• 29 نومبر, 2020

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی پُرشفقت یادیں

پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی شخصیت کے بلامبالغہ ہزار ہا پہلوہیں جن کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلو ہزار ہا احمدیوں سے ان کا ذاتی، قلبی تعلق اور رشتہ ہے۔ اسی حوالے سے، ایک عام انسان ہونے کے ناطے پیارے آقا کی شفقت و محبت کا جو میں متبرک حصہ سمیٹ سکا ہوں ان میں سے صرف چند واقعات پیش کرتا ہوں۔

آپؒ کا احمدنگر میں فارم اس سڑک کے اختتام پر ہے جس پر ہماری دکانیں اور گھر واقع ہیں۔ اگرچہ یہ راستہ آپؒ کا روزانہ کا معمول تو نہیں تھا مگر چونکہ اس وقت احمدنگر میں یہی مین بازار تھا لہٰذا یہاں بھی اکثر آیا کرتے تھے اور ہم سے بھی ملاقات ہوجاتی تھی۔

حضورؒ کا پہلا دیدار اس وقت ہوا جب 1977ء میں سیلاب کے بعد بعض گہرے کھیتوں میں دریا کی مچھلیاں رہ گئیں تو آپ ان کے شکار کے لئے اپنی بچیوں کے ساتھ احمدنگر تشریف لائے۔ مغرب کی سمت واقع، تالاب بنے، کھیتوں کے کنارے آپ نے نشست کا اہتمام کیا اور بے شمار بچے اور بڑے آپ کو دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے، جن میں خاکسار بھی شامل تھا۔

آپؒ کے دورِ خلافت سے پہلے کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ شدید گرمی کے موسم میں ، میں اور میرے بھائی حسب معمول بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ آپؒ کا گزر وہاں سے ہوا۔ ہم سب نے آپ کو سلام کیا ، آپؒ نے اس کا جواب دیا۔ اس کے چند دن کے بعد جب ہماری والدہ صاحبہ ہومیوپیتھک دوائی لینے کے لئے دفاتر وقف جدید میں واقع کلینک پر گئیں تو حضور نے والدہ صاحبہ کوفرمایا کہ میں نے آپ کے بچوں کو شدید گرمی میں ننگے سر کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے لہٰذا آپ ان کو گرمی میں باہر کھیلنے سے منع کردیں ۔

میرے بڑے بھائی مکرم محمد منور ظفر (حال، ٹورانٹو) ہمارے گھر کے پاس ہی گورنمنٹ اسکول احمدنگر میں ساتویں جماعت کے طالب علم تھے کہ ان کے دل میں سمایا کہ تعلیم الاسلام ہائی اسکول ربوہ میں داخلہ لینا چاہئے۔ ہماری والدہ صاحبہ رضامند نہ ہوئیں مگر بھائی صاحب کا اصرار بڑھتا گیا۔ اس پر ایک دن ہماری والدہ صاحبہ ، بھائی کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے پاس لے گئیں اور ان سے کہا کہ یہ ربوہ میں داخل ہونا چاہتا ہے جبکہ ہمارے گھر کے سامنے اسکول ہے۔ آپ اسے سمجھائیں کہ احمدنگر میں ہی پڑھتا رہے۔

یہ بات سن کرحضرت صاحبؒ مسکرائے اور کہا اگر آپ کا بیٹا ربوہ میں پڑھنا چاہتا ہے تویہ بہت اچھی بات ہے۔ پھر بھائی سے مخاطب ہوکر کہا کہ تم کل میرے پاس آنا۔ اگلے دن میرے بھائی ان کے پاس گئے تو میاں صاحب نے آپ کو اپنے سائیکل پر بٹھایا اور پہلے کتابیں خریدیں، پھر درزی کو یونیفارم کا آرڈر دیا اور پھرخودہی اسکول لے جاکر داخل کروایا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہجرت کے بعد خاکسار آپ کے دو خطباتِ جمعہ اور چار مجالس ہائے عرفان میں شامل ہوا تاہم ان سے میری واحد انفرادی ملاقات 26جون 1997 کو، احمدیہ مشن ہاؤس، ٹورانٹو کینیڈا میں ہوئی۔ اہلیہ کے ہمراہ ملاقات کے لئے کمرے میں داخل ہوا اور سلام کیا، پیارے آقا سے ازراہِ شفقت معانقہ کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ میں نے آپ کا دست مبارک دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر مصافحہ کیا۔ میری اہلیہ نے بھی آپؒ کو سلام کیا اور آپ نے ان کو جواب دیا۔ پھر حضورؒ نے بیٹھتے ہوئے ہمیں بھی اپنے سامنے بیٹھنے کی دعوت دی۔ اور فرمایا ’’جی! اپنا تعارف تو کروائیں۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ میں ماسٹر محمد عیسیٰ ظفر مرحوم کا بیٹا ہوں۔ حضورؒ نے فوراً کہا ’’پھر تو احمدنگری ہو۔‘‘ حضور کی یادداشت کے بارہ میں بےشمار دفعہ سنا تھا اب ذاتی تجربہ بھی ہوگیا کیونکہ میرے والد صاحب فروری 1978ء میں وفات پاگئے تھے اور اب تقریباً 20 سال کے بعد ایک وفات شدہ شخص کا نام، اس کے رہائشی گاؤں کے نام کے ساتھ یاد رکھنا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔ اور ایسا صرف وہی کرسکتا ہے جس کا دوسرے کے ساتھ دلی رشتہ ہو۔

اور میرے پیارے آقا کا تو ہر ایک کے ساتھ دلی رشتہ تھا۔ میں نے حضورؒ کی بات کا جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ جی حضور اور چونکہ آپ کا ڈیرہ ہمارے گھر کے پاس ہے اس لئے آپ کا ہمسایہ بھی ہوں۔ میں نے مزید کہا کہ حضور میں ابھی حال ہی میں پاکستان سے آیا ہوں اور آپ کے ڈیرہ سے ہوکر آیا ہوں۔ وہاں پر بہت ہی خوبصورت ریسٹ ہاؤس تعمیر ہورہا ہے۔ آپ اس وقت ہمارے لئے دراز سے چاکلیٹ نکال رہے تھے، رک گئے اور بڑے ہی اشتیاق سے پوچھنے لگے۔ ’’تم نے دیکھا ہے؟‘‘ میں نے کہا جی حضور۔ اس کے بعد حضور نے پوری تفصیل پوچھی اور دو تین دفعہ پوچھا کہ ریسٹ ہاؤس اچھا ہے؟ خوبصورت ہے؟ تم خود دیکھ کر آئے ہو؟ میں نے جواب دینے کے بعد کہا کہ حضور، لوگ اس ریسٹ ہاؤس کی تعمیر کو آپ کی پاکستان واپسی کا پیش خیمہ سمجھ رہے ہیں۔ حضورؒ نے فرمایا ’’اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔‘‘

اس کے بعد حضور نے ازرہ شفقت دو چاکلیٹ دئیے اور پھر ساتھ ہی کہنے لگے کہ ’’تم لوگ تو شادی شدہ ہو۔ تم کو تو چاکلیٹ نہیں دینے تھے۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ حضور پہلی بات تو یہ ہے کہ بڑے عرصہ سے آپ کے چاکلیٹ پر نظر تھی مگر کبھی موقع ہی نہیں ملا۔ دوسری بات یہ کہ گزشتہ سال میری اہلیہ نے آپ سے حاصل کردہ چاکلیٹ میں سے کچھ حصہ مجھے بھجوایا تھا جو مجھے نہیں مل سکا اس لئے میں نے تو آپ سے خود درخواست کرنا تھی کہ مجھے چاکلیٹ دیں۔ یہ بات سن کر آپؒ مسکرا دیئے اور فرمانے لگے ’’اچھا ٹھیک ہے۔‘‘ پھر آپ نے میری اہلیہ سے ان کے والد صاحب کا نام پوچھا۔ ان کا تعارف مکمل ہونے کے بعد حضورؒ نے سرخ اور سلور رنگ کے دو نہایت خوبصورت اور قیمتی پین (pen) نکالے۔ سرخ رنگ کا پین اوپر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ’’دلہنوں کو سرخ رنگ اچھے لگتے ہیں لہٰذا ایسا کرتے ہیں کہ سرخ پین تمہاری دلہن کو دے دیتے ہیں اور دوسرا تمہیں۔ یہ تحفے تم لوگوں کو یہ ملاقات یاد رکھائیں گے۔‘‘ ہم نے بصد خوشی، تحفے وصول کئے۔ میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے حضورؒ سے عرض کیا کہ حضور آپؒ سے ملاقات تو ہمیں ہرحال میں یاد رہے گی۔ اس بعد میں نے اپنی والدہ صاحبہ کی وفات کے بارہ میں بتایا تو آپؒ نے ان کی وفات پر بہت دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ بعد ازاں اپنے بڑے بھائی صاحب کا ایک خط حضور کی خدمت میں پیش کیا۔ اس سلسلہ میں آپ نے چند ہدایات زبانی فرمائیں اور تفصیلی جواب بعد میں بھجوانے کا کہا۔ چند رشتہ داروں کی بابت بھی بات ہوئی۔ آپؒ نے سب کے لئے دعا کی درخواست قبول فرمائی۔ اور فوٹوگرافر کو بلوا کر ہمارے ساتھ تصویر بنوائی۔ میں نے درخواست کی کہ دوستوں کے لئے حضور کے ساتھ ایک الگ تصویر بھی بنوانا چاہتا ہوں۔ آپ نے کمال شفقت سے اجازت دے دی۔ پھر آپ دوبارہ میری اہلیہ سے ان کے والدین کے متعلق پوچھنے لگے اور فرمایا ’’ان کے ساتھ میری ملاقات گزشتہ سال ہوئی تھی۔‘‘ اس کے بعد وقتِ جدائی تھا۔ آپؒ سے ایک بارپھر مصافحہ کیا اور ہاتھ کو تین باربوسہ دیا اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہتے ہوئے رخصت ہوئے۔ آپ سے بظاہر تو وہ آخری ملاقات تھی لیکن وہ کون سا دن ہے اور کون سا لمحہ ہے جب حضورؒ ہمارے دل سے دور ہوئے ہیں؟

ایک خطبہ جمعہ میں آپ نے حضرت عبداللہ سنوریؓ کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ان کے ذریعہ غوث گڑھ میں جن لوگوں نے احمدیت قبول کی ان کو میں جانتا تو نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کی نسلیں پوری دنیا میں پھیل چکی ہوں گی۔‘‘ یہ فقرہ کسی عام مقرر کا ہوتا تو ہم اسے جوش خطابت سے تعبیر کرتے لیکن یہ فقرہ اس شخص کا تھا جس کا ایمان اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور سنت پر اپنی جان سے بھی زیادہ تھا۔

چونکہ میں، غوث گڑھ (انڈیا) کے اس وقت ایک، احمدی ہونے والے رہائشی محمد یوسف کو جانتا تھا لہٰذا میں نے فوراً جائزہ لیا کہ ان کے نسل کے لوگ اب کہاں ہیں۔ اور نتیجہ یہ نکلاکہ ان کے پوتے اور پوتیاں اور نواسے اور نواسیاں، آسٹریلیا، جرمنی، ناروے، بیلجئم، فلپائن، انگلینڈ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور کینیڈا میں حضورؒ کے الفاظ کی سچائی کے ثبوت کے طور پر موجود ہیں، اور خاکسار بھی انہی میں سے ایک ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں آپؒ کے تمام احکامات، ہدایات اور نصائع کو احسن طریقہ سے سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم اپنی وفا کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپؒ کو اپنے اور اپنے پیارے رسول ﷺ کے قرب میں نمایاں مقام عطا فرمائے۔ آمین ۔

(محمد سلطان ظفر۔کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

درخواست دعا

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اپریل 2020