• 14 جولائی, 2024

مسلم مشن آف گھانا، امام اہل تیجانیہ کے وفد نیز دیگر نیشنل آئمہ کرام کا دورہ اکرا گھانا

اناکے نیشنل چیف، امام اہل تشیع، امام اہل سنۃ والجماعت،
مسلم مشن آف گھانا، امام اہل تیجانیہ کے وفد نیز دیگر نیشنل آئمہ کرام کا دورہ اکرا گھانا

مورخہ 16 فروری 2023ء بروز جمعرات گھانا کے نیشنل چیف امام الحاج شیخ ڈاکٹر عثمان نوحوشرابوتو Sheikh Dr. Osman Nuhu Sharubutu، نائب امام اہل تشیع، شیخ ابراہیم، امام اہل سنۃ والجماعت شیخ ابوبکر تسلیمہ، چیف امام اسماعیلہ امام گھانا مسلم مشن ڈاکٹر محمد مرغوب، اور امام تیجانیہ شیخ مصطفیٰ جلال، گھانا مسلم یوتھ لیگ کے رہنما الحاج موسیٰ رضا، امام الحاج علی سراج، کے آئمہ کے وفد کے ساتھ مسلم سربراہان کی نمائندگی میں احمدیہ مسلم مشن نیشنل ہیڈکوارٹر اکرا کا شہدائے احمدیت بورکینا فاسو کی تعزیت کےلئےدورہ کیا۔ اس موقعہ پر نائب امیر اول جماعت گھانا مکرم مولوی محمد یوسف یاؤسن، نائب امیر دوم الحاج وہاب عیسیٰ، نائب امیر چہارم جسٹس سعید کوئیکوجان، مرکزی مبلغین جن میں مکرم عمر فاروق یحییٰ، مکرم نعیم احمدمحمود چیمہ، مکرم علیم محمود، مکرم نعمت اللہ طائر اورخاکسار احمدطاہر مرزا موجود تھے۔نیز نیشنل ہیڈ کواٹر عملہ کے بعض کارکنان، مرکزی عاملہ جماعت احمدیہ گھانا کے بعض ممبران جن میں جنرل سیکرٹری مکرم عباس ولسن، سیکرٹری امور خارجہ مکرم الحاج یوسف کوئینو، نیشنل صدر انصار اللہ، ریجنل و زونل پریذیڈنٹ گریٹر اکرا، نیشنل صدر خدام الاحمدیہ اور دیگر معززین احمدیت شامل تھے۔ علاوہ ازیں MTAگھانا اور مقامی پریس و میڈیا کے نمائندگان بھی موجود تھے۔

تقریب کا آغاز صبح دس بج کربیس منٹ پر تلاوت قرآن کریم جو مولوی عمرفارق یحییٰ نے کی۔ بعدہ مکرم امیر و مشنری انچارج گھانا نے نیشنل چیف گھانا امام الحاج شرف الدین شرابوتو سے دعا کرانے کی درخواست کی۔نیشنل چیف امام کی دعا کے بعد چیف امام کے ترجمان الشیخ آرمییاؤ شیعبو Aremeyaw Shaibu نے سورہ فاتحہ اور مسنون دعاؤں کی تلاوت کےبعد نیشنل چیف امام کے ترجمان نےنیشنل چیف امام کی نمائندگی میں 14 دیگر اسلامی مکتب ہائے فکر کے چیف و نائبین آئمہ کرام کی طرف سے، تمام مسلمانان گھانا کی طرف سے جماعت احمدیہ عالمگیر، احباب جماعت بورکینا فوسو، جماعت احمدیہ گھانا اور امیر و مشنری انچارج گھانا الحاج نور محمد بن صالح کی خدمت اپنا تعزیتی پیغام پیش کیا جس میں سورۃالبقرہ کی آیات کی روشنی میں ہمدردی و تعزیت کااظہار کیا۔ اور حضور ﷺ کی حدیث مبارکہ :
مَثَلُ المُؤْمِنِينَ في تَوَادِّهِمْ وتَرَاحُمِهِمْ وتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الجَسَدِ إذا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى له سَائِرُ الجَسَدِ بالسَّهَرِ والحُمَّى

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودت اور باہمی ہمدردی کی مثال جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے کی روشنی میں اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔

اس کے بعد جماعت احمدیہ مذہبی رواداری، ہم آہنگی پالیسی کو سراہا۔ نیز جماعت احمدیہ اہل گھانا کی دینی، تعلیمی طبی اور سماجی خدمات کی تعریف کی۔

بعدہ مکرم امیر صاحب گھانا نے ان کی تعزیت کا شکریہ ادا کیا۔ کہ آج اہل گھانا کے مسلمانوں نے ثابت کردیا ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی اور ایک جسد کی طرح ہیں اور جسم کے کسی حصہ میں تکلیف ہو تو سار جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔

اس تقریب کے آخر میں نمائندہ چیف امام استاذنے اس بات کا اظہار کیا کہ گزشتہ دنوں نیشنل کرسچئین پیس کونسل کے اجلاس میں مجھے بھی بلایا گیا اور مکرم امیر صاحب گھانا کے بورکینا فوسو کے دورہ کی وجہ سے عدم موجودگی میں نیشنل گھانا چرچ کونسل نے بورکینا فاسو کی واقعہ کی مزمت کی اور مسلمان گھانا نے کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ نمائندہ نیشنل چیف امام نے کہا کہ ہم جملہ مسلمان آئمہ اور علماٗ جماعت اور جماعت گھانا سے اس سانحہ پر تعزیت کے لئے آج یہاں آئے ہیں۔ چنانچہ ہم آپ سے ہر طرح اظہار تعزیت اور دلی افسو س کا اظہار کرتے ہیں۔ نیز کہ آپ نے آج جس طرح ہمراہ یہاں پرجوش استقبال کیا ہے اس کے لئے ہم آپ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ اور نیشنل چیف امام کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

بعدہ 10:45 پر مکرم امیر صاحب گھانا نے جملہ وفد کا شکریہ ادا کیا۔ بالخصوص نیشنل چیف امام صاحب کا جن کی عمر ماشاء اللہ 104 سال ہے جنہوں نے یہ فیصلہ کیاکہ سانحہ بورکینافاسو پر ہم خود احمدیہ مسلم مشن جاکر امیر جماعت احمدیہ گھانا سے تعزیت کریں اورنہ صرف خود تشریف لائے بلکہ جملہ اسلامی مکتبہ ہائے فکر گھانا کے چیف آئمہ اور علمائے کرام کو بھی ساتھ لے کر آئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر اور صحت میں برکت دے اور ان کی یہ امن و بھائی چارہ کی اسلامی پالیسی کو آئندہ نسلوںمیں بھی منتقل فرمائے۔

مکرم امیر صاحب نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ چونکہ آپ ہمارے نیشنل چیف امام ہیں دراصل آپ سارے مغربی افریقہ کے لئے ایک مثال ہیں۔ نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں میں آپ ایک عظیم الشان مثال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو جو دانائی اور بصیرت عطا فرمائی ہے وہ آج ہمیں نظر آرہی ہے۔ جزاکم اللہ تعالیٰ۔

اس دعا کے ساتھ یہ نیشنل سطح کی شہدائے احمدیت کی یاد میں پروقار تعزیتی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ بعدہ ریفریشمنٹ کے بعد مہمانان کرام کی خدمت میں کھانا کے تیارہ شدہ باکس پیش کئے گئے اور اجتماعی فوٹو سیشن کے بعد نیشنل چیف اما م گھانا کے نمائندہ دیگر آئمہ کرام اور امیر و مشنری انچارج کا MTA گھانا کے علاوہ Metro TV Gaskia TV اور بعض دیگر میڈیا نمائندگان نے آج کی تقریب کے بارہ میں انٹرویوز لئے۔

مکرم امیر صاحب گھانا جماعت نے انگریز اور ہاؤساHausa زبان میں الگ الگ مختصر انٹرویو دئیے جس میں آپ نے ساری دنیاکو پیغام دیا کہ مسلمان گھانا نے آج جس مذہبی بھائی چارہ، رواداری اور اظہار ہمدردی کی مثال قائم کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے جوساری دنیا کے مسلمانوں کےلئے ایک مثالی نمونہ ہے۔ آپ نے تمام اہل گھانا اور بورکینا فاسو کے عوام سے اپیل کی اس قسم کی مذہبی رواداری و ہم آہنگی اور مسلم برادرانہ تعلقات کی روایت اہل افریقہ کے نئی نسلوں میں بھی منتقل ہونی چایئے تاکہ ہماری آئندہ نسلیں آپس میں باہمی تعاون، مذہبی روادی، ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹ کر ہم آہنگی سےرہیں۔ اس موقع پر آئے ہوئے چیف آئمہ کرام نے تمام مکاتب ہائے اسلامیہ گھانا کی طرف سے شہدائے بورکینا فاسو کی بلندیٔ درجات کے لئے دعائیہ و تعزیت پر مشتمل پیغام پیش کئے۔

مکرم امیر صاحب نے وفد کے سامنے شہدائے احمدیت بورکینا فاسو کا واقعہ شہادت بالتفصیل بیان کیا کہ کس طرح ہمارے امام سمیت 9 احمدی انصار احباب نے باری باری احمدیت کی خاطر اپنی جانیں قربان کردیں نیز جلسہ سالانہ گھانا جنوری 2023ء کے اگلے روز ہی اپنے دورہ بورکینا فاسو کا مختصراً ذکر کیا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زیر ہدایت خاکسار اور ریجنل پریذیڈنٹ گریٹر اکرا وہاں گئے اور مہدی آباد ڈوری علاقہ کا دورہ کیا اور وہاں کے احمدیوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر آپ نے چیف آئمہ کو جماعت احمدیہ پیغام بھی پہنچایا۔

علاوہ ازیں نیشنل چیف امام گھانا کے وفد نے امیر و مشنری انچارج گھاناکی ہمشیرہ کبیرہ مکرمہ عائشہ بنت الحاج معلم صالح الحسن کی وفات پر ان سے اظہارِ افسوس کیا اور ان کی بلندیٴ درجات کے لئے دعا کی۔ جس کے جواب میں مکرم امیر صاحب نے احمدیت کی خاطر اپنے والدین کی ابتدائی قربانیوں اور بڑی بہن کی قربانیوں کاذکر کیا۔ اور اپنے والدین کا حج بیت اللہ کا واقعہ بالتفصیل بیان کیا جو شادی کے دو ہفتہ بعد حج کے لئے روانہ ہوگئے کہ کس طرح اس وقت بھی انہیں تکالیف و مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ واہ سے اکرا آگئے اور یہاں سے بحری جہاز پر حج کے لئے روانہ ہوئے۔ والدہ کا پاسپورٹ تاخیر سے ملنے کی وجہ سے جب سوڈان پہنچے تو حج کےلئے قافلہ حجازکےلئے روانہ ہوچکا تھا۔ چنانچہ اگلے جہاز کےلئے ایک سال تک سوڈان انتظار کرنا پڑا۔ پھر اس دوران مکہ میں میری ولادت ہوئی اور میرا نام محمدؐ رکھا گیا۔ حج سے واپسی پر میرے والد الحاج معلم صالح صاحب کو کفر کے فتووں کا سامنا کرنا پڑا اور شہر بدر کردیا گیا۔ میرے ننھیال جوکہ احمدی نہ تھے میری والدہ کو اپنے ساتھ لے گئے کہ تیرا خاوند کافر ہوگیا ہے۔ اور میری پرورش میرے والد الحاج امام صالح نے کی۔ میرے ننھیال میری والدہ کو موجودہ بورکینا فاسو کے قریب علاقہ میں لئے گئے۔ اور پھر 13 سال بعد مجھے علم ہوا کہ یہ میری والدہ ہیں۔ بہرحال یہ قصہ بھی تاریخ احمدیت واہ Wa گھانا کا حصہ ہے۔ چنانچہ میں وہی محمد بن صالح ہوں جو مکہ میں پیدا ہوا اور آج اس تقریب میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ یہ ہماری تاریخ گھانا کا حصہ ہے جو آئندہ نسلیں یاد رکھیں گی۔ دعا کے بعد یہ تقریب 11:30 پر اختتام پذیر ہوئی۔

(احمد طاہر مرزا۔ گھانا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مارچ 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ