• 4 اکتوبر, 2022

روزنامہ الفضل کا پرنٹ سے ڈیجیٹل میڈیا تک کا کامیاب سفر

1913ء کا سال خلافت اولیٰ کا آخری سال تھا چنانچہ اس وقت بعض حالات کی وجہ سے شدت کے ساتھ ایک ایسےنئے اخبار کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی جو حقیقی طور پر خلیفۃ المسیح کا سلطان نصیر بن کر حضرت مسیح موعود ؑ کے مشن کو لےکر آگے چلے چنانچہ اس سلسلہ میں سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے نیا اخبار شروع کرنے کی اجازت حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ سے حاصل کی جو حضرت خلیفۃ المسیح نے عطا فرما دی اور اس نئے اخبار کا نام حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓنے ہی اپنی ایک رویا کی روشنی میں ’’الفضل‘‘ عطا فرمایا۔

(الفضل 19 نومبر 1914)

اخبار کے شروع کرنے کے لئے ایک اہم مرحلہ اس کے لئے سرمایہ کا انتظام تھا چنانچہ نئے اخبار کی ضرورت اور اس کے سرمایہ کی کمیابی کے متعلق حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں ۔

‘‘میں بے مال و زر تھا ۔جان حاضر تھی مگر جو چیز میرے پاس نہ تھی وہ کہاں سے لاتا اس وقت سلسلہ کو ایک اخبار کی ضرورت تھی جو احمدیوں کے دلوں کو گرمائے۔ ان کی سُستی کو جھاڑے ان کی محبت کو اُبھارے ان کی ہمتوں کو بلند کرے اور یہ اخبار ثریا کے پاس ایک بلند مقام پر بیٹھا تھا اس کی خواہش میرے لئے ایسی ہی تھی جیسے ثریا کی خواہش، نہ وہ ممکن تھی نہ یہ’’

(یاد ایام،انوار العلوم جلد 8 ص 369)

اللہ تعالیٰ نے آپؓ کی بے تابی کو اس طرح دور فرمایا اور نئے اخبار کے لئے سرمایہ کا انتظام اس طرح سے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کی حرم اوّل حضرت ام ناصر کے دل میں آپ کی مدد کرنے کی تحریک کی چنانچہ حضرت ام ناصر نے نئے اخبار کو شروع کرنے کے لئےحضرت مصلح موعود ؓ کی خدمت میں اپنا اور اپنی پیاری صاحبزادی حضرت ناصرہ بیگم (والدہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) کا زیور پیش کیا چنانچہ آپؓ نے یہ زیور لاہور میں جا کر پونے پانچ سو کے عوض بیچا اوریہ نئے اخبار کا اوّلین سرمایہ تھا ۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنی والدہ حضرت سیدہ ناصرہ بیگم کی وفات پر اپنے خطبہ میں ان کا ذکر خیر کرتے ہوئے قارئین الفضل کو ان کے لئےدعا کی تحریک اس طرح فرمائی تھی کہ
’’قارئین الفضل حضرت مصلح موعودؓ کی اس پیاری بیٹی اور میری والدہ کو بھی الفضل پڑھتے ہوئے دعاؤں میں یاد رکھیں کہ الفضل کے اجراء میں گو بے شک شعور رکھتے ہوئے تو نہیں لیکن اپنے ماں باپ کے ساتھ آپ نے بھی حصہ لیا اور یہ الفضل جو ہے آج انٹر نیشنل الفضل کی صورت میں بھی جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور ان کی دعائیں ہمیشہ ہمیں پہنچتی رہیں۔‘‘

(الفضل 20 ستمبر 2011 ص 7)

اسی طرح حضرت اماں جان ؓ اور حضرت نواب محمد علی خان ؓ نے بھی اپنی کچھ زمین نئے اخبار کو شروع کرنے کے لئے دی اور یوں ایک نئے اخبار کا سرمایہ اکٹھا ہو گیا اور حکومت سے ڈیکلریشن کے حصول کے بعد الفضل سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ کی زیرِ ادارت 18 جون 1913 کو منصۂ شہود پر آگیا اور اپنے نام کی طرح ہی جماعت پر بطور فضل خداوندی ثابت ہوا۔

الفضل اپنے آغاز ہی سے خلافت کا سلطان نصیر بن کر دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگا اوربہت جلد خدا تعالیٰ نے الفضل کو ایسے جاں نثار انصار عطا کئے جن کی بدولت الفضل ایک ادارہ کی حیثیت اختیا رکر گیا اور بقول شاعر کہ ؏

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

الفضل پر ایک اہم دور اس وقت آیا جب 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد جماعت احمدیہ کو نہایت سخت حالات میں بےسروسامانی کے عالم میں قادیان دارالامان سے اپنے پیارے امام حضرت سیدنا مصلح موعودؓ کے زیر قیادت پاکستان ہجرت کرنا پڑی۔ پاکستان پہنچ کر امام جماعت احمدیہ حضرت سیدنا مصلح موعودؓ کو جماعت کی از سرنو تنظیم سازی کے حوالہ سے بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جیسا کے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایاکہ ‘‘یہاں پہنچ کر میں نے پورے طور پر محسوس کیا کہ میرے سامنے ایک درخت کو اُکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا نہیں بلکہ ایک باغ کو اُکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا ہے۔

(الفضل31جولائی 1949ء)

چشم فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ حضرت مصلح موعود ؓ جیسے مدبر وجود کی بدولت باغ احمد میں بہارِ نَو پیدا ہو گئی اور آپ ؓ نے بوستان احمد کے اشجار کو اس طور پر دوبارہ لگا دیا کہ سب اشجار نہایت قلیل عرصہ میں اپنا پھل دینے لگ گئے۔ حضرت مصلح موعود ؓ نے لاہور ہجرت کے بعد صرف 15 روز کے قلیل عرصہ میں یعنی 15 ستمبر 1947ء کو مالی وسائل کی شدید کمی کے باوجود پاکستان سے الفضل کا اجراء فرمایا۔ حضرت مصلح موعود ؓ کے سلطان نصیر کے طور پر جماعت کی از سرنو تنظیم سازی میں الفضل نے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ احمدی مہاجرین اور پناہ گزینوں کا اپنے محبوب امام سیدنا حضرت مصلح موعود ؓ سے راہنمائی اور مرکزی ہدایات کے حصول کا واحد ذریعہ الفضل ہی تھا چنانچہ اُس وقت الفضل پر حضرت خلیفۃ المسیح کی طرف سے جماعت کے نام پیغامات، جماعت کے انتظامی اعلانات، جماعتی عہدے داران کی طرف سے اعلانات، مالی قربانی کی طرف توجہ کے اعلانات شائع ہو تے رہےجن کی بدولت جماعت نہایت قلیل عرصہ میں ازسرِنو وحدت کے شیرازہ میں پروئی گئی چنانچہ جہاں دوسرے لوگوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا وہاں احمدیوں کا سہارا آستانہٴ خلافت تھا اور الفضل کی حیثیت ایک پل کی سی تھی جس کے ذریعہ حضرت خلیفۃ المسیح اور جماعت کا آپس میں رابطہ قائم تھا۔

الفضل پر ایک اور اہم دور اس وقت آیا جب اسے اُسی ملک کے اربابِ حل وعقد کی طرف سے مختلف قسم کی قدغنوں کا سامنا کرنا پڑا اور جبری تعطل کا شکار رہنا پڑا جس ملک کے قیام کے لئے یہ ایک لمباعرصہ کوشاں رہا ۔

تاریخ احمدیت گواہ ہے جب بھی ارضی دنیا نے جماعت کے لئے زمین تنگ کرنا شروع کی تو آسمان پر جماعت کے لئے ایک لامتناہی وسعتوں کا نیا دور مقدر کر دیا گیا چنانچہ 13 دسمبر 2019 کا دن روزنامہ الفضل کے لئے ایک نیا سنگ میل تھا کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کی ویب سائیٹ کا اجراء فرمایا ۔

روزنامہ الفضل ٹیکنالوجی کے اس دور میں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ چہار دانگ عالم میں حضرت مسیح موعودؑ کے فیض کو پہنچا رہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے الفضل کی اس جاری نہر کے لئے اپنے گھروں کے دروازے کھولیں اور اپنے دامن کو اس کے فیض سے مالا مال کریں نیز ان بزرگان کی قربانیوں کو بھی یاد رکھیں اور ان کا ذکر اپنی دعاؤں میں بھی ہو جنہوں نے الفضل کو جاری رکھنے کی خاطر کئی قسم کی مشکلات برداشت کیں ،کڑے وقت کو دیکھا اس طرح بعض نے قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔روزنامہ الفضل لندن تک رسائی حاصل کرنابہت آسان ہے۔اپنےکمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر اس کی ویب سائٹ کا ایڈریس

www.alfazlonline.org

ٹائپ کریں اور اس ویب سائٹ پر جاکر تازہ شمارہ یاگزشتہ شمارے ڈاؤن لوڈکرلیں۔ اس کےعلاوہ اس خوبصورت ویب سائٹ کےمختلف شعبہ جات میں مضامین، ارشادات، اداریے اور نظمیں وغیرہ سے استفادہ فرمائیں اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی تلقین کریں کہ اس کی ویب سائٹ ضرور وزٹ کیا کریں اور یہ روزانہ کامعمول بنا لیں۔

الفضل کے آغاز کے وقت حضرت مصلح موعود ؓ نے اللہ تعالیٰ کے حضور التجاء پیش کی تھی کہ ’’اے میرے مولا !اس مشت خاک نے ایک کام شروع کیا ہے اس میں برکت دے اور اسے کامیاب کر میں اندھیروں میں ہوں تو آپ ہی رستہ دکھا، لوگوں کے دلوں میں الہام کر کہ وہ الفضل سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے فیض کو لاکھوں نہیں کروڑوں تک وسیع کر اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی اسے مفید بنا، اس کے سبب سے بہت سی جانوں کی ہدایت ہو‘‘

(الفضل 18 جون 1913 ص 3)

دعا ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی یہ رقت آمیز دعائیں اللہ تعالیٰ ہمارے حق میں بھی قبول فرمائے۔آمین

(لقمان انجم)

پچھلا پڑھیں

حضرت مفتی محمد صادقؓ کی بطور واقفِ زندگی خدمات کامختصر تذکرہ

اگلا پڑھیں

مصروفیات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخہ 04 جنوری 2020ء تا مورخہ 10 جنوری 2020ء