• 29 مئی, 2020

جنت و جہنم کی حقیقت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’انسان جس لذت کا خوگرفتہ اور عادی ہو جب وہ اس سے چھڑائی جاوے تو وہ ایک دکھ اور درد محسوس کرتا ہے اور یہی جہنم ہے پس جبکہ ساری لذتیں دنیا کی چیزوں میں محسوس کرنے والا ہوتو ایک دن یہ ساری لذتیں تو چھوڑنی پڑیں گی پھر وہ سید ھا جہنم میں جاوے گا۔لیکن جس شخص کی ساری خوشیاں اور لذتیں خدا میں ہیں اس کو کوئی دکھ اور تکلیف محسوس نہیں ہوسکتی وہ اس دنیا کو چھوڑتا ہے تو سید ھا بہشت میں ہوتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ دل اﷲ کے اختیار میں ہے وہ جس وقت چاہتا ہے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے اور اس کو سمجھ آجاتی ہے کہ سچا سرور اور خوشحالی اس میں ہے کہ خداکو پہچانا جاوے دیکھو میں اس وقت یہ بات تو کر رہا ہوں مگر میرے اختیار میںیہ بات نہیں ہے کہ دلوں تک اس کو پہنچا بھی دوں یہ خد اہی کا کام ہے جو دلوں کو زندہ کرتا ہے اور بیدار کرتا ہے۔باقی تمام جوارح آنکھ، ہاتھ وغیرہ ایسے ہیں جو انسان کے اختیار میں ہیں۔ مگر دل اس کے اختیار میں نہیں ہے اس وقت تک اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھنا چاہئے جب تک دل مسلمان نہ ہو جاوے جب تک وہ لہوولعب سے لذت حاصل کرتا ہے اس کے مسلمان ہونے کا وہی وقت ہےجب وہ دنیوی حیثیت سے دل برداشتہ ہو گیا ہے اور دنیا کی لذتیں اور خوشیاں ایک تلخی کا رنگ دکھائی دیتی ہیں جب یہ حالت ہو تو پھر انسان اپنے آپ کو مشاہدہ کرتا ہے کہ میں وہ نہیں رہا ہوں۔بلکہ اور ہو گیا ہوں پھر دل میں ایک کشش پاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی یاد میں لذت حاصل کرتا ہے اور ایسی محبت اسے نماز سے ہو جاتی ہے جیسے کسی اپنے عزیز کو دیکھ کر خوش ہوتاہے یہ ہے اصل جڑھ ایمان کی۔مگر یہ انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے ہم اس بات کو نمونہ نہیں بتاسکتے اور نہ الفاظ میں اس کو سمجھا سکتے ہیں کیونکہ الفاظ حقیقت کے قائم مقام نہیں ہوتے اس لئے جو یہ حالت آتی ہے تو پھر انسان اپنی گذشتہ زندگی پر حسرت اور افسوس کرتا ہے کہ وہ یونہی ضائع ہو گئی کیوں پہلے ایسی حالت مجھ پر نہ آئی۔‘‘

(ملفوظات جلدسوم صفحہ480،481 ایڈیشن 2016ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ14۔مئی2020ء