• 14 جولائی, 2024

بنکاری سسٹم اور جدید دور

بنکنگ یعنی بنکاری کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اصلاحات اور جدت آتی گئی ہے۔ بنکنگ کی اگر سادہ اور آسان سی تعریف کی جائے تو یہ ایک ایسی تنظیم یا باڈی ہے جو ایسی سہولتیں مہیا کرتی ہے ۔ جس میں سرمایہ یا رقوم کو قبول کرنا ااور قرضے دینا ہے۔

بنکنگ (Banking) کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو اس کی ایک شکل یا نمونہ قدیم زمانے کے تاجروں کے لین دین میں نظر آتا ہے۔ یہ لوگ اناج، غلہ یا دانوں (Grains) کی صورت میں کسانوں کو قرضہ اور ان تاجروں کو جو شہروں کے درمیان سامان لیکر جاتے تھے دیا کرتے تھے۔

بنکنگ کاارتقا

بنکنگ کی ابتداء تقریباً 2000BC میں ہوئی ۔ اس کے بعد قدیم مصر اور اسی طرح رومن ایمپائر (Roman Empire) میں اس قسم کا لین دین شروع ہوا۔ چائنا اور انڈیا میں بھی پرانے زمانے میں کچھ شہادتیں روپیہ سود پر دینے کی ملتی ہیں۔

اگر تاریخی کتابوں سے بنکنگ کے متعلق جائزہ لیا جائے تو قدیم تاریخ اور علوم کے دور میں کچھ آثار اٹلی خاص طور پر نسبتاً خوشحال شہروں Venice Florence اور Geneva میں ملتے ہیں ۔ اس وقت کی مشہور فیملی جن میں Bardi اور Penuzzi فیملی خاص طور بنکنگ میں نظر آتی ہیں جنہوں نے یورپ کے بہت سے حصوں میں بنکوں کی شاخیں کھولیں۔1397ے میں سب سے زیادہ مشہور بنکMedica Bank اٹلی قائم ہوا ۔1472ئ Monte del paschidi sciena سے قائم ہے اس کو سب سے پرانا اور ابتدائی بنک ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے اس کا ہیڈ کوارٹڑ Siena اٹلی میں ہے۔بنکنگ میں زیادہ تقری اور پھیلاؤ شمالی اٹلی میں رومن بادشاہیت کے دور میں پندرہویں اور سولہویں صدی کے درماین ہوئی۔ سترہویں صدی میں جب بہت سی نئی ایجادات ہوئیں تو بنکنگ نظام بڑی تیزی سے متعارف ہونے لگا۔ اسی دوران ایمسٹرڈیم (ہالینڈ) اور اٹھارہویں صدی میں لنڈن اور بیسویں صدی میں مواصلاتی اور کمپیوٹر کے میدان میں حیرت انگیز ترقی اور ایجادات سے بنکس کے نظام کے نظام میں انقلابی اور نمایاں تبدیلیاں آئیں ۔ بنک اپنے سائز اور وسعت کے لحاظ سے دنیا بھر میں پھیلنے لگے۔

بنک کا بحران

2007-08ء کے مالی بحران میں بہت سے بنک فیل ہو گئے تھے ان حالات میں بنکوں کی مضبوطی، سیکوروٹی اور اعتماد کے لئے بہت بحث ہوئی کہ اس کے اصول وسیع پیمانے پر بنائے جائیں اور جدید دور کے تقاضوں کے تحت پر کشش بنایا جائے۔ سولہویں صدی کے اختتام اور سترہویں صدی کے درمیان تجارتی بنکنگ کو فروغ حاصل ہوا اور تجاری کاموں کے لئے روپیہ قبول کیا جانے لگے اور قرضوں کا اجراء کیا گیا۔ کرنسیوں کا تبادلہ شروع ہوا۔ سونے اور چاندی ک ے سکوں کی جگہ روپیہ ٹرانسفر کرنے کے لئے کام کی ابتداء ہوئی ۔ اسی طرح بنکنگ نظام ان تبدیلیوں ، اصلاحات اور قوانین بننے کے ساتھ ساتھ عالمگیر نظام بنتا گیا اور قومیں اور ملک اس سسٹم سے آپس میں جڑنے لگے اور مزید آسانیاں پیدا ہوئیں۔ نئے بنکوں کے نظام کے تحت تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کے لئے قابل اعتماد ذرائع استعمال ہونے لگے۔ ادائیگیاں اور رقم کی ترسیل خاص طور پر تجارتی مقاصد کیلئے آسان اور جدید ہوتی گئیں۔

سترہویں صدی کے آخر میں بنک رقم کی فراہمی کے لئے بہت زیادہ اہمیت اختیار کرنے لگے خاص طور پر یورپیٗین ممالک میں تیزی سے بنک ترقی کرنے لگے انہی اصلاحات اور ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے پہلی دفعہ ایک مرکزی بنک کی ضرورت محسوس ہوئی جو گورنمنٹ کے تحت کام کرے اور کاغذی نوٹ جاری کرے جن کی باقاعدہ گورنمنٹ ضامن ہو لیکن یہ ابھی تک ابتدائی سوچ تھی۔

جزوی طور پر سرمایہ کو محفوظ کرنے کے لئے بنک سترہویں صدی میں باقاعدہ طور پر متعارف ہوئے اس وقت امیر تاجروں نے اپنا سونا (Gold) لنڈن کے سناروں کے پاس جمع کروانا شروع کیا ان سناروں نے اپنی خدمات کے عوض ان تاجروں سے معاوضہ لینا شروع کیا۔ اس وقت سنار باقاعدہ ایک رسید جاری کرتے جس میں سونے کی مقدار اس کے اصل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیتے اور اصل مالک ہی اپنا سونا واپس لے سکتا تھا۔ کسی اور کو رسید دیکر اور اپنے دستخط کر کے سونا نہیں منگوا سکتا تھا۔ آہستہ آہستہ سناروں نے روپیہ (Metal) کی صورت میں (سونا ، چاندی وغیرہ) گارنٹی کے ساتھ ادھار دینا شروع کیا اس طرح جدید بنکنگ متعارف ہونے میں مدد ملی۔ نوٹ یا رسید کی صورت میں گولڈ اور چاندی کے سکوں کے عوض ایک نئی صورت پیدا ہوئی اس اعتبار کی صورت میں یہ نوٹ یا سکے اپنی قیمت بنانے لگے۔ اس طرح یوپییٔن تاجروں کے درمیان مارکٹ میں ان سکوں اور کاغزی نوٹ کے ذریعہ لین دین شروع ہوا۔ اٹھارہویں صدی میں اس میں مزید ترقی ہوئی اور یہ نوٹ کسی بھی دوسرے شخص کو پانے دستخط کر کے دیئے جانے لگے اس طرح اعتبار زر کا دور شروع ہواجس سے دید بنکنگ نظا میں اہم تبدیلیاں آنے لگیں۔

بنک نوٹ کا اجراء

1695ء میں ابتدائی طور پر ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹ مستقل طور پر بنک آف انگلینڈ (Bank of England) نے جاری کئے۔1745ء میں نوٹ باقاعدہ طور پر پرنٹ ہو کر مارکیٹ میں آ گئے۔ یہ نوٹ20پاؤنڈ سے لے کر 1000 پاؤنڈ تک تھے۔1855ء میں ایسے نوٹ پرنٹ کئے گئے جن پر نہ نوٹ لینے والے کا نام اور نہ کسی کیشیئر کے دستخط تھے۔ یہ وہ دور تھا جب بنکنگ نظام جدید دور میں داخل ہو رہا تھا۔ اٹھارہویں صدی میں بنکوں نے اپنی خدمات عوام کے لئے پیش کر دیں۔ سرمایہ کاری کی گارنٹی اور ادائیگیاں بذریعہ چیک OD یعنی Overdraft کی سہولتیں بھی مہیا ہونے لگیں۔1600ء میں چیکس کی ابتداء ہوئی ۔ سب سے پہلے Overdraft کی سہولت‘‘ٹرائل بنک آف سکاٹ لینڈ”نے شروع کی۔ صنعتی انقلاب اور عالمی تجارت میں اضافے کے ساتھ ساتھ بنکوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ خاص طور پر لنڈن میں اسی وقت مالیاتی سرگرمیوں نے بنکوں کے سسٹم کو مزید وسیع اور روشن کر دیا۔ تھارتی بنکوں نے فیملی لین دین کیلئے بیرونی قرضوں کے لئے تحریری ضمانت کے بانڈز جاری کئے اس طرح تجارتی بنکوں کی سہولیات کی وجہ سے تجارت میں بے پناہ اضافہ ہوا اور سمندری جہازوں کی تیار اور ان کے لئے تجارت کی وجہ سے منافع کی شرح بڑھنے لگی۔

1797ء میں جب انگلینڈ کو جنگ کی دھمکی دی گئی تو ملکی بنکوں کو بڑا دھچکا لگا۔ جنگ کی دھمکی کا خوف ایک فرانسیسی نے پھیلایا اس طرح بنک آف انگلینڈ نے عارضی طور پر کیش کی ادائیگی روک دی۔ بنک آف انگلینڈ کو بذریعہ پارلیمنٹ اتھارٹی دے دی گئی کہ وہ چھوٹی مالیت کے نوٹ چھاپ سکتا ہے۔ اس میں مالیاتی پالیسی کو مد نظر رکھا گیا۔

مرکزی بنک

1698ء میں بنک آف ایمسٹرڈم ایک مثالی بنک کے طور پرسامنے آیا اور اسی کے ذرعیہ مرکزی بنک قائم کرنے کی طرف رجحان پیدا ہوا۔1668ء میں Sevriage Riks bank سب سے پہلا مرکزی بنک کے نام سے قائم ہوا۔1690ء میں پبلک کو کم مقدار میں روپیہ supply شروع کی گئی کیونکہ اس وقت برطانیہ کا فرانس کے ساتھ جھگڑا چل رہا تھا اور اس رقم کی اشد ضرورت تھی۔

ولیم III کی گورنمنٹ اس وقت بہت کمزور تھی اور اس کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ 12,00,000پاؤنڈ کا انتظام کرتی اور اپنا قرضہ اُتارتی ۔ اس وقت بنک آف انگلینڈ (Bank of England) نے گورنمنٹ کو بہت سہارا دیا اور payments کی حد تک بیلنس کیا۔ اس کے باوجود بھی گورنمنٹ کو اربوں روپے کے قرضے پبلک سیکٹر سے لینے پڑے اور اس کیس اتھ ساتھ گورنمنٹ نے بانڈز کے عوض بڑے پیمانے پر نوٹ بھی چھاپے۔1.2میلین پاؤنڈز صرف 12دن میں جمع ہوئے اس میں سے نصف رقم نیوی کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے استعمال ہوئی۔اگرچہ شروع میں یہ بنک ایک پرائیوٹ ادارے کی صورت میں کام کرتے رہے اس نے public کا کردار بڑا نمایاں تھا ۔ انیسویں صدی کے درمیان کمرشل بنک اس قابل ہو گئے کہ وہ اپنے بنک نوٹ چھاپ سکیں۔ اور یہ نوٹ صوبائی بنکس کارپوریشنوں کے ذریعے معاشی سرکل میں لائے گئے۔ یہ سب کچھ چارٹرایکٹ 1944ء کے تحت کیا گیااس ایکٹ کے تحت بنک آف انگلینڈ کی نگرانی میں نوٹ پرنٹ ہونے لگے۔ اس طرح اس بنک آف انگلینڈ Bank of England کی اجارہ داری قائم ہوئی اور یہ مرکزی بنک کی حیثیت اختیار کر گیا۔ چناچہ انیسویں صدی کے دوران یورپی ممالک میں بہت سے مرکزی بنک قائم ہوئے۔ 1800ء میں فرانس کا مرکزی بنک bangue de france قائم ہوا۔ 1913ء میں امریکہ کے مرکزی ریزرو بنک Reserve Bank، Reserve ایکٹ کے تحت قائم کئے گئے۔ آسٹریلیا کا مرکزی بنک 1920ء میں بنا کولمبیا میں1923ء میکسیکو اور چلی میں 1925ء کینڈا، نیوزی لینڈ میں 1934ء میں اسی طرح برازیل اور افریقہ ایشیائی ممالک میں 1945ء میں مرکزی بنک قائم ہوئے۔ آج دنیا بھر میں بنک کیسی بھی ملک کی معیشت کی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ہر شعبہ ہائے زندگی میں خواہ حکومت ہو یا ادارے یا پرائیویٹ سیکٹر سرمایہ کار ہو ں یا عوامی فلاح و بہبود اور خدمات ہوں بنکوں کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بنکنگ سسٹم میں تیز ہوتی ہوئی ترقی کے پیش نظر ایک ایسے ادارے کی ضرورت محسوس ہوئی جو مرکزی طور پر بنکوں کو کنٹرول کرے ۔ ان کی پالیسیاں بنائے اور قوانین مرتب کرے اور جس کو بہت سے اختیارات ہوں اس کے لئے ایک مرکزی بنک ہر ملک میں قائم کیا گیا۔ مرکزی بنک کسی بھی ملک کے نظام زر اور بنکاری کا Head ہوتا ہے اس کے کچھ فرائض ہوتے ہیں جو وہ سر انجام دے کر معیشت کو کنٹرول کرتا ہے۔ ملک میں زر کی مقدار کو کنٹرول کرنا ایک اہم فریضہ ہے تا کاروباری اداروں اور عام آدمی کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ اس کے لئے مرکزی بنک کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ نوٹ جاری کرے۔ اسی طرح مرکزی بنک حکومت کو اپنی خدمات پیش کرتا ہے اسی طرح یہ تجارتی بنکوں کے کیش ریزرو کی نگرانی بھی کرتا ہے حکومت کے پاس جو غیر ملکی کرنسی اور سونے کی مقدار ہوتی ہے اس کا محافظ ہوتا ہے ایک اہم فرض مرکزی بنک کا یہ ہوتا ہے کہ جب تجارتی بنکوں کو کہیں سے بھی قرض نہیں مل رہا ہوتا تو یہ ان کی طرف سے پیش کردہ ہنڈیوں پر بتہ لگاتا ہے اور انہیں قرض دیتا ہے مرکزی بنک کو تجارتی بنکوں کا بنک بھی کہا جاتا ہے۔اسی طرح تجارتی بنکوں کے لین دین کا تصفیہ بھی کرواتا ہے۔

پاکستانی بنک

پاکستان میں مرکزی بنک کی حیثیت سٹیٹ بنک آف پاکستان (SBP) کام کر رہا ہے ۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان ملک کے اندر جاری بنکوں کو اپنی شاخیں قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ملک میں بچتوں کو فروغ کے لئے تجارتی بنکوں کو اس بات کی اجازت دیتاہے کہ وہ مختلف بچت سکیمیں شروع کریں اور مرکزی بنک انہیں بچتوں پر شرح ہائے سود دینے کی اجازت دیتا ہے ۔جب ان بنکوں کے ذریعہ عوام کو پُر کشش شرح منافع ملے گا تو وہ اپنا روپیہ بنکوں میں جمع کروائیں گے لیکن پاکستان میں آجکل بنکوں کی شرح منافع تیزی سے کم ہو رہی ہے جس سے بنکاری نظام کو دھچکا لگ رہا ہے ۔اسی طرح روپیہ کے لین دین پر بلا جواز ٹیکس لگا کر پاکستان کے بہترین بنکاری نظام کو خراب کیا جا رہا ہے۔

مرکزی بنک کسی بھی ملک کی مالیاتی پالیسی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ تجارتی بنک بھی سٹیٹ بنک کی نگرانی میں کام کرتے ہوئے معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تجارتی بنک سے مراد ایک مالی ادارہ جو لوگوں کی امانتیں قبول کرے اور لوگوں کو قرض فراہم کرے۔ پاکستان میں اس وقت جو معروف بنک کام کر رہے ہیں ان میں HBL, ABL, UBL,MCB اور NBP شامل ہیں ان کے علاوہ بہت سے اور بنک بھی اپنے اپنے دائرہ میں کام کر رہے ہیں جن میں JSB (جہانگیر صدیقی بنک)، بنک الحبیب لمیٹیڈ ، بنک الفلاح، فیصل بنک، سمٹ بنک، عسکری بنک، میزان بنک سلک بنک وغیرہ ہیں۔

SCB (سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک) اس کی برانچوں کو پاکستان اور دنیا بھر میں کافی محدود کر دیا گیا ہے یہ غیر ملکی بنک ہے ۔ اس کے علاوہ سینٹرل گورنمنٹ کے تحت (NSC) نیشنل سیونگ سنٹر یا قومی بچت کا ادارہ کام کر رہا ہے ۔ کسی زمانہ میں اس کے منافع کے ریٹس اور عام بنکوں کے ریٹس میں نمایاں فرق تھا جو اب کافی کم ہو کر رہ گیا ہے۔ اگر اس ادارہ کے منافع کے ریٹس کو دوبارہ Revise کر کے عوام کو پر کشش منافع کی آفر کی جائے تو بچتوں میں بہت اضافہ ممکن ہے اور گورنمنٹ کے پاس وافر روپیہ بھی جمع ہو جائے گا۔ جو ترقیاتی اور غیر ترقیاتی منصوبوں پر لگایا جا سکتاہے۔

رقوم کا تبادلہ

بنکنگ سسٹم میں رقم کو مختلف طریقوں سے ٹرانسفر کی جاتا ہے ۔ ان میں قسم DD (Demand Draft) ہے اس میں بھی دو طریق ہیں۔ لوکل کرنسی اور فارن کرنسی ڈرافٹ۔ ( فارن کرنسی میں ذیادہ تر برطانوی پاونڈ، یورو اور یو ایس ڈالر وغیرہ) لوکل ڈرافٹ out of City بنایا جاتا ہے۔ جبکہ فارن ڈرافٹout of country بنتا ہے۔ پاکستان کے اندر فارن کرنسی ڈرافٹ نہیں بن سکتا۔ یہ صرف بیرون ممالک کیلئے بنتا ہے۔ کیونکہ سٹیٹ بنک آف پاکستان فارن کرنسی کی کلیئرنس نہیں کرتا۔

DD(Demand Draft) ایک محفوظ اور قابل اعتماد رقم ٹرانسفر کرنے کا ذریعہ ہے کیونکہ رقم کسٹمر کے اکاؤنٹ سے نکلتی ہے اور بنک کے قابل ادا اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ جب آپ DD جا کر متعلقہ بنک میں جمع کرواتے ہیں تو بنک اکاؤنٹ سے کسٹمر کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہو جاتی ہے۔ DD کیلئے اکاؤنٹ ہونا ضروری ہے جس میں یہ جمع ہو گا اس کے واپس ہونے کے زیرہ چانسز ہیں جبکہ چیک واپس ہو سکتا ہے۔ DD کی آخری کوئی تاریخ نہیں ہوتی یہ غیر معینہ مدت کیلئے ہوا ہے۔ جبکہ چیک 6ماہ تک کیش کروایا جا سکتا ہے۔

TT (Telegraphic Transfer) یہ بھی ایک رقم ٹرانسفر کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ رقم منتقل کرنے کا تیز ترین چینل ہے۔ یہ بنک سے بنک میں رقم ٹرانسفر کا طریقہ ہے اور یہ لوکل استعمال ہوتا ہے۔ اب TT کے ذریعہ رقوم کی ٹرانسفر اتنی مقبول نہیں رہی اب رقوم یا فنڈ آن لائن سسٹم، ATM بنک چیک کے ذریعہ fast ترین چینل سے اسی دن منتقل ہو جاتی ہے ۔ دوسرا Swift Message کے ذریعہ بھی رقوم بیرون ملک منتقل ہو جاتی ہے۔ رقوم بھیجنے والا بنک جسکو Remiter Bank کہتے ہیں اس نے پہلے ہی اورسیز بنک کے ساتھ اپنا اکاؤنٹ کھولا ہوتا ہے وہ اپنے Message کے ذریعہ ینفہرم کرتا ہے اور ہدایات جاری کرتاہے کہ ہمارے swift اکاپؤنٹ کو Debit کر کے رقم ہمارے فلاں کسٹمر کے اکاؤنٹ میں Credit کر دی جائے۔ اس طرح اورسیز کسٹمر کو بھی اسی دن رقم مل جاتی ہے۔

Swift سے مراد (Society for wordwide interbank financial tellecommunication) ہے اس کو financial message بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک ادارہ ہے جس نے فنڈز ٹرانسفر کرنے کی سہولت مہیا کی ہے۔ یہ رقم ٹرانسفر کرنے کا محفوظ ترین Network ہے۔ اس کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ رقوم اور معلومات بھجوائی جاتی ہیں، Payment Order یہ بھی رقم منتقل کرنے یا ایک ذریعہ ہے۔یہ شہر کے اندر بھی رقوم بھجوانے کے لئے استعمال ہو سکتا ہے اور شہر کے باہر بھی ۔ اس میں اور Demand Draft میں یہ فرق ہے کہ DD کی ادائیگی فوری ہو جاتی ہے جبکہ Payorder کلیئرنس کیلئے واپس متعلقہ بنک میں جاتا ہے پھر ادائیگی ہوتی ہے۔

Debit Card اگر آپکے اکاؤنٹ میں بیلنس ہو گا تو آپ کی رقم آپ کو مل جائے گی یا آپ اسے استعمال کر سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ Credit card جس وقت یہ کارڈ ایشو ہوتا ہے تو ساتھ میں آپ کو ایک Limit ملتی ہے۔ یہ آپکی کاروباری حیثیت اور ساخت کو مد نظر رکھ کر دی جاتای ہے۔ اگر آپ Limit کے اندر خریداری کرتے ہیں تو اس کا بل 52دن کے اندر آپکو بھیجا جاتا ہے۔ عام طور پر 40دن بعد آپکو بل پہنچ جاتا ہے ۔ رسید کے نیچے نوٹ ہوتا کہ یہآپ کا بل ہے کم از کم ادائیگی 500کر دیں۔ مثلاً 45000 کا بل ہے تو 500روپے ادائیگی کر دیں کسٹمر خوش ہو جاتا ہے کہ اس دفعہ 500ادائیگی کر دیتے ہیں پھر اگلی دفعہ پوری کر دیں گے ۔ پھر اگلی خریداری کا بل اور سابقہ بل مل کر دیتے ہیں تو اس پر 2.5% سے 3% تک سود بھی لگ جاتا ہے اس طرح بنک اپنی آمد پیدا کرتے ہیں۔ اگر آپ پہلی دفعہ ہی پوری ادائیگی کر دیتے ہیں تو بنک آپ کو Message کرتا ہے کہ آپ کریڈٹ کارڈ پوری طرح استعمال نہین کر رہے۔ پہلی دفعہ Markup نہیں لگتا ۔ اس طرح بنک کو کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔

Visa Card (Visa International Service Association) ایک کمپنی ہے اس کارڈ کو آپ انٹرنیشنل استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے ذریعہ آپ خریداری کر سکتے ہیں ATMکر سکتے ہیں۔

Visa Card میں 2قسم کے کارڈ ایشو کئے جاتے ہیں Debit Card یہ Prepaid ہوتا ہے یہ موجود Balance کے مطابق استعمال ہوتا ہے۔دوسراPost Paidاس میں آپ کو Limit ملتی ہے یہ دونوں فارن کرنسی کی صورت میں ہوتے ہیں اور اس سے یورو، پاؤنڈ اور یو ایس ڈالر کی صورت میں کیش ملے گا۔ اس میں Visaکمپنی involve ہوتی ہے۔ یہ کمپنی بیرون ملک بنک کو ادائیگی کریگی اور اس پر Visa کمپنی تقریباً 0.3% اخراجات وصول کرتی ہے جو کہ customar کو ادا کرنے ہوتے ہیں

اب ہم رقوم کی ترسیل کا ایک اور معروف طریقہ کار کا جائزہ لیں گے۔ یہ مختلف ادارے اور کمپنیاں ہیں جو اپنی خدمات پیش کرتی ہیں۔ اور رقوم کی منتقلی پر اپنے اخرجات لیتی ہین ان میںWestern Union, Ria Express Money, Money Gramوغیرہ شامل ہیں ان سب کی ادائیگیوں کا طریقہ کار ایک جیسا ہے ۔ ہر بنک کا الگ ادارہ یا ادارے کیساتھ معاہدہ ہے۔ اس میں بھی ایک اکاؤنٹ کھولاجاتا ہے جس کے ذریعہ بیرون ملک ادارے میں رقم جمع ہو جاتی ہے پھر لوگل بنک ادائیگی کرتے ہیں رقم بھجوانے والے سے یہ ادارے چارجز وصول کرتے ہیں۔ مثلاًاگر آپ 300 یورو بھجوا رہے ہیں تو آپ سے یہ ادار 305یورو وصول کرے گا 05یورو اس کے اخراجات ہوں گے اسی طرح پاونڈ اور US ڈالر وغیرہ بھجوانے میں یہی فارمولا لاگو ہو گا۔ ایک بات یاد رہے کہ آپ جو فارن کرنسی میں رقم بھجوائیں گے اس کا ریٹ یہ کمپنیاں مارکیٹ ریٹ سے آپ کو کم دیں گی۔

اس قسم کی ادائیگیوں کے لئے بنکوں کے اکاؤنٹ Head office میں کھلتے ہیں اور پھر لوکل بنک ادائیگیاں کرتے ہیں اور یہ سسٹم ان کے باہمی تعاون understanding سے چلتا رہتا ہے۔ ان ادائیگیوں کیلئے مخصوص کوڈ اور شناختی کارڈ Involve ہے مثلاً اگر آپ کو بیرون ملک سے رقم کوئی عزیز بھجواتا ہے تو وہ آپ کا نام اور شناختی کاڑڈ کا نمبر وہاں ڈرج کرواتا ہے اور آپ کو ایک مخصوص کوڈ بذریعہ فون Message بھجواتا ہے پھر آپ شناختی کارڈ کو ڈ بتا کر متعلقہ بنک سے رقم وصول کر لیتے ہیں یہ ایک لیگل طریقہ ہے اس کی آپ کو باقاعدہ رسید ایشو کی جاتی ہے جس پر کوڈ،رقم اور ریٹ درج ہوتا ہے۔

پچھلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ

اگلا پڑھیں

مالک یوم الدین کی حقیقت