• 26 فروری, 2024

ڈائری عابد خان سے ایک ورق (اے چھاؤں چھاؤںشخص! تیری عمر ہو دراز)

ڈائری عابد خان سے ایک ورق
اے چھاؤں چھاؤںشخص! تیری عمر ہو دراز

احمدیوں کے جذبات

اس شام حضور انور نے کئی احمدی خاندانوں سےفیملی ملاقاتوں کے سیشن میں ملاقات فرمائی۔ اس دوران میری ملاقات لوکل جماعت کے چند ممبران سے بھی ہوئی، جنہوں نے مجھے بتایا کہ حضور انور کے ڈنمارک دورہ سے کس قدر فیوض و برکات ظاہر ہو رہے ہیں اور خلافت سے حاصل ہونے والی ذاتی برکات کا تذکرہ بھی کیا۔

ایک نوجوان شادی شدہ جوڑا جن سے میری ملاقات ہوئی وہ محترم حمید الرحمن( بعمر 29 سال) اور ان کی اہلیہ شازیہ احمد تھیں۔ ہماری گفتگو کے دوران محترم حمید صاحب جذباتی ہو گئے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے جب انہوں نے بتایا کہ :
’’میں بہت زیادہ جذبات سے مغلوب ہوں کیونکہ مجھے ابھی ابھی حضور انور سے ملاقات کا شرف ملا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ حضور انور کی دعائیں ہی ہیں جن کی مجھے زندگی بھر ضرورت ہے۔ ‘‘

ان کی اہلیہ محترمہ شازیہ صاحبہ بھی جذبات سے لبریز تھیں۔ اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’’حضور انور کی صحبت میں گزرے ہوئے لمحات میری زندگی کے سب سے قیمتی لمحات تھے۔ ہمارے خلیفہ شفیق، محبت کرنے والے اور بہت نرم دل ہیں۔ جب میں حضور انور کے سامنے بیٹھی تھی تو مجھے احساس ہوا کہ آپ کس قدر وجیہہ اور نیک ہیں اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میری روحانی طور پر صفائی ہو رہی ہو۔‘‘

پھر میری ملاقات ایک احمدی فیملی سے ہوئی جو گزشتہ تیس سال سے ڈنمارک میں رہائش پذیر تھے۔ ان کے والد کا نام محترم طارق محمود بٹر تھا اور ان کی اہلیہ محترمہ فوزیہ بٹر صاحبہ تھیں اور ان کے ساتھ ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی تھا۔ ہم دس منٹ تک سیر کرتے رہے اور ساری فیملی خاص طور پر محترمہ فوزیہ صاحبہ اور ان کی بیٹیاں بہت زیادہ جذبات سے مغلوب تھیں۔ حضور انور سے اپنی ملاقات کے بارے میں محترمہ فوزیہ صاحبہ نے اپنے جذبات کا اظہار یوں کیا کہ:
’’میں چاہتی ہوں کہ اس لمحہ جو اطمینان مجھے حاصل ہے اسے اپنے اندر قید کر لوں تاکہ وہ کبھی بھی میرے دل کو خیر باد نہ کہہ سکے۔ ہم ایک خواب کی سی کیفیت میں( ملاقات کر رہے) ہوتے ہیں جس سے ہم کبھی بھی بیدار نہیں ہونا چاہتے۔‘‘

پھر میری ملاقات مکرم طارق صاحب کی بڑی بیٹی محترمہ عوراج صاحبہ سے ہوئی جن کی عمر بیس سال کے قریب تھی۔ دوران گفتگو وہ آنسو بہاتی رہیں اور خلافت سے محبت کی وجہ سے جذبات سے لبریز تھیں۔ وہ کچھ دیر کے لیے گفتگو کرتیں پھر اپنے آنسو صاف کرتیں اور کچھ توقف کے بعد پھر گفتگو کرنے لگتیں۔

محترمہ عوراج صاحبہ نے بتایا کہ ’’جو جذبات اور احساسات میرے دل میں موجزن ہیں ان کو بیان کرنا میری بساط میں نہیں ہے۔ حضور انور ایک طویل عرصہ کے بعد تشریف لائے ہیں اس لیے مجھے یقین نہیں آ رہا کہ آپ واقعی یہاں (ہمارے پاس )ہیں۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ حضور انور روزانہ مسجد کے لیے تشریف لے جاتے ہیں، ہمارے پاس سے گزرتے ہیں اور میں آپ کو روزانہ دیکھ سکتی ہوں۔‘‘

پھر محترمہ عوراج صاحبہ جذبات سے مغلوب ہو کر رونے لگیں اور ان کے لیے مزید گفتگو کرنا ممکن نہ رہا۔ مجھے احساسِ ندامت ہوا کہ میری گفتگو نے ان کو اس قدر مغموم کر دیا ہے۔ اس لئے میں نے ان سے معذرت کی۔ جس پر انہوں نے کہا کہ ان کے آنسو خوشی کے آنسو ہیں، غم کے نہیں، اس لیے مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس کے بعد ان کی والدہ محترمہ فوزیہ صاحبہ نے دوبارہ گفتگو جاری رکھی اور بتایا کہ :
’’میری بیٹی کی یہ کیفیت محض خلافت سے محبت کی وجہ سے ہے۔ ہماری زندگیوں میں صرف ایک ہی خوف ہے اور وہ یہ کہ ہمارا خلیفہ کبھی ہم سے ناراض نہ ہو۔ جب تک آپ خوش ہیں تو ہماری زندگیاں مکمل ہیں۔‘‘

ایک اور دوست جن سے میری ملاقات ہوئی ان کا نام مکرم ذکی احمد (بعمر 37 سال) تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ حضور انور کی شخصیت نے کس طرح انہیں اور ان کے کئی دوسرے احباب کو متاثر کیا ہے۔ محترم ذکی صاحب نے بتایا کہ :
’’بسا اوقات ہم اپنے فرائض کی ادائیگی اور جماعتی خدمت میں بھی تساہل کر جاتے ہیں لیکن جب آپ حضور انور کو دیکھتے ہیں اور ان کی نیکی اور تقویٰ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اس سے آپ متاثر ہوتے ہیں اور آپ کو تقویت ملتی ہے۔ حضور انور کی موجودگی سے آپ کو جماعتی خدمات کے لیے مضبوط عزم و ہمت ملتی ہے اور یہ کہ آپ حقیقی اسلام (احمدیت ) کا پیغام پھیلائیں۔ خلافت ایک مقناطیس کی طرح ہے کیونکہ اس کی کشش اس قدر زیادہ ہے کہ جتنا زیادہ آپ حضور انور کو دیکھتے ہیں اتنا ہی آپ حضور انور کے قریب ہونا چاہتے ہیں۔‘‘

حضور انور کے پُر حکمت الفاظ

میری ملاقات ایک احمدی دوست مکرم مشہود احمد صاحب (بعمر 32 سال )سے ہوئی، جنہوں نے مجھے اپنی ملاقات جو حضور انور کے ساتھ کچھ سال قبل ہوئی تھی کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ حضور انور سے ملاقات سے ایک رات پہلے ان کے ہاں چوری ہو گئی تھی اور ان کی قیمتی اشیاء اور کپڑے چوری ہو گئے تھے۔ان کے پاس پیسے اور وقت نہیں تھا کہ وہ شاپنگ کر سکتے اس لیے وہ اس ملاقات میں نہایت سادہ اور عام لباس میں حاضر ہو گئے اور اپنی حالت پر نہایت نادم تھے۔

پس جونہی وہ ملاقات کے لیے حاضر ہوئے انہوں نے حضور انور کو اس چوری کے بارے میں بتایا اور اپنے حلیےپر معذرت کی۔ اس پر حضور انور نے فرمایا :’’بالکل پریشان نہ ہوں۔ شاید، چور کو آپ سے زیادہ آپ کے کپڑوں کی ضرورت تھی۔ ‘‘

محترم مشہود صاحب نے بتایا کہ وہ حضور انور کی شفقت اور آپ کے پر حکمت الفاظ سے حیران رہ گئے۔ اس واقعہ کے متعلق محترم مشہود صاحب نے بتایا کہ’’ حضور انور کے الفاظ سننے کے بعد مجھے دوبارہ کبھی اپنے نقصان کے بارے میں سوچ کر کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ اس دن کے بعد سے میں نے اپنی زندگی میں اللہ تعالی کے افضال اور نصرت کے نظارے بار بار دیکھے ہیں۔‘‘

احمدیوں کے جذبات

6؍ مئی 2016ء کی شام کو حضور انور نے ڈنمارک میں رہنے والی فیملیز سے ملاقات فرمائی۔ ایک دوست محترم خاور احمد (بعمر 35 سال) کی حضور انور سے ملاقات ہوئی جو پاکستان سے 2012ءمیں ڈنمارک شفٹ ہوئے تھے۔ ان کی حضرت خلیفۃ المسیح سے پہلی ملاقات کے بعد میری ان سے گفتگو ہوئی۔ میں اچھی طرح سمجھ سکتا تھا کہ وہ جذبات سے مغلوب تھے۔

محترم خاور صاحب نے بتایا کہ’’جب میں نے حضور انور کو دیکھا تو ایک وجیہہ شخصیت، محبت اور شفقت خوب عیاں تھی۔ میرے جو جذبات تھے وہ اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئے۔ میری اہلیہ اور میرا دونوں کا یہی خیال ہے کہ خلیفہ وقت کی دعائیں ہی ہیں جن سے جنت کے دروازے کھلتے ہیں۔‘‘

پھر میری ملاقات ایک Danish خاتون سے ہوئی جن کا نام محترمہMunira Kroghتھا،جنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے دور خلافت میں احمدیت قبول کی تھی۔ ان کے شوہر محترم Kamal Kroghصاحب نے بھی 1960ءکی دہائی کے آخری سالوں میں احمدیت قبول کی تھی اور چند سال قبل اپنی وفات تک کئی سال بطور سیکرٹری تبلیغ خدمت کی توفیق پاتے رہے۔محترمہ منیرہ صاحبہ کو اس دورہ کے دوران دو مرتبہ حضور انور سے ملاقات کا موقع ملا۔ ایک ذاتی ملاقات اور دوسرے موقع پر دفتری ملاقات ہوئی۔ دوسری دفتری ملاقات کی وجہ یہ تھی کہ انہیں ڈینش ترجمہ قرآن کی دہرائی کی خدمت کا موقع مل رہا تھا اس لیے اس کام کے حوالہ سے حضور انور کی رہنمائی درکار تھی۔ محترمہ منیرہ صاحبہ کے تجربات کو سننا میرے لیے بے حد دلچسپی کا باعث تھا۔ محترمہ منیرہ صاحبہ نے اپنے تجربات کا کچھ یوں تذکرہ کیاکہ :
’’میں خود کو بے حدخوش نصیب تصور کرتی ہوں کیونکہ میں تیسرے خلیفہ صاحب، چوتھے خلیفہ صاحب اور ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ا یدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کا شرف ملا ہوا ہے۔ مجھے تیسرے خلیفہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ بہت اچھی طرح یاد ہے۔آپ کی شخصیت اس قدر دوستانہ تھی اور شفیق تھے اور آپ کی شخصیت سے متاثر ہو کر ہی میں نے احمدیت قبول کی تھی۔ آپ کو اتنے سال قبل دیکھنا جب میں ایک نوجوان لڑکی تھی، نہایت متاثر کن تھا اور اس سے میری شخصیت پر ایک دیرپا متاثر کن اثر تھا۔ ‘‘

محترمہ منیرہ صاحبہ نے مزید بتایا کہ’ ’میں پیارے حضور کا خطبہ جمعہ ہر ہفتے سنتی ہوں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ میں دیکھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ہماری جماعت کو اپنے فضلوں سے نواز رہا ہے۔ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہمیں خلافت نصیب ہوئی ہے کیونکہ جملہ دیگر اسلامی گروپس اور فرقے باہم منقسم ہیں لیکن جماعت احمدیہ مسلمہ حضرت خلیفۃ المسیح کے ہاتھ پر متحدہے۔

(دورہ حضور انور Scandinavia مئی 2016ء از ڈائری عابد خان)
( باتعاون : مظفرہ ثروت۔ جرمنی)

(مترجم : ابو سلطان)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مارچ 2023