• 19 جون, 2024

حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا (اماں جانؓ)

بہت صدقہ و خیرات، مالی قربانیاں کرنے والی اور مخلوق کی ہمدرد بزرگ شخصیت
آپ نے الفضل کے لئے ابتدائی قربانی کر کے اس اجراء کو ممکن بنایا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے روزنامہ الفضل ربوہ کے ’’صدسالہ جوبلی سوونیئر 1913-2013ء‘‘ کے لئے اپنے پیغام میں تحریر فرمایا۔ ’’حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کے عہد مبارک میں 1913ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ؓ نے استخارہ کرکے ’’الفضل‘‘ کا اجراء فرمایا۔ پہلے ہندوستان سے اور پھر تقسیم ہند کے بعد سے باقاعدگی سے شائع ہونے والا جماعت کا یہ ایک قدیم اور اہم اخبار ہے۔اس کا آغاز بڑی قربانیوں سے ہوا اس کے اجراءکے وقت حضرت اماں جان ؓ نے اپنی ایک زمین عنایت فرمائی۔‘‘

اس لحاظ سے جہاں جماعت احمدیہ کی ابتدائی تاریخ کے کئی اہم مواقع پر حضرت اماں جانؓ کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی وہاں ’’اخبار الفضل‘‘ کا جب بھی ذکر ہو گا اور خاص طور پر یہ کہ کس طرح، کن حالات میں اور کن بابرکت وجودوں کی کاوشوں، محنتوں اور قربانیوں سے باقاعدگی سے شائع ہونے والا جماعت کا یہ ایک قدیم اور اہم اخبار جاری ہوا تو حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنھا کی قربانی کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

تاریخ احمدیت میں اُمّ المؤمنین حضرت سیدہ نصرت جہاںؓ بیگم جو جماعت احمدیہ میں حضرت اماں جان ؓ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ بے شمار پیشگوئیوں، اہم تاریخی واقعات اور قربانیوں کی وجہ سے آپ کا بابرکت وجود ایک روشن ،نشانِ صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیت کی سچائی پر بیّن دلیل ہے۔ آپؓ کی ذات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات ’’وہ مبارک نسل کی ماں ہوگی‘‘ اور آنے والے مسیح کے متعلق پیشگوئی ’’ یَتَزَوَّجُ وَ یُوْلَدُلَہٗ ‘‘ وہ شادی بھی کرے گا اور اس کے اولاد بھی ہوگی اور اس کی اولاد بھی خاص ہوگی۔ پورے ہوئے اور آپ کی ساری زندگی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شانہ بشانہ آپ کے ہر کام اور ہر قربانی میں ساتھ دیتے ہوئے اور آپؑ کی وفات کے بعد خلافت احمدیہ سے کامل اخلاص ووفاکے تعلق میں آخری دم تک مسیح آخر الزمانؑ کے کام کو آگے سے آگے بڑھانے میں گزری۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا۔
’’خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی رُوح اپنے اندر رکھتا ہوگا۔ اس لئے اُس نے پسند کیا کہ اِس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اِس سے وہ اولاد پیدا کرے جو اُن نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلاوے۔ اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہربانو تھا اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اِس کا نام نُصرت جہاں بیگم ہے۔ یہ تفاول کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔‘‘

(تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد15 صفحہ275)

اس موقع پر جبکہ روزنامہ الفضل کے آن لائن ایڈیشن اجراء ہورہا ہے تو حضرت اُمُّ المؤمنین کی مالی قربانیوں ،بہت صدقہ و خیرات کرنے والی اور بطور ایک مخلوق کی ہمدرد شخصیت کا ذکر ہمارے اندر بھی اس جذبہ کو اُجاگر کرنے کا باعث بنے گا نیز آپ کی نصائح جن کا اعادہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا ہے ہماری زندگیوں کو سنوارنے کے لئے آج بھی ممد و معاون ہوسکتی ہیں۔

حضرت اماں جانؓ کی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئےجو قربانیاں ہیں ان کی نظیر بہت کم ملے گی۔ کوئی وقت اور موقع ایسا نہیں آیا کہ اسلام کے لئے کسی مالی ضرورت کا سامنا ہو اور آپ ؓ نے اپنی ذات سے اس میں حصہ نہ لیا ہو۔

منارۃ المسیح کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے 28مئی 1900ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا تھا جس میں منارۃ المسیح کی برکات اور ثمرات کا تفصیل سے ذکر فرمایا اور آپ نے یہ بھی اشارہ فرمایا تھا کہ میرا زمانہ زمان البرکات ہے اس لئے کہ تمام قوموں پر اسلام کی برکات ثابت کی جائیں گی اور دکھلایا جائے گا کہ ایک اسلام ہی بابرکت مذہب ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نےمنارۃ المسیح کی تعمیر کے لئے ایک اعلان فرمایا، جماعت کی ابتدائی حالت تھی اور تعمیرکیلئے دس ہزار روپیہ کا اندازہ کیا گیا تھا۔ آپ نے اس رقم کے پورا کرنے کیلئے پھر ایک اشتہار “اپنی جماعت کے خاص گروہ کیلئے” شائع فرمایا اور ایک سَو ایک خدام کومخاطب فرمایا کہ وہ ایک ایک سَو روپیہ اس مقصد کے لئے ادا کریں۔ سلسلہ کی تاریخ میں یہ پہلی خاص تحریک تھی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ان خدام کو توفیق دی کہ اپنے امام کی آواز پر لبیک کہیں۔ چنانچہ آپ نے اسی اشتہار میں جو خاص گروہ کے نام شائع کیا۔ تحریر فرمایا:
’’مَیں آج خاص طور پر اپنے ان مخلصوں کو اس کام کے لئے توجہ دلاتا ہوں جن کی نسبت مجھے یقین ہے کہ اگر وہ سچے دل سے کوشش کریں تو ممکن ہے یہ کام ہو جائے اگر انسان کو ایمانی دولت سے حصہ ہو تو گو کیسے ہی مالی مشکلات کے شکنجہ میں آ جائے تا ہم وہ کارِخیر کی توفیق پا لیتا ہے۔‘‘

اس خاص گروہ میں ایک سَو ایک آدمیوں کے نام تھے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت اقدسؑ کے ارشاد کی تعمیل کی توفیق پائی اور عجیب بات ہے کہ جن مخلصین کو اس سعادت سے حصہ ملا انہوں نے اس دنیا میں بھی ثمرات و برکات کا لطف اُٹھایا۔ حضرت اقدسؑ نے دس ہزار روپے کا تخمینہ اس وقت فرمایا تھا۔ حضرت اماں جان ؓ نے10/1اس چندہ کا دے دیا اور یہ رقم اپنی ایک جائیداد واقع دہلی کو فروخت کر کے دی۔

یہ واقعہ حضرت اُمُّ المؤمنین کی بلند ہمتی اور خدا تعالیٰ کی آیات کے لئے قربانی کا بے نظیر نمونہ ہے اور سلسلہ عالیہ کی مستورات کے لئے خدمت دین کے لئے اسوہ حسنہ ہے اور نیز یہ ثبوت ہے حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کا۔ آپ کی ہر تحریک اور کاموں کو حضرت اُمُّ المؤمنین کس طرح پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کرتی ہیں اور اس کے لئے اپنے اموال کو خرچ کرنے میں ذرا دریغ نہیں فرماتی ہیں۔

حضرت اماں جانؓ کی زندگی کا ہر لمحہ خواتین اور احباب جماعت احمدیہ کی ترقی اور بہبود میں صرف ہوتا۔ مدرسۃ البنات کے لئے آپ نے گھر کا ایک حصہ پیش کردیا۔ یتیم بچوں اور بچیوں کو اپنے ہاتھوں سے نہلاتی نظر آتیں۔ آپ سراپا شفقت و محبت تھیں، حتی الامکان ہر ضرورت مند کی ضرورت کو پورا فرماتیں۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر ہزاروں مہمانوں کی مہمان نوازی کرتیں، لوگوں کے مسائل حل کرتیں۔ آپ کی قربانیوں کو دیکھتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ مسجد بنانے کی تحریک ہو یا کہیں مبلغ سلسلہ کی ضروریات کو پورا کرنے کا مسئلہ درپیش ہو، لٹریچر کے لئے رقم کی ضرورت ہو یا تحریک جدید نے پکارا ہو۔ آپ ہر تحریک میں بڑی فراخدلی سے حصہ لیتی تھیں اور سب سے پہلے اپنا چندہ ادا فرماتی تھیں یہاں تک کہ بعض مواقع پر اپنی جائیداد اور زیورات فروخت کرکے خوشی سے امامِ وقت اور خلیفہ وقت کے قدموں میں پیش کردیتیں۔

حضرت مفتی محمد صادق ؓ،حضرت اماں جان ؓ کی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔
“دسمبر 1890ء تھا یا جنوری 1891ء جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت سے مشرف ہوا۔ اس وقت میری عمر اُنیس سال کے قریب تھی۔ ان دِنوں ہم صرف دو مہمان تھے ایک یہ عاجز اور دوسرے سیّد فضل شاہ صاحب مرحوم اور ہمارا کھانا حضرت اُمُّ المؤمنین کے انتظام کے ماتحت اندر سے پَک کر آتا تھا۔ اس کے بعد عاجزاَن گنت دفعہ مکرمہ کی مہمان نوازیوں اور مہربانیوں سے فیض یاب ہوتا رہا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل مولوی حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بیوی صاحبہ بہت ہی مخیر ہیں۔ان کے ذریعہ سے بہت سے غریبوں کی پرورش ہوتی ہے۔ کئی یتیموں اور بے کسوں کو انہوں نے پالا۔ تربیت کی تعلیم دلائی اور ان کی شادیوں کے بھی خرچ برادشت کئے۔”(صفحہ 360)محترمہ استانی سکینۃ النساء اہلیہ حضرت قاضی اکمل حضرت اماں جان کی مہمان نوازی اور غربا پروری کے بارے میں کہتی ہیں۔

حضرت اماں جان کی یہ ایک خاص صفت ہے کہ مہمان نوازی اورغربا پروری میں نہایت ہی مقام رکھتی ہیں۔ اگر گھر میں ہوں کھانے کے وقت کوئی بھی عورت آ جائے ان کو کچھ نہ کچھ کھلا کر تسلی پاتی ہیں۔ غربا پروری کا یہ وصف ہے کہ غریب عورتوں کے گھروں پر جا کر ان کا دکھ درد سننا، ہمدردی کرنا کسی کے درد و غم میں شریک ہونا بیماروں کی مزاج پُرسی اور ان کو دوا اور دعا سے مدد پہنچانا آپ کی عادت ہے۔

(صفحہ 397)

حضرت اماں جان سلسلہ کی ضروریات کے لئے اپنے اموال میں سے ہمیشہ خرچ کرتی ہی رہیں۔ مگر آپ کی زندگی میں ایک واقعہ عجیب ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو 1898ء کی پہلی ششماہی کے آخر میں بعض اہم دینی ضروریات کے لئے روپیہ کی ضرورت تھی۔ آپ نے قرضہ لینے کی تجویز کا ذکر گھر میں فرمایا۔ حضرت اُمُّ المؤمنین نے عرض کیا کہ باہر کسی سے قرضہ لینے کی کیا ضرورت ہے۔ میرے پاس ایک ہزار روپیہ نقد ہے اور کچھ زیورات ہیں آپ اس کو لے لیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں بطور قرض لے لیتا ہوں اور اس کے عوض باغ رہن کر دیتا ہوں گو حضرت اُمُّ المؤمنین اس رقم کو پیش کر رہی تھیں مگر آپ نے جماعت کو تعلیم دینے کے لئے کہ بیویوں کا مال ان کا اپنا مال ہوتا ہے۔ قرض ہی لیا اور قرآن کریم کی ہدایت کے ماتحت اسے معرضِ تحریر میں لے آنا اور فرہانٌ مَقْبُوْضہ پر عمل کرنے کیلئے دستاویز کو رجسٹری کروا لینا ضروری سمجھا۔

بالطبع عورتوں کو زیور پسند ہوتا ہے مگر حضرت اُمُّ المؤمنین نے دینی ضروریات کے لئے اس کو پیش کر دینا ہی ضروری سمجھا اور یہ پہلا موقع نہ تھا۔ حضرت اُمُّ المؤمنین نے ہمیشہ سلسلہ کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر مقدم سمجھا اور کبھی اپنی متاع کو خرچ کرنے میں پس و پیش نہیں فرمایا۔ حضرت اُمُّ المؤمنین نے اپنے عمل سے یہ سبق دیا ہے کہ دین کی ضرورت سب سے مقدم ہے اور اس کیلئے پیاری سے پیاری چیز کے قربان کرنے کی ضرورت ہو تو تامل نہیں ہونا چاہئے۔

حضرت مسیح موعودؑ کی خواہشوں کو پورا کرنے کا شوق

حضرت اماں جان کی ہمیشہ یہ تڑپ رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہر اس خواہش کو پورا کیا جاوے جو کسی نہ کسی رنگ میں خدمت اسلام یا شعائر اسلام کی عملی عظمت کو ظاہر کرتی ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کاابتدائی زمانہ تو گوشۂ تنہائی کا تھا۔ پھر جب خداتعالیٰ کی مشیت نے آپ کو خلوت سے باہر نکالا تب آپ کے دعاوی کی وجہ سے اس قدر مخالفت کا بازار گرم ہوا کہ آپ کے خلاف کفر کے فتاویٰ ہی نہیں قتل کے فتوے دیئے گئے۔ اگرچہ اس وقت بھی آپ کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ آپ پر حج فرض ہوتا تاہم آپ کی یہ خواہش تھی کہ کسی وقت حج بھی کریں مگر وہ موقع نہ آ سکا اور آپ کو پیغام الرحیل آ گیا۔ حضرت اماں جان کو چونکہ حضورؑ کے اس ارادہ کا علم تھا آپ نے حضورؑ کی وفات کے بعد پہلے آپ کے ذمہ ایک قرضہ کے ادا کرنے کا انتظام کیا اور پھر حافظ احمد اللہ خاں ؓ کو جو پہلے بھی حج کر چکے تھے۔ کافی زاد راہ دے کر حج کے لئے روانہ کیا اور حافظ صاحب کے حصہ میں یہ سعادت آئی کہ انہوں نے حضرت اماں جان کے ارشاد کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے حج بدل کیا۔

حضرت اماں جان نے حضرتؑ کی اس خواہش کو پورا کر کے یہ ثابت کیا کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دینی خواہشوں کو پورا کرنے کا شوق اس ایمان کی وجہ سے تھا جو آپ کو حضرت اقدس پر تھا اور آپ یقین رکھتی تھیں کہ حضو ر کی خواہشوں کو پورا کرنا خدا کی رضا کا موجب ہے۔

حضرت اماں جان ؓ کی مالی قربانیوں کا تذکرہ تاریخ احمدیت میں ان الفاظ میں ہے کہ ’’جماعتی چندوں میں بھی حضرت اماں جان ؓ بڑے ذوق و شوق سے حصہ لیتی تھیں اور تبلیغ ِ اسلام کے کام میں ہمیشہ اپنی طاقت سے بڑھ کر چندہ دیتی تھیں۔ تحریک جدید کا چندہ جس سے بیرونی ممالک میں اشاعتِ اسلام کا کام سرانجام پاتا ہے اُس کے اعلان کے لئے ہمیشہ ہمہ تن منتظر رہتی تھیں اور اعلان ہوتے ہی بلاتوقّف اپنا وعدہ لکھا دیتی تھیں بلکہ وعدہ کے ساتھ ہی نقد ادائیگی بھی کردیتی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں وعدہ جب تک ادا نہ ہوجائے دل پر بوجھ رہتا ہے ۔ دوسرے چندوں میں بھی یہی ذوق و شوق کا عالَم تھا۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 15صفحہ 105)

حضرت امّاں جانؓ کی نصائح

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ نے سالانہ اجتماع لجنہ اماء اللہ برطانیہ کے موقعہ پر عورتوں سے حضرت امّاں جان ؓ کی نصائح کے حوالہ سےخطاب کرتے ہوئےفرمایا۔
’’اس وقت میں امّ المؤمنین حضرت اماں جان رضی اللہ عنہاکی بعض نصائح بھی آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو آپؓ نے اپنی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بڑی بیٹی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ کی رخصتی کے وقت اُنہیں کی تھیں۔ اُن میں سے بعض باتیں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ آپؓ نے فرمایا کہ اپنے خاوند سے چھپ کر یا وہ کام جسے خاوند سے چھپانے کی ضرورت سمجھو، ہر گز کبھی نہ کرنا۔ شوہر نہ دیکھے مگر خدا دیکھتا ہے اور بات آخرکار ظاہر ہو کر عورت کی وقعت کھو دیتی ہے۔ اس کی عزت اور احترام نہیں رہتا۔ فرمایا اگر کوئی کام خاوند کی مرضی کے خلاف سرزد ہوجائے تو ہرگز کبھی نہ چھپانا۔ صاف کہہ دینا کیونکہ اسی میں عزت ہے اور چھپانے میں آخربےعزتی اور بے وقری کا سامنا ہوتا ہے۔ عورت کا وقار گرجاتا ہے۔

پھر فرمایا کہ کبھی خاوند کے غصے کے وقت نہ بولنا۔ اگر بچہ یا کسی نوکر پر خفا ہو اور تمہیں معلوم ہو کہ خاوند حق پر نہیں ہے، خاوند غصے کی حالت میں ہے، کسی بچے کو ڈانٹ رہا ہے یا کسی اور کو کچھ کہہ رہا ہے اور تمہیں صاف نظر آرہا ہو کہ وہ غلط کر رہا ہے تب بھی اُس کے سامنے اُس وقت نہ بولو۔فرمایا کہ غصے میں مرد سے بحث کرنے والی عورت کی عزت نہیں رہتی۔ اکثر جھگڑے اسی لئے بے صبری کی وجہ سے ہورہے ہوتے ہیں کہ فوراً ردّ عمل دکھاتی ہیں اور جھگڑے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر غصے میں اس ٹوکنے کی وجہ سے تمہیں بھی کچھ کہہ دے تو تمہاری بڑی بے عزتی ہوجائے گی۔ بعد میں جب خاوند کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے تو بے شک آرام سے اُس کی غلطی کی نشاندہی کر دینی چاہئے۔ اصلاح بھی فرض ہے۔

مرد اور عورتوں کو یہ نسخہ بھی یاد رکھنا چاہئے جس کا حدیث میں ذکر ملتا ہے کہ غصے کی حالت میں کھڑے ہوتو بیٹھ جاؤ یا وضو کرو تو غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ میرے پاس جو بعض شکایات آتی ہیں تو میں مردوں کو یہی کہا کرتا ہوں کہ یہاں اس ملک میں تو پانی کی کوئی کمی نہیں۔ تم اپنے شاور یا پانی کی ٹوٹی کھولا کرو اور اُس میں سر نیچے رکھ دیا کرو تو غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔

بہر حال حضرت اماں جانؓ پھر اپنی بیٹی کو یہ نصیحت فرماتی ہیں کہ خاوند کے عزیزوں کو اور عزیزوں کی اولاد کو اپنا جاننا۔ جیسا کہ حدیث میں بھی ذکر آگیا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے حوالے سے بھی میں نے بات کی ہے کہ ایک دوسرے کے رحمی رشتوں کو اپنا سمجھو۔ فرمایا کہ کسی کی برائی تم نہ سوچنا خواہ تم سے کوئی برائی کرے تم سب کا بھلادل میں بھی چاہنا۔ تمہارے سے کوئی برائی کرتا ہے کرے لیکن تم اپنے دل میں کبھی کسی کی برائی کا خیال نہ لانااور عمل سے بھی بدی کا بدلہ نہ لینا۔ دیکھنا پھر خدا ہمیشہ تمہارا بھلا کرے گا۔

پھر آپؓ اکثر بچوں اور بچیوں کو یہ نصیحت بھی فرمایا کرتی تھیں کہ اپنے نئے گھر میں جارہی ہو وہاں کوئی ایسی بات نہ کرنا جس سے تمہارے سسرال والوں کے دلوں میں نفرت اور میل پیدا ہو اور تمہاری اور تمہارے والدین کے لئے بدنامی کا باعث ہو۔ پس سسرال کے معاملات میں کبھی دخل نہیں دینا چاہئے۔ جو اُن کے معاملے ہورہے ہیں، ہونے دو۔ نہ ہی ساس کی اور نندوں کی باتیں خاوند سے شکوے کے رنگ میں کرنی چاہئیں۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی بیٹی تھیں جیسا کہ میں نے کہا انہوں نے حضرت خلیفہ اولؓ کی بھی ایک نصیحت بیان فرمائی ہے۔ جو حضرت خلیفہ اولؓ اُن کو بھی کرتے تھے اور دوسری بچیوں کوبھی کیا کرتے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ آج یہ نصیحت اور اس پر جو عمل ہے پہلے سے زیادہ اہم ہےاور بارہ تیرہ سال کی جو بچیاں ہیں، جوانی کی عمر میں قدم رکھ رہی ہوتی ہیں، اُن کو ضرور یہ دعا کرنی چاہئے۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے آپؓ کو کئی مرتبہ فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی شرم نہیں، تم چھوٹی ضرور ہو مگر خدا سے دعا کرتی رہا کرو کہ اللہ مبارک اور نیک جوڑا دے۔‘‘

(سالانہ اجتماع لجنہ اماء اللہ یوکے خطاب فرمودہ 4؍اکتوبر2009ء۔ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 18؍دسمبر 2009ء)

حضرت سیدہ نصرت جہاں ؓحرم حضرت مسیح موعود ؑ کی سیرت کا اجمالی نقشہ پیش کرتے ہوئے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل ؓ تحریر کرتے ہیں کہ بہت صدقہ خیرات کرنے والی،ہر چندہ میں شریک ہونے والی،اول وقت اور پوری توجہ اور انہماک سے پنج وقتہ نماز ادا کرنے والی،صحت اور قوت کے زمانہ میں تہجد کا التزام رکھتی تھیں۔ خدا کے خوف سے معمور،صفائی پسند،شاعر بامذاق،مخصوص زنانہ جہالت کی باتوں سے دُور، گھر کی عمدہ منتظم ،اولاد پر از حد شفیق، خاوند کی فرمانبردار، کینہ نہ رکھنے والی۔عورتوں کا مشہور و صف ان کی تریاہٹ ہے مگر میں نے حضرت ممدوحہ کو اس عیب سے ہمیشہ پاک اور بری دیکھا۔

(اس مضمون کی تیاری میں سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم مرتبہ شیخ محمود احمد عرفانی و شیخ یعقو ب علی عرفانی سے مدد لی گئی ہے)

(مرتبہ: راجہ برہان احمد طالع۔لندن)

پچھلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ

اگلا پڑھیں

مالک یوم الدین کی حقیقت