• بدھ 19 فروری 2020   (25 جمادى الآخرة 1441)

حضرت مفتی محمد صادقؓ کی بطور واقفِ زندگی خدمات کامختصر تذکرہ

1907ء کی بات ہے حضرت مسیح موعودؓ نے فرمایا کہ ’’اب سلسلہ کا کام بڑھ رہا ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ بعض نوجوان دور و نزدیک تبلیغ کے کام کے واسطے اپنی زندگیاں وقف کریں۔‘‘ مفتی صاحبؓ جو ہمیشہ اس انتظار میں ہوتے تھے کہ خدمت کا کوئی موقع ہو اور وہ اس کو حاصل کریں۔ انہوں نے فوراً حضرت صاحبؑ کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ ’’اگر اس لائق سمجھا جاؤں تو دنیا کے کسی حصہ میں بھیجا جاؤں۔‘‘

حضرت صاحبؑ نے اس پر اپنے قلم سے تحریر فرمایا ’’منظور‘‘ حضرت مسیح موعودؑ کی عطا کردہ اس منظوری کے مطابق مفتی صاحب کو پہلے برطانیہ اور پھر امریکہ میں قریبا ً سات سال تک خدمت دین کی عظیم سعادت حاصل ہوئی۔ 1917ء میں اس دور کا آغاز ہوا جب آپ انگلستان کے لئے روانہ ہوئے۔ بمبئی سے جہاز کے روانہ ہوتے ہی مفتی صاحب کی دعوت الی اللہ کا آغاز ہو گیا اور تین دن کے اندر اندر ایک انگریز نے احمدیت قبول کر لی اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا۔ سفر کے دوران ہی متعدد افراد نے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ سفر کی ابتداء میں ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوشخبری کے طور پر نظارہ دکھا دیا تھا کہ آپ خیریت سے منزل پر پہنچ گئے ہیں۔ راستہ میں ایک موقعہ ایسا آیا کہ یہ خدشہ ظاہر کیا جانے لگا۔ یہ جہاز ڈوبنے والا ہے۔ جہاز میں کہرام مچ گیا ہر مسافر جان بچانے کی فکر میں تھا۔ مفتی محمد صادق لوگوں کو تسلیاں دیتےچنانچہ جہاز خیریت سے منزل پر پہنچا اور مفتی صاحب کو دعوت الی اللہ کا ایک عمدہ موقعہ مل گیا۔

1920ء میں ایک بحری جہاز پر سوار ہو کر امریکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ قبولیت دعا اور تائید الٰہی کا ایک عجیب واقعہ اس سفر میں رونما ہوا۔ ایک سخت سمندری طوفان نے جہاز کو آ گھیرا۔طوفان اتنا شدید تھا کہ جہاز کی غرقابی کا خوف محسوس ہونے لگا- مسافروں کی چیخ و پکار سے ہر طرف شور قیامت برپا تھا۔ اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود کے فدائی مفتی محمد صادق صاحب نے ایک عجیب جلالی انداز میں سمندر کو یوں مخاطب کیا ‘‘اے سمندر ! تجھے معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کا ایک خادم خدا کے دین کی خدمت کے لئے جا رہا ہے کیا تو مجھے دکھ دے گا۔’’مفتی صاحب خود بیان کرتے ہیں کہ

میں اللہ تعالیٰ کے پیار اور مسیح موعود کے ایک ادنیٰ غلام کی دعا کی قبولیت کا نظارہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ جونہی میں نے اپنی بات ختم کی جو دراصل اللہ تعالیٰ کے حضور ایک عاجزانہ التجا تھی۔ میں نے دیکھا کہ گویا آسمان سے فرشتے اترے ہیں اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے سمندر کی متلاطم موجوں کو ساکن کردیا۔

(کرم الٰہی ص 153`152)

یہ جہاز سلامت پہنچے گا

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایک واقعہ تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ 1917ء میں جب کہ جنگ عالمگیر اپنے پورے شباب پر تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے مجھے حکم دیا دعوت دین کے لئے انگلستان جاؤ۔

عورتوں نے حضور کی خدمت میں عرض کی حضور سمندری سفر خطرے سے خالی نہیں لوگ گیہوں کی طرح پس رہے ہیں۔ اگر حضرت مفتی صاحبؓ کو ابھی روک لیا جائے۔ تو بہتر ہے۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایاکہ گیہوں چکی میں پسنے کے لئے ڈالے جاتے ہیں۔ مگر ان میں سے بھی کچھ اوپر رہ جاتے جو نہیں پستے۔ تو یہ مفتی صاحب بچے ہوئے گیہوں ہیں پسنے والے نہیں۔

جب ہمارا جہاز بحیرہ روم میں داخل ہوا۔ تو جہاز کے کپتان نے جہاز کے تمام مسافروں کو اوپر ڈیک پر بلایا اور ایک تقریر کرتے ہوئے کہ یہ سمندر جس میں ہم داخل ہوئے ہیں۔ جرمن کے سب جہازوں سے بھرا پڑا ہے اور معلوم نہیں کہ کب ہمارا جہاز ان کے نشانے سے ڈوب جائے اگر ایسا ہوا۔ تو یہ جہاز کے ڈوبنے سے پہلے ایک سیٹی بجے گی۔چنانچہ کپتان نے سیٹی بجا کر سنائی پھر کہا کہ جب یہ سیٹی بجے تو کشتیاں جو جہاز کے دونوں طرف لٹک رہی ہیں آپ لوگوں کے لئے ہیں۔ پھر اس نے نام بنام کشتیوں کے نمبر بتائے اور سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ ایسے موقعہ پر اپنی اپنی کشتیوں میں بیٹھ جائیں پھر یہ کشتیاں جہاں کہیں آپ لوگوں کو لے جائیں آپ کی قسمت۔ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔

کپتان کے اس لیکچر کو سننے کے بعد میں اپنے کمرے میں آیا اور اس خطرے سے بچنے کے لئے اللہ کریم سے گڑ گڑاکر دعا کی۔ اسی رات میں میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے کمرے میں کھڑا ہوا ہے اور مجھے انگریزی میں کہتا ہے۔

’’صادق یقین کرو یہ جہاز سلامت پہنچے گا‘‘

اس خوشخبری کو پا کر میں نے تمام مسافروں کو اور کپتان کو اطلاع دی اور ایسا ہی ہوا ہمارا جہاز ساحل انگلستان پر سلامتی سے پہنچ گیا کئی جہاز ہمارے سامنے آگے پیچھے دائیں بائیں ڈوبے ان جہازوں کی لکڑیاں پانی میں تیرتی ہوئی دیکھیں مگر خداوند تعالیٰ نے ہمارا جہاز سلامت پہنچا دیا۔

(لطائف صادق صفحہ 131,130)

پچھلا پڑھیں

ڈاکٹر عبدالرحمان صدیقی اور ان کے بیٹے ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی کی خدمت خلق

اگلا پڑھیں

روزنامہ الفضل کا پرنٹ سے ڈیجیٹل میڈیا تک کا کامیاب سفر