• 29 فروری, 2024

فقہی کارنر

تبدیل اخلاق کے متعلق دو مذہب

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: حکماء کے تبدیل اخلاق پر دو مذہب ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ انسان تبدیل اخلاق پر قادر ہے اور دوسرے وہ ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ وہ قادر نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسل اور سستی نہ ہو اور ہاتھ پیر ہلا وے تو تبدیل ہو سکتے ہیں۔ مجھے اس مقام پر ایک حکایت یاد آئی ہے اور وہ یہ ہے۔ کہتے ہیں کہ یونانیوں کے مشہور فلاسفر افلاطون کے پاس ایک آدمی آیا اور دروازہ پر کھڑے ہو کر اندر اطلاع کروائی۔ افلاطون کا قاعدہ تھا کہ جب تک وہ آنے والے کا حلیہ اور نقوش چہرہ کو معلوم نہ کر لیتا تھا اندر نہیں آنے دیتا تھا۔ اور وہ قیافہ سے استنباط کر لیتا تھا کہ شخص مذکور کیسا ہے کس قسم کا ہے۔ نوکر نے آ کر اس شخص کا حلیہ حسب معمول بتلایا۔ افلا طون نے جواب دیا کہ اس شخص کو کہہ دو کہ چونکہ تم میں اخلاق رذیلہ بہت ہیں میں ملنا نہیں چاہتا۔ اس آدمی نے جب افلا طون کا یہ جواب سنا تو نوکر سے کہا کہ تم جا کر کہہ دو کہ جو کچھ آپ نے فر مایا وہ ٹھیک ہے مگر میں نے اپنی عادات رذیلہ کا قلع قمع کر کے اصلاح کر لی ہے۔ اس پر افلا طون نے کہا۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس کو اندر بلایا اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ اس سے ملاقات کی۔ جن حکماءکا یہ خیال ہے کہ تبدیل اخلاق ممکن نہیں۔ وہ غلطی پر ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ملازمت پیشہ لوگ جو رشوت لیتے ہیں جب وہ سچی توبہ کر لیتے ہیں پھر ا گر ان کو کوئی سونے کا پہاڑ بھی دے تو اس پر نگاہ بھی نہیں کرتے۔

( ملفوطات جلد اول 2016ء ایڈیشن صفحہ 118-119)
( داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ )

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مارچ 2023