• 5 اگست, 2020

نماز کی تعلیم

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ بیان فرماتے ہیں۔
’’نماز ظاہری پاکیزگی اور ہاتھ منہ دھونے اور ناک صاف کرنے اور شرمگاہوں کو پاک کرنے کے ساتھ یہ تعلیم دیتی ہے کہ جیسے مَیں ظاہری پاکیزگی کو ملحوظ رکھتا ہوں ۔اندرونی صفائی اور پاکیزگی اور سچی طہارت عطا کر اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور سبحانیت ۔قدوسیّت۔ مجددیت پھر ربوبیت ۔رحمانیت ۔رحیمیّت اور اس کے ملک در ملک میں تصرفات اور اپنی ذمہ داریوں کویاد کرکے کہ ا س قلب کے ساتھ ماننے کو تیار ہوں سینہ پر ہاتھ رکھ کر تیرے حضور کھڑا ہوتا ہوں ۔ اس قسم کی نماز جب پڑھتا ہے تو پھر اس میں وہ خاصیت اور اثر پیدا ہوتا ہے۔ جو اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ میں بیان ہوا ہے۔‘‘

(الحکم 24جنوری 1903ء ،حقائق الفرقان جلدسوم صفحہ 339)

پچھلا پڑھیں

جماعت احمدیہ کا نام رکھنے کی وجہ تسمیہ اور قیام کا مقصد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13دسمبر2019