاہیے کہ آپؓ کا بچپن صحت کے لحاظ سے نہایت کمزوری میں گزرا، بیماری میں گزرا۔ آنکھوں کی تکلیف وغیرہ بھی رہی۔ نظر بھی ایک وقت میں ایک آنکھ سے جاتی رہی۔

پھر دنیاوی تعلیم کے لحاظ سے بھی آپؓ کی تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی۔ آپؓ نے خود فرمایا کہ مشکل سے میری پرائمری تک تعلیم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا آپؓ کو دینی و دنیوی علوم سے پُر کرنے کا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے زبردست اور عقل کو دنگ کر دینے والے خطابات اور خطبات آپؓ سے کروائے اور ایسے ایسے مضامین آپؓ نے لکھے کہ جو اپنی مثال آپ ہیں اور غیر بھی ان کے معترف ہیں۔

آج کچھ حوالے میں پیش کروں گا۔ مَیں یہ حوالے پیش کرنے سے پہلے

آپؓ کی تصنیفات، تقاریر، مضامین، خطبات اور
مجالس عرفان وغیرہ کی تعداد اور حجم کا ایک جائزہ

پیش کرتا ہوں۔ جو کتب، خطابات، لیکچرز، مضامین پیغامات وغیرہ کی شکل میں شائع ہوئے یا اب تقریباً مکمل ہیں ا ور وہ جو تقاریر، خطابات وغیرہ انوار العلوم کی شکل میں شائع ہونے کے لیے تیار ہیں۔ ان کی کل اڑتیس (38) جلدیں بن جائیں گی اور ان کی تعداد چودہ سو چوبیس (1424) ہے اور اس کے کُل صفحات بیس ہزار تین سو چالیس(20340) ہیں۔ اتنے ہو جائیں گے اندازاً۔ تفسیر کبیر، تفسیر صغیر سمیت دیگر تفسیری مواد کے صفحات اٹھائیس ہزار سات سو پینتیس (28735) ہیں۔ 1808خطبات جمعہ ہیں جن کے صفحات اٹھارہ ہزار سات سو پانچ (18705) ہیں۔ اکاون (51) خطباتِ عید الفطر ہیں جن کے صفحات پانچ سو تین(503) ہیں۔ بیالیس (42) خطباتِ عید الاضحی ہیں جن کے صفحات چار سو پانچ (405) ہیں۔ 150خطباتِ نکاح ہیں جن کے صفحات چھ سو چوراسی (684) ہیں۔ خطاباتِ شوریٰ جلد اوّل تا سوم بھی شائع ہوئی ہے اس کے صفحات دو ہزار ایک سو اکتیس (2131) ہیں یہ سارے اور جو مختلف اور بھی ہیں ان صفحات کو اکٹھا کیا جائے، جمع کیا جائے تو کُل تقریباً پچہتر ہزار (75000) صفحات بنتے ہیں۔ ریسرچ سیل نے الحکم اور الفضل کے 1913ء سے 1970ء تک کے شماروں کو دیکھا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ کچھ مزید مواد سامنے آیا ہے جو ابھی تک انوارالعلوم یا کسی کتاب میں شائع نہیں ہو سکا۔ اس تفصیل کے مطابق پچپن(55)مضامین، ستائیس (27) تقاریر، ایک سو تینتالیس(143) مجالس عرفان، دو سو بائیس (222) عناوین ملفوظات اور ایک سو اکتیس (131) مکتوبات ابھی تک مل چکے ہیں۔ ایک بڑا وسیع علمی ذخیرہ ہے۔

اس وقت میں پہلے آپؓ کے علمی کارناموں میں سے

قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کے کچھ کوائف اور غیروں کے اس بارے میں آرا،

تبصرے پیش کرتا ہوں۔ تفسیر کبیر میں حضرت مصلح موعودؓ نے اُنسٹھ (59) سورتوں کی تفسیر بیان فرمائی، ہے جو کہ دس جلدوں اور پانچ ہزار نو سو سات (5907) صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے تفسیری نوٹ بھی آپؓ کے ملے ہیں جن کے صفحات کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے اور امید ہے کسی وقت یہ بھی شائع ہو جائے گی۔ بامحاورہ ترجمہ قرآن کا ایک بہت بڑا کام آپؓ کا تفسیرِ صغیر کی صورت میں ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی عمر کے آخری دَور میں سب سے بڑی یہ خواہش تھی کہ آپؓ کی زندگی میں آپؓ کے ذریعہ پورے قرآنِ مجید کا ایک معیاری اور بامحاورہ اردو ترجمہ مع مختصر مگر جامع نوٹوں کے شائع ہو جائے۔

سفرِ یورپ 1955ء سے واپسی کے بعد اگرچہ حضورؓ کی طبیعت اکثر ناساز رہتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ موعود کی روح القدس سے ایسی زبردست تائید فرمائی کہ جون 1956ء میں گرمیوں میں مری کے پہاڑوں پر گئے تو وہاں آپؓ نے ترجمہ قرآن املاکرانا شروع کیا جو خدا کے فضل سے 25اگست 1956ء کی عصر تک مکمل ہو گیا اور یہ نخلہ ایک جگہ تھی جو کلر کہار کے قریب چھوٹا سا پُرفضا مقام ہے وہاں آپؓ نے چھوٹی سی ایک بستی بنائی تھی جہاں یہ کام کیا۔ اس کے بعد پھر اس کی نظرِ ثانی ہوئی۔ پھر نظر ثالث ہوئی۔ کتابت ہوئی۔ پروف ریڈنگ وغیرہ ہوئی۔ اس کے بہت سارے کام ہوئے اور تفسیر صغیر 15؍نومبر 1957ء کو طبع ہو کر مکمل تیار ہو گئی۔

(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد19صفحہ522تا531)

حضرت مصلح موعودؓ نےتفسیر صغیر کے بارے میں ایک جگہ فرمایا کہ

‘‘میری رائے یہ ہے کہ اس وقت تک قرآن کریم کے جتنے ترجمے ہو چکے ہیں ان میں سے کسی ترجمہ میں بھی اردو محاورے اور عربی محاورے کا اتنا خیال نہیں رکھا گیا جتنا اس میں رکھا گیا ہے۔’’

عام طور پر دیکھیں اور خصوصاً اس کے نوٹس میں بھی نظر آ جاتا ہے کہ آپؓ نے ترجمہ میں محاورے کا خیال رکھا ہے۔ ’’یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اتنے تھوڑے عرصہ میں ایسا عظیم الشان کام سرانجام دینے کی توفیق عطا فرما دی۔‘‘ فرماتے ہیںکہ ’’… اللہ تعالیٰ نے اس بڈھے اور کمزور انسان سے وہ عظیم الشان کام کروا لیا جو بڑے بڑے طاقتور بھی نہ کر سکے۔‘‘ فرماتے ہیں ’’گذشتہ تیرہ سو سال میں بڑے بڑے قوی نوجوان گزرے ہیں مگر جو کام اللہ تعالیٰ نے مجھے سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائی ہے اس کی ان میں سے کسی کو بھی توفیق نہیں ملی۔ درحقیقت یہ کام خدا کا ہے اور وہ جس سے چاہتا ہے کروا لیتا ہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد19صفحہ525-526)

پھر ایک اَور جگہ آپؓ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے …قرآنِ شریف کا سارا ترجمہ مکمل ہو گیا۔ یعنی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ سے وَالنَّاستک مع تفسیر صغیر کے جس کے متعلق تفسیر کبیر سے مقابلہ کرنے سے یہ پتہ لگا ہے کہ کئی مضامین اختصاراً اس میں ایسے آئے ہیں کہ تفسیر کبیر میں بھی نہیں۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد19صفحہ530)

پھر تفسیر القرآن انگریزی کا بھی ایک اہم کام ہوا جسے ہم فائیو والیم کمنٹری (Five Volume Commentary)کہتے ہیں۔ اس تفسیر کے شروع میں حضرت مصلح موعودؓ کے قلم سے لکھا ہوا ایک نہایت پُرمعارف دیباچہ بھی شامل ہے جس میں دوسرے صحفِ سماوی کی موجودگی میں قرآن مجید کی ضرورت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اور جمع القرآن اور قرآنی تعلیمات پر بالکل اچھوتے اور دلآویز پیرائے میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس دیباچے کے آخر میں

شکریہ و اعتراف کے زیر عنوان

تحریر فرمایا کہ مَیں اس دیباچے کے آخر میں مولوی شیر علی صاحب کی ان بے نظیر خدمات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے باوجود صحت کی خرابی کے قرآن کریم کو انگریزی میں ترجمہ کرنے کے متعلق کی ہیں۔ اسی طرح ملک غلام فرید صاحب، خان بہادر چودھری ابوالہاشم خان صاحب مرحوم اور مرزا بشیر احمد صاحب بھی شکریہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے ترجمےپر تفسیری نوٹ میری مختلف تقریروں اور کتابوں اور درسوں کا خلاصہ نکال کر درج کیے ہیں۔ پھر اس میں آپؓ نے یہ بھی لکھا کہ میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اوّلؓ کا شاگرد ہونے کی و جہ سے کئی مضامین میری تفسیر میں لازماً ایسے آئے ہیں جو مَیں نے اُن سے سیکھے۔ اس لیے اس تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تفسیر بھی، حضرت خلیفہ اوّلؓ کی تفسیر بھی اور میری تفسیر بھی آ جائے گی اور چونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنی روح سے ممسوح کر کے ان علوم سے سرفرا زفرمایا تھا جو اس زمانے کے لیے ضروری ہیں اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ

یہ تفسیر بہت سے بیماروں کو شفا دینے کا موجب ہو گی۔

بہت سے اندھے اس کے ذریعہ سے آنکھیں پائیں گے۔ بہرے سننے لگ جائیں گے۔ گونگے بولنے لگ جائیں گے۔ لنگڑے اور اپاہج چلنے لگ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کے مضامین کو برکت دیں گے اور یہ اس غرض کو پورا کرے گی جس غرض کے لیےیہ شائع کی جا رہی ہے۔ اللّٰھمآمین

(ماخوذ از دیباچہ تفسیر القرآن، انوارالعلوم جلد20صفحہ507-508)

اور اَب تک جو لوگ بھی اس کو پڑھتے ہیں تو بعض غیر بھی، عیسائی بھی بڑی تعریف کرتے ہیں۔

علامہ نیاز فتح پوری صاحب

جو کہ مشہور اہلِ قلم ہیں، محقق ہیں، ادیب تھے۔ماہنامہ نگار کے مدیر تھے۔ احمدی نہیں ہیں۔ انہوں نے تفسیر کبیر کا مطالعہ کیا تو حضرت مصلح موعود ؓکو ایک خط میں لکھا کہ ’’تفسیرِ کبیر جلد سوم آج کل میرے سامنے ہےاور میں اسے بڑی نگاہِ غائر سے دیکھ رہا ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔ آپ کی تبحرِ علمی، آپ کی وسعتِ نظر، آپ کی غیر معمولی فکر و فراست، آپ کا حسنِ استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے اور مجھے افسوس ہے کہ مَیں کیوں اس وقت تک بے خبر رہا۔‘‘ یہ بڑے پڑھے لکھے اور عالم آدمی ہیں جو بات کر رہے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ ’’…کل سورۃ ہود کی تفسیر میں حضرت لوط پر آپ کے خیالات معلوم کر کے جی پھڑک گیا اور بے اختیار یہ خط لکھنے پر مجبور ہو گیا۔ آپ نے هٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِيْ (ہود:78) کی تفسیر کرتے ہوئے عام مفسرین سے جدا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے اس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ 157-158)

پھر ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں کہ ’’رات کو تو بالالتزام اسے دیکھتا ہوں… میرے نزدیک یہ اردو میں بالکل پہلی تفسیر ہے جو بڑی حد تک ذہنِ انسانی کو مطمئن کر سکتی ہے۔‘‘ پھر کہتے ہیں کہ ’’… اس تفسیر کے ذریعہ سے جو خدمت اسلام کی انجام دی ہے وہ اتنی بلند ہے کہ آپ کے مخالف بھی اس کا انکار نہیں کر سکتے۔وَذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد 7 تعارفی صفحہ)

پھر سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدرآبادی ہیں۔ یہ احمدی تھے۔ بیان کرتے ہیں کہ

’’برصغیر ہندو پاکستان کی معروف شخصیت نواب بہادر یار جنگ

(جن سے سیٹھ صاحب کے بڑے دوستانہ تعلقات تھے)‘‘ یہ بہادر یار جنگ صاحب احمدی نہیں تھے۔ ان کے ان سے تعلقات تھے۔ ’’سیٹھ صاحب کہتے ہیں کہ نواب بہادر یار جنگ اپنی صحبتوں میں تفسیرِ کبیر کا اکثر ذکر کیا کرتے تھے اور اس کی عظمت کا ہمیشہ اعتراف کرتے اور کہا کرتے تھے کہ اس کے بیان کردہ معارف سے انہوں نے بہت استفادہ کیا ہے۔ ‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ 158)

پھر جناب اختر اورینوی صاحب ایم اے صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں:‘‘میں نے یکے بعد دیگرے حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کی تفسیرِ کبیر کی چند جلدیں

پروفیسر عبدالمنان بیدل سابق صدر شعبہ فارسی پٹنہ کالج،

پٹنہ وحال پرنسپل شبینہ کالج پٹنہ کی خدمت میں پیش کیں۔ اور وہ ان تفسیروں کو پڑھ کر اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے مدرسہ عربیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے شیوخ کو بھی تفسیر کی بعض جلدیں پڑھنے کے لئے دیں اور ایک دن کئی شیوخ کو بلوا کر انہوں نے ان کے خیالات دریافت کئے۔ ایک شیخ نے کہا کہ فارسی تفسیروں میں ایسی تفسیر نہیں ملتی۔ پروفیسر عبدالمنان صاحب نے پوچھا کہ عربی تفسیروں کے متعلق کیا خیال ہے؟ شیوخ خاموش رہے۔ کچھ دیر کے بعد ان میں سے ایک نے کہا۔ پٹنہ میں ساری عربی تفسیریں ملتی نہیں ہیں۔ مصر وشام کی ساری تفاسیر کے مطالعہ کے بعد ہی صحیح رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ پروفیسر صاحب نے قدیم عربی تفسیروں کا تذکرہ شروع کیا اور فرمایا۔

مرزا محمود کی تفسیر کے پایہ کی ایک تفسیر بھی کسی زبان میں نہیں ملتی۔ آپ جدید تفسیریں بھی مصر وشام سے منگوا لیجئے اور چند ماہ بعد مجھ سے باتیں کیجئے۔

عربی وفارسی کے علماء‘‘ جو بیٹھے ہوئے تھے ’’مبہوت رہ گئے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ 158-159)

متعدد کتب کے مصنف اور اخبار صدق جدید لکھنؤ کے ایڈیٹر مولانا عبدالماجد دریا آبادی

نے حضرت مصلح موعودؓ کے انتقال پر لکھا کہ ’’کراچی سے خبر شائع ہوئی ہے کہ جماعت احمدی (قادیانی) کے امام مرزا بشیر الدین محمود کا 8؍نومبر کو ربوہ میں انتقال ہو گیا۔‘‘ کہتے ہیں ’’… دوسرے عقیدے ان کے جیسے بھی ہوں قرآن و علومِ قرآنی کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوششیں انہوں نے سرگرمی اور اولوالعزمی سے اپنی طویل عمر میں جاری رکھیں ان کا صلہ اللہ انہیں عطا فرمائے۔اور ان خدمات کے طفیل میں ان کے ساتھ عام معاملہ درگذر کا فرمائے۔ علمی حیثیت سے قرآنی حقائق و معارف کی جو تشریح تبیین و ترجمانی وہ کر گئے ہیں اس کا بھی ایک بلند و ممتاز مرتبہ ہے۔‘‘

(صدق جدید لکھنو جلد 15نمبر 51۔ 18 نومبر 1965ء بحوالہ الفضل ربوہ 22/ مارچ 1966ء صفحہ 8)

پھر ایک مشہور احراری لیڈر تھے

مولوی مظہر علی صاحب اظہر

اپنی کتاب ’’ایک خوفناک سازش‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’مولوی (ظفر علی خاں) نے …کہا۔ احمدیوں کی مخالفت کی آڑ میں احرار نے خوب ہاتھ رنگے۔ احمدیوں کی مخالفت کا احرار نے محض جلب زر کے لئے ڈھونگ رچا رکھا ہے۔‘‘ پیسے اکٹھے کرنے کے لئے۔ کہتے ہیں ’’قادیانیت کی آڑ میں غریب مسلمانوں کی گاڑھے پسینہ کی کمائی ہڑپ کر رہے ہیں۔ کوئی ان احرار سے پوچھے بھلے مانسو! تم نے مسلمانوں کا کیا سنوارا۔ کون سی اسلامی خدمت تم نے سرانجام دی ہے۔ کیا بھولے سے بھی تم نے تبلیغ اسلام کی؟‘‘ کہتے ہیں ’’احراریو!کان کھول کر۔‘‘ خود بھی احراری ہیں کہہ رہے ہیں ’’احراریو! کان کھول کر سن لو تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔ مرزا محمود کے پاس قرآن کا علم ہے تمہارے پاس کیا خاک دھرا ہے۔ تم میں ہے کوئی جو قرآن کے سادہ حرف بھی پڑھ سکے؟ تم نے کبھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا۔ تم خود کچھ نہیں جانتے تم لوگوں کو کیا بتاؤ گے۔ مرزا محمود کی مخالفت تمہارے فرشتے بھی نہیں کر سکتے۔ مرزا محمود کے پاس ایسی جماعت ہے جو تن من دھن اس کے ایک اشارہ پر اس کے پاؤں میں نچھاور کرنے کو تیار ہے۔ تمہارے پاس کیا ہے گالیاں اور بدزبانی۔ تف ہے تمہاری غداری پر۔‘‘ پھر لکھتے ہیں کہ ’’…مرزا محمود کے پاس مبلغ ہیں۔ مختلف علوم کے ماہر ہیں۔ دنیا کے ہر ایک ملک میں اس نے جھنڈا گاڑ رکھا ہے … مَیں حق بات کہنے سے باز نہیں رہ سکتا۔ یہ میں ضرور کہوں گا کہ اگر تم نے مرزا محمود کی مخالفت کرنی ہے تو پہلے قرآن سیکھو۔ مبلغ تیار کرو۔ عربی مدرسہ جاری کرو… اگر مخالفت کرنی ہے تو پہلے مبلغ تیار کرو۔ غیر ممالک میں ان کے مقابلہ میں تبلیغ اسلام کرو … یہ کیاشرافت ہے کہ …مرزائیوں کو گالیاں دلوا دیں کیا یہ تبلیغ اسلام ہے؟ یہ تو اسلام کی مٹی خراب کرنا ہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 6صفحہ 513)

پھر اخبار امروز لاہور نے 30؍مئی 66ء کی اشاعت میں

تفسیر صغیر پر تبصرہ

کرتے ہوئے لکھا کہ ’’قرآن حکیم پوری بنی نوع انسان کے لئے رشد و ہدایت کا منبع و سرچشمہ ہے۔ ازل سے رہتی دنیا تک یہ کتاب مبین انسانوں کو دینی اور دنیوی معاملات میں عدل کا راستہ دکھاتی رہے گی اور بھولے بھٹکوں کو صراط مستقیم پر لاتی رہے گی۔‘‘ کاش کہ آج کے علماء بھی یہ سمجھیں۔ ’’قرآن مجید ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔‘‘ لکھتا ہے ’’قرآن کریم ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ، کوئی سا گوشہ اور کوئی سا مرحلہ ایسا نہیں ہے جہاں ہم قرآن سے استمداد نہ کر سکتے ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اس کے لئے مطالبِ قرآن پر حاوی ہونا لازم ہے۔ جب تک قرآن میں منضبط احکام خداوندی کے مفاہیم کا انشراح ہی نہ ہو گا رشد و ہدایت کا سلسلہ کیسے شروع ہو گا۔‘‘ اس کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پھر ہی پتہ لگے گا کہ کیا لکھا ہے۔ ’’اسی ضرورت کے پیشِ نظر قرآنی مطالب کی تشریح و تفسیر کا سلسلہ شروع ہوا اور نزولِ قرآن سے لے کر اَب تک اور پھر ابد تک یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ جن لوگوں نے قرآن فہمی عام کرنے کے سلسلہ میں کوئی سا حصہ بٹایا ہو یقیناً تشکر کے سزاوار ہیں۔‘‘ ان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ ’’مفسرین نے اپنے اپنے دَور میں قرآنی بصیرت کو عام کرنے میں جو کاوشیں کیں وہ اس لحاظ سے بھی مستحسن قرار پائیں گی کہ اس طرح تفسیر قرآن نے ایک باقاعدہ تحریک کی شکل اختیار کر لی اور مطالب و معانی کے ابلاغ کے باب میں تفحص کی ایک پختہ روایت قائم ہو گئی۔ بحمد للہ۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور رہے گا۔‘‘ آگے پھر تفسیر صغیر کے بارے میں کہتا ہے کہ ’’اس وقت تفسیر صغیر پیش نظر ہے۔ یہ تفسیر احمدیہ جماعت کے پیشوا الحاج مرزا بشیر الدین محمود مرحوم کی کاوش فکر کا نتیجہ ہے۔ قرآن کے عربی متن کے اردو ترجمے کے ساتھ کئی مقامات کی تشریح کے لئے حواشی اور تفصیلی نوٹ دئیے گئے ہیں۔ ترجمے اور حواشی کی زبان نہایت سادہ اور آسان فہم ہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 541-542 )

پھر ایک

ہفت روزہ قندیل

ہوتا تھا۔ وہ 19؍جون 1966ء میں لکھتا ہے کہ ’’انجمن حمایت اسلام لاہور اور تاج کمپنی لمیٹڈ کی طرف سے قرآنِ حکیم کی طباعت میں جو خوش ذوقی کا ثبوت دیا جاتا رہا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔‘‘ پھر کہتا ہے تفسیر صغیر کے بارے میں کہ ’’تفسیر صغیر کی اشاعت سے اس روح آفرین سعی میں اضافہ ہوا ہے… تفسیر صغیر میں ترجمہ اور تفسیر امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ ترجمہ اور حواشی کی زبان عام فہم ہے تا کہ ہر علمی استعداد کا آدمی اس سے مستفید ہو سکے۔ ترجمہ اور تفسیر میں یہ التزام بھی ہے کہ جملہ تفاسیر متقدمین آخر تک پیشِ نظر رکھی گئی ہیں۔‘‘ پھر کہتا ہے کہ ’’… قرآنِ مجید کو اس خوبصورتی سے طبع کرا کے شائع کرنا ایک بہت بڑی خدمت اسلام ہے۔‘‘

(الفضل 23؍ جون 1966ء صفحہ 5)

آج کل کے علماء پاکستان میںیہ کہتے ہیں کہ اس میں تحریف کی گئی ہے اس لیے بین (ban)کی جاتی ہے۔ تفسیر صغیر پاکستان میں بین (ban) کی ہوئی ہے۔ اس کو کوئی اپنے گھر میں بھی نہیں رکھ سکتا اور ان کے اپنے جو ہیں انصاف پسند لوگ، پرانے لوگ وہ کہتے ہیں کہ اس جیسی کوئی چیز ہی نہیں۔ قابل تعریف چیز ہے اور اس سے آدمی بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ آج کل کے علماء کو بھی انصاف کی نظر سے دیکھنے کی توفیق دے۔

پھر

انگریزی تفسیر قرآن کے دینی اور ادبی محاسن نے یورپ و امریکہ کے چوٹی کے اہل علم کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے اس پر شاندار ریویو کیے۔

مثلاً

اے جے آربری (A J Arberry)

ایک مشہور سکالر ہیں۔ کہتے ہیں کہ ’’قرآن شریف کا یہ نیا ترجمہ اور تفسیر ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ موجودہ جلد اس کارنامہ کی گویا پہلی منزل ہے۔‘‘ جو ان کو ایک جلد پہنچی تھی۔ کہتے ہیں ’’کوئی پندرہ سال کا عرصہ ہوا جماعت احمدیہ قادیان کے محقق علماء نے یہ عظیم الشان کام شروع کیا اور کام حضرت اقدس مرزا بشیر الدین محمود احمد کی حوصلہ افزاء قیادت میں ہوتا رہا۔ کام بہت بلند قسم کا تھا یعنی یہ کہ قرآن شریف کے متن کی ایک ایسی ایڈیشن شائع کی جائے جس کے ساتھ ساتھ اس کا نہایت صحیح صحیح انگریزی ترجمہ ہو اور ترجمہ کے ساتھ آیت آیت کی تفسیر ہو۔‘‘پھر کہتا ہے ’’…شروع میں ایک طویل دیباچہ ہے جو خود حضرت مرزا بشیرالدین نے رقم فرمایا ہے‘‘ اور پھر اس نے دیباچہ کی باتیں لکھی ہیں کہ اس میں کیا ہے۔ پھر کہتا ہے کہ ’’… اگر ہم اس کام کو اسلام کے ذوقِ علم تحقیق کی عظیم یادگار کہہ کر پیش کریں تو کوئی مبالغہ نہ ہو گا۔‘‘ذوق علم تحقیق کی عظیم یادگار کہہ کر پیش کریں تو کوئی مبالغہ نہ ہو گا۔ ’’اس کی تیاری کے ہر مرحلہ پر مستند کتب تفسیر ولغت و تاریخ وغیرہ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ان کتب کی طویل فہرست پڑھنے والے کو متاثر کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ترجمہ و تفسیر کے تیار کرنے والوں نے نہ صرف تمام مشہور عربی تفسیروں کو زیر مطالعہ رکھا ہے بلکہ ان کے ساتھ ساتھ یورپین مستشرقین نے تنقیدی رنگ میں جو کچھ لکھا ہے اسے بھی مدنظر رکھا ہے۔ اگر صرف ترجمہ پر نظر ڈالی جائے تو کہنا پڑتا ہے کہ ترجمہ کی انگریزی، غلطیوں سے پاک اور بڑی پُر وقار ہے۔‘‘ پھر کہتا ہے کہ ’’… غیر مسلم معترضین کے اعتراضوں کا ردّ بھی اس میں ہے اور دوسرے مذاہب پر مناسب تنقید بھی، غیر مسلم پڑھنے والوں کو اس کے کئی حصے یک طرفہ اور معترضانہ رنگ لئے ہوئے معلوم ہوں گے لیکن یادرہے یہ حصے بھی خلوص نیت سے لکھے گئے ہیں اور نہایت توجہ سے پڑھے جانے کے لائق ہیں۔ ان سے پتہ لگتا ہے کہ متقی اور اہل علم مسلمان جب دوسرے مذاہب کی روایتی تعلیموں پر اعتراض کرتے ہیں تو ایسا کیوں کرتے ہیں۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد10 صفحہ672-673)

پھر ایک

ڈاکٹر چارلس ایس بریڈن (Charles S. Braden)

صدر شعبہ تاریخ و ادب مذہبیات نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی ایونسٹن(Evanston)امریکہ نے لکھا ’’کتاب کی طباعت نہایت عمدہ ہے، ٹائپ بھی اعلیٰ ہے اور سہولت سے پڑھا جا سکتا ہے۔ بحیثیت مجموعی انگریزی زبان کے اسلامی لٹریچر میں یہ ایک قابلِ قدر اضافہ ہے جس کے لئے دنیا جماعت احمدیہ کی ازحد ممنون ہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد10صفحہ674)

پھر

ایک مشہور مسیحی اخبار النصر

نے لکھا کہ ’’جماعت احمدیہ نے امریکہ اور یورپ کے براعظموں میں ثقافت اسلامیہ کی اشاعت کا نمایاں کام کیا ہے اور یہ کام لگاتار مبلغین کی روانگی سے ہو رہا ہے اور مختلف کتب و اشتہارات کی اشاعت سے بھی جن کے ذریعہ فضائل اسلام اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو بیان کیا جاتا ہے۔ ہمیں قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ دیکھ کر بہت ہی خوشی ہوئی ہے۔ یہ ترجمہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کی زیر نگرانی کیا گیا ہے۔ ترجمہ قرآن مجید جاذب نظر اور ناظرین کے لئے قرة العُیون ہے۔ یہ ترجمہ بلند پایہ خیالات کا حامل ہے … قرآنی آیات ایک کالم میں درج ہیں اور دوسرے کالم میں بالمقابل ان کا ترجمہ کر دیا گیا ہے۔ بعدازاں مفصل تفسیر کی گئی ہے۔ مطالعہ کرنے والا ان تفاسیر جدیدہ میں مستشرقین اور یورپین معاندین کے اعتراضات کے مفصل جوابات پاتا ہے … یہ امر قابل ذکر ہے کہ امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اس ترجمہ کے ساتھ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بھی تحریر فرمائی ہے اور یہ سیرت و ترجمہ بے نظیر ہیں۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد9صفحہ675-676)

بہرحال تفسیرِ کبیر، تفسیر صغیر اور فائیو والیم کمنٹری (Five Volume Commentary)پر یہ تبصرے ہیں۔ اَب مَیں بعض تقاریر کے متعلق بھی بیان کرتا ہوں۔ حضرت مصلح موعودؓ کے علمی خزانے کو جو آپؓ نے تقاریر وغیرہ میں ہمارے سامنے رکھا اس کی غیروں نے بھی تعریف کی اور ان کو کس نظر سے دیکھا اس بارے میں عرض کرتا ہوں کہ آپؓ کا ایک خطاب ‘نظامِ نَو’ تھا جو آپؓ نے غیروں کے سامنے کیا تھا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے

’’مصر کے مشہور ادیب اور الاستاذ عباس محمود العقاد

نے اس عظیم الشان لیکچر کے انگریزی ترجمہ کی اشاعت پر مصر کے مشہور ادبی مجلہ ‘‘الرسالۃ’’ میں حسب ذیل تبصرہ کیا۔’’ کہتے ہیں کہ ‘‘اس لیکچر کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہے کہ فاضل لیکچرار (حضرت مرزا بشیر الدین محمود ہے) عالمگیر نظام کی توجہ اس طرف پھیرتے ہیں کہ فقر اور غربت کی مصیبت کو دُور کیا جائے یا بالفاظ دیگر جمع شدہ اموال کو تمام دنیا کی قوموں اور لوگوں میں بحصہرسدی تقسیم کیا جائے۔ بلاشک آپ نے (لیکچرار صاحب نے)’’ مرزا بشیر الدین محمود نے ‘‘تمام دنیا کے جملہ نئے نظاموں پر جنہوں نے اس مصیبت اور مشکل کو دُور اور حل کرنے کی کوشش کی ہے یعنی فیسی ازم، نازی ازم اور کمیونزم اور بعض دیگر جمہوری نظام اور یہ ظاہر ہے کہ آپ کو ان سب نظاموں کے متعلق ہر جہت سے مکمل اطلاع اور علم حاصل ہے۔‘‘ یونہی نہیں لکھ دیا۔ یہ سارے جو نئے ازم ہیں ان کا آپ کو علم بھی تھا اور بڑا گہرائی میں علم تھا۔ پھر ساتھ کہتا ہے ’’لیکن ساتھ ہی آپ یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں جو بالکل صحیح اعتقاد ہے کہ سیاست دان اور پارٹی لیڈرز اور حکومتیں اس مشکل کو حل نہیں کر سکتیں اس لئے ایسی مشکلات کو حل کرنے کے لئے روحانی قوت کی ضرورت ہے کیونکہ ہر ایسی مشکل جو تمام انسانوں سے تعلق رکھتی ہے اس کا حقیقی حل اور علاج تمام کے تمام انسان مل کر ہی کر سکتے ہیں۔ اس لئے سب سے بڑی چیز جو اطمینان پیدا کرتی ہے اور نیک کاموں اور اصلاح کے لئے دلیری پیدا کرتی ہے یعنی اعتقاد اور ایمان، اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد آپ نے ہندوستان میں موجودہ بڑے بڑے مذاہب پر خصوصاً اور دنیا کے دوسرے مذاہب پر عموماً ایک محققانہ نظر ڈالی ہے تا ان سے وہ علاج دریافت کیا جائے جو اس مشکل کے دور کرنے کے لئے جسے دنیا بری نظر سے دیکھتی ہے وہ پیش کرتے ہیں اور تا ان سے نیا نظام دریافت کیا جائے جو وہ موجودہ نظام کی بجائے پیش کر سکتے ہیں کیونکہ ان کا بھی فرض ہے کہ وہ اس مشکل کو حل کریں اور اس مصیبت کو دور کریں۔‘‘

اس کے بعد لکھتا ہے کہ ‘‘اس کے بعد آپ نے بہت سے دلائل اس بات کے لئے پیش کئے ہیں کہ ان سب مذاہب میں سے’’ پہلے تو یہ ہے کہ ٹھیک ہے مذاہب اپنے اپنے نظام پیش کریں اگر ان کے پاس کچھ ہےلیکن کر نہیں سکتے۔ پھر لکھتا ہے کہ ‘‘آپ نے بہت سے دلائل اس بات کے لئے پیش کئے ہیں کہ ان سب مذاہب میں سے صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے اندر ان مشکلات کو حل کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور تمام اقوام اور تمام لوگ پہلے بھی اس پر عمل کر سکتے تھے اور اب اس موجودہ زمانہ میں بھی عمل کر سکتے ہیں۔’’

پھر ‘‘(اس کے بعد …محمود العقاد’’صاحب ‘‘نے ‘‘نظام نو’’ کے اس حصے کا خلاصہ اپنی زبان میں دیا ہے)’’ کہتے ہیں کہ ‘‘… بالفاظ دیگر فاضل لیکچرار صاحب نے صرف ان مذہبی عقائد کا ہی جن کا ہم نے مذکورہ بالا سطور میں نہایت مختصر طور پر اشارةً ذکر کیا ہے مقابلہ اور موازنہ کرنے میں ہی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔’’ انہوں نے لمبی چوڑی تفصیل دی تھی جو مَیں نے نہیں پڑھی۔ بہرحال کہتے ہیں ‘‘بلکہ آپ نے خاص طور پر ان پر گہری نظر ڈالی ہے اور خاص اہتمام سے کام لیا ہے کیونکہ صرف عقیدہ ہی جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ ایک ایسی چیز ہے جس سے اصلاح کی امید رکھی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی آپ نے ان عقاید کا مقابلہ اور موازنہ کرنے کے علاوہ ان تمام سیاسی اور سوشل نظاموں کا بھی مقابلہ اور موازنہ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ سب کے سب عملی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی اپنے مقاصد میں ناکام رہے ہیں۔’’ (اس کے بعد اس نے ‘‘نظامِ نو’’ کے اس حصہ کا خلاصہ دیا ہے۔) جو سیاسی اور سوشل نظاموں پر مشتمل ہے۔پھر یہ کہتا ہے کہ ‘‘…اگر یہ آواز یورپ اور امریکہ کے انگریزی خوان طبقہ میں پھیلائی جائے بلکہ خود اہلِ ہندوستان اور اہل مشرق کے درمیان بھی پھیلائی جائے تو یقیناً اپنا اثر دکھلائے گی۔’’

(تاریخ احمدیت جلد 9صفحہ369 – 370)

پھر

اسلام میں اختلافات کا آغاز

یہ آپؓ کا ایک لیکچر ہے جو مارٹن ہسٹاریکل سوسائٹی (Martin Historical Society)کے اجلاس میں اسلامیہ کالج لاہور میں آپؓ نے دیا۔ ایسا عالمانہ اور تاریخ اسلام پر مکمل عبور رکھتے ہوئے یہ لیکچر تھا کہ بڑے بڑے تاریخ دان بھی آپ کے سامنے اپنے آپ کو طفل مکتب سمجھنے لگے۔ حضورؓ کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے۔ یہاں خلاصہ بیان کرتا ہوں کہ ‘‘ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ اور دیگر صحابہ ہر ایک فتنہ سے یا عیب سے پاک تھے بلکہ ان کا رویہ نہایت اعلیٰ اخلاق کا مظہر تھا اور ان کا قدم نیکی کے اعلیٰ مقام پر قائم تھا۔ ’’کسی کو ہم الزام نہیں دے سکتے، نہ حضرت عثمانؓ کو نہ صحابہ کو۔ پھر فرمایا اور یہ کہ ‘‘صحابہ کو حضرت عثمانؓ کی خلافت پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ آخر دم تک وفا داری سے کام لیتے رہے۔’’ اور آپ نے یہ ثابت کیا کہ صحابہ پر یہ غلط الزام ہے کہ انہوں نے بغاوت کی۔ ‘‘حضرت علیؓ اور حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ پر خفیہ ریشہ دوانیوں کا الزام بھی بالکل غلط ہے۔ (یہ بھی اس میں ثابت کیا۔) انصار پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمانؓ سے ناراض تھے وہ غلط ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انصار کے سب سردار اس فتنہ کے دور کرنے میں کوشاں رہے ہیں۔’’ بہرحال اس پہ جو تاثرات ہیں غیروں کے وہ یہ ہیں۔

سید عبد القادر صاحب ایم اے پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور

لکھتے ہیں کہ ’’ فاضل باپ کے فاضل بیٹے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا نام نامی اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ یہ تقریر نہایت عالمانہ ہے ’’کہتے ہیں ‘‘مجھے بھی اسلامی تاریخ سے کچھ شدبد ہے اور

مَیں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ کیا مسلمان اور کیا غیر مسلمان بہت تھوڑے مؤرخ ہیں جو حضرت عثمانؓ کے عہد کے اختلافات کی تہہ تک پہنچ سکے ہیں اور اس مہلک اور پہلی خانہ جنگی کی اصلی وجوہات کو سمجھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حضرت مرزا صاحب کو نہ صرف خانہ جنگی کے اسباب سمجھنے میں کامیابی ہوئی ہے بلکہ انہوں نے نہایت واضح اور مسلسل پیرائے میں ان واقعات کو بیان فرمایا ہے جن کی وجہ سے ایوان خلافت مدت تک تزلزل میں رہا۔

میرا خیال ہے کہ ایسا مدلل مضمون اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے احباب کی نظر سے پہلے کبھی نہیں گزرا ہو گا۔ سچ تو یہ ہے کہ حضرت عثمانؓ کے عہد کی جس قدر اصلی اسلامی تاریخوں کا مطالعہ کیا جائے گا اسی قدر یہ مضمون سبق آموز اور قابلِ قدر معلوم ہو گا۔‘‘

(اسلام میں اختلافات کا آغاز صفحہ تمہید مطبوعہ نومبر 1930ء)

پھر اَور بھی بہت سےتبصرے ہیں لیکن وقت نہیں کہ سب کو بیان کیا جائے۔ پھر حضرت مصلح موعودؓ کا ایک خطاب

اسلام کے اقتصادی نظام

سے متعلق تھا جو لاہور میں احمدیہ ہاسٹل میں ہوا۔ ’’یہ تقریر تقریباً اڑھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ اس تقریر میں احمدی احباب کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مسلم اور غیر مسلم معززین بھی شامل تھے۔‘‘ پڑھے لکھے لوگ تھے۔ غیر احمدی مسلمان اور دوسرے غیر مسلم لوگ بھی ’’جن کی اکثریت اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ طبقہ اور پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسرز اور طلباء سے تعلق رکھتی تھی۔ تقریر کے دوران پروفیسرز، وکلاء اور دیگر اہل علم دوست کثرت سے نوٹس لیتے رہے۔‘‘

(انوار العلوم جلد 18 تعارف کتاب ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ تعارفی صفحہ1)

اسلام کے اقتصادی نظام کا لب لباب بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’اسلامی اقتصاد نام ہے فردی آزادی اور حکومتی تداخل کے ایک مناسب اختلاط کا۔‘‘ آزادی بھی ہو اور حکومت کا دخل بھی ہو لیکن یہ آپس میں مناسب طور پہ ملے ہوں، کوآرڈی نیٹ کرتے ہوں۔ ’’یعنی اسلام دنیاکے سامنے جو اقتصادی نظام پیش کرتا ہے اس میں ایک حد تک حکومت کی دخل اندازی بھی رکھی گئی ہے اور ایک حد تک افراد کو بھی آزادی دی گئی ہے۔ اِن دونوں کے مناسب اختلاط کا نام اسلامی اقتصاد ہے۔ فردی آزادی اِس لئے رکھی گئی ہے تا کہ افراد آخرت کا سرمایہ اپنے لئے جمع کر لیں اور ان کے اندر تسابق اور مقابلہ کی روح ترقی کرے۔‘‘ صرف دنیا کے مقابلے میںنہیںبلکہ آخرت کے لیے بھی جو نیکیاں کر کے آگے بڑھنے، نیکیوں میں بڑھنے کا مقابلہ ہے وہ بھی جاری رہے۔ پھر فرمایا ’’اور حکومت کا تداخل اِس لئے رکھا گیا ہے کہ امرا کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ اپنے غریب بھائیوں کو اقتصادی طور پر تباہ کر دیں۔ گویا جہاں تک بنی نوع انسان کو تباہی سے محفوظ رکھنے کا سوال ہے حکومت کی دخل اندازی ضروری سمجھی گئی ہے اور جہاں تک تسابق اور اخروی زندگی کے لئے زاد جمع کرنے کا سوال ہے حریتِ شخصی کو قائم رکھا گیا ہے اور فردی آزادی کو کچلنے کی بجائے اس کی پوری پوری حفاظت کی گئی ہے۔ پس اسلامی اقتصادیات میں فردی آزادی کی بھی پوری حفاظت کی گئی ہے تاکہ انسان طوعی خدمات کے ذریعہ سے آئندہ کی زندگی کے لئے سامان بہم پہنچا سکے اور تسابق کی روح ترقی پا کر ذہنی ترقی کے میدان کو ہمیشہ کیلئے وسیع کرتی چلی جائے اور حکومت کا دخل بھی قائم رکھا گیا ہے تا کہ فرد کی کمزوری کی وجہ سے اقتصادیات کی بنیاد ظلم، بے انصافی پر قائم نہ ہو جائے اور بنی نوع انسان کے کسی حصہ کے راستہ میں روک نہ بن جائے۔‘‘

(اسلام کا اقتصادی نظام، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 35)

’’حضور نے اپنی تقریر کے دوسرے حصے میں کمیونزم کی تحریک کا مذہبی، اقتصادی، سیاسی، نظریاتی اور عملی لحاظ سے تفصیلی جائزہ لیا اور آخر میں اس کے متعلق بائبل کی ایک عظیم الشان پیشگوئی کا اردو متن سنانے کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اپنی پیشگوئی کا بھی ذکر فرمایا۔ الغرض حضرت مصلح موعود کے اس لیکچر نے چوٹی کے علمی طبقوں میں ایک تہلکہ مچا دیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے ہر سطح پر غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔‘‘

(انوار العلوم جلد 18 تعارف کتاب ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘صفحہ3)

’’ اس تقریر کو حاضرین نے ایسے شوق سے سنا کہ اتنے لمبے عرصہ تک لوگ اس طرح بیٹھے رہے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔‘‘ اڑھائی گھنٹے تک لگاتار تقریر تھی۔ ’’ایک پروفیسر تو اِس تقریر کو سن کر رو پڑے اور بعض کمیونزم کے حامی طلباء نے اِس خیال کا اظہار کیا کہ وہ اسلامی شوشلزم کے قائل ہوگئے ہیں اور اب اسے صحیح اور درست تسلیم کرتے ہیں۔ یونیورسٹی اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے ایم۔ اے کے بعض طلباء نے حضور کی اس تقریر کے متعلق یہ خواہش ظاہر کی کہ اس کا انگریزی ترجمہ چھپوا کر یونیورسٹی اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسروں کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔‘‘ اس زمانے میں انگریزوں کی حکومت تھی اکثر انگریز پروفیسر ہوا کرتے تھے۔ ’’نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں مختلف سکیمیں ہندوستان کی آئندہ ترقی اور بہبودی کیلئے دوسرے لوگوں کی طرف سے پیش ہو رہی ہیں وہاں یہ اسلامی نظام جو حضور نے پیش فرمایا ہے مسلمانوں کے خیالات کی نمائندگی کرے گا۔‘‘

(انوار العلوم جلد 18 تعارف کتاب ‘‘اسلام کا اقتصادی نظام’’ صفحہ2-3)

اس تقریر کی صدارت

مسٹر رامچندمچندہ صاحب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور

نے کی تھی۔ لکھنے والا یہ لکھتا ہے کہ اس پرشوکت تقریر کے بعد صدر جلسہ جناب لالہ رامچند مچندہ صاحب نے ایک مختصر تقریر کی۔ کہتے ہیں کہ ’’میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی قیمتی تقریر سننے کا موقعہ ملا اور مجھے اِس بات سے خوشی ہے کہ تحریک احمدیت ترقی کر رہی ہے اور نمایاں ترقی کر رہی ہے۔ جو تقریر اِس وقت آپ لوگوں نے سنی ہے اس کے اندر نہایت قیمتی اور نئی نئی باتیں حضور نے بیان فرمائی ہیں۔ مجھے اس تقریر سے بہت فائدہ ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے بھی اِن قیمتی معلومات سے بہت فائدہ اٹھایا ہوگا۔ مجھے اس بات سے بھی بہت خوشی ہوئی ہے کہ اس جلسہ میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیرمسلم بھی شامل ہوئے ہیں۔‘‘

پھر کہتے ہیں کہ ’’… پہلے تو میں سمجھتا تھا اور یہ میری غلطی تھی کہ اسلام صرف اپنے قوانین میں مسلمانوں کا ہی خیال رکھتا ہے غیر مسلموں کا کوئی لحاظ نہیں رکھتا مگر آج حضرت امام جماعت احمدیہ کی تقریر سے معلوم ہوا کہ اسلام تمام انسانوں میں مساوات کی تعلیم دیتا ہے اور مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ میں غیر مسلم دوستوں سے کہوں گا کہ اس قسم کے اسلام کی عزت و احترام کرنے میں آپ لوگوں کو کیا عذر ہے؟ آپ لوگوں نے جس سنجیدگی اور سکون سے اڑھائی گھنٹہ تک حضور کی تقریر سنی ہے اگر کوئی یورپین اس بات کو دیکھتا تو وہ حیران ہوتا کہ ہندوستان نے اتنی ترقی کر لی ہے۔ ‘‘

پھر یہ تبصرہ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ ’’…تقریر سننے کے بعد اکثر کی زبان پر تعریفی کلمات تھے بلکہ ایک کثیر طبقہ نے اس بات کا اقرار کیا کہ عقاید کے میدان میں گو ہم حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ساتھ اختلاف رکھتے ہوں۔‘‘ عقیدہ ہمارا مختلف ہے۔ ہم یہ نہیں مانتے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ عقیدے کےاختلاف کے باوجود اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ’’مگر اس حقیقت سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ آپ موجودہ زمانہ میں ہندوستان کے بہترین عالم ہیں اور حقیقت بھی یہی تھی کہ علم اقتصاد کے متعلق قرآنی حقائق و معارف کا انکشاف اور یورپ کے اقتصادی فلسفہ کا ردّ آج تک کسی انسان کی طرف سے ایسے رنگ میں پیش نہیں ہوا کہ خود منکرینِ اسلام ایسے نظام کی فضیلت کا اقرار کریں اور خود اشتراکیت کے حامی اشتراکیت کی خامیاں تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہوں۔ چنانچہ حضرت مولانا شیر علی صاحب کا بیان ہے کہ انہوں نے تقریر کے بعد بعض غیر احمدی نوجوانوں کو آپس میں یہ گفتگو کرتے سنا کہ اگر اَب بھی تم نے کمیونسٹ کی تائید کی تو تم پر لعنت ہے۔‘‘ اسی طرح ایک پروفیسر صاحب پہلے بھی ذکر آیا پڑا ہے یہ سن کر روپڑے۔

’’…تقریر کے اختتام پر غیر احمدی پروفیسر صاحبان اور طلباء کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ چونکہ وقت کی قلت کی وجہ سے حضور اپنی تقریر میں مضمون کے تمام پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار نہیں فرما سکے اس لئے ایک اَور تقریر فرمائی جائے جس میں مضمون کے باقی حصص کی وضاحت ہو جائے تا لوگ علوم کے اس چشمہ سے سیراب ہو سکیں جو اللہ تعالیٰ نے حضور کو عطا فرمایا ہے۔‘‘(تاریخ احمدیت جلد9 صفحہ 495تا 497)کہ علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا گیاہے۔

سید عبدالقادر صاحب ایم اے وائس پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور

یہ صدر شعبہ تاریخ اسلامیہ کالج ہیں۔ انہوں نے اسلام اور اشتراکیت کے عنوان پر اخبار سن رائز لاہور میں ایک نوٹ دیا جس کا کچھ حصہ یہ ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’’اسلام کا اقتصادی نظام اور کمیونزم کے موضوع پر (حضرت) مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کا لیکچر سننے کا مجھے بھی فخر حاصل ہوا۔یہ لیکچر بھی آپ کے دوسرے لیکچروں کی طرح جو مجھے سننے کا اتفاق ہوا ہے عالمانہ خیالات میں جلا پیدا کرنے والا اور پُر از معلومات تھا۔ مرزا صاحب خداداد قابلیت کے مالک ہیںاور اس موضوع کے ہر پہلو پر آپ کو پورا پورا عبور حاصل ہے۔‘‘ کوئی ڈگری نہیں لی ہوئی۔ کوئی ریسرچ نہیں کی ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے۔ ’’اس وجہ سے آپ کے خیالات اس بات کے مستحق ہیں کہ ہم ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ان پر توجہ کریں۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد9صفحہ 499)

پھر مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے بھی ہوئے۔ اس کے تراجم پڑھ کر غیر ملکی پریس اور پڑھے لکھے طبقہ نے بھی سراہا۔ چنانچہ

سپین کے سپریم ٹریبیونل کے پریذیڈنٹ ایس وائی ڈی جَوس کاسٹن (S.Y.D.Jose Castan)

نے یہ پڑھ کے مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر کو لکھا کہ ’’میں آپ کے نوازش نامہ کا بہت شکرگزار ہوں۔ اس کے ساتھ ایک بہترین کتاب ہے جس کے مطالعہ نے میری طبیعت پر نہایت شاندار اور اعلیٰ تاثرات پیدا کئے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ (اللہ تعالیٰ) آپ کو اس ملک (سپین) میں اور اس کے باہر بھاری کامیابی عطا کرے گا۔ کتاب حالات حاضرہ کے متعلق نہایت دلچسپ ہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد12صفحہ 35)

پھر حضرت مصلح موعود ؓکی وفات پر اخبار روشنی سری نگر نے 11؍نومبر 1965ء میں لکھا کہ’’ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اولین صدر جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی وفات حسرت آیات۔‘‘ کہتے ہیں کہ ’’ایک جید عالم اور مفکر تھے۔ تقریر کرنے میں شاید ہی کوئی آپ کا ثانی تھا۔ یہاں تک کہ ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ اور ’’اسلام کا نظام نو‘‘ جیسے دقیق موضوعات پر ایک ایک ہی صحبت میں جو تقاریر ہوئیں وہ کتابی صورت میں شائع ہو کر مقبول عام ہو چکی ہیں۔ آپ کے عالم و فاضل ہونے کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس‘‘ کے جج جسٹس ’’سر ظفراللہ خان صاحب بھی آپ کے مریدوں میں سے ہیں اور انہی کے الفاظ میں آپ کی ذات صفات حسنہ کا ایک ایسا دلکش مجموعہ پیش کرتی ہے جس کا ایک شخص کے وجود میں ہونا بہت نادر ہے …ظاہری اور باطنی علوم کا سرچشمہ بھی ہیں۔‘‘ اب غیر یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ظاہری اور باطنی علوم کا سرچشمہ بھی ہیں۔ ’’آپ تخیل اور عمل کے میدانوں کے یکساں شہسوار ہیں۔ آپ کی زندگی کا بہت سا حصہ ذکر و فکر میں گزرتا ہے لیکن میدان عمل میں آپ ایک اولوالعزم اور جری قائد بھی ہیں۔‘‘ پھر کہتے ہیں’’…جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا ہر کشمیری دل سے مداح ہے کیونکہ

تحریک حریت کشمیر میں آپ کا بہت بڑا حصہ ہے۔ 1931ء میں جب تحریک کشمیر شروع ہوئی تو آپ ہی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اولین صدر تھے اور یہ آپ ہی کی کوششوں کا ثمرہ تھا کہ تحریک پروان چڑھی اور اس کا غلغلہ چاردانگ عالم میں ہوا۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد23صفحہ184-185)

پھر

ویمبلےکانفرنس

تو جماعت کی تاریخ میں کافی مشہور ہے۔ اس میں آپؓ کا جو مضمون پڑھا گیا اس میں غیروں کے تاثرات کیا تھے۔ مضمون کے خاتمےپر پریذیڈنٹ نے مختصر الفاظ میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ مضمون کی خوبی اور لطافت کا اندازہ خود مضمون نے کرا لیا ہے۔‘‘ اب انگریز ہیں یہ۔ ’’میں صرف اپنی طرف سے اور حاضرینِ جلسہ کی طرف سے مضمون کی خوبی ترتیب، خوبی خیالات اور اعلیٰ درجہ کے طریقِ استدلال کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ حاضرین کے چہرے زبانِ حال سے میرے اس کہنے کے ساتھ متفق ہیں اور مَیں یقین کرتا ہوں کہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ مَیں ان کی طرف سے شکریہ کرنے میں حق پر ہوں اور ان کی ترجمانی کا حق ادا کر رہا ہوں۔ پھر حضرت صاحب کی طرف مخاطب ہو کر عرض کیا کہ

مَیں آپ کو لیکچر کی کامیابی پر مبارک باد عرض کرتا ہوں
آپ کا مضمون بہترین مضمون تھا جو آج پڑھے گئے۔’’

رپورٹ لکھنے والے لکھتے ہیں ’’… ایک صاحب حضرت کے حضور حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ہندوستان میں تیس سال کام کیا ہے اور مسلمانوں کے حالات اور دلائل کا مطالعہ کیا ہے۔ کیونکہ میں ایک مشنری کی حیثیت سے ہندوستان میں رہا ہوں مگر جس خوبی، صفائی اور لطافت سے آپ نے آج کے مضمون کو پیش کیا ہے مَیں نے اس سے پہلے کبھی کسی جگہ بھی نہیں سنا۔ مجھے اس مضمون کو سن کرکیا بلحاظ خیالات، کیا بلحاظ ترتیب اور کیا بلحاظ دلائل بہت گہرا اثر ہوا ہے۔ ‘‘

(الفضل23؍ اکتوبر 1924ءجلد12نمبر45صفحہ4)

بہرحال اس طرح کے بیشمار تاثرات ہیں۔ مختلف موضوعات پر آپؓ کے مضامین اور خطابات کی تعداد بیشمار ہے جیساکہ میں شروع میں بتا چکا ہوں۔ چند نمونے میں نے پیش کیے ہیں۔

اخبارفَتَی الْعَرَب دمشق کا ایک حوالہ

پیش کر دیتا ہوں۔ 1924ء میں حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ جب یورپ تشریف لے گئے تو راستہ میں عرب ممالک میں بھی قیام فرمایا اور اس دوران عرب ممالک کے پریس نے بھی آپؓ کے متعلق اپنے تاثرات شائع کیے۔ چنانچہ اخبار فَتَی الْعَرَب دمشق اپنی دس اگست 1924ء کی اشاعت میں لکھتا ہے ’’یہ خلیفہ صاحب اپنی عمر کے چالیسویں سال میں ہیں۔ منہ پر سیاہ کشادہ داڑھی رکھتے ہیں۔ چہرہ گندم گوں ہے اور جلال و وقار چہرہ پر غالب ہے۔ دونوں آنکھیں ذکاء و ذہانت اور غیر معمولی علم و عقل کی خبر دے رہی ہیں۔ آپ ان کے چہرہ کے خدو خال میں جبکہ وہ اپنی برف کی مانند سفید پگڑی پہنے کھڑے ہوں یہ دماغی قابلیتیں دیکھیں تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ آپ ایک ایسے شخص کے سامنے ہیں جو آپ کو قبل اسکے کہ آپ اسے سمجھیں خوب سمجھتا ہے۔‘‘ وہ آپؓ کو دیکھ لیتا ہے اپنی نظروں سے ’’اور آپ کے لبوں پر تبسم کھیلتا رہتا ہے۔‘‘ پھر حضرت مصلح موعودؓ کے متعلق فرمایا کہ ان کے لبوں پر تبسم کھیلتا رہتا ہے ’’جو کبھی ظاہر اور کبھی پوشیدہ ہو جاتا ہے‘‘ ہمیشہ مسکراہٹ رہتی ہے۔ پھر وہ پڑھنے والوں کے لیے کہتا ہے کہ ’’اور اگر آپ اس کیفیت کو دیکھیں تو آپ اس تبسم کے نیچے جو معنی ہیں اور جو اس میں جلال ہوتا ہے اس سے حیران ہو جائیں گے۔‘‘

(ماہنامہ خالد سیدنا مصلح موعود نمبر جون، جولائی 2008ء صفحہ 320)

اس طرح کے غیروں کے بےشمار تاثرات ہیں ان لوگوں کے جنہیں تھوڑا عرصہ یا زیادہ عرصہ صحبت میں رہنے کا موقع ملا۔ مواد تو بہت سا تھا جیسا کہ میں نے کہا، مَیں نے جمع کروایا تھا لیکن وقت کی وجہ سے مَیں نے کچھ پیش کیا ہے اور وہ بھی خلاصةً پیش کیا ہے۔ وہ بھی ساری باتیں نہیں لکھیں۔

جو باتیں پیشگوئی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمائی تھیں یا کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو بتائی تھیں وہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد مصلح موعودؓ میں پوری ہوئیں۔ آپؓ کو اللہ تعالیٰ نے جو علم اور عرفان عطا فرمایا تھا اس کا کوئی بڑے سے بڑا عالم بھی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ آپؓ کا دیا ہوا لٹریچر ایک جماعتی خزانہ ہے۔ آپؓ کے خطابات، خطبات، مضامین اکثر شائع ہو چکے ہیں کچھ ہو رہے ہیں۔ انہیں ہمیں پڑھنا چاہیے

اور اب ترجمے کا کام بھی خاصی تیزی سے ہو رہا ہے۔ ان شاء اللہ جلدہی وہ بھی مہیا ہو جائے گا۔ انگریزی میں تو کافی کام ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے۔ میرا مطلب ہے چھوٹی چھوٹی کچھ کتابیں شائع ہوئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس علم و عرفان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

(الفضل انٹرنیشنل 10؍مارچ2023ءصفحہ5تا11)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مارچ 2023