• 21 مئی, 2022

مذہبی فاوٴنڈرز کے خلاف بولنے سے امن قائم نہیں ہوسکتا

جرمنی لجنہ کی ایک ممبر نے حضور انور ایدہ اللہ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا پھر بھی احمدیوں پر کیوں ظلم ہوتا ہے؟

پیارے حضور نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’اچھا یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کیا کہتا ہے۔ اللہ کا سب سے پیارا نبی کون تھا؟‘‘ لجنہ ممبر نے جواب میں کہا کہ حضرت محمد ﷺ۔ پھر حضور نے اپنا جواب جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔ ’’تو کیا مکہ میں آپ پہ تیرہ سال ظلم نہیں ہوتے رہے؟‘‘ لجنہ ممبر نے کہا کہ جی ہوتے رہے ہیں۔ تو حضورِ انور نے پھر فرمایا کہ ’’اسکے بعد جب مدینہ آئے تو وہاں بھی بہت ساری مشکلات کا ہی سامنا کرنا پڑا؟ پھر جب فتح مکہ ہوئی تو اسکے بعد بھی ظالموں نے حملہ کیا۔ اسکے بعد بھی جنگ ہوتی رہی۔ پھر منافقین بھی سر اٹھاتے رہے۔ پھر خلفائے راشدین آئے۔ انکے زمانے میں بھی ظلم ہوتے رہے۔ جہاں جہاں تھوڑے سے مسلمان ہوتے تھے ان پر بھی ظلم ہوتے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں کہتا ہے کہ میں لوگوں کو آزماتا ہوں۔ دیکھتاہوں کہ تمہارا اِیمان کتنا مضبوط ہے۔ تمہارے پر جو ظلم ہوتا ہے، زیادتی ہوتی ہے اور تم پھر بھی اللہ تعالیٰ کو نہیں بھولتے اور لوگوں سے نہیں ڈرتے اور صرف اللہ کا خوف رکھتے ہو دل میں، تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں ریوارڈ reward دیتا ہے۔ یہ دنیا جو ہے، یہاں بھی دے دیتا ہے اور اگلے جہان میں بھی ریوارڈ دیتا ہے۔ اب دیکھو تم لوگ یہاں بیٹھے ہوئے ہو۔ تمہارے والدین پہ، ماں باپ پہ اگر ظلم ہوئے پاکستان میں تو وہاں سے آ گئے۔ وہاں اگر ظلم برداشت کر کے آئے اور اپنی دولت یا روپیہ لٹا کے آئےاورتم لوگوں کو نقصان پہنچایا گیا، کاروبار جلائے گئے، تو یہاں آ کے اللہ تعالیٰ نے اور بے شمار دے دیا، اس سےبڑھ کے دے دیا۔ ظلم کرنے والے ایک وزیر اعظم نے کہا کہ میں احمدیوں کے ہاتھوں میں کشکول پکڑا دوں گا۔ بھیک مانگیں گے۔ پیالہ لے کے لوگوں سے پیسے مانگا کریں گے احمدی، آجکل بڑے اکڑتے ہیں، ایسا ان کا حال کروں گا۔ وہ حال کیا ہوا؟ اس کو تو اللہ تعالیٰ نے مار دیااور اسکے اپنے جرنیل نے ہی اس کو پھانسی پر لٹکا دیا اور احمدی جن کے ہاتھوں میں کشکول پکڑانا تھا، آج دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور اللہ کے فضل سے جماعت ترقی بھی کر رہی ہے اور اللہ کے فضل سے ہم ہر جگہ مسجدیں بھی بنا رہے ہیں۔مشن بھی بنا رہے ہیں۔ تبلیغ بھی کر رہے ہیں۔اور ذاتی طور پر بھی احمدی بہتر حالات میں ہو رہے ہیں۔ تواللہ تعالیٰ آزماتا ہے دیکھنے کے لئے کہ تمہارے اندر کتنا ایمان ہے۔ تو ظالموں کو تو وہ ظلم کی سزا دے دیتا ہے ساتھ تم لوگوں کو بھی آزماتا ہے پھر دیکھتا ہے۔ پھر دنیا میں بھی جزا دیتا ہے اور اگلے جہان میں بھی جزاء دیتا ہے۔ اور یہ ہمیشہ ہر نبی کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ ہر نبی پہ ظلم ہوا، ہرنبی کی جماعت پہ ظلم ہوا، لیکن اللہ تعالیٰ آخر میں انکو بچا لیتا ہے اور انکو کامیاب کرتا ہے۔‘‘

سوال۔ ایک لجنہ کی ممبر نے سوال کیا کہ میرا سوال ہے کہ حضرت محمد ﷺ کےخلاف جو سکول کی کتابوں میں خاکے چھپے ہیں انکے خلاف ہم کیا کر سکتے ہیں؟

جواب۔ حضور نے جواب دیاکہ۔ ’’تم ان کو بتاؤ کہ اس طرح اگر ایک دوسرے کے مذہب کے جو لیڈر ہیں یا جو مذہبی فائونڈرز ہیں کسی مذہب کے، یا نبی ہیں یا رسول ہیں، انکے خلاف اگر ہم بولیں گے تو اس طرح امن اور سلامتی قائم نہیں رہ سکتی، سکول میں یا معاشرے میں۔ بے شمار جگہ میں نے یہ لیکچر دئے ہوئے ہیں۔ اگر تم میری کتاب Pathway to Peace (امن کی راہ) پڑھو تو اس میں تمہیں بہت ساری باتیں پتہ لگ جائیں گی۔ اور تم میری کتاب پڑھ سکتی ہو۔ جرمن زبان میں بھی چھپی ہوئی ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہ جو خاکے چھاپے ہیں اس پر بھی میں نے خطبات دئے ہوئے تھے بہت سارے۔ اُن کو بھی پڑھو۔ کہ اس طرح امن نہیں قائم رہ سکتادنیا میں۔ دنیا میں امن قائم رکھنا ہے تو ہمیں آپس میں ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔ اگر کوئی کسی کے ماں باپ کو برا کہے تو لڑائی ہو جائے گی ناں؟ تو آنحضرت ﷺ تو ہمیں اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ پیارے ہونے چاہئیں۔ اسی لئے ان سے کہو کہ دیکھو! میں اس طرح تم لوگوں کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی۔ اس لئے امن قائم رکھنا ہے، آپس میں محبت اور پیار سے رہنا ہے، تو ہمیں عزت و احترام سے رہنا پڑے گا۔ اُن سے کہناکہ ہم حضرت عیسیٰ کی عزت کرتے ہیں۔ حضرت موسٰی کی عزت کرتے ہیں۔ ہم سارے نبیوں کی عزت کرتے ہیں۔ ہم سارے نبیوں کو مانتے ہیں۔ اور یہی ہمیں آنحضرتﷺ نے سکھایا ہے تاکہ دنیا میں امن اور پیار قائم ہو۔ تم لوگ اگر ایسی باتیں کرو گے تو امن نہیں قائم رہ سکتا۔ اور ہمارےجذبات جو ہیں وہ ان کو تم ہرٹ hurt کر رہے ہو گے۔‘‘

(This Week with Huzoor مؤرخہ 25فروری 2022ء مطبوعہ الفضل آن لائن 19؍مارچ 2022ء)

پچھلا پڑھیں

جلسہ یوم مسیح موعودؑ جماعت احمدیہ یونان

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مئی 2022