• 3 جولائی, 2020

یاد ہیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں

ہر عہد کی بھرپور آواز غالب کے اس شعر میں معمولی سی تحریف کا مقصد محض اتنا ہے کہ کسی کو خاطر میں نہ لانے والا یہ نابغہ روزگار شاعر اپنی عمر کے آخری حصہ میں درماندہ سا محسوس ہوتا ہے کہ سب یادیں اب نقش و نگار طاق نسیاں ہونے لگی ہیں اور وہ گردش مدام سے اپنی ہار تسلیم کربیٹھاہے۔
لیکن جن بزم آرائیوں کی بات مجھے کرنی ہیں ان میں اداسی، فراق کے ساتھ رجاء، آرزو، امید اور یقین کے شوخ رنگ اسطرح غالب ہیں کہ ان یادوں کے حسن کی لو کو نہ صرف بڑھا دیا ہے بلکہ آنسوؤں کی نمی کو زیر لب مسکراہٹ سے ہم آہنگ کرکے اس کو ابدی اور دائمی بھی کردیا ہے۔

جی ہاں! مجھے آج تذکرہ کرنا ہے ماہ صیام کی ان برکتوں کا، ان رونقوں کا، دامن دل سے وابستہ ان حسین شمعوں کا کہ جن کی ضو مجھے یاس اور افسردگی کی بجائے امید اور مہمیز عطا کرتی ہے اور مزے کی بات کہ یہ سب میرے پیارے شہر ربوہ کا خاصہ۔

ہر جذبے کی اپنی منفرد زبان ہوا کرتی ہے، ہر احساس کا اپنا لہجہ ہوتا ہے، ہر وجود کی اپنی خوشبو ہے، ہر خاموشی اپنے پس منظر کے ساتھ جدا مفہوم کی حامل ہوتی ہے، بالکل اسی طرح ایک تہوار، ایک وقت کا اثر ہر مقام پر اپنے جداجدا رنگ رکھتا ہے۔

سو آج ذکر یاد ایام ہے کوارٹرز دارالصدر میں گزرے ہوئے رمضانوں کا جو سترہ سال کے عرصہ پر لیکن حقیقتاً ساری عمر رواں پر محیط ہے۔

مجھے یاد ہے کہ چونکہ مسجدالمبارک ہمارے حلقہ میں تھی اور اس بات پر ہم فخر بھی کیا کرتے تھے کہ لوگ دور دراز کے محلوں سے کشاں کشاں یہاں نمازوں کی ادائیگی کے لیے کھچے چلے آتے تھے، رکشے اس وقت چلتے نہ تھے ، آج سوچوں تو رشک آتا ہے کہ کس طرح بزرگ خواتین و مرد بھی چاک و چوبند جوانوں سے زیادہ ہمت اور جذبے کے ساتھ مسجد کے حسن کو مکمل کردیا کرتے تھے پھر نماز فجر پر مکرم حافظ مظفر احمد کا نماز پڑھانا ایک روحانی وجد کا سماں باندھ دیاکرتا تھا اور اس کے بعد درس حدیث، بصیرت، معرفت، سادگی، سلاست اور فصاحت کی ایسی نہر رواں ہوتی جو روحوں کو سیراب کردیتی، اس کے بعد ہر مردو زن کو بہشتی مقبرہ جانے کی جلدی ہوتی جہاں دعا کرنے جاتے تو ابو جان کی سکھائی ہوئی ترتیب کو مدنظر رکھنا بھی یوں مزہ دیتا کہ گویا بہت بڑے فرض سے بطریق احسن سبکدوش ہوگئے یعنی سب سے پہلے احاطہ خاص میں خلفاء کے مزار پر، پھر حضرت سیدہ اماں جانؓ کے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر افراد خاندان کے لیے دعا اور اس کے بعد صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزارات پر دعا اور مجھے یاد ہے کہ ان اکابرین،بے غرض عشاق اور اہل وفا کی تربتوں کی لوح مزار اور ان پر کندہ نام عجب روحانی مسرت سے ہمکنار کردیا کرتے خصوصاََ فرشتہ صفت حضرت مولانا شیرعلی، حضرت مفتی محمد صادق ، حضرت چوہدری سر محمد ظفراللہ خان، حضرت قاضی ظہور الدین اکمل کے نام لوح دل پر ابھی بھی تروتازہ ہیں، اسی طرح نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی قبر پر دعا کرنا دل میں ان کے لیے پیارو عزو قدر بھی پیدا کرتا کہ کیا جوہر نایاب اور گنج علم یہاں مدفون ہے، اس کے بعد اپنے بزرگوں کی باری آتی اس میں بھی صحابہ اور صحابیات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبور پر پہلے دعا کرنا لازمی تھا چنانچہ ابو جان کے نانا جی اور نانی جان حضرت میاں خیر دین اور حضرت چراغ بی بی کی قبر پر دعا کرنے کے بعد دادی جان مکرمہ صادقہ ثریا سے ہوکر،گھر واپسی اور پھرمیں یکے بعد دیگرے دادا جان اور والدہ محترمہ کی وفات کے بعد اس ترتیب میں ان کا بھی اضافہ ہوگیا، یہاں والد صاحب کی ایک ادائے دلبری بہت یاد آتی ہے کہ کسی بھی رشتہ دار یا عزیز کی قبر پہ دعا کرتے ہوئے اگر دائیں، بائیں ،سامنے یا عقب میں کسی جماعتی خادم یا مبلغ سلسلہ کی قبر ہوتی تو پہلے وہاں دعا کرنا لازم ہوتا، دادا جان اور والدہ محترمہ کی قبریں ایک ہی قطعہ میں تھیں اور ان کے تقریباً درمیان میں حضرت اللہ پاشا صاحب کی قبر ، چنانچہ ابو جان ہمیشہ ان کا ذکر بھی کرتے اور دعا بھی وہاں پہلے کرتے۔

گھر واپسی کے بعد تلاوت قرآن کا سلسلہ ہوتا جسکی آواز تقریباً ہر گھر کی کھڑکی سے باہر آرہی ہوتی اور ابو جان نہایت چاک وچوبند اور تیز رفتار تھے سو ہم سے پہلے گھر پہنچ کر اپنے مخصوص تخت پوش پر محو تلاوت قرآن پاک ہوتے اور اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا کہہ کر ہمیں ہمیشہ توجہ دلاتے کہ پہلے قرآن مجید پڑھنا اور پھر کچھ اور،نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد مسجد مبارک میں درس ہوتا۔جس میں اپنا قرآن پاک ساتھ لے کر جاتے اور عصر کی نماز کے بعد گھر لوٹ کر افطاری کی تیاری ہوتی۔ جمعہ، آخری عشرہ اور جمعۃالوداع پر ہر کوئی نہایت ذوق و شوق سے روزہ افطار کرواتا اور یہ افطاری بالعموم چنا پلاؤ پر مشتمل ہوتی۔ رمضان کا جمعہ انتہائی مصروف اور بارونق ہوتا جس کا آغاز عموماً وقار عمل کے ساتھ ہوتا، خواتین بھی اس وقار عمل میں کسی سے پیچھے نہ رہتی، منہ، سر لپیٹ کر گلی کی اور کیاریوں کی صفائی کا اہتمام کیا جاتا اور پھرکپڑے استری کرنا، نہانااور ہر کسی کا پیاری مسجد الاقصی جانے کی جلدی کرنا کہ پہلے جا کر مسجد میں نوافل ادا کیے جائیں۔نماز اور درس کے اجتماعات عبادات کے ساتھ ساتھ باہمی میل جول اور ازدیاد تعلق کا ذریعہ بھی ہوتے کہ سہیلیوں کے ساتھ طے کرکے نماز کے بعد ملنے کی جگہ مخصوص کی جاتی، مخصوص بزرگ خواتین تھیں جو مسجد مبارک اور مسجد اقصی میں ڈیوٹی پر مامور ہوتیں اور جوانوں سے کہیں زیادہ ہمت، حوصلہ کے ساتھ ہر لمحہ مستعد ، موسم کی شدت کی پرواہ کیے بغیر اور مکمل و بہترین پردہ کے ساتھ جن کی عقابی نظروں سے بچ کر ہم ناصرات کا آپس میں بات کرنا اور صف بندی کی پرواہ کیے بغیر اپنی پسندیدہ جگہ پر بیٹھنا بالکل ناممکن تھا۔

ان بزرگ خواتین میں سے ایک خاتون مکرمہ خالہ رشیدہ صاحبہ میرے حافظے میں روشن و تاباں ہیں جن سے چھوٹے ہوتے ہمیں شدید ڈر محسوس ہوتا لیکن بعد ازاں ان کے ساتھ ڈیوٹی دی تو پتہ چلا کہ کس قدر سادہ اور محبتی خاتون تھیں کہ بے نفسی کے ساتھ خدمت کی توفیق پائی اور حضرت سیدہ اماں جان ؓاور حضرت سیدہ چھوٹی آپا کی باتیں کرتے ہوئے گویا ان آنکھوں سے جگنو پھوٹنے لگتے۔

’’وے صورتیں الہٰی کس دیس بستیاں ہیں‘‘

افطار کے بعد جلدی سے وضو کرکے پھر جانب مسجد رواں دواں ہوتے۔ محلے کی بزرگ خواتین بھی جارہی ہوتیں تو انہی کے ساتھ ہو لیتے، کوئی ڈر یا اندھیرے کا خوف نہ رہتا۔ نماز مغرب کے بعد کھانا کھایا جاتا جو سادہ اور تکلف سے یکسر پاک لیکن غذائیت اور برکت سے ُپر ہوتا۔

نماز عشاء اور پھر نماز تراویح، مجھے یاد ہے کہ بعض اوقات طوالت کی وجہ سے نفس بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی طرف مائل کرتا تو فوراً ہی ضمیر انتہائی عمر رسیدہ خواتین کی انتہائی ہمت کے ساتھ سنوار کر پڑھی جانے والی نماز کی طرف اشارہ کرکے ملامت کرتا، کبھی اگر سستی اور نادانی کی وجہ سے کسی رکعت میں بیٹھنے کی جسارت بھی کرلی تو ان ہی بزرگ خواتین کی چشم نمائی اور زیر لب بڑبڑاہٹ نے عرق ندامت میں ایسا غرق کیا کہ پھر دوبارہ ایسی جرات نہیں کی ، اب سوچوں تو بچپنے کی ناراضگی کی جگہ بے اختیار ان بزرگ خواتین کے لیے دعائے مغفرت نکلتی ہے اور دل محبت سے لبریز ہو جاتا ہے۔

ایک اور یاد جس کو جتنا سوچوں تو وہ اسی قدر قیمتی اثاثہ کی صورت میں دل و جاں کو آسودگی بخشتی ہیں کہ دارالصدر میں چونکہ بڑی تعداد میں مبلغین، سلسلہ کے بزرگ رہائش پذیر تھے، جن کے وجود کی رونقیں، فیوض، ُپرحکمت اور نکتہ فہم اور نکتہ سنج انداز تربیت بے اختیار ان کے لیے دعا پر مجبور کرتے ہیں مولانا سلطان محمودانور، مولانا دوست محمد شاہد، مکرم راجا نصیر احمد، مکرم حافظ مظفر احمد، مولانا مبشر احمد کاہلوں، مکرم شیخ مبارک احمد، مکرم ملک خالد مسعود، مکرم لطیف احمد کاہلوں، مکرم سید عبد الحی شاہ، یہ سب سلسلہ کے خادم اور بےمثل عالم دین کہ ان میں سے کچھ ہستیاں اب آسودہ خاک ہیں، یہ سب حقیقی معنوں میں مرد خدا اور درویش و فرشتہ صفت لوگ تھے اور ہم نو عمری اور بے سمجھی کی وجہ سے اور ان کے کمالات سے بے خبر صرف مولوی صاحب سمجھا اور کہا کرتے اور ہر مرتبہ ان کو دیکھ کر باآواز بلند سلام کرکے اپنے آپ کو عزت واحترام کے سب تقاضوں سے عہدہ برآ خیال کرتے ، مولانا دوست محمد شاہد کا صرف یہ معلوم تھا کہ آپ لائبریری میں کچھ کرتے ہیں، یا مکرم ڈاکٹر سلطان احمد مبشر کے والد گرامی ہیں اور ہماری سیکریٹری ناصرات مکرمہ باجی خالدہ کے ابا جی ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہمارے سلام کا جواب نہایت پیار سے اور با آواز بلند دیتے ہیں، یہ بعد میں آشکار ہوا کہ یہ ہستی جماعت میں اپنے علم تاریخ، یادداشت کی وجہ مؤرخ احمدیت اور ’’حوالوں کے بادشاہ کے طور پر معروف ہے‘‘ مولانا سلطان محمود صاحب انور کی جامہ زیبی اور رکھ رکھاؤ متاثر کرتا تو مولانا مبشر احمد صاحب کاہلوں کو پہلی مرتبہ سادہ ترین حلیے میں اور چارخانی کھیس اوڑھے دیکھ کے اپنی کم علمی و کم عقلی کی وجہ سے یقین نہ آیا کہ یہ جید عالم اور مفتی سلسلہ ہیں لیکن بیان کردہ ہر دو حضرات کو جب فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتے اور نکات علم کی گنجلک گتھیاں انتہائی سہل کرکے کھولتے دیکھا تو پھر یہ تصور دل پر نقش ہوگیا۔

وہ اک شخص کہ دیکھنے میں لگتا تھا کم سخن
جب بولنے پہ آیا زمانے پہ چھا گیا

رمضان المبارک کے بابرکت ایام کی یادیں ان بزرگان سلسلہ کے ذکر کے بغیر بالکل نامکمل ہیں اس دعا کے ساتھ کہ کہ یادوں کا یہ سفر جس کے لیے اس کے در ماضی کو وا کرے ، وہ ان میں سے مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرے کہ اللہ تعالیٰ ان کی لازوال قربانیوں کے ثمرات ہمیشہ جماعت کو عطا فرمائے اور ان کی نیکیوں اور اوصاف کو ان کی نسلوں میں زندہ رکھیں اور جو بزرگان سلسلہ حیات ہیں اللہ تعالیٰ ان کی عمروصحت میں برکت عطا کرے کہ یہ ہستیاں خلفاء احمدیت سے برا ہ راست تربیت یافتہ اور اس عالم پیری میں بھی اپنی دعاؤں کے ساتھ وہ خدمت انجام دے رہی ہیں کہ صحتمندو ں کے لیے مقام رشک ہےاور دل اداسی کی کیفیت میں جب مچل کر کہہ اٹھتا ہے

اے کاش کہ جلد لوٹ آئیں وہ سارے نظارے ربوہ میں

تو ساتھ ہی ایک جوش قلبی کے ساتھ امید کا یہ پیغام بھی اندر سے اُبھرتا ہے کہ بظاہر پابندیوں، رکاوٹوں اور آزمائشوں سے گزر کر کندن ہونے کے بعد فتح بالآخر ہمارا مقدر ہے، اور یہ کسی کے منہ کی زبانی، کلامی نہیں بلکہ الہی وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرستادہ امام وقت سے کیا اور جس کا پورا ہونا تقدیر الہٰی ہے، یہ رونقیں بحال ہو ں گی، وہ نظارے پھر سے لوٹ کر آئیں گے لیکن دعا اور چراغ امید کو اپنا اثاثہ اور زاد راہ بنانا ہوگا۔

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

(زاہدہ یاسمین طارق۔واقف زندگی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ14۔مئی2020ء