• 5 اگست, 2020

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کا قرآنِ کریم سے عشق اور پُر حکمت باتیں

قرآن شریف میری غذا اور میری تسلّی اور اطمینان کا سچا ذریعہ ہے

خوش الحانی سے تلاوت کرنا

آنحضرتﷺ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ خوش الحانی سے تلاوت کیا کرو۔ آپؐ فرماتےہیں۔
اپنی آوازوں کے ذریعہ قرآن کریم کو خوبصورت بناؤ۔ دلکش بناؤ۔

(سنن نسائی کتاب الصلوٰۃ باب تزئين القرآن)

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ قرآن کریم سے اس قدر محبت کرتے تھےکہ آپ کا اوڑھنا بچھونا سب قرآن ہی تھا اور آپ نے حکمت کے موتیوں کی جوبرسات فرمائی وہ سب آپ نےقرآنِ کریم سے اخذ کئے۔علم طب کے اکثر نسخہ جات بھی آپ نےقرآنِ کریم پرگہراغوروخوض کر کےبیان فرمائےاورایک خلقِ کثیر کوفائدہ پہنچایامندرجہ ذیل مضمون کا اکثر حصہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے مختلف جگہوں پرخود بیان فرمایاجس میں سے چند پیش خدمت ہیں۔

بیج بویاگیا

آپ فرماتے ہیں۔
’’جناب الٰہی کے انعامات میں سے یہ بات تھی کہ ایک شخص کلکتہ کے تاجر کتب جومجاہدین کے پاس اس زمانہ میں روپیہ لے جایا کرتے تھے۔ہمارےمکان میں اترے۔ انہوں نے ترجمہ قرآن کی طرف یا کہنا چاہئے کہ اس گراں بہا جواہرات کی کان کی طرف مجھےمتوجہ کیا جس کے باعث میں اس بڑھاپے میں نہایت شادمانہ زندگی بسر کرتا ہوں۔‘‘

اس وقت حضرت نور الدین کی عمر سولہ سترہ سال سے زیادہ نہ تھی۔ (1857ء،1858ء) جب پہلی مرتبہ آپ کو قرآن مجید کے ترجمہ کی طرف توجہ ہوئی۔ اور یہ ایک بیج تھا۔ جو قرآن کریم کے ایک بے نظیر عالم اور شفیق معلم کے دل پر بو یاگیا۔

(الحکم 7 اکتوبر 1937ء)

غور کرنے سے راحت بڑھتی ہے

فرماتے ہیں۔
میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے سوا کوئی ایسی کتاب نہیں ہے کہ اس کو جتنی بار پڑھو، جس قدر پڑھو اور جتنا اس پر غور کرواس قدر لطف اور راحت بڑھتی جاوےگی طبیعت اکتانے کی بجائے چاہے گی کہ اور وقت اس پر صرف کرو۔ عمل کرنے کے لئے کم از کم جوش پیدا ہوتا ہے اور دل میں ایمان،یقین اور عرفان کی لہریں اٹھتی ہیں۔

(حقائق الفرقان جلد1ص34)

قرآن کریم میری غذا ہے

پھرفرماتےہیں
’’قرآن شریف میری غذا اور میری تسلی اور اطمینان کا سچا ذریعہ ہے اور میں جب تک ہر روز اس کو کئی رنگ میں پڑھا نہیں لیتا۔ مجھے آرام اور چین نہیں آتا بچپن ہی سے میری طبیعت خدانے قرآن شریف پر تدبر کرنے والی رکھی ہے۔ اور میں ہمیشہ دیر دیر تک قرآن شریف کے عجائبات اور بلند پروازیوں پر غور کیا کرتاہوں۔

(حقائق الفرقان جلد4ص83)

اجل مسمیّٰ تک پہنچنے کا طریق

فرماتے ہیں۔
یُؤَخِّرُکُمْ اِلَی اَجَلٍ مُّسَمّٰی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ کا غضب انسان کو اس کی اجل مسمّٰی سے پہلے ہلاک کر دیتا ہے یعنی قبل از وقت موت آ جاتی ہے لیکن اعمال صالحہ سے بلا ئیں اور وبائیں ٹل جاتی ہیں۔

(الحکم 30 ستمبر 1903ء)

کسی کی بری حالت کو دیکھ کردعا

کسی کی حالت بد کو دیکھ کر اس کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو بلکہ دعا کرو کہ اَلْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِيْ عَافَانِيْ مِمَّا ابْتَلَاكَ بِہٖ وَ فَضَّلَنِيْ عَلَى كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيْلًا ورنہ یا د رکھو کہ انسان نہیں مرتا جب تک اسی مصیبت میں خود مبتلا نہ ہولے۔

(الحكم 30 ستمبر 1903ء)

قوّال نہیں فعّال

30جنوری 1904ء کو قادیان سے دو معزز مہمان رخصت ہونے والے تھے وہ حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں بغرض ملاقات حاضرہوئے۔ ان میں سے ایک صاحب نےکہا۔

’’آپ کی باتیں بھی بہت ہی دلچسپ اور مزیدار ہیں‘‘

اس پر حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب نےفرمایا:۔

’’میں قوّال کی نسبت فعّال کو پسند کرتا ہوں‘‘
یعنی بہت کہنے والے کے مقابلہ میں کرنے والے کوترجیح دیتا ہوں۔‘‘

( الحکم 17 جنوری 1904ء)

تلاوت کا اصل مقصد

قرآن شریف کے ساتھ عشق ومحبت کے اتنے ہی معنےنہیں ہیں کہ ایک عمدہ قرآن شریف لے کر اس کی سونے کی جدول بنا کر اور عمد ہ جلدکرا کے ایک ریشمی غلاف میں بند کر کے ایک کھونٹی کے ساتھ لٹکادیا اور کبھی اسے کھول کربھی نہ دیکھاکہ اس میں کیا لکھا ہے یا اگر کھول کر دیکھا بھی تو اس کی غرض صرف اس قدر سمجھ لی کہ اس کی معمولی تلاوت کافی ہے۔ اگر کوئی شخص اس قدر سمجھتا ہے تو وہ سخت غلطی کھاتا ہے اور وہ قرآن شریف کی عزت اور عظمت کا حق ادا نہیں کرتا اور نہ اس کی تلاوت کے اصل مقصد کو پاتا ہے یا درکھو تلاوت کا اصل مقصد قرآن شریف پرعمل کرنا ہے اگر کوئی عمل نہیں کرتا اور عملدرآمد کے واسطے اسے نہیں پڑھتا تو اسے کچھ بھی فائدہ اس تعظیم سے نہیں ہوگا۔

(الحكم 10 اپریل1904ء)

نیکی میں دیر نہ کرو

فرماتے ہیں۔
’’تم قرآن شریف سننے کو غنیمت سمجھو۔ دنیا کے جھمیلے تو کبھی کم ہونے میں نہیں آسکتے۔ ایک کتاب میں میں نے ایک مثال پڑھی ہے کہ ایک شخص ندی سے گزرنا چاہتا تھا۔ اس نےتأمل کیاکہ یہ موج گزر جائے تو میں گزروں مگر اتنے میں ایک اور آگئی اور وہ اسی طرح خیال کرتے کرتے رہ گیا۔‘‘

(حقائق الفرقان جلد اول ص284)

صبر لڑائیوں کا خاتمہ کرتا ہے

’’متقی کی یہ صفت ہے کہ اس میں برداشت و تحمل ہوتاہے اور یہ صبر کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی قدرت سے باہر ہو۔اسی لئے لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرہ:287) فرما چکا ہے۔

ایک رئیس تھا اس کے حضور میں ایک شخص نے عرضی دی کہ حضور کی قوم کے ایک آدمی نے مجھے گالی دی ہے۔ اسے بلایا گیا۔ رئیس نے اس آدمی کو سخت گالیاں دیں جو اس کی شان سے بعید تھیں۔ اخیر اس حاکم نے اس سے پوچھا۔ تم نے اس آفیسر کی کیوں بے عزتی کی؟ تو وہ کہنے لگا کہ اس نے مجھے گالی دی تھی۔ پھر مجھ میں تاب حوصلہ نہ رہی۔ رئیس نے کہا کہ صبر کی طاقت تو تجھ میں ہے۔ دیکھو میں نے بھی تجھے گالیاں دیں اور تم چپکے سے ہنسا کئے۔ اگر لوگ صبر کریں توبہت سی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جاوے۔‘‘

(حقائق الفرقان جلد اول ص 454)

اللہ کی تسبیح اور تنزیہہ

فرمایا۔
مومن کا کام ہے کہ وہ اپنے رب کے اسماء کی تنزیہہ کرتا رہے اور وہ تین طرح سے ہوتی ہے۔

اول۔ اللہ تعالیٰ پر بعض لوگ بدظنی کرتے ہیں اور اپنے اوپر نیک ظن کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے کوشش تو بہت کی مگر ہماری محنت کا ثمرہ نہ ملا۔ یہ بدظنی چھوڑ دو۔

دوم۔ اپنے چال چلن سے خدا تعالی کی صفات کی عزت اور حرمت کرو۔

سوم۔ اللہ تعالی کے اسماء حسنیٰ پر کوئی اعتراض کرے تو اس کو جواب دو۔

( الحكم 30 ستمبر 1903)

ذکر الٰہی کی برکت

فرماتے ہیں۔
ذکر الٰہی سے قویٰ مضبوط ہو جاتے ہیں حتّٰی کہ بوڑھے جوان ہو جاتے ہیں اور اس امر کا ثبوت قرآن شریف ہی سے ملتا ہے حضرت زکریا ؑ نے اپنی کمزوری کا ذکر کیا تو اللہ تعالی نے اس کا علاج یہی بتایا ہے کہ تم ذکر الٰہی کرو اور تین روز تک کسی سے کلام نہ کرو چنانچہ انہوں نے اس پر عمل کیا اور خدا نے جیتی جاگتی اولاد عطا فرمائی۔

حدیث شریف میں ذکر ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول الله ﷺ سے ایک خادمہ مانگی آپؐ نے فرمایا ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان الله، الحمدللہ اور اللہ اکبر پڑھ لیا کرو اور سوتی دفعہ بھی۔ چنانچہ ایساہی کیا گیا اور وہ ضرورت محسوس نہ ہوئی۔

(الحکم 30 ستمبر 1903ء)

خودنیک بنوتاکہ نیک اولادہو

انسان کے نطفہ میں عادات ، اخلاق، کمالات کااثرہوتاہے۔والدین کےایک ایک برس کے خیالات کا اثر ان کی اولاد پر ہوتا ہے۔ جتنی بداخلاقیاں بچوں میں ہوتی ہیں وہ والدین کے اخلاق کا عکس اور اثر ہوتاہے۔ کبھی ہم نشینوں اور ملنے والوں کے خیالات کا اثر بھی والدین کے واسطے سے پڑتا ہے پس خود نیک بنواخلاق فاضلہ حاصل کرو تاتمہاری اولاد نیک ہو اَلوَلَدُسِرلِاَبِیہ میں یہی تمہید ہے۔ اولاد والدین کے اخلاق،اعمال،عقائد کا آئین ہوتی ہے۔

(الحكم 17اکتوبر1903ء)

جسےشرح صدرحاصل ہوجائے

  • شرح صدر والے کو اللہ پر اىمان ہوتا ہے۔
  • وہ الله تعالى کى طرف جھکتا ہے۔
  • ذکر کرتا ہے۔
  • بہادر ہوتا ہے۔
  • آنکھ فضول کى طرف اور کان لغو کى طرف نہىں جاتے۔
  • اس کى دوستى اور دشمنى اللہ کے واسطے ہوتى ہے۔
  • اسے اپنے واسطے کوئى فکرنہىں ہوتى۔
  • وہ مخلوق پر احسان کرتا ہے۔
  • دانا ہوتا ہے۔
  • کثرت غذا اور کثرت نىند سے مبرّاہونا۔

(الحكم 10 مئی 1903ء)

بڑابدبخت کون ہے؟

تین قسم کے لوگ بڑے ہی بدقسمت اور بد بخت ہوتے ہیں، الله تعالیٰ سے پناہ اور دعا مانگنی چاہئے کہ ان میں داخل ہونے سے بچائے۔

اول۔ وہ شخص بڑا ہی بد بخت ہے جس کو علم ہو اور عمل نہ ہو یہ قرآن شریف کی اصلاح میں ضال کہلاتا ہے۔

دوم۔ وہ شخص بڑا ہی بدقسمت ہے جو اپنے گناہوں اور بدکاریوں کو اچھا سمجھتا ہے (اس کے اعمال اس کو اچھے کر کے دکھائے گئے)

سوم۔ جوگری ہوئی خواہشوں کامتبع ہو۔

(الحکم 17 جولائی 1903ء)

غفلت سے کیسے بچے؟

اللہ تعالیٰ سے غافل کرنے والے امور کا نام قرآن شریف میں لَھْو ہے پس مومن کا کام یہ ہے کہ جس کام سے، جن مکانات میں، جس لباس سے، جس خوراک سے، جس مجلس میں بیٹھنے سے انسان کو اللہ تعالیٰ سے غفلت پیدا ہو اس سے ہجرت کرے اور یہی اس کا علاج ہے۔

(الحكم 10 اگست 1903ء)

اللہ تعالیٰ تمام احبابِ جماعت کوحضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی نصائح پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین

پچھلا پڑھیں

جماعت احمدیہ کا نام رکھنے کی وجہ تسمیہ اور قیام کا مقصد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13دسمبر2019