• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

خطبہ جمعہ سىّدنا امىر المومنىن حضرت مرزا مسرور احمدخلىفۃ المسىح الخامس اىّدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز فرمودہ 04؍اکتوبر 2019ء بمطابق 04؍اخاء 1398 ہجرى شمسى بمقام جلسہ گاہ جماعت احمدىہ فرانس(تغى شاتو)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِىۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِىۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِىۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ ىَوۡمِ الدِّىۡنِ ؕ﴿۴﴾إِىَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِىَّاکَ نَسۡتَعِىۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِىۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِىۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَىۡہِمۡ ۬ۙ غَىۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَىۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّىۡنَ﴿۷﴾

آج اللہ تعالىٰ کے فضل سے آپ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔ حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسے کو خالص دىنى اجتماع کا نام عطا فرماىا ہے۔ پس اس مىں شامل ہونے والے ہر شخص پر ىہ واضح ہونا چاہىے کہ دىنى، علمى اور روحانى بہترى اور ترقى کے لىے ہم ىہاں آج جمع ہىں اور تىن دن اس سوچ کے ساتھ اور اس فکر کے ساتھ ىہاں جمع رہىں گے کہ کس طرح ہم اپنى دىنى، علمى اور روحانى حالت کو بہتر کرىں۔ اگر ىہ سوچ نہىں تو ىہاں آنا بے فائدہ ہے۔ آج کے اس دَور مىں جبکہ دنىا خدا تعالىٰ کو بھلا رہى ہے، ہر مذہب کو ماننے والا اپنے مذہب سے دور ہٹ رہا ہے، جو اعداد و شمار ہر سال سامنے آتے ہىں ان سے پتا چلتا ہے کہ ہر سال اىک بڑى تعداد اس بات کا اظہار کرتى ہے کہ وہ خدا تعالىٰ کے وجود کے منکر ہىں حتٰى کہ مسلمانوں کى بھى جو حالت ہے وہ ہمىں ىہى بتاتى ہے کہ نام کے مسلمان ہىں اور دنىا دارى غالب ہے، اىسے مىں اگر ہم بھى جو اس بات کا دعوىٰ کرتے ہىں کہ ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے، اُسے مانا ہے جسے آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى پىشگوئى کے مطابق اللہ تعالىٰ نے اس زمانے مىں تجدىدِ دىن کے لىے بھىجا ہے اور اب ہمارا ىہ عہد ہے کہ ہم نے بھى اس مسىح موعود اور مہدى معہودؑ کے مشن کو پورا کرنا ہے، اگر ہم اپنى حالتوں کى بہترى کى طرف توجہ نہىں کرتے تو ہمارا مسىح موعودؑ کى بىعت مىں آنا اىک ظاہرى اعلان ہے جو روح سے خالى ہے، ہمارا عہدِ بىعت نام کا عہدِ بىعت ہے جسے ہم پورا نہىں کر رہے، ہمارا ىہاں جلسے کے لىے جمع ہونا اىک دنىاوى مىلے مىں جمع ہونے کى طرح ہے۔ پس ہر احمدى کے لىے ىہ بڑا سوچنے کا مقام ہے، اىک فکر کے ساتھ اپنے جائزے لىنے کى طرف توجہ کى ضرورت ہے کہ اگر ىہ سوچ ہے تو پھر بے فائدہ ہے۔

حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسے کے انعقاد کى جو اغراض ہمارے سامنے پىش فرمائى ہىں اگر ہم ان کو سامنے رکھ کر اپنے جائزے لىں تو نہ صرف ان تىن دنوں کے مقصد کو پورا کرنے والےبن جائىں گے اور جلسے مىں شامل ہونے والوں کے لىے حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام کى جو دعائىں ہىں ان کے حاصل کرنے والے بن جائىں گے اور پھر ان کو مستقل اپنى زندگىوں کا حصہ بنا کر اپنى دنىا و عاقبت سنوارنے والے بن جائىں گے اور نہ صرف اپنى حالتوں بلکہ ہمارى نىک اعمال کے حصول کے لىے کوشش اور اس پر عمل ہمارى آئندہ نسلوں کے دىن پر قائم رہنے اور خدا تعالىٰ کے قرىب کرنے والے بنا کر انہىں بھى خدا تعالىٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بنا دىں گے۔ جہاں دنىا خدا تعالىٰ اور دىن سے دور جا رہى ہے ہمارى نسلىں خدا تعالىٰ کے قرىب ہونے والى ہوں گى اور دنىا کو خدا تعالىٰ کے قرىب لانے کا باعث بن رہى ہوں گى۔

پس اگر ہم نے اپنے عہدِ بىعت کو پورا کرنا ہے، اپنى نسلوں کو بچانا ہے تو پھر ان اغراض کو سامنے رکھنے کى ضرورت ہے جو جلسے کے انعقاد کى ہىں، ان تىن دنوں کو اس عہد کے ساتھ گزارنے کى ضرورت ہے کہ ىہ باتىں اب ہمارى زندگىوں کا حصہ ہمىشہ رہىں گى۔ حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسےکى اغراض بىان فرماتے ہوئے فرماىا کہ آخرت کى فکر ہو۔ جلسہ پر آنے والوں کے لىے اس لىے جلسہ منعقد کىا جا رہا ہے کہ ان کو ىہاں رہ کر اس ماحول مىں رہ کر اپنى آخرت کى فکر ہو۔ خدا تعالىٰ کا خوف پىدا ہو۔ تقوىٰ ان مىں پىدا ہو۔ نرم دلى پىدا ہو۔ آپس کى محبت اور بھائى چارے کى فضا پىدا ہو، عاجزى اور انکسارى پىدا ہو ،سچائى پر وہ قائم ہوں اور دىن کى خدمت کے لىے سرگرمى ہو۔

(ماخوذ از شہادۃ القرآن، روحانى خزائن جلد 6 صفحہ 394)

پس ىہ ہے آج ہمارے ىہاں جمع ہونے کا مقصد۔ آپؑ کے ماننے والے ہر فرد مرد، عورت، جوان، بوڑھے کو آپؑ کے ارشاد کے مطابق آخرت کى اس حد تک فکر ہونى چاہىے کہ دنىاوى چىزىں اس کے مقابلے مىں کوئى حىثىت نہ رکھتى ہوں۔ اس مادى دنىا مىں رہتے ہوئے ىہ بہت بڑا کام ہے، اىک بہت بڑا چىلنج ہے جس کو پورا کرنے کے لىے بڑے جہاد کى ضرورت ہے۔ آخرت کى فکر تب ہى ہو سکتى ہے جب خدا تعالىٰ کى ذات پر کامل ىقىن ہو اور اس بات پر ىقىن ہو کہ ىہ زندگى تو چند سال ہے، زىادہ سے زىادہ کوئى اسّى سال زندہ رہ لىتا ہے، نوّے سال زندہ رہ لىتا ہے ىا حد سو سال زندہ رہ لىتا ہے لىکن اتنا عرصہ بھى ہر اىک کو نہىں ملتا۔ بہت سے ہىں جو اس سے بہت پہلے اس دنىا سے گزر جاتے ہىں۔ اس کے بعد پھر آخرت کى زندگى ہے جو ہمىشہ کى ہے۔ پس عقل مند انسان وہى ہے جو عارضى چىز کو مستقل چىز پر قربان کر دے لىکن ہوتا ىہ ہے کہ ہم اس عارضى چىز پر، اس عارضى زندگى پر مستقل زندگى کو قربان کر دىتے ہىں اور پھر اپنے آپ کو ىہ دنىا دار بہت بڑا اور عقل مند سمجھتے ہىں۔ پس اىک مومن اس کے برعکس کرتا ہے اور کرنا چاہىے۔ تب ہى وہ مومن کہلا سکتا ہے۔ وہ اپنے دل مىں خدا تعالىٰ کا خوف رکھتا ہے۔ اللہ تعالىٰ کى خشىت اس کے دل مىں ہوتى ہے۔ اللہ تعالىٰ کى محبت تمام دنىاوى محبتوں پر غالب آ جاتى ہے۔ اللہ تعالىٰ کا خوف اور خشىت اس لىے نہىں ہوتى کہ مرنے کے بعد کى زندگى مىں سزا ملے گى بلکہ اس لىے ہے کہ مىرا پىارا خدا مجھ سے ناراض نہ ہو جائے اور جب ىہ محبت کے جذبات ہوں گے تب ہى انسان خدا تعالىٰ کے حکموں پر عمل کرنے کى بھى کوشش کرتا ہے۔ انسان کا اس دنىا کا ہر عمل آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کو ىہ ىقىن ہوتا ہے کہ مىرا خدا ہى ہے جو مىرى پرورش کے سامان کرتا ہے، مىرا خدا ہى ہے جو مجھے اپنى نعمتوں سے نوازتا ہے۔ ان مىں ہر قسم کى نعمتىں شامل ہىں دنىاوى بھى اور روحانى بھى۔ اگر مىں اس کى عبادت کا حق ادا کرتا رہا، اس خدا کو ہى سب طاقتوں کا مالک سمجھتے ہوئے اس کے آگے جھکا رہنے والا بنا رہا تو اس کى نعمتوں سے حصہ پاتا رہوں گا ان شاء اللہ۔ مىں اگر اس کے بتائے ہوئے اوامر اور نواہى کے مطابق زندگى گزارتا رہا تو اس کے فضلوں کا وارث بنتا رہوں گا۔ اگر اللہ تعالىٰ کى مکمل اطاعت کرتے ہوئے اور تقوىٰ پر قائم رہتے ہوئے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتا رہا تو وہ مجھ سے راضى ہو گا۔ پس ىہ سوچ ہے اور اس کے مطابق عمل ہے جو ىقىنا ًاللہ تعالىٰ کے وعدے کے مطابق اس کے انعاموں اور فضلوں کا حاصل کرنے والا بنائے گا اور ىہى لوگ ہىں جو تقوىٰ پر چلنے والے کہلاتے ہىں جو ىہ سوچ رکھتے ہىں ىعنى وہ جو اللہ تعالىٰ کے تمام حکموں پر عمل کرنے والے ہىں، جن کے دل نرم ہوں گے اور ہوتے ہىں کىونکہ ہر لمحہ ان کے دل مىں خدا ہوتا ہے۔ ىہى ہىں جن کے اىک دوسرے کے لىے خدا تعالىٰ کى خاطر محبت کے جذبات ہوتے ہىں ىعنى ان کى محبت اور بھائى چارہ ذاتى اغراض کے لىے نہىں ہوتا بلکہ صرف اور صرف خدا تعالىٰ کے لىے ہوتا ہے۔ اسى طرح تقوىٰ پر چلنے والے ہىں جن مىں عاجزى پىدا ہوتى ہے۔ عاجزى کے اظہار صرف اپنے مرتبے اور دولت کے لحاظ سے بڑے سے نہىں ہوتے، ان ہى کے سامنے عاجزى نہىں دکھاتے جو بڑے ہىں، رتبے مىں بڑے ہىں ىا دنىادار ہىں بلکہ غرىبوں اور مسکىنوں سے بھى عاجزى کا اظہار کرتے ہىں اور ىہى لوگ ہىں جو سچائى پر ہر وقت قائم ہىں اور سمجھتے ہىں کہ قولِ سدىد ہى خدا تعالىٰ تک پہنچاتا ہے اور جھوٹ جو ہے وہ شرک کى طرف لے کے جاتا ہے۔ اور جب آخرت کى فکر ہے اور خدا تعالىٰ کا خوف ہے اور تقوىٰ کى حقىقت جانتے ہىں تو پھر اىک شخص مومن کہلا کر پھر جھوٹ کس طرح بول سکتا ہے اور ان باتوں کے حاصل کرنے والے اور نىکىوں کى روح کو سمجھنے والے ہى ہىں جو دىن کى خدمت مىں بھى حقىقت مىں سرگرم ہوتے ہىں ورنہ تو ىہ جو خدمت ہے بظاہر ىہ بھى کچھ مفادات کے حصول کے لىے ہو جاتى ہے۔ ہم دىکھتے ہىں کہ مسلمانوں مىں سىنکڑوں علماء ہىں جو دىن کے نام پر بظاہربڑے سرگرم ہىں اور اندر سے دىن کے نام پر ظلم کر رہے ہىں، جن مىں تقوىٰ کى کمى ہے، جن مىں خدا کا خوف نظر نہىں آتا، جن کو آخرت سے زىادہ دنىا کے مفادات عزىز ہىں اور نام خدا اور آخرت کا لىتے ہىں۔

پس ان باتوں کى روح کى ضرورت ہے جو حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام ہم مىں پىدا کرنا چاہتے ہىں کہ ظاہرى خول نہ ہو بلکہ روح ہو ،مغز ہو۔ ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمىں اپنے جائزے لىنے کى ضرورت ہے کہ کىا ہم اس نىت سے جلسے مىں شامل ہو رہے ہىںا ور اپنے اندر ان مقاصد کو حاصل کرنے کى اىک تڑپ رکھتے ہىں۔ اگر بشرى کمزورىوں کى وجہ سے ماضى مىں ہم سے ان باتوں کے حصول کے لىے غلطىاں اور کوتاہىاں ہو گئى ہىں تو آئندہ ہم اىک نئے عزم کے ساتھ ان نىکىوں کو پىدا کرنے اور انہىں قائم رکھنے کى حتى المقدور کوشش کرنے کے لىے تىار ہىں اور کرىں گے؟ آج ہم ىہ عہد کرتے ہىں کہ ہم دنىا سے زىادہ آخرت کى فکر کرنے والے ہوں گے، ہم خدا کا خوف اور اس کى خشىت اور اس کى محبت کو ہر چىز پر فوقىت دىں گے، ہم تقوىٰ کى بارىک راہوں پر چلنے کى حتى المقدور کوشش کرىں گے، ہم اپنے دلوں مىں دوسروں کے لىے نرمى پىدا کرىں گے، ہم آپس مىں محبت اور بھائى چارے کو اس قدر بڑھائىں گے کہ ىہ محبت اور بھائى چارہ اىک مثال بن جائے، عاجزى اور تواضع مىں ہم بڑھنے والے بنىں گے، سچائى اور قولِ سدىد ہمارى اىک خصوصىت بن جائے گا کہ ہر شخص کہے کہ احمدى ہىں جو ہمىشہ سچ پر قائم رہتے ہىں، سچ بولتے ہىں اور اس کے لىے بڑے سے بڑا نقصان بھى برداشت کر لىتے ہىں۔ دىنى خدمات کے لىے اىسے سرگرم ہوں گے جو اىک مثال ہو گا اور اس کے لىے پہلے سے بڑھ کر خدا تعالىٰ کے دىن کے پىغام کو اپنے ماحول کے ہر شخص تک پہنچانے کى کوشش کرىں گے، ان کو بتائىں گے کہ حقىقى اسلام کىا ہے۔

اگر ہم اپنے اس عہد کو پورا کرنے والے بن گئے، ہمارى زندگىاں اس کے مطابق گزرنے لگ گئىں تو ىقىناً  ہم نے عہدِ بىعت پورا کر لىا۔

پس آئىں آج ہم ان باتوں کے حصول کے لىے اپنا لائحہ عمل بنائىں۔ آخرت کى فکر اور اللہ تعالىٰ کا خوف رکھنے والا سب سے پہلے اپنى عبادت کى حفاظت کى طرف توجہ کرتا ہے، اس طرف دىکھتا ہے کہ اللہ تعالىٰ نے مىرى زندگى کا مقصد کىا رکھا ہے۔ اللہ تعالىٰ فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۔ (الذارىات:57)

حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا ترجمہ اس طرح فرماىا ہے کہ ىعنى مىں نے جِنّ اور انسان کو اس لىے پىدا کىا ہے کہ وہ مجھے پہچانىں اور مىرى پرستش کرىں۔ فرماىا پس اس آىت کى رو سے اصل مدعا انسان کى زندگى کا خدا تعالىٰ کى پرستش اور خدا تعالىٰ کى معرفت اور خدا تعالىٰ کے لىے ہو جانا ہے۔ فرماىا ىہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو تو ىہ مرتبہ حاصل نہىں ہے کہ اپنى زندگى کا مدعا اپنے اختىار سے آپ مقرر کرے ۔گو انسان مقرر کرتا ہے لىکن اس کو حاصل نہىں ہے کىونکہ انسان نہ ہى اپنى مرضى سے آتا ہے اور نہ ہى اپنى مرضى سے واپس جائے گا بلکہ وہ اىک مخلوق ہے اور جس نے پىدا کىا اور تمام حىوانات کى نسبت عمدہ اور اعلىٰ قوىٰ اس کو عناىت کىے اس نے اس کى زندگى کا اىک مدعا ٹھہراىا ہے، اىک مقصد ٹھہراىا ہے خواہ کوئى انسان اس مدعا کو سمجھے ىا نہ سمجھے مگر آپؑ فرماتے ہىں کہ انسان کى پىدائش کا مدّعا بلا شبہ خدا کى پرستش اور خدا کى معرفت اور خدا تعالىٰ مىں فانى ہو جانا ہى ہے۔

(ماخوذ از اسلامى اصول کى فلاسفى، روحانى خزائن جلد 10 صفحہ 414)

پس اس مقصد کو پورا کرنے کے لىے اللہ تعالىٰ نے ہمىں جو عبادت اور پرستش کا طرىق سکھاىا ہے وہ کىا ہے؟ وہ نماز کا قىام ہے۔ اللہ تعالىٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا۔ (النساء:104)

کہ ىقىنا ًنماز مومنوں پر وقت کى پابندى کے ساتھ فرض ہے۔ حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہىں کہ مىں نمازِ موقوتا کے مسئلے کو بہت عزىز رکھتا ہوں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 63)

ىہ مسئلہ اىسا ہے جو مجھے بہت عزىز ہے اور بہت پىارا ہے۔ ىہ مسئلہ ىعنى وقت مقررہ پر نماز پڑھا جانا ضرورى ہے۔لىکن اس زمانے مىں ہم دىکھتے ہىں کہ ذرا ذرا سى بات پر نمازوں کى وقت پر ادائىگى اور لاپرواہى اکثر لوگ برت جاتے ہىں بلکہ وقت ِمقررہ تو الگ رہا بعض نمازىں ہى نہىں پڑھتے۔ پانچ کى بجائے تىن چار نمازىں پڑھ لىں گے، سستى دکھا جاتے ہىں حالانکہ اللہ تعالىٰ نے نمازوں کى حفاظت کا مومنوں کو ارشاد فرماىا ہے۔ اللہ تعالىٰ فرماتا ہے حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى۔ (البقرۃ:239)کہ نمازوں کا اور خصوصاً درمىانى نماز کا پورا خىال رکھو لىکن کاروباروں اور ملازمتوں کى وجہ سے ہم مىں سے بعض ظہر عصر کى نماز ضائع کر دىتے ہىں، ٹى وى پروگراموں کى وجہ سے ىا اپنے شام کے بعض ذاتى پروگراموں کى وجہ سے مغرب عشاء کى نمازىں ضائع ہو جاتى ہىں۔ نىند کا بہانا کر کے فجر کى نماز ضائع کر دىتے ہىں۔ پس ہم مىں سے ہر اىک کو اپنے جائزے لىنے کى ضرورت ہے کىا ہم اللہ تعالىٰ کے حکم پر عمل کر رہے ہىں ىا نہىں؟ جماعت کے خاص پروگراموں اور رمضان کے مہىنے مىں باجماعت نمازىں پڑھ کر ہم سمجھ لىتے ہىں کہ ہم نے اللہ تعالىٰ کے حکم پر عمل کر لىا ۔باقى سارا سال چاہے اس پر باقاعدہ عمل ہو ىا نہ ہو فرق نہىں پڑتا لىکن سنىں اور اس بات کو دىکھىں کہ نماز کى اہمىت بىان فرماتے ہوئے اللہ تعالىٰ اور اس کا رسول کىا فرماتے ہىں۔ اللہ تعالىٰ فرماتا ہے کہ اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۔ (التوبۃ:18) کہ اللہ تعالىٰ کى مساجد تو وہى آباد کرتے ہىں جو اللہ پر اىمان لائے اور ىوم آخرت پر اىمان لائے۔ آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم فرماتے ہىں کہ جب تم کسى شخص کو مسجد مىں عبادت کے لىے آتے جاتے دىکھو تو تم اس کے مومن ہونے کى گواہى دو اس لىے کہ اللہ تعالىٰ فرماتا ہے کہ اللہ کى مساجد کو وہى لوگ آباد کرتے ہىں جو خدا اور آخرت کے دن پر اىمان رکھتے ہىں۔

(سنن ابن ماجہ کتاب المساجد و الجماعۃ باب لزوم المساجد وانتظار الصلوٰۃ حدیث 802)

وىسے کہنے کو تو ہم سب اپنے آپ کو اىمان لانے والا کہتے ہىں لىکن اللہ تعالىٰ اور اس کے رسولؐ کے نزدىک مومن وہ ہىں جو اللہ کے گھر کو آباد رکھتے ہىں اس لىے کہ اللہ تعالىٰ اور ىوم آخرت پر اىمان ہے۔ ىہاں ىہ بھى واضح ہو گىا کہ صرف مسجد آنا ہى کافى نہىں ہے بلکہ اللہ تعالىٰ اور ىوم آخرت پر اىمان کے ساتھ آنا ضرورى ہے اور جو ىہ سوچ رکھنے والا ہو گا اسے اللہ تعالىٰ کا خوف بھى ہو گا ،وہ مسجدوں مىں آ کر فتنہ پردازىاں نہىں کرے گا، وہ ان نمازىوں مىں شامل نہىں ہو گا جن کى نمازىں ان کے لىے ہلاکت کا باعث ہوتى ہىں۔ اللہ تعالىٰ کى رضا حاصل کرنے کى بجائے اىسے نمازى پھر اللہ تعالىٰ کى ناراضگى مول لىنے والے ہو جاتے ہىں۔ نہىں بلکہ ىہ لوگ حقىقى تقوىٰ رکھتے ہىں۔ جو ىہ سوچ رکھتے ہوں کہ ىوم ِآخرت کا خىال رکھنا ہے اور اللہ تعالىٰ کا خوف دل مىں رکھنا ہے۔ ان کے دل نرم ہوتے ہىں۔ ان مىں محبت اور پىار اور بھائى چارہ ہوتا ہے۔ ان مىں عاجزى ہوتى ہے۔ وہ سچائى پر قائم ہوتے ہىں۔ وہ اسلام کى پُرامن تعلىم کى تبلىغ کرتے ہىں۔ ان کى مسجدىں خوف کى جگہ نہىں ہوتىں اور نہ ہى فتنے کى جگہ ہوتى ہىں۔ اسى لىے اللہ تعالىٰ نے فرماىا ہے کہ صرف اس مسجد مىں نماز کے لىے کھڑے ہو جس کى بنىاد تقوىٰ پر ہے نہ کہ فتنہ و فساد کى غرض سے بنائى گئى مسجد ہے۔ پس جو تقوىٰ پر قائم رہتے ہوئے مسجدوں کو آباد کرتے ہىں وہ حقوق اللہ کى ادائىگى بھى کرتے ہىں اور حقوق العباد کى بھى ادائىگى کرتے ہىں۔ اىسے ہى لوگوں کو خوش خبرى دىتے ہوئے آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا کہ قىامت کے دن اللہ تعالىٰ انسان سے پہلا حساب جو لے گا اس کے بارے مىں فرشتوں کو فرمائے گا کہ مىرے بندے کى نماز کو دىکھو، پہلى بات تو ىہ دىکھو کہ بندہ نماز پڑھتا ہے کہ نہىں۔ جن کى نمازىں مکمل ہوں گى ان کے نامہ اعمال مىں مکمل نمازىں ہى لکھى جائىں گى وہ تو حساب صاف ہو گىا لىکن آگے پھر فرماتے ہىں کہ جن کى فرض نمازوں مىں کمى رہ جائے گى ان کے بارے مىں کہے گا کہ اس کى نفلى عبادت دىکھو وہ کىا تھى۔ اگر فرض مىں کوئى کمى رہ گئى ہے تو اس کو نفل سے پورا کر دو۔

(سنن ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ باب قول النبی کل صلاۃ لا یتمھا صاحبھا تتم من تطوعہ حدیث 864)

پس اللہ تعالىٰ نے ىہاں جو مىرے بندے فرماىا ہے تو اس لىے کہ ىہ لوگ جو ہىں اپنى طرف سے کوشش کر کے اللہ تعالىٰ کى بندگى کرنے والے ہىں اور اس کى عبادت کا حق ادا کرنے کى کوشش کرنے والے ہىں۔ لىکن پھر بھى بشرى تقاضے کے تحت کمزورى ہے، بھول چُوک ہو جاتى ہے، بعض حالات اىسے آ جاتے ہىں تو اس کو معاف کرنے اور اپنے بندے کى نىکىوں کے پلڑے کو زىادہ کرنے کے لىے اپنى رحمت اور مغفرت کا سلوک فرماتے ہوئے اللہ تعالىٰ نے نوافل کو فرائض مىں ڈال کر فرائض کو پھر پورا فرما دىا۔ اب ىہاں دىکھ لىں نوافل پڑھنے والے بھى وہى لوگ ہوں گے جو خالص اللہ تعالىٰ کا خوف رکھتے ہىں۔ نفل تو اىسى چىز نہىں ہے جو باہر آ کے پڑھى جاتى ہے۔ ىہ تو چھپ کر ادا کىے جاتے ہىں، علىحدگى مىں پڑھے جاتے ہىں اور ىہ نىکى پھر وہى کرتا ہے جس کو اللہ کا خوف ہو گا اور ىہى لوگ ہىں جن کو اللہ تعالىٰ نے مىرے بندے کہا ہے کہ ان بندوں سے بھى غلطىاں ہو جاتى ہىں لىکن وہ غلطىاں مستقل جارى نہىں رہتىں۔ ان غلطىوں کا مداوا کرنے کى کوشش کرتے ہىں۔ پس ىہ ہے اللہ تعالىٰ کى رحمت کا سلوک۔ اىک طرف تو ىہ بتا دىا کہ نماز کوئى معمولى چىز نہىں ہے اس کا حساب سب سے پہلے ہو گا اس لىے اس کى ادائىگى کى طرف توجہ رکھو لىکن ساتھ ہى ىہ بھى کہہ دىا کہ اگر تقوىٰ پر چلتے ہوئے مىرى بندگى اور عبادت کا حق ادا کرنے کى کوشش کر رہے ہو تو پھر نوافل جو تم ادا کرتے ہو ان کا ثواب فرائض کے برابر ہو جائے گا اور مَىں بخشش کى چادر مىں تمہىں لے لوں گا۔

پس جہاں ىہ خوش خبرى ہے، جہاں بخشش کى امىد دلائى گئى ہے وہاں اللہ تعالىٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لىے نوافل کى ادائىگى کى طرف بھى توجہ دلائى گئى ہے۔ پس مومن وہى ہے جو اللہ تعالىٰ کا خوف دل مىں رکھتے ہوئے اس کے فضلوں کو جذب کرنے کے لىے جہاں اپنے فرائض کى طرف توجہ دے وہاں نوافل کى طرف بھى توجہ دے کہ اس کى فرائض کى کمىاں پورى ہوتى رہىں۔ پس ىہ وہ لوگ ہىں جو حقىقت مىں اللہ تعالىٰ کا خوف رکھتے ہىں اور تقوىٰ پر چلنے والے ہىں اور اسى تقوىٰ کى وجہ سے باقى نىکىاں کرنے کى طرف بھى ان کى توجہ رہتى ہے۔ ان کے دل اىک دوسرے کے لىے نرم ہوتے ہىں، اىک دوسرے سے بدلے لىنے کى بجائے اىک دوسرے کو معاف کرنے کى طرف توجہ رہتى ہے۔ اللہ تعالىٰ کا پىار حاصل کرنے کے لىے آپس مىں پىار اور محبت کا سلوک ہوتا ہے۔ ان کے دلوں مىں عاجزى پىدا ہوتى ہے۔ اىک دوسرے کى خاطر قربانى کى روح پىدا ہوتى ہے۔ پس اس لحاظ سے ہر اىک کو اپنے جائزے لىنے کى ضرورت ہے کہ کىا ہم مىں ىہ باتىں ہىں کہ حقىقى عابد ہر قسم کى نىکىوں کو اپنانے کى کوشش کرتا ہے۔

اگر کسى مىں اپنے بھائى کے لىے محبت کے جذبات نہىں ہىں تو اس مىں حقىقى تقوىٰ نہىں ہے۔ جس مىں نرم دلى نہىں ہے وہ بھى اپنى فکر کرے۔ جس کے گھر مىں اس کے بىوى بچے اس سے تنگ ہىں وہ بھى تقوىٰ سے خالى ہے۔ جو بىوىاں اپنے خاوندوں اور بچوں کے حقوق ادا نہىں کرتىں اور ناجائز مطالبات کرتى ہىں ان کے دل بھى تقوىٰ سے خالى ہىں۔ پس آپس کے تعلقات مىں جو خدا تعالىٰ کى خاطر محبت اور نرمى کا سلوک کرنے والے ہىں وہى حقىقى تقوىٰ پر قائم ہىں۔ آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا کہ اللہ تعالىٰ قىامت کے دن فرمائے گا کہ کہاں ہىں وہ لوگ جو مىرے جلال اور مىرى عظمت کے لىے اىک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور آج جبکہ مىرے سائے کے سوا کوئى ساىہ نہىں ہے، قىامت کا دن ہے مىں اپنے اس ساىۂ رحمت مىں انہىں جگہ دوں گا۔

(صحیح مسلم کتاب البر باب فضل الحب فی اللہ تعالیٰ حدیث (2566))

پس جو اللہ تعالىٰ کى خاطر اس کے حکموں کى تعمىل کرتے ہوئے اىک دوسرے سے محبت کے جذبات رکھتے ہىں وہى اللہ تعالىٰ کے پىار کو جذب کرنے والے ہىں ىا دوسرے لفظوں مىں جو ىہ نہىں کرتے وہ اللہ تعالىٰ کى ناراضگى کے مورد بھى بن سکتے ہىں۔ پس ىہ روح ہم مىں سے ہر اىک کو اپنے اندر پىدا کرنے کى ضرورت ہے۔ ہم ىہ نعرہ لگاتے ہىں کہ ‘محبت سب کے لىے، نفرت کسى سے نہىں’ تو پہلے اپنے گھروں اور اپنے معاشرے مىں اس کا اظہار کرنے کى ضرورت ہے تا کہ دنىا کو حقىقى رنگ مىں ىہ پىغام پہنچا سکىں اور پھر ىہ اىسا کام ہے جس مىں ذرا سى کوشش سے بغىر کسى بڑے مجاہدے کے ہم اللہ تعالىٰ کے ساىۂ رحمت مىں جگہ پانے والے بن سکتے ہىں۔ آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم نے مختلف مواقع پر معاشرے کے امن و سکون کو قائم رکھنے اور محبت اور پىار اور بھائى چارے کو بڑھانے کے لىے جو نصائح فرمائى ہىں ان کے بارے مىں اىک موقعے پر فرماىا کہ مسلمان مسلمان کا بھائى ہے۔ وہ اس پر ظلم نہىں کرتا اور نہ ہى اسے اکىلا اور تنہا چھوڑتا ہے۔ فرماىا جو شخص اپنے بھائى کى حاجت روائى مىں لگا رہتا ہے اس کى ضرورىات پورا کرتا ہے اللہ تعالىٰ اس کى حاجات پورى کردىتا ہے اور جس نے کسى مسلمان کى مصىبت کو دور کىا اللہ تعالىٰ قىامت کے دن اس کے مصائب مىں سے اىک مصىبت اس کى کم کر دے گا اور جو کسى کى ستارى کرتا ہے پردہ پوشى کرتا ہے اللہ تعالىٰ قىامت کے روز اس کى ستارى فرمائے گا۔

(صحیح البخاری کتاب المظالم باب لا یظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ حدیث 2442)

پس اللہ تعالىٰ تو مختلف طرىقوں سے ہم پر اپنى رحمت اور شفقت کى نظر ڈالتا ہے اور ہمارى بخشش کے سامان کرتا ہے۔ ىہ انسان ہى ہے جو اپنى نااہلىوں، اناؤں اور ضدوں کى وجہ سے اللہ تعالىٰ کو ناراض کرتا رہتا ہے۔

پس بڑے خوف کا مقام ہے، بڑے سوچنے کى ضرورت ہے ان دنوں مىں جبکہ ہمارے جذبات، خىالات نىکى کى طرف مائل ہوئے ہوئے ہىں، ہم اس سوچ کے ساتھ ىہاں آئے ہىں کہ اىک جلسے مىں شامل ہونا ہے جہاں نىکى کى باتىں سنىں گے، اپنے جائزے لىں، اپنے جائزے لىتے ہوئے اپنى عبادتوں کے ساتھ حقوق العباد کى ادائىگى کى طرف بھى توجہ دىں، نرم دلى، آپس کى محبت اور عاجزى کى حقىقت پہچاننے کى کوشش کرىں اور ىہ اس لحاظ سے بھى ہم پر ضرورى ہو جاتا ہے کہ ہم نے حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام سے جو عہدِ بىعت باندھا ہے اس مىں شرک سے پرہىز، نمازوں کى ادائىگى؛ فرض نمازىں بھى اور نوافل کى ادائىگى کے ساتھ ہم نے ىہ عہدِ بىعت بھى کىا ہے کہ ہم عمومى طور پر اللہ تعالىٰ کى مخلوق کو اور خاص طور پر مسلمانوں کو اپنے نفسانى جوشوں سے کسى قسم کى تکلىف نہىں دىں گے۔ صرف آپس کے مسلمانوں کے لىے ہى نہىں، جماعت کے ممبران کے لىے ہى نہىں۔ ٹھىک ہے اپنے گھر سے شروع کرو، آپس مىں بھى ہونا چاہىے پھر مسلمانوں کے لىے پھر عام مخلوق کے لىے بھى، ہر اىک کے لىے ہمارے دل مىں اىک پىار اور محبت کے جذبات ہونے چاہئىں۔ نفسانى جوشوں سے ہمىں خالى ہونا چاہىے۔ اپنے ماتحتوں کے ساتھ بھى نىک سلوک کرنے والے ہم ہوں۔ ہمارے اىسے سلوک ہوں جس سے ہم اىسے بن جائىں کہ ہر اىک ہمارے ان روىوں کو، ہمارى نىکىوں کو پرکھنا چاہے تو پرکھ سکے۔ ىہ دىکھنا چاہے کہ کىا ىہ معىار جو کہتے ہىں اس کے مطابق ہىں؟ کىا ہم اس کے مطابق عمل کر رہے ہىں؟ تو اگر ىہ معىار ہىں اور دوسرا جب ہمىں پرکھتا ہے اس کے مطابق پرکھ لے کہ واقعى ىہ ہىں تو تب ہى ہم کہہ سکتے ہىں کہ ہم حقىقى مومن ہىں اور ہم بىعت کا حق ادا کر رہے ہىں۔ بىعت جو ہم کرتے ہىں اس مىں اىک شرط ىہ بھى ہے کہ تکبّر کو مکمل طور پر چھوڑ کر عاجزى اور مسکىنى کى زندگى بسر کروں گا۔

(ماخوذ از ازالہ اوہام، روحانى خزائن جلد 3 صفحہ 564)

ىہ عاجزى اور مسکىنى کا پىدا کرنا صرف حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسے کے انعقاد کے مقاصد مىں سے اىک مقصد بىان نہىں کىا بلکہ ہم نے آپؑ سے جو عہدِ بىعت کىا ہے اس مىں ىہ عہد ہے کہ مىں عاجزى اور مسکىنى سے زندگى بسر کروں گا۔ پس ىہ عہد پورا کرنا ہمارى ذمہ دارى ہے اور ىہى سچائى کى طرف پہلا قدم ہے کہ ہم نے جو عہد بىعت کىا ہے اس کو پورا کرىں۔ پس بىعت کى شرائط بھى پڑھتے رہنا چاہىے، پڑھتے رہىں اور دىکھىں کہ کىا ہم سچائى کے ساتھ ان پر قائم ہىں، اس کے مطابق اپنى زندگىاں گزارنے کى کوشش کر رہے ہىں۔ اگر نہىں تو دنىا کى اصلاح کا دعوىٰ جو ہم کرتے ہىں وہ غلط ہے۔ اس سے پہلے ہمىں اپنى اصلاح کى کوشش کرنى ہو گى ورنہ ہم ان لوگوں مىں شامل ہوں گے جو کہتے کچھ اَور ہىں اور کرتے کچھ اَور ہىں۔ اور اللہ تعالىٰ نے اىسے لوگوں کو ناپسند فرماىا ہے۔ ہمارے عمل ہمارى سچائى کى بجائے ہمارے جھوٹ کى تصدىق کرنے والے ہوںگے۔ اور جب ىہ قول و فعل کا تضاد ہو گا تو پھر خدمتِ دىن کا دعوىٰ اور اس کے لىے سرگرمى کا اظہار جو ہے وہ بھى غلط ہو جائے گا۔

بے شک حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام سچے ہىں، آپؑ کا دعوىٰ سچا ہے، بے شک اللہ تعالىٰ نے آپؑ سے کامىابىوں کا وعدہ کىا ہوا ہے، بے شک اللہ تعالىٰ نے آپؑ کو مخلصىن کى جماعت دىنے کا وعدہ فرماىا ہوا ہے لىکن اگر ہمارى حالتىں اىسى نہىں تو پھر ہم ان مىں شامل نہىں ہوں گے جو آپ کے سلسلے کے مددگار ہوں۔ پس بىعت کى برکات کے حصول کے لىے اپنى حالتوں کے جائزے لىنے کى ضرورت ہے، جو جلسے کى اغراض آپ نے بىان فرمائى ہىں ان پر غور کرنے کى ضرورت ہے۔ خوش قسمتى سے جلسے کے ىہ تىن دن ہمىں اس غور کرنے کے لىے مىسر آئے ہىں۔ ان دنوں مىں ہر اىک اپنا جائزہ لے۔ بجائے اس کے کہ اِدھر اُدھر کى باتوں مىں اپنا وقت گزارىں دعا ، استغفار اور درود کى طرف ہمىں متوجہ رہنا چاہىے اور تب ہى ہم اس جلسے سے حقىقى فائدہ اٹھا سکتے ہىں۔ حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہىں کہ

مىرى تمام جماعت اس وصىت کو توجہ سے سنے کہ وہ جو اس سلسلہ مىں داخل ہو کر مىرے ساتھ تعلق ارادت اور مرىدى کا رکھتے ہىں اس سے غرض ىہ ہے کہ تا وہ نىک چلنى اور نىک بختى اور تقوىٰ کے اعلىٰ درجہ تک پہنچ جائىں اور کوئى فساد اور شرارت اور بدچلنى ان کے نزدىک نہ آ سکے۔ ىہ ہے تقوىٰ کا معىار۔ کسى قسم کى بھى کوئى برائى ان مىں نہ ہو ۔ فرماىا وہ پنج وقت نماز باجماعت کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولىں۔ وہ کسى کو زبان سے اىذا نہ دىں، کوئى تکلىف نہ دىں۔ وہ کسى قسم کى بدکارى کے مرتکب نہ ہوں اور کسى شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خىال بھى دل مىں نہ لاوىں۔ غرض ہر قسم کے معاصى اور جرائم، ہر قسم کے گناہ جو ہىں اور جرم جو ہىں اور ناکردنى اور نا گفتنى اور تمام نفسانى جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہىں۔ ہر قسم کى برائىوں سے، نفس کے جذبات سے بچے رہىں اور خدا تعالىٰ کے پاک دل اور بے شر اور غرىب مزاج بندے بن جائىں۔ اىسے ہو جائىں جن کے دل پاک ہىں، جن سے کبھى شرارت سرزد نہىں ہوتى اور ہمىشہ غرىب مزاج رہتے ہىں۔ عاجزى ان مىں رہتى ہے اور کوئى زہرىلا خمىر اُن کے وجود مىں نہ رہے۔ اور تمام انسانوں کى ہمدردى ان کا اصول ہو اور خدا تعالىٰ سے ڈرىں اور اپنى زبانوں اور اپنے ہاتھوں اور اپنے دل کے خىالات کو ہر اىک ناپاک اور فساد انگىز طرىقوں اور خىانتوں سے بچاوىں اور پنج وقتہ نمازکو نہاىت التزام سے قائم رکھىں اور ظلم اور تعدّى اور غبن اور رشوت اور اتلاف ِحقوق اور بے جا طرف دارى سے باز رہىں۔ لوگوں کے حقوق تلف کرنے، غلط طرف دارىاں کرنى، غلط کسى کو نقصان پہنچانا اس سے باز رہو۔ اور کسى بدصحبت مىں نہ بىٹھىں۔ برى صحبتىں جو ہىں ان سے بچىں۔ نوجوانوں کو بھى ىاد رکھنا چاہىے اور بچوں کے والدىن کو بھى ىاد رکھنا چاہىے کہ دىکھىں کہ ہمارے بچے اس معاشرے مىں کسى بد صحبت مىں نہ بىٹھىں ،پھر وىسے ہى بن جائىں گے۔ اور اگر بعد مىں ثابت ہو ،بعض دفعہ نہىں پتا لگتا کہ صحبت کىسى ہے فرماىا کہ اگر بعد مىں ثابت ہو کہ اىک شخص جو اُن کے ساتھ آمد و رفت رکھتا ہے، بىٹھتا اٹھتا ہے، اس کے ساتھ مىل ملاقات ہے وہ خدا تعالىٰ کے احکام کا پابند نہىں ہے ىا حقوقِ عباد کى کچھ پروا نہىں کرتا ىا ظالم طبع اور شرىر مزاج اور بدچلن آدمى ہے تو تم پر لازم ہو گا کہ اس بدى کو اپنے درمىان سے دُور کرو، اس سے تعلق ختم کرو، جو اچھى سوسائٹى ہے، اچھى کمپنى ہے وہ اىک احمدى کى ہونى چاہىے۔

فرماىا اور اىسے انسان سے پرہىز کرو جو خطرناک ہے اور چاہىے کہ کسى مذہب اور کسى قوم اور کسى گروہ کے آدمى کو نقصان رسانى کا ارادہ مت کرو۔ کسى کو نقصان نہىں پہنچانا، کسى مذہب کا آدمى ہو، کسى قوم کا آدمى ہو، کسى گروہ کا ہو تمہارے سے کسى کو نقصان نہىں پہنچنا چاہىے۔ اور ہر اىک کے لىے سچے ناصح بنو۔ نصىحت کرنى ہے تو سچے ناصح بن کے، سچے نصىحت کرنے والے کى طرح نصىحت کرو ىعنى تمہارا قول اور فعل اىسے ہوں کہ اس نصىحت کا بھى اثر ہو اور کسى قسم کى طرف دارى نہ ہو۔ فرماىا اور چاہىے کہ شرىروں اور بدمعاشوں اور مفسدوں اور بدچلنوں کو ہرگز تمہارى مجالس مىں گزر نہ ہو اور نہ تمہارے مکانوں مىں رہ سکىں کہ وہ کسى وقت تمہارى ٹھوکر کا موجب ہوں گے۔ فرماىا مىرى جماعت مىں سے ہر اىک فرد پر لازم ہو گا کہ ان تمام وصىتوں پر کاربند ہوں اور چاہىے کہ تمہارى مجلسوں مىں کوئى ناپاکى اور ٹھٹھے اور ہنسى کا مشغلہ نہ ہو اور نىک دل اور پاک طبع اور پاک خىال ہو کر زمىن پر چلو۔ کسى پر ناجائز طرىق سے حملہ نہ کرو اور جذباتِ نفس کو دبائے رکھو۔ کوئى مذہبى گفتگو ہو تو نرم الفاظ مىں اور مہذبانہ طرىق سے گفتگو کرو۔ اگر کوئى جہالت سے پىش آئے تو سلام کہہ کر اىسى مجلس سے اٹھ جاؤ۔ خدا تعالىٰ چاہتا ہے کہ تمہىں اىک اىسى جماعت بنا دے کہ تمام دنىا کے لىے نىکى اور راست بازى کا نمونہ ٹھہرو۔ تم ہوشىار ہو جاؤ اور واقعى نىک دل اور غرىب مزاج اور راست باز بن جاؤ۔ تم پنج وقتہ نماز اور اخلاقى حالت سے شناخت کىے جاؤ گے۔ تمہارى جو شناخت ہے وہ کىا ہے ىہى کہ تم پنج وقتہ باقاعدہ نمازىں پڑھنے والے ہو اور تمہارے اخلاق بہت اعلىٰ ہىں ىہ چىزىں پىدا ہو جائىں تمہارے مىں تو سمجھو تم نے بىعت کا حق ادا کر دىا ہے۔ فرماىا اور جس مىں بدى کا بىج ہے وہ اس نصىحت پر قائم نہىں رہ سکے گا۔ ىہ نصىحت مىں کر رہا ہوں لىکن جس مىں بدى کا بىج ہے وہ پھر نصىحت پر قائم نہىں رہے گا۔

(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 46 تا 48 اشتہار نمبر 188)

اللہ تعالىٰ ہم سب کو توفىق دے کہ حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام کى بىعت کا حق ادا کرنے والے ہوں، آپ کى نصائح اور توقعات پر ہم پورا اترنے والے ہوں اور ہم اس جلسےسے زىادہ سے زىادہ فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنى دىنى روحانى اور علمى حالت کو سنوارنے والے بھى ہوں اور ىہ نىکىاں پھر ہم مىں ہمىشہ قائم بھى رہىں۔

(الفضل انٹرنىشنل 25؍اکتوبر 2019ء صفحہ 5تا8)

پچھلا پڑھیں

جماعت احمدیہ کا نام رکھنے کی وجہ تسمیہ اور قیام کا مقصد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13دسمبر2019