• 5 اگست, 2020

ایک عظیم الشان سِرّ

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں۔
’’استغفار یا حفاظت الہٰی طلب کرنا ایک عظیم الشان سرّ ہے۔ انسان کی عقل تمام ذرات عالم کی محیط نہیں ہوسکتی۔ اگر وہ موجودہ ضروریات کو سمجھ بھی لے تو آئندہ کے لئے کوئی فتویٰ نہیں دے سکتی۔ اس وقت ہم کپڑے پہنے کھڑے ہیں۔ لیکن اگر خداتعالیٰ ہی کی حفاظت اور فضل کے نیچے نہ ہوں اور محرقہ ہوجاوے تو یہ کپڑے جو اس وقت آرام دہ اور خوش آئندہ معلوم ہوتے ہیں ناگوار خاطر ہو کر موذی اور مخالف طبع ہوجاویں اور وبال جان سمجھ کر ان کو اتار دیا جاوے۔ پس انسان کے علم کی تو یہ حد ہے اور غایت ہے۔ ایک وقت ایک چیز کو ضروری سمجھتا ہے اور دوسرے وقت اسے غیرضروری قرار دیتا ہے۔ اگر اسے یہ علم ہو کہ سال کے بعد اسے کیا ضرورت ہوگی۔ مرنے کے بعد کیا ضرورتیں پیش آئیں گی تو البتہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بہت کچھ انتظام کرلے۔ لیکن جب کہ قدم قدم پر اپنی لاعلمی کے باعث ٹھوکریں کھاتا ہے۔ پھر حفاظت الہٰی کی ضرورت نہ سمجھنا کیسی نادانی اور حماقت ہے۔ یہ صرف علم ہی تک محدود نہیں رہتی۔ دوسرا مرحلہ تصرفات عالم کا ہے وہ اس کو مطلق نہیں، ایک ذرہ پر کوئی اسے تصرف اور اختیار نہیں۔ غرض ایک بے علمی اور بے بسی تو ساتھ تھی پھر بدعملیاں ظلمت کا موجب ہوجاتی ہیں۔‘‘

(خطبات نور صفحہ 98)

پچھلا پڑھیں

جماعت احمدیہ کا نام رکھنے کی وجہ تسمیہ اور قیام کا مقصد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13دسمبر2019