• 10 اگست, 2022

کمزوری کی طرف توجہ دلاتا ہے

سورۃالنصر میں بیان فرمودہ الفاظ تسبیح، تحمیدو استغفار کی تشریح میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ بیان فرماتے ہیں۔

’’اس میں اول تسبیح کا حکم ہے۔ پھر تحمید کا اور پھر استغفار کا۔ اس ترتیب میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات دو قسم پر ہیں۔ ایک صفات سلبیہ اور دوم ثبوتیہ۔ صفات سلبیہ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کا تمام نقائص سے پاک اور منزہ ہونا اور اعلیٰ و برتر ہونا ظاہر کرتی ہیں۔ سلبیہ کے معنی ہیں سلب کرنے والی، کھینچنے والی اور صفات ثبوتیہ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اکرام اور عزت اور بلندی کا اظہار کرتی ہیں۔ اس ترتیب میں صفات سلبیہ کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اور صفات ثبوتیہ کو ان کے بعد لیا گیا ہے۔ تسبیح اللہ تعالیٰ کی جلالی صفات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ تمام بدیوں سے منزہ اور بے عیب اور پاک ذات ہے۔ تم بھی اس کی تسبیح کرو۔ یعنی اس کا مقدس اور پاک ہونا بیان کرو اور اس کی تحمید کرو کہ وہ تمام حمد کا مالک ہے اور سچی تعریف اسی کے لائق ہے ۔ اس کے بعد استغفار ہے۔ جو کہ انسان کو اپنے قصور نفس اور کمزوری کی طرف توجہ دلاتا ہے اور خداتعالیٰ کی بخشش کی طرف انسان کو کھینچتا ہے کہ اس کے سوائے انسان کا گزارہ نہیں اور انسان کے نفس کو کامل کرنے والی وہی ذات پاک ہے۔ جس کے ساتھ سچے اور خالص تعلق کے ذریعہ سے انسان بدیوں سے نجات پاسکتا ہے اورنیکیوں کے حصول کی اس کو توفیق ملتی ہے۔‘‘

(حقائق الفرقان جلد 4صفحہ 531)

پچھلا پڑھیں

جماعت احمدیہ کا نام رکھنے کی وجہ تسمیہ اور قیام کا مقصد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13دسمبر 2019