• 21 مئی, 2022

ربط ہے جان محمد ؐسے مری جاں کو مدام (قسط 22)

ربط ہے جان محمد ؐسے مری جاں کو مدام
شمس و قمر کی گواہی
قسط 22

حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا غلام، عکس، ظل، نائب، خلیفہ، شاگرد، فرزند، ولی ہونے کی سعادت حاصل ہونے پر فخر محسوس فرماتے ہیں۔

سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا
وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے

(درثمین)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’یہ ولایت کامل طور پر ظل نبوت ہے۔ خدا نے نبوت آنحضرتﷺ کے اثبات کے لئے پیشگوئیاں دکھلائیں سو اس جگہ بھی بہت سی پیشگوئیاں ظہور میں آئیں۔

1۔ خدا نے دعاؤں کی قبولیت سے اپنے نبی علیہ السلام کی نبوت کا ثبوت دیا۔ سو اس جگہ بھی بہت سی دعائیں قبول ہوئیں۔ یہی نمونہ استجابت دعا کا جو لیکھرام میں ثابت ہواغور سے سوچو!!!

2۔ ایسا ہی خدا نے اپنے نبی کو شق القمر کا معجزہ دیا سو اس جگہ بھی قمر اور شمس کے خسوف کسوف کا معجزہ عنایت ہوا۔

3۔ ایسا ہی خدا نے اپنے نبی کو فصاحت بلاغت کا معجزہ دیا سو اس جگہ بھی فصاحت بلاغت کو اعجاز کے طور پر دکھلایاغرض فصاحت بلاغت کا ایک الٰہی نشان ہے اگر اس کو توڑ کر نہ دکھلاؤ تو جس دعویٰ کے لئے یہ نشان ہے وہ اس نشان اور دوسرے نشانوں سے ثابت اور تم پر خدا کی حجت قائم ہے‘‘

(حجۃ اللہ، روحانی خزائن جلد12 صفحہ162-163)

اس اقتباس میں نبوت کے اثبات کے لئے عطا ہونے والے نشانات میں سے دوسرے کو موضوع بناتے ہیں یعنی۔ خدا نے اپنے نبی کو شق القمر کا معجزہ دیا سو اس جگہ بھی قمر اور شمس کے خسوف کسوف کا معجزہ عنایت ہوا۔

چاند نے آنحضور ﷺ کی صداقت کی گواہی دو ٹکڑے ہوکر دی۔ غالباً ابھی آپ ؐ شعب ابی طالب میں تھے کہ کفار مکہ نے آپؐ سے کوئی نشان مانگا۔ آپؐ نے اپنی انگلی اٹھا کر چاند کی طرف اشارہ فرمایا سب کی نظریں چاند کی طرف اٹھ گئیں سب کو ایسا لگا کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔ اس کو معجزہ شق القمر کہتے ہیں مگر اس کو دیکھ کر بھی انہوں نے حق کو نہ مانا اور کہنے لگے یہ تو جادو ہے۔ اس واقعہ کا ذکر سورہ القمر میں ہے

اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الۡقَمَرُ ﴿۲﴾ وَ اِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَ یَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ وَ کَذَّبُوۡا وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ وَ کُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مِّنَ الۡاَنۡۢبَآءِ مَا فِیۡہِ مُزۡدَجَرٌ حِکۡمَۃٌۢ بَالِغَۃٌ فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ ۙ﴿۶﴾ فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ ۘ یَوۡمَ یَدۡعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیۡءٍ نُّکُرٍ

(القمر: 2تا 7)

ساعت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ اور اگر وہ کوئی نشان دیکھیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیشہ کی طرح کیا جانے والا جادو ہے۔ اور انہوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی (اور جلد بازی سے کام لیا) حالانکہ ہر اَمر (اپنے وقت پر) قرار پکڑنے والا ہوتا ہے۔

اور ان کے پاس کچھ خبریں پہنچ چکی تھیں جن میں سخت زجرو توبیخ تھی۔ کمال تک پہنچی ہوئی حکمت تھی۔ پھر بھی انذار کسی کام نہ آئے۔ پس اُن سے اعراض کر۔ (وہ دیکھ لیں گے) وہ دن جب بلانے والا ایک سخت ناپسندیدہ چیز کی طرف بلائے گا۔

آنکھوں سے معجزہ دیکھنے والے یہ تو نہ کہہ سکے کہ چاند دو ٹکڑے نہیں ہوا یہ اعترض کر دیا کہ یہ قوانین قدرت کے خلاف ہے۔ فی الحقیقت معجزے کی شان تو یہی ہے کہ اس میں کچھ انوکھا پن ہو معمول کی بات نہ ہو۔ پھر انسان آج تک علم ہیئت کے سارے پرت نہیں کھول سکا۔ خدا تعالیٰ کی قدرتیں لا محدود ہیں۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا نظارہ ایک کشفی نظارہ ہو سکتا ہے جس میں سب کو شریک کرکے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے کی صداقت کا گواہ بنایا۔ یا زمینی عوامل کو ایسے ترتیب دیا کہ ایک معجزہ ظہور میں آجائے مثلا ًکسی آتش فشاں کے پھٹنے سے بخارات کا اٹھنا یا کسی بگولے وغیرہ کا آسمان کی طرف بلند ہونا جس سے وقتی طور پر چاند دو حصوں میں بٹا ہوا نظر آیا۔

حضرت اقدس ؑ فرماتے ہیں
’’غرض علومِ جدیدہ کا سلسلہ منقطع ہوتا نظرنہیں آتا۔ شق القمر کے ایک تاریخی واقعہ سے کیوں اتنا نفرت یا تعجب کرو۔ گزشتہ دنوں میں تو جس کو کچھ تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے ایک یورپین فلاسفر کو سورج کے ٹوٹنے کی ہی فکر پڑگئی تھی۔ پھر شاید شگاف ہوکر مل گیا۔ فلاسفروں کو ابھی بہت کچھ سمجھنا اور معلوم کرنا باقی ہے۔ کے آمدی کے پیر شدی۔

ابھی تو نام خدا ہے غنچہ! صبا تو چھو بھی نہیں گئی ہے

یہ نہایت محقق صداقت ہے کہ ہریک چیز اپنے اندر ایک ایسی خاصیت رکھتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی غیرمتناہی قدرتوں سے اثر پذیر ہوتی رہی۔ سو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواصِ اشیاء ختم نہیں ہوسکتے گو ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں۔ اگر ایک دانہ خشخاش کے خواص تحقیق کرنے کے لیے تمام فلاسفر اولین و آخرین قیامت تک اپنی دماغی قوتیں خرچ کریں تو کوئی عقلمند ہرگز باور نہیں کرسکتا کہ وہ ان خواص پر احاطۂ تام کرلیں۔ سو یہ خیال کہ اجرامِ علوی یا اجسامِ سفلی کے خواص جس قدر بذریعہ علم ہیئت یا طبعی دریافت ہوچکے ہیں اسی قدر پر ختم ہیں اس سے زیادہ کوئی بے سمجھی کی بات نہیں۔‘‘

(سرمۂ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد2 صفحہ93)

مکہ میں چاند سے بادشاہ بھی مراد لیا جاتا تھا اس نشان سے اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں کو یہ بھی بتا دیا کہ پرانی بادشاہتیں ختم ہو گئی ہیں سرداری صرف حضرت محمد ﷺ کی ہوگی

حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

آئینہ میں صورتوں کا انعکاس

(عربی سے ترجمہ) ’’اس خدا کو تمام تعریف ہے جس نے مجھے نشانوں کا جائے ظہور بنایا اور سرورِ کائنات کا ظل مجھے ٹھہرا دیا اور میرے نام کو آنحضرت ﷺ کے نام سے مشابہ بنا دیا۔ اس طرح پر کہ اپنی نعمتوں کو میرے پر پورا کیا تا میں اس کی بہت تعریف کرکے احمد کے نام کا مصداق بنوں اور میرے سبب سے لوگوں کے ایمان کو تازہ کیا تا وہ میری بہت تعریف کریں اور میں محمد کے نام کا مصداق بنوں پس میں احمد ہوں اور میں محمد ہوں جیسا کہ روایات میں آیا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کے دونوں ناموں کی حقیقت عطا فرمائی گئی ہے جیسا کہ آئینہ میں صورتوں کا انعکاس ہوجاتا ہے پس ہم اس نبیٔ اُمّی پر درود اور سلام بھیجتے ہیں جس کے انوار نیک مردوں اور نیک عورتوں میں چمکتے ہیں اور اس کے نام کے ساتھ برکتوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں‘‘

(حجۃ اللہ، روحانی خزائن جلد12 صفحہ165)

جیسے آنحضور ﷺ کی صداقت کے لئے آسماں پر چاند نے گواہی دی اسی طرح حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے بھی آسمان سے سورج چاند نے گواہی دی

آسماں میرے لئے تو نے بنایا اِک گواہ
چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق مسیح موعود کی آمد کی نشانیوں میں سے ایک بڑی زبردست نشانی سورج اور چاند گرہن تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مشرق اور مغرب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تائید میں پورا ہوا۔ پس اس لحاظ سے گرہن کی نشانی کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت سے ایک خاص تعلق ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس نشان کا تفصیل سے ذکر فرماتے ہیں کہ:
’’صحیح دارقطنی میں یہ ایک حدیث ہے کہ امام محمد باقر فرماتے ہیں کہ اِنَّ لِمَھْدِیِّنَا اٰیَتَیْنِ لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ۔ یَنْکَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَیْلۃٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِیْ النِّصْفِ مِنْہ۔ ترجمہ یعنی ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مہدی معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کا گرہن اس کی اوّل رات میں ہوگا یعنی تیرھویں تاریخ میں۔ اور سورج کا گرہن اس کے دِنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا۔ یعنی اسی رمضان کے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو۔ اور ایسا واقعہ ابتدائے دنیا سے کسی رسول یا نبی کے وقت میں کبھی ظہور میں نہیں آیا۔ صرف مہدی معہود کے وقت اس کا ہونا مقدر ہے۔ اب تمام انگریزی اور اردو اخبار اور جملہ ماہرین ہیئت اس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانہ میں ہی جس کو عرصہ قریباً بارہ سال کا گزر چکا ہے اسی صفت کا چاند اور سورج کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے۔ اور جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے یہ گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقع ہو چکا ہے۔ اول اس ملک میں دوسرے امریکہ میں۔ اور دونوں مرتبہ اُنہیں تاریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے۔ اور چونکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی معہود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دے کر صدہا اشتہار اور رسالے اردو اور فارسی اور عربی میں دنیا میں شائع کئے، اس لئے یہ نشانِ آسمانی میرے لئے متعین ہوا۔ دوسری اس پر دلیل یہ ہے کہ با رہ برس پہلے اس نشان کے ظہور سے خدا تعالیٰ نے اس نشان کے بارے میں مجھے خبر دی تھی کہ ایسا نشان ظہور میں آئے گا اور وہ خبر براہین احمدیہ میں درج ہو کر قبل اس کے جو یہ نشان ظاہر ہو لاکھوں آدمیوں میں مشتہر ہو چکی تھی‘‘

(حقیقۃالوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ202)
(حوالہ حدیث۔سنن الدارقطنی کتاب العیدین باب صفۃ صلوٰۃ الخسوف والکسوف وھیت ھما نمبر1777 مطبوعۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت 2003ء)

قرآن کریم کی سورة القیامہ میں اس نشان کا بیان

وَ خَسَفَ الۡقَمَرُ وَ جُمِعَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ

(القیامہ: 9-10)

اور چاند گہنا جائے گا۔ اور سورج اور چاند اکٹھے کئے جائیں گے۔

پس اے اہل اسلام اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے والو تمہیں معلوم ہو کہ وہ نشان جس کا قرآن کریم میں تم وعدہ دئے گئے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے جو سید الرسل اور اندھیرے کو روشن کرنے والا ہے تمہیں بشارت ملی تھی یعنی رمضان شریف میں آفتاب اور چاند گرہن ہونا وہ رمضان جس میں قرآن نازل ہوا وہ نشان ہمارے ملک میں بفضل اللہ تعالیٰ ظاہر ہوگیا اور چاند اور سورج کا گرہن ہوااور دو نشان ظاہر ہوئے پس خدا تعالیٰ کا شکر کرو اور اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے گرو۔

اِسْمَعُوْا صَوْتَ السَّمَاءِ جَاءَ الْمَسِیْح جَاءَ الْمَسِیْح

نیز بِشنو از زمیں آمد امامِ کامگار
آسماں بارد نشان اَلْوَقت می گوید زمیں
ایں دو شاہد از پئے من نعرہ زن چوں بیقرار

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف خسوف رمضان میں ہوا۔ اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے۔‘‘

(حقیقۃالوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ168)

اور ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ:
’’ہمارے لئے کسوف خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور صدہا آدمی اس کو دیکھ کر ہماری جماعت میں داخل ہوئے اور اس کسوف خسوف سے ہم کو خوشی پہنچی اور مخالفوں کو ذلّت۔ کیا وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ ایسے موقع پر جو ہم مہدی موعود کا دعویٰ کر رہے ہیں کسوف خسوف ہو جائے اور بلاد عرب میں اس کا نام و نشان نہ ہو اور پھر جبکہ خلاف مرضی ظاہر ہو گیا تو بیشک ان کے دل دکھے ہوں گے اور اس میں اپنی ذلّت دیکھتے ہوں گے۔‘‘

(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد9 صفحہ33)

چاند سورج گرہن کی پیشگوئی کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پیش ہے۔ آپ ؑفرماتے ہیں کہ:
’’مجھے بڑا تعجب ہے کہ باوجودیکہ نشان پر نشان ظاہر ہوتے جاتے ہیں مگر پھر بھی مولویوں کو سچائی کے قبول کرنے کی طرف توجہ نہیں۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہر میدان میں اللہ تعالیٰ ان کو شکست دیتا ہے اور وہ بہت ہی چاہتے ہیں کہ کسی قسم کی تائید الٰہی ان کی نسبت بھی ثابت ہو مگر بجائے تائید کے دن بدن ان کا خذلان اور ان کا نامراد ہونا ثابت ہوتا جاتا ہے۔ مثلاً جن دنوں میں جنتریوں کے ذریعہ سے یہ مشہور ہوا تھا کہ حال کے رمضان میں سورج اور چاند دونوں کو گرہن لگے گا اور لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ یہ امام موعود کے ظہور کا نشان ہے تو اس وقت مولویوں کے دلوں میں یہ دھڑکہ شروع ہو گیا تھا کہ مہدی اور مسیح ہونے کا مدّعی تو یہی ایک شخص میدان میں کھڑا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ اس کی طرف جھک جائیں۔ تب اس نشان کے چھپانے کے لئے اوّل تو بعض نے یہ کہنا شروع کیا کہ اس رمضان میں ہرگز کسوف خسوف نہیں ہو گا بلکہ اس وقت ہو گا کہ جب ان کے امام مہدی ظہور فرما ہوں گے۔ اور جب رمضان میں خسوف کسوف ہو چکا تو پھر یہ بہانہ پیش کیا کہ یہ کسوف خسوف حدیث کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ حدیث میں یہ ہے کہ چاند کو گرہن اوّل رات میں لگے گا اور سورج کو گرہن درمیان کی تاریخ میں لگے حالانکہ اس کسوف خسوف میں چاند کو گرہن تیرھویں رات میں لگا اور سورج کو گرہن اٹھائیس تاریخ کو لگا۔ اور جب ان کو سمجھایا گیا کہ حدیث میں مہینے کی پہلی تاریخ مرادنہیں اور پہلی تاریخ کے چاند کو قمر نہیں کہہ سکتے اس کا نام تو ہلال ہے اور حدیث میں قمر کا لفظ ہے نہ ہلال کا لفظ۔ سو حدیث کے معنی یہ ہیں کہ چاند کو اس پہلی رات میں گرہن لگے گا جو اُس کے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات ہے۔ یعنی مہینہ کی تیرھویں رات۔ اور سورج کو درمیان کے دن میں گرہن لگے گا یعنی اٹھائیس تاریخ جو اس کے گرہن کے دنوں میں سے درمیانی دن ہے۔ تب یہ نادان مولوی اس صحیح معنے کو سن کر بہت شرمندہ ہوئے اور پھر بڑی جانکاہی سے یہ دوسرا عذر بنایا کہ حدیث کے رجال میں سے ایک راوی اچھا آدمی نہیں ہےتب ان کو کہا گیا کہ جبکہ حدیث کی پیشگوئی پوری ہو گئی تو وہ جرح جس کی بناء شک پر ہے اس یقینی واقعے کے مقابل پر جو حدیث کی صحت پر ایک قوی دلیل ہے کچھ چیز ہی نہیں۔ یعنی پیشگوئی کا پورا ہونا یہ گواہی دے رہا ہے کہ یہ صادق کا کلام ہے اور اب یہ کہنا کہ وہ صادق نہیں بلکہ کاذب ہے بدیہیات کے انکار کے حکم میں ہے اور ہمیشہ سے یہی اصول محدثین کا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا۔ پیشگوئی کا اپنے مفہوم کے مطابق ایک مدعی مہدویت کے زمانے میں پوری ہو جانا اس بات پر یقینی گواہی ہے کہ جس کے منہ سے یہ کلمات نکلے تھے اس نے سچ بولا ہے۔ لیکن یہ کہنا اس کی چال چلن میں ہمیں کلام ہے۔ یہ ایک شکّی امر ہے اور کبھی کاذب بھی سچ بولتا ہےماسوا اس کے یہ پیشگوئی اور طُرق سے بھی ثابت ہے اور حنفیوں کے بعض اکابر نے بھی اس کو لکھا ہے تو پھر انکار شرط انصاف نہیں ہے بلکہ سراسر ہٹ دھرمی ہے۔ اور اس دندان شکن جواب کے بعد انہیں یہ کہنا پڑا کہ یہ حدیث تو صحیح ہے اور اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ عنقریب امام موعود ظاہر ہو گا مگر یہ شخص امام موعودنہیں ہے بلکہ وہ اَور ہو گا جو بعد میں اس کے عنقریب ظاہر ہو گا۔ مگر یہ ان کا جواب بھی بودا اور باطل ثابت ہوا کیونکہ اگر کوئی اور امام ہوتا تو جیسا کہ حدیث کا مفہوم ہے وہ امام صدی کے سر پر آنا چاہئے تھا مگر صدی سے بھی پندرہ برس گزر گئے اور کوئی امام ان کا ظاہر نہ ہوا۔ اب ان لوگوں کی طرف سے آخری جواب یہ ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ ان کی کتابیں مت دیکھو۔ ان سے ملاپ مت رکھو۔ ان کی بات مت سنو کہ ان کی باتیں دلوں میں اثر کرتی ہیں۔ لیکن کس قدر عبرت کی جگہ ہے کہ آسمان بھی ان کے مخالف ہو گیا اور زمین کی حالت موجودہ بھی مخالف ہو گئی۔ یہ کس قدر ان کی ذلّت ہے کہ ایک طرف آسمان ان کے مخالف گواہی دے رہا ہے اور ایک طرف زمین صلیبی غلبے کی وجہ سے گواہی دے رہی ہے۔‘‘

(ضرورۃ الامام، روحانی خزائن جلد13 صفحہ507تا509)

جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں
ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے
مصطفیؐ پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت
اُس سے یہ نور لیا بارِ خدایا ہم نے

(امة الباری ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

جلسہ یوم مسیح موعودؑ جماعت احمدیہ یونان

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مئی 2022