• 12 اگست, 2020

ہر وقت استغفار کی ضرورت ہے

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’فرماتا ہے قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَغَفَرَلَہٗ اِنَّہٗ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْم (القصص:17) اس نے کہا اے میرے رب یقیناً مَیں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش، تو اس نے اسے بخش دیا یقیناً وہی ہے جو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ تو یہ جو دُعا یہاں بیان کی گئی ہے یہ قصہ کہانی کے طور پر نہیں لکھی گئی۔ بلکہ اس لئے بتائی ہے کہ اگر تم خالص ہو کر اپنے ربّ سے مانگو تو وہ تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک کرے گا۔ پس جب دل سے دعا نکلے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق بخشش کا سلوک فرماتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر احمدی سے ایسا سلوک فرمائے اور ہر احمدی اپنے ربّ کی مغفرت کی چادر میں لپٹنے کے بعد ہمیشہ اس حکم کا مصداق بن جائے اور اس پر عمل کرنے والا ہو کہ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ (الحجر:99) یعنی اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا۔

پس یاد رکھیں جب اس زمانے کے پکارنے والے اور مسیح و مہدی کی آواز کو سنا ہے تو تمام دوسرے ربّوں سے نجات حاصل کرتے ہوئے صرف اور صرف ربِّ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، جو ربُّ العالمین ہے کے سامنے جھکنا ہو گا اور اس کی تسبیح کرتے ہوئے اور اس کی حمد کرتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنی ہوں گی۔ ہمیں وہ سجدہ کرنا ہو گا جس کی اس زمانے کے امام نے ہمیں پہچان کروائی ہے۔ وہ سجدہ جو صرف اور صرف ربُّ العالمین کے دَر پر کیا جاتا ہے کیونکہ وہی ایک ربّ ہے اور اس کے علاوہ کوئی ربّ نہیں جو کسی مومن کے دل میں بستا ہو یا کسی احمدی کے دل میں بس سکتا ہو۔ پس ایک احمدی کی توجہ ہر وقت اُس ربّ کے آگے جھکے رہنے کی طرف ہونی چاہئے۔‘‘

(خطبہ جمعہ مؤرخہ یکم دسمبر 2006ء)

پچھلا پڑھیں

درخواست دعا

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اپریل 2020