• 28 جنوری, 2023

لجنہ اماء اللہ برطانیہ کے اجتماع سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اختتامی خطاب

لجنہ اماء اللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز اختتامی خطاب

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ 18؍ستمبر 2022ء بمقام اولڈ پارک فارم،کنگزلے

امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حدیقۃ المہدی سے قریباً دو میل دور Old Park Farm، واقع Sickles Lane, Kingsley میں منعقد ہونے والے لجنہ اماء اللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع (منعقدہ 16 تا18؍ستمبر 2022ء) کے اختتامی اجلاس میں بنفسِ نفیس رونق افروز ہوئے اورانگریزی زبان میں بصیرت افروز اختتامی خطاب فرمایا۔ یہ خطاب ایم ٹی اے کے مواصلاتی رابطوں کے توسّط سے پوری دنیا میں سنا اور دیکھا گیا۔ یاد رہے کہ لجنہ اماءاللہ کے اجتماع کے ساتھ ساتھ اسی جگہ پرمجلس انصار اللہ برطانیہ کا بھی سالانہ اجتماع منعقد ہوا جس کے اختتامی اجلاس سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بعد دوپہر خطاب فرمایا۔

حضور پُر نور بارہ بج کر 21 منٹ پر اجتماع گاہ میں تشریف لائے۔ کرسیٔ صدارت پر رونق افروز ہونے کے بعد کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ محترمہ نورعودہ صاحبہ نے سورۃ الجمعہ کی پہلی پانچ آیاتِ کریمہ کی تلاوت اوران کا انگریزی زبان میں ترجمہ پیش کیا۔ بعد ازاں تمام حاضرات نے اپنے امام حضرت امیرالمومنین ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اقتدا میں لجنہ اماءاللہ کا عہد دہرایا۔

عہد کے بعد محترمہ شازیہ تنویر صاحبہ نےحضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے منظوم کلام بعنوان ’’محاسنِ قرآن کریم‘‘ میں سے چند اشعار خوش الحانی سے پیش کیے۔

بعد ازاں ڈاکٹر فریحہ خان صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ برطانیہ نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ اجتماع از صدرلجنہ اماء اللہ یوکے

مکرمہ صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ یوکے نے سب سے پہلے حضورِانور کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا کہ حضور نے لجنہ اماءاللہ برطانیہ پر خاص شفقت فرماکر ان کے اجتماع کو رونق بخشی۔ اس کے بعد بتایا کہ 2019ء کے بعد ہمیں پہلی مرتبہ مکمل انتظامات کے ساتھ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے جس کے لیے ہم خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہیں۔ امسال کے اجتماع کا مرکزی تھیم ’مسیح آگیا ہے‘ تھا اور یہی موضوع اجتماع کے تمام پروگرامز میں مدِنظر رکھا گیا۔ اس تھیم سے متعلقہ عناوین پرمتعدد تقاریراور پریزنٹیشنز رکھی گئیں جن میں درج ذیل شامل ہیں: صداقت حضرت مسیح موعودؑ، سیرت و سوانح حضرت مسیح موعودؑ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عشق رسولﷺ اور بنی نوع انسان سے محبت اور آپؑ کے ذریعہ مسلم امہ میں وحدت اور دنیا میں امن کا قیام۔

ہماری نمائشوں کے موضوعات اس مرتبہ اس زمانے میں ظاہر ہونے والے نشانات: زلزلے، سورج اور چاند گرہن، اور طاعون کے مطابق رکھے گئے۔ اسی طرح شعبہ تبلیغ نےعزت مآب ملکہ الزبتھ دوم مرحومہ کی زندگی کے بارے میں نمائش لگائی۔

علمی مقابلہ جات کا انعقاد لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ دونوں کے لیے بیک وقت ہوا۔ اسی طرح ناصرات کے لیے متعدد علمی و دیگر indoor سرگرمیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ جبکہ outdoor ورزشی مقابلہ جات کو ملکہ کی وفات کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا۔

حضورِانور کے ارشاد کے مطابق امسال اجتماع پر تعلیمی میدان میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والی ممبرات کوایوارڈز تقسیم کیے گئے جن کے ناموں کا اعلان اس سے قبل جلسہ سالانہ یوکے 2022ء پر ہوگیا تھا۔ اسی طرح ان مجالس کو بھی انعامات دیے گئے جنہوں نے سال بھر اعلیٰ کارکردگی پیش کی۔ امسال سرفہرست رہنے والی مجالس ومبلڈن ساؤتھ، فارنہم، والسال اور کنگسٹن تھیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے امسال اجتماع پر کُل حاضری 5725 رہی۔ خاکسار اس موقع پر اجتماع کی ناظمہ اعلیٰ مکرمہ نادیہ سہیل صاحبہ اور ڈیوٹی پر موجود تمام ممبرات لجنہ اماء اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے۔ نیز مجلس خدام الاحمدیہ، مجلس انصاراللہ اور جماعت احمدیہ یوکے کی ٹیموں کے تعاون اور مدد پر بھی ان کی شکر گزار ہے۔

آخر میں ایک مرتبہ پھر خاکسار حضور انورکی مسلسل راہنمائی اور دعاؤں کا شکریہ ادا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور انور کی منشاء کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس کے بعد ایک مختصر ویڈیو میں اجتماع کی جھلکیاں دکھائی گئیں۔

خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بارہ بج کر41 منٹ پر ممبرات لجنہ اماء اللہ برطانیہ و ناصرات الاحمدیہ سے (بزبانِ انگریزی) خطاب فرمانے کے لیے منبر پر تشریف لائے۔ تشہد، تعوّذ اور تسمیہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لجنہ اماء اللہ برطانیہ کو کورونا وبا کے باعث چند برسوں کے تعطّل کے بعد اس سال اپنا سالانہ اجتماع بھرپورطریق پر منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ امید ہے آپ نے اپنے اس اجتماع سے خوب استفادہ کیا ہوگا۔ لجنہ اماء اللہ کو اپنی ذیلی تنظیم کے قیام کے مقاصد اور اپنی ذمہ داریوں کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھناچاہیے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے بڑے غوروفکر کے بعد اس تنظیم کا نام ’’لجنہ اماء اللہ‘‘ رکھا تھا یعنی یہ اُن خواتین کی تنظیم ہے جو خدا تعالیٰ کی خادمائیں ہیں۔ پس اس اعتبار سے آپ سب خواتین کو اپنےایمان اور عقائد کی حفاظت اور روحانی معیاروں کو بلند کرنے کے لیے ہردم کوشاں رہنا چاہیے۔ قرآن کریم نے عرب کے بادیہ نشینوں کو واضح کہا ہے کہ تم یہ نہ کہو کہ ہم ایمان لے آئے بلکہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا۔ گویا کہ ایک مومن کا معیار محض ’اَسْلَمْنَا‘ کہنے سے بہت بالا ہے۔ ایمان کے اعلیٰ معیاروں کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان خدا کو ہر دوسری شَے پر مقدم رکھے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتےہیں کہ مومن تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے والا ہوتا ہے۔ گویا مومن ہر حالت اور مشکل میں خدا کی رضا کو پیشِ نظر رکھتے ہوئےتقویٰ کی راہوں پر چلتا ہے۔ حضورؑ نے فرمایا کہ حقیقی مومن ہر اس چیز سے دُور رہتاہے جو خدا سے دُور لے جانے والی اور شرک کے قریب کرنےوالی ہو۔ بہت سے لوگ توہم دیکھتے ہیں کہ یہ شعور ہی نہیں رکھتے کہ ان کا عمل غلط ہے۔ بعض لوگ اپنے ہمسایوں سے اچھا سلوک نہیں کر رہے ہوتے۔ بعض دوسروں پر طنز کرنے کے عادی ہوتے ہیں، بعض اجتماعات اور مجالس کے مواقع پر ترجیحی سلوک کے خواہش مند رہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو تو کھانے وغیرہ کی اشیاء دیتی ہیں لیکن ساتھ موجود دسرے بچے کی انہیں پرواہ بھی نہیں ہوتی۔ یاد رکھیں! یہ باتیں آپ کے بچوں کی تربیت پر اثراندازہوتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت ایک احمدی سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ نظامِ جماعت کی پابندی کرنے کی طرح اپنی ذیلی تنظیم کے نظام کی بھی پوری اطاعت کرے۔ ہماری جماعت کاتمام تر نظام خلافت کے تابع ہے۔ ہرملک کی نیشنل عاملہ ہویا ذیلی تنظیمیں سب کی سب خلیفۂ وقت کے حکم کے ماتحت ہیں۔ پس اگر کوئی عہدےدار اپنے عمل میں اس ذمہ داری کا حق ادا نہیں کر رہا تو خلیفۂ وقت کواس سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ یہ نہیں کہ لوگوں کے درمیان اس قسم کی باتیں کی جائیں۔ جولوگ ابتداءً نظامِ جماعت پر چھوٹی سطح پر اعتراض کے مرتکب ہوتے ہیں رفتہ رفتہ وہ اس میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور پھر خلافت پر بھی اعتراض کرنے سے نہیں چوکتے بالآخر یہ لوگ ایمان سے ہی دُو ر جا پڑتے ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ نمازدین کےلیے ایک نہایت بنیادی فریضہ ہے، گو کہ خواتین پر مسجد میں حاضر ہوکر اس کی ادائیگی فرض نہیں مگر اجتماعات اور مجالس کے مواقع پر جہاں اس کا اہتمام ہو وہاں پرنماز باجماعت کی پوری پابندی کی جانی چاہیے۔ پس اگر نماز کی ادائیگی میں یا جس طرح نماز کو اس کی شرائط کے ساتھ ادا کرناچاہیے۔ اس میں سستی ہے تو یاد رکھیں کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ کہیں بہت گہرائی میں ہمارے ایمان میں کمزوری ہے اور ہمیں اپنے ایمانوں کاجائز ہ لینا چاہیے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ آج کا معاشرہ بہت ہی گراوٹ کی طرف جارہا ہے اور سوشل میڈیا کے بُرے اثرات بھی دین اور اللہ تعالیٰ سے دُور لے جانے والے ہیں۔ اسکولوں میں بھی بچوں کوبعض ایسی غیر مناسب باتیں سکھائی جاتی ہیں جو اُن کے لیے سخت نقصان دہ ہیں جس کے نتیجے میں وہ دین اوراخلاقی اقدارسے دُور ہورہے ہیں۔ اس لیے والدین کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ دیں۔ بچوں کو بھی بہت احتیاط کی ضرورت ہے کہ وہ سوشل میڈیا یا ٹی وی پر غیرضروری پروگراموں کو نہ دیکھیں۔ والدین کو بھی نظر رکھنی چاہیے کہ اُن کے بچے کس قسم کے پروگرامز دیکھ رہے ہیں۔ ہماری آنے والی نسل کے دین اور اخلاقی اقدار سے دُور ہوجانے کے خطرات بہت زیادہ ہیں اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے گھروں میں خالص اسلامی ماحول قائم کریں، اسلامی تعلیم پرعمل کریں کیونکہ بچے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں وہ والدین کے عمل کی طرف دیکھتے ہیں۔ والدین کے قول و فعل، میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ احمدی والدین بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ادا کرنے والے ہونے چاہئیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اگر کسی عہدیدار کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو براہ راست اُس سے یا پھر کسی بالا عہدیدار سے بات کرنی چاہیے۔ خلیفۂ وقت تک بھی بات پہنچائی جا سکتی ہے لیکن آپس میں چہ میگوئیاں نہ کریں کیونکہ یہ دین سے نفرت پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔ احمدی والدین کو چاہیے کہ بچوں سے اعتماد کا رشتہ پیدا کریں۔ بچوں سے محبت کا تعلق قائم کریں تاکہ وہ آپ سے کھل کر بات کرسکیں۔ بچوں کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دینے چاہئیں اور اگرکسی سوال کا جواب نہیں آتا تو اس کا جواب تلاش کرنا چاہیے۔ احمدی لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دینی علم کو بڑھائیں تاکہ اُن میں اعتماد پیدا ہو۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو بتائیں کہ دین کی کیوں ضرورت ہے؟ بچوں میں دین کی محبت پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ ماؤں کو اس طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ بچوں کی تربیت میں اپنی ذمہ داری کو نبھائیں۔

سچ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضورِانور نے فرمایا کہ ایک احمدی مومنہ کو ہر حال میں سچ بولنے والی ہونا چاہیے۔ کبھی کبھار ضرورت کے وقت جھوٹ کا سہارا لینا بھی درست نہیں ہے۔ ہم میں سے اکثر جانتے ہیں کہ ایک شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی تھی کہ وہ جھوٹ بولنا چھوڑ دے تو محض جھوٹ چھوڑنے سے اُس کی تمام برائیاں چھوٹ گئی تھیں اور صرف جھوٹ چھوڑنے کے نتیجے میں وہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر پہنچ گیا تھا۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ بعض اوقات خواتین مجھے عہدیداران کے خلاف شکایت کے خطوط لکھتی ہیں اور جب تحقیق کی جاتی ہے تو اکثر اوقات پتا لگتا ہے کہ ان کی بات پوری طرح سچائی پر مشتمل نہیں ہوتی۔ یاد رکھیں کہ جھوٹ بہت بڑا گناہ ہے جو خاندانوں کو تباہ کردیتا ہے اور یہی جھوٹ جماعت کے لیے بھی بہت زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ بچے بھی جب والدین کا جھوٹ پر مبنی طرزِعمل دیکھیں گے تو وہ بھی جھوٹ کی راہ پر چل پڑیں گے اور اس طرح بچے کے دل میں نہ صرف والدین کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے بلکہ وہ دین اور ایمان سے دور ہوجاتے ہیں اور ایسے رویّے کے ذمہ دار والدین ہیں۔ پس ایک مومنہ کو چاہیے کہ وہ وقار سے رہنے والی، ہر مشکل اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے والی، جھوٹ سے مکمل طور پر بچنے والی اور خدا تعالیٰ پر کامل یقین رکھنے والی ہو۔

سوشل میڈیا کےمضر پہلو صرف ایک ملک یا علاقے کی بات نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کے ایک خطے سے دوسرے تک باآسانی منتقل ہو رہے ہیں۔

عاجزی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ لوگ اپنے آپ کو عاجزتو کہتے ہیں لیکن ان کو یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ بسا اوقات اپنی باتوں سے ہی دوسروں کی دل شکنی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح تکبر سے بچیں کہ تکبر سے نہ صرف معاشرے کا امن خراب ہو رہا ہوتا ہے بلکہ لوگوں کے باہمی تعلقات بھی خراب کر رہا ہوتا ہے۔

مالی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے حضورِانور نے فرمایا کہ صدقہ دینا بھی اخلاقیات میں داخل ہے۔ اللہ کے فضل سے جماعت کے مخلصین اس میدان میں بڑھے ہوئے ہیں لیکن آج کے دَور میں مالی بحران کے باعث کسی کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ اپنی ضروریات کو پہلے پورا کرنا چاہیے۔ تاہم اس بات کو یاد رکھیں کہ کمزور طبقہ کی مدد ہم پرلازم ہے۔ حدیث میں بھی ہے کہ ہر روز دو فرشتے نازل ہوتے ہیں اورمالی قربانی کرنے والے کے حق میں دعا جبکہ دوسرا فرشتہ بخیل کے لیے بددعا کرتا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ آج کے دور میں پردہ بھی بہت ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس بات کو بخوبی واضح فرمایا ہے کہ صرف عورت کو ہی قرآنِ کریم میں حکم نہیں کہ وہ پردہ کی پابندی کرے بلکہ پہلے مردوں کو غضِ بصر کا حکم ہے اور اس کے بعد عورت کو ستر ڈھانپنے کا حکم ہے۔ آج دنیا والے عورتوں پر ظلم کے نام پر اسلام کی اس خوبصورت تعلیم پر اعتراض کرتے اور اس طریقے سےمسلمان عورت کو بےپردہ کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے امسال جلسہ سالانہ کے خطاب میں احمدی عورتوں کی مثالیں دی تھیں کہ جو دنیا کے سامنے اپنا پردہ اتارنے کے لیے نہیں جھکیں اور اپنے دین کو دنیا پر مقدم کیا اور پردہ نہیں چھوڑا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا اور ان کو پردہ میں رہتے ہوئے نوکری کرنے کے سامان پیدا فرمائے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک وغیرہ کے استعمال میں بھی احتیاط سے کام لیں۔ اپنی تصاویر کو انٹرنیٹ پر شیئر کرنے پر اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعد میں یہ چیزیں غلط استعمال کی جاتی ہیں اور بعض اوقات ایسا کرنے والی بچیاں بلیک میلنگ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس لیے انٹرنیٹ کا استعمال صرف مثبت اور تعلیمی مقاصد کے لیے کریں اور اس سے قبل اچھی طرح چھان بین کر لیں کہ کہیں غلط قسم کے لوگوں سے واسطہ تو نہیں پڑ رہا تاکہ بعد کے پچھتاوے سے بچا جا سکے۔

حضرت مسیح موعودؑ کے سامنے کسی نے بات کی کہ عورتوں کو اَب پردہ چھوڑ کر مغرب کی طرح ہونا چاہیے تو آپؑ نے فرمایاکہ ان لوگوں نے جنہوں نے پردہ چھوڑا ان کی اخلاقیات کی حالت بھی دیکھ لیں اگر وہ پردہ چھوڑنےسے بہتر ہوئی ہے تو پھر چھوڑ دیں لیکن آج ان کی حالت ہمارے سامنے ہے کہ چھوٹے معصوم بچوں سے ایسی غیر اخلاقی اور عریانی باتیں کی جاتی ہیں جس کی نظیر کسی زمانے میں نہیں ملتی۔ یہ حرکات ان کے لیے بہت مضر ہیں اوران کی دماغی حالت کو خراب کرنے والی بات ہے جس کے بھیانک نتائج انہیں کسی وقت دیکھنے پڑیں گے۔

نماز کے متعلق نصیحت کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ نماز کو سمجھ کر باقاعدگی سے ادا کریں نہ کہ صرف رسم وعادت کے طور پر۔ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو گا جو آپ کو،آپ کے خاوندوں کو اوراولاد کو بچا سکے گا اور آپ اس دنیا میں ایک عظیم روحانی انقلاب پیدا کرنے والی ہوں گی اور تاریخ گواہی دے گی کہ اس دَور کی احمدی عورتوں نےاعلیٰ نمونے دکھائے اور اپنے عملی نمونوں سے روحانی انقلاب کو برپا کیا۔ اللہ تعالیٰ احمدی خواتین کو یہ توفیق عطا فرمائے آمین۔

حضورِ انور نے اس معركة الآراء خطاب کا اختتام دعا پر فرمایا جو ایک بج کر26پر ہوئی۔ دعا کے بعد حضورِ انور کی خدمت میں اردو اور افریقن زبانوں میں ترانے پیش کیے گئے۔ ایک بج کر 32منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ عنایت فرمانے کے بعد اجتماع گاہ سے تشریف لے گئے۔

(الفضل انٹرنیشنل موٴرخہ 23؍ ستمبر 2022ء)

پچھلا پڑھیں

استغفار اور گناہوں سے راہِ فرار

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اکتوبر 2022