• 3 جولائی, 2020

قسط نمبر۔2 – موٹاپا، Obesity دورِحاضرکا ایک خطرناک چیلنج

قسط نمبر۔2

موٹاپے میں مبتلا افراد سے تبادلہ خیال کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ایسے بیشتر افراد مختلف غلط فہمیوں کے سبب موٹاپے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ چندمعروف غلط فہمیاں یوں ہیں۔

کبھی کبھارکے عذرپہ بسیار خوری

اپنی بھرپور پسند کا لذیذکھانا اور دیگر من بھاتے لوازمات موجود پا کراسلام کی تعلیم کے مطابق بھوک رکھ کراعتدال کی حدود میں رہ کر کھاناجن لوگوں کےلئے نا ممکن ہووہ اپنے آپ کو اس خام خیالی میں ڈال کرخوب ٹھونس کر پیٹ بھرلیتے ہیں کہ کبھی کبھار ایسا کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔حالانکہ بسیار خوری کی وجہ سے موٹاپے میں مبتلا ہونے والے تقریباًسبھی لوگ اپنی ابتدا عموماًایسے ہی کرتے ہیں۔ بسیار خوری کی عادت وقتاً فوقتاً ایسا کرنے سے جڑ پکڑتی اور بالآخر بھرپور گرفت میں لے لیتی ہے۔پکنک پارٹیوں اور دیگر دعوتوں پہ جہاں وافر مقدار میں لذیذ کھانے مفت میسرہوں وہاں ایسی بے اعتدالیوں کے سرزد ہونے کا زیادہ احتمال ہوتا ہے۔ عیدِ قربان پہ کئی لوگ زیادہ گوشت کے حامل موٹے اور مہنگے جانور خریدتے ہیں۔ تا زیادہ گوشت کھا سکیں اور لوگوں میں واہ واہ ہو۔ ایسے لوگ نمود و نمائش اور زیادہ گوشت والے جانور کی بجائے اگر کم قیمت پہ چھوٹا جانور خرید لیں او ر بھاری رقوم غربا ءمیں تقسیم کر دیں تو اُن کو نہ صرف حقیقی قربانی کی توفیق ملے بلکہ وہ عیدکے موقع پہ گوشت کی بسیار خوری سے بھی بچ جائیں۔مذہبی اور سوشل میٹنگز اور جلسوں وغیرہ پہ کئی افراد کھانے کے دوران ا نتہائی بیدردی اور سفّاکی سے کھانا ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔ بہت سے ایسے افراد ان مواقع پہ دل کھول کر بسیار خوری کرتے نظر آتے ہیں اوراگر کوئی پر حکمت انداز میں محض بھلائی کی غرض سے بسیار خوری کے بارہ میں توجہ دلانے کی کوشش کرے تو بلا توقف کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو بابرکت لنگر ہے خوب کھانا چاہئیے بفضلِ اللہ تعالیٰ کچھ نہیں ہوگا۔ایسے لوگ اس بابرکت لنگر کا بے برکت استعمال کر رہے ہوتے ہیں نتیجہ کے طور پہ وہ موٹاپے کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں جہاں داخلہ آسان مگر نکلنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

بدہضمی سے بچاؤ کی تراکیب کی آڑ

بعض لوگ خوب ڈٹ کر بسیار خوری کے ریکارڈ بنا رہے ہوتے ہیں تو اُن کے ذہن میں کوئی ہاضمون پھکی ، لیموں کا اچاریا کوئی ہو میو پیتھک دوائی ہوتی ہے کہ وہ جتنا چاہے کھا لیں اگر وہ کسی طورہضم کر لیں گے تو سب خیر ہے اورکچھ چہل قدمی کر لیں گے تو بسیار خوری کی بھی تلافی ہو جائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ حد سے زیادہ کھایا ہوا کھانا کسی بھی ترکیب سے ہضم ہونے سے جسم میں اپنی سب کیلوریز جمع کر دیتا ہے جس کا کفّارہ چہل قدمی سمجھ لینا سراسر بیوقوفانہ خیال ہے ایسی بسیار خوری بہر صورت موٹاپے پہ منتج ہوتی ہے۔زیادہ کھانے سے بدہضمی ہو جائے تو موٹاپے کے لحاظ سے مفید ہو گا لیکن بدہضمی اپنی ذات میں انسانی جسم کو سخت نقصان پہنچاتی ہے۔

محض بھوک پہ کھانے کا بہانہ

کوئی شخص جب کسی قدر موٹاپے میں مبتلا ہو جاتا ہے تو چونکہ اُس نے اپنے وزن میں اضافہ کر لیا ہوتا ہے جو کروڑوں کی تعداد میں جسمانی خلیوں (body cells) کی اضافی تعداد اوران خلیوں کی جسامت کے بڑھ جانے کی وجہ سے ہوتا ہے لہٰذا ایسے شخص کواضافی خلیوں اور وہ بھی بڑی جسامت کے خلیوں کو خوراک مہیا کرنا ہوتی ہے نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ اُسے عام فرد کے مقابلہ میں زیادہ غذا کھانی پڑتی ہے اور پھر زیادہ کھانے کے باوجود جلد بھوک لگ جاتی ہے۔ ایسا شخص محض بھوک لگنے پہ کھاتا جائے تو وہ موٹاپے کی ابتدائی گرفت سے باہر نکلنے کی بجائے موٹاپے کی مزید گرفت میں دھنستا چلا جائے گا۔ اُسے چاہئیے کہ ایک روٹین پہ کاربند ہو کر مقرر کردہ غذا کھائے، بھوک کا مقابلہ کرے اور سختی سے کام لے کیونکہ نرمی موٹاپے سے نکلنے کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے۔بھوک مٹانے کے لئے پھلوں کا استعمال وزن کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ماہرین کی رائے کے مطابق موٹاپے سے بچنے اور اچھی صحت کےلئے روزانہ کم از کم پانچ دفعہ ایک پیالی برابر پھل ،کچی سبزی یاسلاد وغیرہ کا استعمال لازمی کرنا چاہئیے۔

ورزش کو غیر ضروری سمجھنا

بعض لوگ کم علمی سے سمجھتے ہیں کہ روزانہ دوڑ نا اور مختلف قسم کی ورزشیں کرنا محض کھلاڑیوں کا کام ہے ، ایک عام آدمی کےلئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے اور ملازمت وغیرہ کی ڈیوٹی انجام دیتا رہے۔حالانکہ یہ سراسر غلط ہے باقاعدہ ورزش کرنا ہرایک کے لئے ضروری ہے ۔عمر اور صحت کو ملحوظ ِخاطر رکھتے ہوئے ورزش کی نوعیت تو تبدیل ہو سکتی ہے مگر اچھی صحت کے حصول اور قائم رکھنے کے لئے ورزش سے معافی کسی کو بھی نہیں ۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد جیسے پاکستانی، انڈین، بنگلادیشی لوگ ( خصوصاً اِن کی عورتیں اور بڑی عمر کے بزرگ) اس بات سے تو آگاہ ہوتے ہیں کہ باقاعدہ ورزش کرنا صحت کے لئے از بس ضروری ہے مگر اُن کی عملی حالت اور کرتوت اُنہی لوگوں جیسے ہوتے ہیں جن کا اوپر ذکرکیا گیاہے۔نتیجہ کے طور پہ یہ ہر دو طبقہ فکر کے لوگ یکساں طور پہ اپنی صحت کا بیڑا غرق کرکے موٹاپے میں مبتلا ہو کر طبعی عمر سے قبل اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔

دواؤں کاا ستعمال مفید سمجھنا

آبادی کا ایک بڑا طبقہ جن کو انشورنس وغیرہ کے توسط سے مفت دوائیں مل جاتی ہیں یا وہ جنہیں بوجہ مالی فراخی کے خود خریدنا چنداں مشکل نہیں ہوتا وہ روز مرّہ کی معمولی تکالیف کا رفع بلاتردّد دواؤں سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسا کرنا اچھی صحت کےلئے بہت ضروری سمجھتے ہیں، ایسے لوگ وقتی طور پہ ان تکالیف کو کسی حد تک کم یا ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر کھائی جانے والی دواؤں کے منفی اثرات سے جسم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا کر اپنی طبعی عمر کم کر کے اپنی وفات کو قریب کر لیتے ہیں۔ ایسی کھائی جانے والی کئی دوائیں ہیں جو موٹاپا پیدا کرنے کا براہِ راست موجب بن سکتی ہیں۔دواؤں کا استعمال ہر ممکن حد تک کم کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کا دفاعی نظام ایسا بنایا ہے کہ بیشتر بیماریوں کو یہ بغیر کسی بیرونی دوا کے خود بخود دور کر سکتا ہے بشرطیکہ اسے خواہ مخواہ بیرونی سہارے نہ دیے جائیں اور خود کام کرنے کا موقع دیا جائے۔

روزہ کوموٹاپے کا نجات دہندہ گرداننا

لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو روزہ کے دنوں میں عام دنوں سے کہیں زیادہ خوراک کا صفایا کرنا لازمی سمجھتی ہے۔ ایسے لوگ سحری پہ حدِ بساط سے بڑھ کر پراٹھے، نہاری،لسّی، دودھ پتی وغیرہ سے پیٹ بھرنے کے بعد سارا دن جسمانی مشقت سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرتے ہیں پھر افطار کے وقت افطار پارٹیوں وغیرہ پہ مختلف لوازمات مثلاً تلی ہو ئی اشیأ، پکوڑے،سموسے، مٹھائیاں ،جوس اور دیگر لوازمات سے بسیار خوری کے ریکارڈ قائم کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا یہ سمجھنا کہ روزہ موٹاپے کوکم کرنے میں مدد دے گا محض خام خیالی ہی ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو روزہ موٹاپے سے بچانے کی بجائے موٹاپے میں مبتلا کرنے کا موجب بنتا ہے۔رمضان کے روزے اپنی جسمانی خوراک کی مقدار کو کم کرنے اور عادت بنانے کی ٹریننگ کا مہینہ ہیں مگر کئی لوگ اِنہیں خوب پیٹ بھرنے کی ٹریننگ کا مہینہ بنا لیتے ہیں۔موٹاپے کو کم اور ختم کرنے میں رمضان اور باقی دنوں کے روزے بلاشبہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بشرطیکہ غذا کو کم کرنے کے روزوں کے پیغام کومستقل طور پہ اپنا لیا جائے جو روحانی ترقی کے لئے بنیادی زینہ ہے۔

ناشتہ، لنچ اور ڈنر ہلکا پھلکا کرنا

موٹاپے میں مبتلا بعض لوگوں سے بات کی جائے تو وہ کمال معصومیت سے بتاتے ہیں کہ وہ ناشتہ لنچ اور ڈنر تینوں نہایت قلیل مقدار میں کرتے ہیں اور بسا اوقات ناشتہ، لنچ یا ڈنر نہیں بھی کرتے مگر پھر بھی موٹاپے میں بڑھتے جارہے ہیں۔ جب اُن کے کھانے پینے کے معمولات کو قدرے تفصیل سے کریدا جائے تو معلوم ہو گا کہ اُنہیں ناشتے، دوپہراوررات کے کھانوں کے درمیانی اوقات میں وقفوں وقفوں سے کچھ ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ کھاتے پیتے رہنے اور منہ چلاتے رہنے کی ایسی گندی لت پڑی ہوتی ہے کہ معدے کو چین کا سانس ہی نہیں لینے دیتے اور حیرت کی بات یہ ہوتی ہے کہ اس سب کچھ کو کسی کھاتے میں شمار نہیں کرتے۔ اگر حساب لگایا جائے تو معلوم ہو گا کہ اُنہوں نے کھانوں کے درمیان میں چار پانچ ہزار کیلوریز توانائی کی حامل وغیرہ، وغیرہ لوازمات ہڑپ کر لی ہوتی ہیں جن کو وہ شمار میں ہی نہیں لارہے ہوتے اور باقاعدہ کھانے پہ ہلکا کھانا کھانے کو بڑامعرکہ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوںکی صورتِ حال کو خود کو دھوکہ دینے کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے،ہلکے ناشتے، لنچ ، ڈنرنے اُنہیں خاک فائدہ دینا ہوتا ہے کیونکہ ایسے لوگوں کی اصل مرض “وغیرہ ،وغیرہ”کھاتے رہنے کی مرض ہوتی ہے جس سے وہ عموماً بے خبر ہوتے ہیں۔

تفریحی پارٹیوں وغیرہ میں بسیار خوری کو جائز سمجھنا

کئی لوگ اپنی روز مرہ روٹین کی تھکاوٹ و بوریت دور کرنے اورتفریح کی غرض سے وقتاً فوقتاً اپنی فیملی یا دوستوں کے ساتھ پکنک، کسی فاسٹ فوڈ سنٹریاریستوران پہ لنچ ڈنر وغیرہ کرنے جاتے ہیں اورتفریح وغیرہ کے نام پہ قسم قسم کی چیزوں سے پیٹ بری طرح بھرتے ہیں پھر ایسی جگہیں جہاں لنچ ڈنرپہ کوئی کم کھائے یا زیادہ ،بل ایک سا ہی آتا ہے (buffet system) وہاں پہ اکثر و بیشتر اپنی جسمانی توفیق سے بڑھ چڑھ کر بسیار خوری کے نئے ریکارڈ قائم کئے جاتے ہیں۔ اس قسم کی تفریح کے نام پہ پیسے اور صحت دونوں کا نقصان کسی طور بھی عقلمندی نہیں ہے۔ تفریح کےلئے ہائیکنگ، کیمپنگ وغیرہ کرنا اور گھر سے صحت بخش غذائیں، سینڈوچ، سلاد، پھل، خشک میوہ جات وغیرہ ساتھ لے کر جانا مفید رہتا ہے جو تفریح، بچت اور صحت کی بہتری ، الغرض سب کچھ فراہم کرتا ہے۔ شادی بیاہ اور بعض دیگر سماجی تقریبات وغیرہ پہ کئی افراد جو بظاہر خاصے سمجھدار خیال کیے جاتے ہیں کمال بے رحمی سے بسیار خوری کے ریکارڈ قائم کرتے ہیں اور ایسی خوشیوں کے مواقع پہ بھوک رکھ کر کھانے کو حماقت گردانتے ہیں۔ مندرجہ بالا جن اُمور کا ذکر کیا گیا ہے یہ سب نفس امّارہ کے جھوٹے بہانے ہیں جسے زیر کرکے روّیوں میں مستقل مثبت تبدیلی لانا موٹاپے سے بچنے کیلئے از بس ضروری ہے۔

پانی کم پینا اور ائیر کنڈیشنڈ میں زیادہ وقت گزارنا

اگرچہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد جانتی ہے کہ کم پانی پینے سے کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور کم پانی پینا موٹاپے کا باعث بھی بنتا ہے، مگر چونکہ بوجہ زیادہ وقت ائیرکنڈیشنڈ میں گزارنے کے پسینہ نہیں آتا اور پیاس نہیں لگتی اس لئے لوگوں کی اکثریت دن میں دو تین گلاس سے زیادہ پانی نہیں پیتی اور موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہے، ڈاکٹرز کم از کم آٹھ دس گلا س پانی روزانہ پینا ضروری قرار دیتے ہیں۔ ایشین لوگوں کی اکثریت گھروں میں ہائی اے سی آن رکھتی ہے اور گاڑیوں میں بھی لازماً اے سی آن رکھتے ہیں جبکہ یہاں کی مقامی انگریز اکثریت گاڑیوں میں بہت شاذ اے سی آن کرتی ہے

موٹاپے کے ضمن میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس کا علاج انتہائی مشکل ہے اور یہ ایک مسلسل اور ناقابلِ بیان کٹھن جہادہے لہٰذا موٹاپے سے بچے رہنامعرفت کا اصل بھید ہے۔ موٹاپے کے نتیجہ میں جسم کے مختلف نظاموں پہ ایسے بوجھ پڑتے ہیں جن کو اٹھانا اُن کی قدرتی ساخت اور استطاعتِ کار سے باہر ہوتا ہے اور نتیجہ مختلف خطرناک بیماریوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ موٹاپے سے دور رہنے کے لئے اپنے آپ کو طیّب غذا تک محدود رکھنا چاہئے۔حلال اشیاء حدِ اعتدال سے زیادہ کھائی جائیں تو وہ غیرطیب ہوںگی اور جسم کو نقصان پہنچائیں گی لہٰذا اپنی غذا کی قسم کے علاوہ مقدار میں بھی طیب کا خیال رکھنا ضروی ہے۔ مناسب مقدار میں پھل، خشک میوہ جات، سلاد، سبزیاں، سویا بین، مچھلی کا گوشت وغیرہ کھاناغذا کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔اسی طرح کم نمک اور کالی مرچ ڈال کر سبزیوں وغیرہ کے سوپ اور مختلف سبزیاں اور چھلکے سمیت دالیں ابال کر کھانے کی عادت ڈالنی چاہئے جبکہ زیادہ مرچ مصالحوں اور تڑکا لگی چٹ پٹی چیزیں کھانے سے دور رہنا چاہئے۔روزمرّہ کھائی جانے والی غذا میں موجود کیلوریز اور وٹامنزسے آگاہی انتہائی اہم ہے،انٹر نیٹ کی بدولت اپنی خوراک میں موجود اجزاء اور کیلوریز کی تعداد کا تعیّن کرنا انتہائی آسان ہو چکا ہے۔ذیل میں بعض غذاؤں میں موجود کیلوریز کو ایک ٹیبل کی شکل میں دیا جارہا ہےنام اشیأ بمع مقدار،کیلوریز کی تعدادموجود اہم اجزأ عمومی کیفیت صحت کے لحاظ سے 2سلائس+ 1کپ دودھ1+چمچ شہد200+150کاربوہائیڈریٹس، کیلشیم، متفرق نمکیات۔ صبح کاناشتہ صرف اسی قدر کیا جائے تو کافی ہے، (total 350 Cal)

عام سائز کی دو روٹیاں+مچھلی سالن+سلاد+ کپ قہوہ شہد دو چمچ70+70+250+60وٹامن سی، و دیگر
دوپہر کا لنچ ،ہول وھیٹ اور کم نمک والا مفید ہے جبکہ بن چھلکے والی روٹی اور بھرپور نمکین نقصان دہ (total 450 cal) انگور دو سوگرام، ایک سیب، ایک مالٹا، ایک کیلا،دو عدد آلو بخارے 100+90+100+100+60وٹامن سی، فولاد، کاربوہائیڈریٹس

دن میں مختلف پھلوں اور خشک فروٹ سے اس مقدار میں کچھ کمی بیشی کیلوریز چار، پانچ مر تبہ لینا مفید رہتا ہے ۔(total 350 x 4 =1400 cal) عام سائز کی ایک روٹی+سبزی سالن+ کپ قہوہ 100+70+100+30کاربوہائیڈریٹس، کیلشیم، متفرق نمکیات ۔

رات کا ہلکا ڈنر (total 300 Cal) انڈا ایک عدد80 کیلشیم، میگنشیم کاربونیٹ ،آئیو ڈین، پروٹین، اس کے علاوہ فاسفورس، وٹامن بی 2, 5, 12 وٹامن ڈی اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں شہد ایک چمچ 600 کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، علاوہ ازیں سوڈیم، فائبر،کاربوہائیڈریٹس، شوگر، گلوکوز، کیلشیم، پوتاشیم، زنک، میگنیشیم، آئرن، وٹامن سی، کاپر، فلورائڈ اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں چاکلیٹ 1عدد400آئرن، میگنیشیم، فاسفورس، پوٹاشیم، کاربوپائیڈریٹس

ایک جوان آدمی جس کا کام محض دفتری نوعیت کا ہو وہ اگر ناشتہ میں ایک سیب، کچھ انگور، یا گرے فروٹ وغیرہ کھا لے تو کافی ہے، دوپہر کے لئے گھر سے ایک چپاتی یا ہول وہیٹ(چھلکے سمیت گندم والی) بریڈ کے دو پیس، کچھ سالن، سلاد اور کھانے کے دو گھنٹے بعد کے لئے کسی قدر پھل فروٹ رکھ لے تو بچت کے علاوہ صحت کے لئے بھی مفید ہے۔رات کا کھانا بھی ایک چپاتی،سبز چائے (green tea) اور دودھ کے ایک کپ سے زیادہ نہیں ہونا چاہئیے۔ اگر کسی کا کام زیادہ مشکل اور لمبے دورانیے کا ہو تو اُسے لنچ وغیرہ کے علاوہ موسمی پھل اور خشک میوہ جات ساتھ رکھ لینے چاہئیں، خشک میوہ جات میں بادام، مونگ پھلی، خشک آلو بخارا، بھنے ہوئے چھلکے سمیت کالے چنے وغیرہ نہایت مفید ہیں۔کیلوریز کا خرچ ہونا آدمی کی جسامت اور کیے جانے والے کام پہ منحصر ہوتا ہے۔جیسا کہ چارٹ کی شکل میں یوں دیاجاتاہے۔

جسم کا وزن (پونڈوں میں)
ہلکی ورزش،(کیلوریز فی منٹ)
درمیانی ورز ش،(کیلوریز فی منٹ)
سخت ورزش،(کیلوریز فی منٹ)
شدید ورزش، (کیلوریز فی منٹ) باغبانی، والی بال، گالف وغیرہ
چلنا، ٹینس، وزن اٹھانا، سائیکل چلانا وغیرہ
درمیانی جاگنگ، تیز چلنا، تیراکی، سیڑھیاں اُترنا وغیرہ
تیز جاگنگ،دوڑنا، رسہ جمپ ، سیڑھیاں چڑھنا وغیرہ

اس چارٹ سے یہ نتیجہ باآسانی نکالا جاسکتا ہے کہ جہاں تک ورزش کے ذریعہ موٹاپے کے علاج کا تعلق ہے تو یہ ایک محال اور مشکل بات ہے کیونکہ کیلوریز کے خرچ کا تخمینہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اصل حل کم کیلوریز لینے میں ہے مثلاًیک گھنٹہ تیز چلنے سے اوسط جسامت کا آدمی تقریباً 700 کیلوریز صرف کرتا ہے اور ایک پونڈ وزن کم کرنے کے لئے مزید اضافی کچھ کھائے پئے بغیر تقریباً پانچ گھنٹے چلنا ہو گا،لہٰذا اپنی غذا پہ بھرپور کنٹرول رکھتے ہوئے ایک گھنٹہ اضافی چلنے سے ایک ہفتے میں ایک پونڈ وزن کم کیا جا سکتا ہے۔

موٹاپے کے ضمن میں متفرق عوامل

  • عمومی طور پہ امیر مُلکوں میں غریب لوگ جبکہ غریب مُلکوں میں امیر لوگ موٹاپے میں مبتلاپائے جاتے ہیں، غریب ملکوں کے امیر لوگ اپنے ہاتھ سے نہ کام کرنے اورزیادہ غذا کے استعمال کے سبب موٹے ہو جاتے ہیں، دوسری طرف امیر ملکوں کے غریب لوگ بوجہ سستا ہونے کے ٹن پیک پراسسڈ غذائیں زیادہ استعمال کرتے ہیں اوربوجہ مالی تنگی کے کئی مسائل کا شکار رہتے ہیں نیز ورزش وغیرہ بھی نہیں کر پاتے۔ اُنہیں کبھی دن اور کبھی رات کی ڈیوٹی شفٹ میں کام کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے کبھی بہت کم نیند میسر آتی ہے اور کبھی بیجا زیادہ سونا پڑتا ہے، طبی تحقیق کے مطابق کم یا زیادہ نیند کیوجہ سے بھی موٹاپا لاحق ہو جایا کرتا ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو موٹاپا آ گھیرتا ہے۔
  • ایشیا افریقہ وغیرہ غریب ممالک سے ترکِ وطن کر کے ترقی یافتہ ممالک میں آبسنے والے غریب لوگوں کی ایک بڑی تعداد موٹاپے کا شکار ہو جاتی ہے ان میں خاص طور پہ عورتیں بوجہ جسمانی طور پہ غیر فعّال ہونے کے موٹاپے کا تر نوالہ بنتی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان، انڈیا وغیرہ سے نقل مکانی کرکے شمالی امریکہ میں آبسنے والے لوگوںمیں30 سال سے زائد عمر کے ایسے افراد جو 3سال سے زیادہ عرصہ سے یہاں قیام پذیر ہیں اُن میں ہر10 افراد میں سے8 افراد کسی قدرموٹاپے کا شکار پائے گئے ہیں اس کے مقابل یہاں پہ مقیم اس عمر کے انگریز لوگوں میں یہ تناسب اس کے برعکس ہوتا ہے۔
  • بعض لوگوں کا ذریعہ معاش موٹاپا لاحق کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتاہے،یورپ، سکنڈے نیویا، نارتھ امریکہ، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا، جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ، سنگا پوروغیرہ اور مالی طور پہ آسودہ حال دیگر ممالک جیسے تیل اور دیگر ذخائر کے حامل عرب ممالک وغیرہ ہیں ان میں ترکِ وطن کر کے آنے والے لوگوں کی ٹیکسی اور ٹرک ڈرائیونگ کے پیشوں سے منسلک ایک بڑی تعداد موٹاپے کی گرفت میں آ جاتی ہے کیونکہ ایسے لوگ ضرورت سے کہیں زیادہ غذا کھاتے ہیں جبکہ انہیں جسمانی مشقت کا موقع بہت کم ملتاہے ایسے لوگوں کو موٹاپے کے بد اثرات کا شعور عموماً نہیں ہوتا۔ وہ ان ممالک میں آنے کے بعد مرغن غذائیں اور مٹھائیاں وغیرہ جو یہاں آنے سے قبل کبھی کبھار کھایا کرتے تھے یہاں پہ بوجہ معاشی آسودگی کے زیادہ شد و مد اور تواتر سے کھانا اپنی عادتِ ثانیہ بنا لیتے ہیں ، ایک انگریز ڈاکٹر کے بقول ان عوامل کی وجہ سے ترکِ وطن کر کے آئے ہوئے ایشین افریقن لوگ چالیس پچاس سال کی عمر میں بوجہ موٹاپے کے مکھیوں کی طرح مرنے لگتے ہیں جبکہ اُن(گوروں) کیلئے یہ زندگی کا سنہری دور ہوتا ہے۔ ایک ڈاکٹر جس نے مٹھائی سموسوں، پکوڑوں وغیرہ پہ کسی قدر تحقیق کی اس نتیجہ پہ پہنچا کہ ان میں موجود سبھی اشیاءسے بچ کررہنا ایک انتہائی خظرناک دشمن کے وار سے بچنا ہے اور اگراُس کے دائرہ اختیار میں ہو تو یہ چیزیں تیار کرنے والی جملہ دوکانوں کو بند کروا دے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔موٹاپے سے پیدا شُدہ مسائل، بیماریوں اور موٹاپے کے علاج کے بارہ میں ہم انشأ اللہ تعالیٰ اس مضمون کی اگلی قسط میں اظہار ِ خیال کریں گے۔

ہدیہ تشکر۔ خاکسار اس مضمون میں غلطیوں کی اصلاح،بعض اہم ترامیم اور اضافوں کے مشوروںپہ محترم ڈاکٹر ہارون اختر صاحب اور محترم ڈاکٹر ظفراللہ صاحب کا تہہ دل سے مشکور ہے۔ رائے، تبصرہ یا سوال کیلئے ای میل zafarwaqark@gmail.com

(ڈاکٹر محمد وقار ظفر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ14۔مئی2020ء