• 3 جولائی, 2020

توبہ اور نیکی کی ٹوکری

یہ 1973ء کی بات ہےجب خاکسار جامعہ احمدیہ سے فراغت کے بعد لاٹھیانوالہ ضلع فیصل آباد میں متعین ہوا اور وہاں خدمت کی توفیق ملی۔ اگست کے مہینہ میں خاکسار نے دو ہفتوں کی چھٹیاں لیں اس وقت مکرم مولانا احمد خان نسیم صاحب مرحوم ناظر اصلاح و ارشاد مقامی ہوتے تھے۔ انہوں نے خاکسار کی درخواست منظور کر لی اور یوں اس طرح دو ہفتوں کی چھٹیاں گزارنے خاکسار اپنے گاؤں چنی گوٹھ ضلع بہاولپور چلا گیا۔ یہاں میری دادی جان مرحومہ (سیدہ دولت بی بی) ، والد صاحب اوروالدہ مرحومہ رہائش پذیر تھے۔

ابھی ایک دو دن ہی گزرے تھے کہ شدید بارشیں شروع ہو گئیں۔ یہاں ہمارا رقبہ ہے اس کے ساتھ ہی ہیڈ پنچنند جہاں پر سارے دریا آکر ملتے ہیں ۔ اس قدر بارشیں اور سیلاب آیا کہ ہزار ہا میل تک گاؤں، شہر، آبادیاں، رقبہ، فصلیں سب کچھ تباہ و برباد ہوگئے۔ پانی کا بہاؤ اس قدر زبردست تھا کہ خانپور کے علاقہ میں مکانوں کے روشن دانوں سے پانی نکلنے کی خبر تھی ۔ کیونکہ ساری نہریں توڑ دی گئی تھیں۔ ہیڈ پنچنند سے پانی کا بہاؤ سنبھالا نہیں جا رہا تھا۔

ہمارا گھر گاؤں میں بڑے اونچے ٹیلے پر واقعہ تھا۔ اور گھر سے 1/4 میل کے فاصلہ پر ایک قبرستان تھا جو بہت اونچا تھا۔ ہمارے اردگرد کے سب لوگ گھروں میں پانی آجانے کی وجہ سے اس قبرستان میں چلے گئے تھے۔ ساتھ ہی مال مویشی بھی لے گئے تھے۔ ہمارا گھر چونکہ ٹیلے پر واقعہ تھا اس لئے ہم نے سو چا کہ یہاں پانی کے آنے کا امکان نہیں ہے اس لئے گھر چھوڑ کر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن دو دن بعد ہمیں فیصلہ کرنا پڑا کہ نہیں ہمیں بھی گھر چھوڑ کر جہاں باقی لوگ گئے ہیں ( یعنی قبرستان کے ٹیلہ پر ) جانا چاہیے چنانچہ ہم نے اپنے مویشی ،گھر کا کچھ سامان ، کھانے پینے کی کچھ اشیاء ، برتن، چولہا وغیرہ لے کر قبرستان ہی جا ڈیرہ لگایا ۔ اس وقت T.V تو زیادہ نہیں ہوتے تھے ریڈیو ہی پر خبریں سنتے تھے۔ ہمارے پاس بھی ایک ریڈیو تھا جس پر سیلاب کی خبر یں ہی آتی تھیں۔ بڑی خوفناک قسم کی!

پانی اور سیلاب کا ریلا ، ہر روز زیادہ سے زیادہ ہوتا جارہا تھا قبرستان سے ہمارے گھر کے درمیان 1/4میل کا فاصلہ تھا کسی ضرورت کے لئے گھر جانا پڑتا تو اب ہم پانی میں سے ہو کر پیدل نہیں جاسکتے تھے، پانی 9-8فٹ سے اونچا آچکا تھا۔ کشتی بھی نہیں تھی ہمارے پاس گُڑ بنانے کے لئے ایک بڑا کڑاہا ہوتا تھا۔ اسے ہم نے بطور کشتی بنایا اور ا سطرح آنا جاتا ہوتا تھا۔

یہ ایسا خوفناک نظارہ تھا۔ پھر قبرستان میں بھی پانی آنا شروع ہوگیا۔ اور بعض قبریں پانی کی نذر ہوگئیں۔ قبرستان رات کو کچھ ہوتا صبح اس کی شکل اور بدل جاتی تھی قبریں بیٹھ رہیں تھیں۔ کہیں سے ہڈیاں اور کہیں سے مچھر اور دوسرے کیڑے مکوڑے نکلتے تھے۔

اس وقت خاکسار نے پہلی دفعہ دیکھا کہ لوگ ، ہر جگہ اذانیں دے رہے تھے، رات کو ،دن کو ،صبح کو ، شام کو،نمازوں کےلیے نہیں بلکہ بلاء کے دور ہونے کے لئے۔ یعنی سیلاب سے بچنے کے لئے۔ # دن کے وقت تو کچھ پتہ نہ چلتا تھا مگر رات کو بڑی خوفناک رونے کی آوازیں آتی تھیں ،کچھ لوگ درختوں پر چڑھ گئے تھے۔ درختوں پر سے رونے کی آوازیں آتی تھیں اور یہ بھی پتہ نہ لگتا تھا کہ کون ہے؟ اور کہاں سے یہ آوازیں آرہی ہیں اور ان کی مدد کس طرح کی جائے چنانچہ کچھ دنوں کے بعد ہیلی کاپٹرز کے ذریعہ ان لوگوں کو مدد ملی۔

ہم چونکہ قبرستان میں تھے۔ خواتین ،مرد،بچے ،جانور مویشی ، اب یہ ہوا کہ چند دنوں ہی میں خوراک بھی ختم ہو گئی ۔ جانوروں کا چارہ بھی ختم ہو گیا ۔ لوگ جانوروں کو ذبح کر کے کھانے لگے۔

پانی کاریلا ،سیلاب اس قدر خوفناک تھا کہ بس اللہ کی پناہ ، وہ بات جو آج سے 113 سال پہلے خدا کے فرستادہ نے اپنی کتاب حقیقۃالوحی میں فرمائی تھی کہ

’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آ تی جاتی ہے، نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشمِ خود دیکھ لو گے، مگرخدا غضب میں دھیما ہے توبہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جواس سے نہیں ڈرتا وہ ایک مردہ ہے نہ زندہ۔‘‘

(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد22 صفحہ 269)

اُس وقت کے اخباروں نے لکھا کہ یہ سیلاب بالکل اس طرح کا سیلاب ہے جو نوح ؑ کے زمانے میں آیا تھا۔

قبرستان میں روزوشب کا حال یہ تھا کہ اگرچہ وہاں پر150-100 سے زائد لوگ تھے۔ خاکسار کی اقتداء میں کچھ لوگ پانچوں نمازیں باجماعت پڑھتے تھے، درس دینے کی بھی توفیق ملتی تھی، نصائح ، توبہ اور استغفار کی تلقین کی جاتی تھی۔ آنحضرت ﷺ کی سیرت کے واقعات بیان کئے جاتے تھے۔خاکسار کے علاوہ بھی کچھ اور لوگ تھے جو اپنی نمازیں ہم سے الگ پڑھتے تھے۔ لیکن ایک بات سب میں مشترک تھی کہ خدا کے حضور توبہ کرتے، دعا کرتے اور ہر جگہ سے آذانوں کی آوازیں آتی تھیں ۔ لوگ خدا کے حضور توبہ کر رہے تھے۔

خدا تعالیٰ نے رحم فرمایا اور پھر یہ سیلابی کیفیت ختم ہو گئی ۔ لوگ نارمل حالات میں آنے لگے،لیکن وہ توبہ کیا تھی، وہ تو صرف چند دن کی توبہ تھی ۔ اس توبہ کے بعد چاہئے تو یہ تھا کہ ملک میں ہر جگہ امن ہو جاتا ، بد دیانتی ، رشوت ، بے ایمانی ، ملاوٹ ختم ہو کر ایک دوسرے کی مدد کی جاتی ، جھوٹ، فریب ، دھوکہ دہی ختم ہو جاتی مگر ایسا نہ ہوا ۔

اِس وقت جب کہ تمام دنیا کرونا وائرس کی وبا میں مبتلاء ہے تو ایک بار پھر اذانوں کی آوازیں گونج رہیں ہیں۔ اس وقت ہر جگہ T.V میسر ہے ہر جگہ پر نظر آجاتا ہے کہ گلی ،بازاروں میں، گھر میں، چھتوں پر ، ہر جگہ اذانیں دی جارہی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔

تکلیف، مصیبت، پریشانی کے وقت توبہ تو ہر شخص کرتا ہے۔ لیکن اس کے بعد توبہ پر کتنی دیر تک قائم رہتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے۔ قرآن کریم میں اس کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے ۔

سورۃ العنکبوت آیت67-66 کا ترجمہ یوں ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
پس جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں اُسی کے لئے اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لے جاتا ہے تو اچانک وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔

تاکہ وہ ناشکری کریں اُس کی جو ہم نے انہیں عطا کیا اور تاکہ وہ کچھ عارضی فائدہ اٹھالیں۔ پس وہ عنقریب (اس کا نتیجہ) جان لیں گے۔

اس آیت میں انسانی فطرت کا حال بیان کی گیا ہے۔ مشرک ہو، کافر ہو، مسلمان ہو ، جب وہ مصیبت میں پھنستے ہیں تو خدا کو یاد کرتے ہیں۔

باقیوں کی تو ہم بات نہیں کرتے، وہ لوگ جو اسلام کے دعویدار ہیں، ان کی توبہ کی حقیقت سامنے آرہی ہے۔ کیونکہ جب انسان توبہ کرتا ہے تو پھر خدا کا رحم پہلے سے بڑھ کر آتا ہے پہلے سے بڑھ کر انہیں روحانی، اخلاقی ترقیاں اور کامیابیاں نصیب ہوتی ہیں۔ 1973ء کے سیلاب پر سارے ملک نے توبہ کی، خدا سے گناہوں کی معافی مانگی، لیکن اس کے بعد کیا حالات ہوئے۔ اس توبہ کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا، ملک کے حالات بتا رہے ہیں، ریڈیو، اخباراتT.V پر لوگ بیان کررہے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے تو فرمایا ہے ۔

وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں کسی پہ ظلم نہیں کرتا ، لیکن لوگ اپنے نفسوں پر خود ظلم کرتے ہیں۔

چند دن ہوئے T.V پر ایک شخص نے یہ کہا کہ اگر یہ بتا دیا جائے کہ کل کو قیامت آنے والی ہے تو اس وقت اپنے مصلّوں (جائےنماز) کی قیمت دگنی کر دیں گے۔

ٹی وی پر یہ تبصرے بھی سنے کہ بعض غریب لوگ اپنے ہاتھوں میں برتن لے کر کھڑے ہیں۔ رورہے ہیں کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ، بھوکے ہیں ہمارے بچے وغیرہ لیکن جوں ہی انہیں کچھ دیا جائے ۔ وہ دور جاکر اس خوراک کو چھپا دیں گے اور پھر واپس آکر اسی طرح کھڑے ہو جائیں گے۔ اور اگر انہیں کہا جائے کہ آئیں ہم آپ کو مزدوری دیتے ہیں تو انکار کر دیں گے۔

حسن نثار ایک معروف تجزیہ نگار ہیں، ان کا ایک بیان یوٹیوب پر سنا اور دیکھا جس میں انہوں نے توبہ کے حوالہ سے چند باتیں مسلمانوں کے کرتوت کے بارے میں بیان کیں ۔ انہوں نے کہا کہ

’’اس وقت بہت سارے لوگ توبہ کی طرف مائل ہیں۔ وہ دعائیں بھی کررہے ہیں لیکن کرتوت کا ذکر نہیں کر رہے کیونکہ توبہ کا اور دعاؤں کا کرتوتوں کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ یعنی کیا اس بات پر ندامت ہے،توبہ ہے کہ آج تک میں نے جو ذلت کمائی ہے،گناہ کئے ہیں گند کیا ہے کیا اس پر توبہ ہے؟ کیا آئندہ کے لئے بھی کچھ کروں گا؟‘‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ دعائیں اجتماعی بھی ہورہی ہیں۔ بہتیرے ایسے ہیں جو آپ کی اس اجتماعی توبہ اور دعا میں شامل ہی نہیں ہیں۔ ان کی توبہ کی پھر حقیقت ہے؟ وہ تو توبہ کر ہی نہیں رہے اور جو کر رہے ہیں وہ بھی آئندہ کے لئے نہیں صرف اس وقت تک کہ گناہوں پر توبہ ہے۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ اللہ رب العزت کو ناپسند ہے۔ جو کم تولتا ہے، کم دیتا ہے ملاوٹ کرتا ہے ہم میں سے نہیں۔ رشوت لینے والا، رشوت دینے والا جہنمی ہے ملک میں خوشی منائی جارہی ہے کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے شرح سود میں کمی کردی ہے؟

رہ گئی دعائیں،تو کتنی صدیوں سے لوگ کروڑوں دعائیں مانگ رہے ہیں تو پھر ان کی یہ دعائیں نتیجہ خیز کیوں نہیں؟ کیوں اس پر غور نہیں کرتے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ کوئی خفا ہے ہم سے،کوئی ناراض ہے ہم سے ، وہ کون ہے؟ کہ جس کے اذن سے حکم سے پتہ بھی نہیں ہلتا۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں لیکن بدکار ہوں۔ ایک غیر مسلم کی بیوہ کی جائیداد پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ میں مسلمان ہوں ، کلمہ گو ہوں، پنچگانہ نمازیں پڑھتا ہوں لیکن قبضہ کسی مسکین اور بیوہ کی زمین پر کیا ہوا ہے ۔ میں مسلمان ہوں ، مصلے پر بیٹھا ہوں، دعا مانگ رہا ہوں، کہ اے اللہ! تیری عدالت میں ہوں اللہ، میری دعا قبول فرما۔

رب وہ جو منصفوں کا منصف ہے ۔اس بیوہ کی دعا کو سنے گا یا میری دعا سنے گا۔

اسی قسم کی بات ایک عالم دین فضل رحیم نے چند دن پہلے ٹی وی چینل C-44۔ جو UK-ED کے لیے تھا ، نے بھی کی ۔ انہوں نے بھی کہا کہ ہم مسلمان ہیں پر کم تولتے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ، غیبت کرتے ہیں، مہنگائی کردیتے ہیں۔ منافع خوری کرتے ہیں، قرضہ مار لیتے ہیں، بندوں کے ساتھ ہمارے معاملات ٹھیک نہیں ہیں، اس نے اور بہت سے گناہ گنوائے جو اس وقت مسلمان کر رہے ہیں انہوں نے حضرت ابو ہریرۃ ؓ کی یہ روایت بھی سنائی کہ آخری زمانے میں ایسے لوگ نکل کھڑے ہوں گے جو دین کو دھوکے کا ذریعہ بنا کر دنیا کمائیں گےتاکہ اپنی عظمت ان کے دلوں میں بٹھا کر دنیا کمائیں۔

میرے یہ سب کچھ لکھنے کا مقصدنہ کسی کی ہتک مقصود ہے اور نہ ہی کسی کو آئینہ دکھانا مقصود ہے بلکہ اپنی زندگی کے تجربات بتا رہا ہوں اور حقیقت حال سے پردہ اٹھا رہا ہوں، کہ ایک وقت وہ تھا جب میں نے اپنی ہوش میں پہلی مرتبہ 1973ء کے سیلاب میں آذانیں سنی ، اور اب 2020ء میں کرونا وائرس کی وجہ سے ہر جگہ آذانیں سنائی دی جارہی ہیں۔ 1973ء سے 2020ء تک کے درمیان کا زمانہ قریباً 47سال بنتا ہے۔ اس دوران تو ہمارے اخلاق میں توبہ کی وجہ سے بہت تبدیلی آجانی چاہئے تھی۔ کیونکہ سب نے رو رو کر دعا ئیں مانگیں، سب نے آذانیں دے دے کر توبہ کی، لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ لوگ اپنی شوخیوں میں، تکبر میں اور جاہلیت میں، ظلم کرنے میں، ملاوٹ کرنے میں، بے ایمانی میں، غیبت میں، دھوکہ دہی ہیں۔ کسی کے مال پر ناجائز قبضہ کر لینے میں، لوٹ کھسوٹ اور جھوٹ میں، پہلے سے ہزار گنا اور بڑھ گئے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ میرے خیال میں اس لئے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہم جو چاہیں کریں ہماری بخشش کے لئے آنحضرت ﷺ نے قیامت کے دن ہماری شفاعت کردینی ہے ۔ ہم ختم نبوت پر ایمان لانے والے ہیں کیونکہ ہم نے ایمان لا کر ختم نبوت کی حفاظت کردی ہے ہمارا یہی کارنامہ اللہ رب العزت کو پسند ہے ۔ خواہ ختم نبوت والے کی باتوں پر عمل کریں یا نہ کریں۔ کیونکہ اس کے نام لیوا ہیں۔ اس کی امت ہیں۔ خدا کا کرم ہے ہمارے لئے کھلا ہے ۔ ادھر مولوی حضرات بھی کسی کے اخلاق سنوارنے کی فکر میں نہیں ہیں ذرا یہ بھی پڑھئے۔

مولوی کی دکانداری

’’آج کل کا مولوی اسلام کو پیچیدہ اس لئے بتاتا ہے کہ ’’مذہب مولوی کی ذاتی ملکیت بن چکا ہے۔‘‘ قرون اولیٰ میں مولوی کا وجود ہی نہ تھا اور مذہب ہر شخص کے خدا سے براہ راست تعلق کا نام تھا۔ ہر شخص قرآن کو خود کھولتا تھا اور خدا سے بلا واسطہ احکام لیتا تھا۔ آج مولوی اسی دین کو مسلمان کے پاس قیمتاً فروخت کرتا ہے اور جب تک وہ اس میں الجھنیں اور مشکلیں پیدا نہ کر دکھائے خاطر خواہ قیمت نہیں ملتی۔ ادھر چونکہ ہر مولوی اپنا مال بڑھ بڑھ کر بیچنا چاہتا ہے اس لئے سب مولویوں میں دردناک اختلاف پیدا ہو گیا ہے ۔ ہر دکاندار اس میں ذراسی تبدیلی پیدا کرکے کھرا مال جتلانا چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب کسی کو کھرے مال کی پہچان نہیں رہی۔ گاہک اور دکاندار دونوں لڑرہے ہیں اور منڈی کے بازار کی طرح ہر طرف کہرام مچا ہے۔‘‘

(علامہ عنایت اللہ خان المشرقی)

اس پر میں کچھ تبصرہ نہیں کروں گا۔ اب میں توبہ کی طرف آتا ہوں کہ توبہ کسے کہتے ہیں۔ اور توبہ ہوتی کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کسی قسم کی توبہ کو پسند کرتا ہے اور اس کے پھر کیا نتائج نکلتے ہیں کیوں کہ یہ بات بہت اہم ہے ۔

حضرت امام الزمان ؑ فرماتے ہیں۔
’’توبہ دراصل حصول اخلاق کے لئے بڑی محرک اور مؤیّد چیز ہے اور انسان کو کامل بنا دیتی ہے یعنی جو شخص اپنے اخلاق سیئہ کی تبدیلی چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ سچے دل اور پکے ارادے کے ساتھ توبہ کرے ۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ توبہ کی تین شرائط ہیں، بدوں ان کی تکمیل کے سچی توبہ جسے توبۃ النصوح کہتے ہیں، حاصل نہیں ہوتی۔ ان ہرسہ شرائط میں سے

پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کردیا جاوے جو ان خصائل ردیہ کے محرک ہیں….

دوسری شرط ندم ہے ۔ یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا….تیسری شرط عزم ہے۔ یعنی آئندہ کے لئے مصمم ارادہ کرلے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کرے گا اور جب وہ مداومت کرے گا تو خدا تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا۔‘‘

پھر فرماتے ہیں: ’’ہماری جماعت میں شہ زور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیلی اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں یہ ایک امر واقعی ہے کہ وہ شہ زور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے، نہیں نہیں ، اصلی بہادر وہی ہے جو تبدیل اخلاق پر مقدرت پاو‘‘

(ملفوظات جلد اول ص88-87)

ریاض الصالحین جو احادیث کا ایک بہت اچھا مجموعہ ہے اس کے دوسرے باب میں توبہ کا بیان ہے مترجم حافظ صلاح الدین یوسف نے توبہ کے بارے میں چند مفید باتیں لکھی ہیں جن کو میں یہاں درج کرتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ

’’علماء نے کہا ہے کہ توبہ ہر گناہ سے واجب ہے ۔ اگر گناہ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے تو ایسے گناہ سے توبہ کی قبولیت کی 3 شرطیں ہیں پہلی یہ کہ اس گناہ کو چھوڑ دے جس سے وہ توبہ کر رہا ہے دوسرے یہ کہ اس پر ندامت (پشیمانی ) کا اظہار کرے، تیسری یہ کہ وہ پختہ ارادہ کرے کہ آئندہ کبھی یہ گناہ نہیں کرے گا۔ اگر ان تین شرطوں میں سے ایک شرط بھی مقصود ہوگئی تو توبہ صحیح نہیں ہوگی اور اگر اس گناہ کا تعلق دوسرے آدمیوں سے ہوگا تو پھر اس کی 4 شرطیں ہیں۔ 3 شرطیں تو وہی جن کا اظہار ہو چکا ہے چوتھی شرط یہ ہوگی کہ وہ صاحب حق کا حق ادا کرے۔ اگر کسی کا مال یا اسی قسم کی کوئی چیز ناجائز طریقے سے لی ہے تو اسے واپس کرے۔وغیرہ‘‘

(ریاض الصالحین ص46-45)

ریاض الصالحین میں علامہ نووی نے توبہ کے ضمن میں یہ قرآنی آیت بھی لکھی ہے۔

وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۔

(النور:32)

یعنی اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک اسے غرغرہ نہ ہو ( یعنی عالم نزع اس پر طاری نہ ہو)

(حدیث نمبر 8 ریاض الصالحین)

حضرت امام الزمان ؑ فرماتے ہیں۔
’’توبہ کا درخت بھی بالکل ایک باغ کے درخت کی مانند ہے جو جوحفاظتیں اور خدمات اس باغ کے لیے جسمانی طورسے ہیں وہی اس توبہ کے درخت کے واسطے روحانی طور پرہیں پس اگر توبہ کے درخت کا پھل کھانا چاہوتو اس کے متعلق قوانین اور شرائط کو پورا کرو ورنہ بے فائدہ ہو گا ۔ یہ خیال نہ کرو کہ توبہ کرنا مرنا ہوتا ہے ۔خدا قلیل شئے سے خوش نہیں ہو تا اور نہ وہ دھوکہ کھاتا ہے ۔دیکھواگر تم بھوک کو دورکرنے کے لیے ایک لقمہ کھا نے کا کھاؤ یا پیاس کے دور کرنے کے لیے ایک قطرہ پانی کا پیوتو ہرگزتمہارا مقصد براری نہ ہو گی ۔ایک مرض کے دفع کرنے کے واسطے ایک طبیب جو نسخہ تجویزکرتا ہے جب تک اس کے مطابق پوراپورا عمل نہ کیا جاوے تب اس کے فائدہ کی امید امر موہوم ہے….

اگر توبہ کے ثمرات چاہتے ہو تو عمل کے ساتھ توبہ کی تکمیل کرو…..ایمان کی تکمیل کے لئے عمل کی از حد ضرورت ہے اگر ایمان کے ساتھ عمل نہیں ہوں گے تو بوٹے خشک ہو جائیں گے اور وہ خائب و خاسر رہ جائیں گے۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم ص152-153)

فرمایا : ’’اس بات کو خوب سمجھ لو کہ جب پورا خوف دامنگیر ہو اور جان کندن کی سی حالت ہوگئی ۔اس وقت توبہ، توبہ نہیں۔ جب بلا نازل ہوگئی پھر اس کا رد کرنا اللہ تعالٰی کے ہی ہاتھ میں ہے ۔تم بلا کے نزول سے پہلے فکرِ کرو ۔جو بلا کے نزول سے پہلے ڈرتا ہے عاقبت بین اورباریک بین ہوتا ہے اور بلا کے آجانے کے وقت تو کافر بھی ڈرتے ہیں…..بہت دُعائیں کرتے رہو تاکہ ان بلاؤں سے نجات ہو اور خاتمہ بالخیر ہو ۔عملی نمونہ کے سوا بیہودہ قیل قال فائدہ نہیں دیتی اور جیسے ضروری ہے کہ ڈر کے سامانوں سے پہلے ڈرنا چاہیے ۔یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ڈر کے سامان قریب ہوتو ڈر جاؤ اور جب وہ دور چلے جاویں تو بیباک ہو جاؤ بلکہ تمہاری زندگی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے بھری ہوئی ہو خواہ مصیبت کے سامان ہوں یا نہ ہوں۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم ص173)

فرمایا: ’’جیسے آج کل سنا گیا ہے کہ ہندو اور سکھ لوگ طاعون کے ڈر سے مسلمانوں کو بلا بلا کر اپنے گھروں میں بانگ دلواتے ہیں، مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں،غرض اس وقت یہ لوگ نرم ہو جاتے ہیں، جب غرض نکل گئی تو پھر ویسے ہی سخت قلب ہوگئے ، مومن کی یہ حالت نہ چاہئے بلکہ اسے خدا سے صدق اور وفا سے دعا کرنی چاہئے۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم ص173 حاشیہ)

آپؑ نے یہ بھی فرمایا ہے ’’حقیقی توبہ انسان کو خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اوراس سے پا کیزگی اور طہارت کی توفیق ملتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ (البقرۃ:223) یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور نیز ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گناہوں کی کشش سے پاک ہونیوالے ہیں….آنحضرت ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ گناہوں سے توبہ کر نے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا اس نے کوئی گناہ نہیں کیا یعنی توبہ سے پہلے کے گناہ اس کے معاف ہو جاتے ہیں…..اگر اس نے خدا تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کی ہے تو اسے چا ہئے کہ اب اپنے گناہوں کا نیا حساب نہ ڈالے اور پھر اپنے آپ کو گناہ کی ناپاکی سے آلودہ نہ کر ے بلکہ ہمیشہ استغفار اور دعاؤں کے ساتھ اپنی طہارت اور صفائی کی طرف متوجہ رہے اور خدا تعالیٰ کو راضی اور خوش کرنے کی فکر میں لگا رہے اور اپنی اس زندگی کے حالات پر نادم اور شرمسار رہے جو تو بہ کے زمانہ سے پہلے گذری ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم ص433-432)

پس حقیقی توبہ کے تو معنی ہیں کہ انسان خدا کا قرب حاصل کرتا ہے ۔ اس کی رضا اور اس کی خوشنودی اسے حاصل ہوتی ہے یہ عجیب بات ہے کہ 1973ء کے سیلاب کا خاکسار نے ذکر کیا ہے اور اس وقت خاکسار نے مشاہدہ کیا تھا کہ ہمارے ملک کے سارے باشندوں نے توبہ کی۔ اذانیں دیں ، مولود کئے، قوالیاں گائیں، درگاہوں پر منتیں کیں، اور اب 47 سال کے طویل عرصہ گزرنے کے بعد خاکسار نے اپنی زندگی میں دوبارہ مشاہدہ کیا کہ پہلی توبہ جو لوگوں نے کی تھی، اس کے بعد غیر اخلاقی باتوں میں، لوٹ کھسوٹ، جھوٹ، دغابازی، فریب و دھوکہ ملاوٹ اور بے ایمانی میں ترقی ہوئی ہے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا اس وقت ٹی وی کی نشریات پر بڑے بڑے ہر مکتبہ فکر کے عالم کہہ رہے ہیں۔ العیاذ باللّٰہ

اب بات چل نکلی ہے T.V پر علماء کی تو خاکسار نے اکثر T.V چینلوں پر جو بات سنی ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ قرب قیامت کی نشانی ہے ۔ اب امام مہدی نے آنا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ

ہم تو شکر کریں گے کہ اگر اب بھی امام مہدی آجائیں ۔ اب تو ان کے آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن مجھے ایک بات کا اندیشہ ہے اور سخت خطرہ ہے کہ جن کے لئے وہ آئیں گے وہ انہیں بھی جھٹلا دیں گے۔

اب پھر اس کرونا وائرس کی بلا اور آفت کے وقت اذانوں کا سلسلہ جاری ہے شائد ہمار ے لوگ اسے ہی کافی سمجھتے ہیں کہ اذان سے بلا ٹل جائے گی۔ یہ تو بہت ہی آسان طریق ہے۔ اصل طریق جو اپنی اخلاقی تربیت ہے وہ نہیں کریں گے۔ صرف اذان دے کر ہی آفت اور مصیبت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں حالانکہ علماء کی باتیں میں نقل کر آیا ہوں کہ انہوں نے بیان کیا ہے کہ ہم مسلمان ہر قسم کی برائی کی انتہاء کو چھو چکے ہیں۔

نیکی کی ٹوکری

میں نے عثمانیوں کی ایک کہانی پڑھی ہے اس کہانی میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے روٹی پکانے کا تنور لگایا ہوا ہے۔ وہ روٹی پکا پکا کر ایک طرف رکھتا جاتا ہے گاہک بھی آتے ہیں اور اس سے روٹی خرید تے ہیں ۔ چنانچہ ایک گاہک آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے دو روٹی دے دیں۔ لیکن وہ پیسے 4 روٹیوں کے دیتا ہے ۔ تنوروالا اسے کہتا ہے تم نے پیسے زیادہ دئیے ہیں۔ ہاں ، دو روٹیوں کے پیسے زیادہ ہیں ان کی دو روٹیاں نیکی کی ٹوکری میں ڈال دیں (تنوروالے نے ایک دوسری طرف ایک بڑی سی ٹوکری لٹکائی ہوتی ہے ) چنانچہ تنور والا دو روٹیاں اس ٹوکری میں ڈال دیتا ہے ۔ پھر اور گاہک آتا ہے اور وہ بھی کچھ روٹیاں زائد پیسے دے کر اس نیکیوں کی ٹوکری میں روٹی ڈلوا دیتا ہے ۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ ایک غریب ، مسکین خاتون بھی آتی ہے اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تنور والے کو وہ آکر کہتی ہے کہ مجھے روٹی دے دیں۔

تنور والا اس نیکی کی ٹوکری سے 4 روٹیاں نکالتا ہے اور اس غریب خاتون کو دیتا ہے۔ خاتون جب روٹیوں کو گنتی ہے تو وہ چار روٹیاں ہیں۔ تو وہ دو روٹیاں واپس کر دیتی ہے کہ مجھے آج صرف دو روٹیوں کی ضرورت ہے چار کی نہیں اور اس طرح ہوتا رہتا ہے۔

اس کہانی میں ہماری قوم کے لیے بہت سارے سبق ہیں۔ جو انہیں خود معلوم کرنے چاہئیں اگر ایسا کرتے رہیںگے جس طرح تنور والے نے کہا ، جس طرح گاہکوں نے کیا اور جس طرح غریب خاتون نے غریب ہونے کے باوجود دو روٹیاں واپس کر دیں تو خدا رب العزت کو یہ بات پسند آئے گی۔ اور اس کا رحم سب کے شامل ہوگا لیکن اس وقت وطن عزیز میں T.V چینلز پر دیکھنے سے یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ ہماری قوم اس احساس سے ابھی بہت دور ہے بلکہ اس احساس کے قریب قریب بھی نہیں آئی ۔ وہی جھوٹ، دغا، دھوکہ، بے ایمانی، حرص، لالچ پنپ رہی ہے تو توبہ کیسے قبول ہو؟

کیا خدا ایسے لوگوں کی توبہ قبول فرمائے گا جو ظالم ہوں۔ دوسروں کے حقوق مارتے ہوں اور جن میں رحم نہ ہو اور جو تکبر و غرور کا تاج پہنے رکھتے ہوں اور غرباء اور مساکین سے بالکل ہمدردی نہ کرتے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سوچنے کی توفیق دے۔ آمین

آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ
مومن وہ نہیں کہ جو خودتو پیٹ بھرکر کھانا کھاتا ہو۔ لیکن اس کے پہلو میں اس کا ہمسایہ بھوکا ہو۔

پس یہ نیکی کی ٹوکری ایک بہترین مثال ہے کہ باہم ہمددری اور خیر خواہی ہو،لالچ نہ ہو۔کیا اس احساس کے بغیر ہم پر امن معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا۔
’’پس یہ معیار ہے ایک مومن کا چاہے وہ مرد ہے یا عورت کہ برائیوں سے بچنے کے لئے ایک پکا ارادہ کرے اور اس پر پھر قائم رہنا ہے اور اس کے لئے اگر جان بھی قربان کرنی پڑے تو اس کی بھی پروا نہیں کرنی۔ نہ یہ کہ اس دنیا کی رنگینیوں یا لوگوں کی باتوں سے متاثر ہو کر ان دنیوی برائیوں میں پڑ جانا اور پھر اس حد تک چلے جانا کہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہی دل سے نکل جائے۔

اس قسم کی توبہ کرنے اور دنیاوی آلائشوں اور برائیوں سے بچنے کے لئے استغفار ضروری ہے جہاں ان سب دنیاوی برائیوں سے انسان بچ سکے۔ آج کل تو قدم قدم پر دنیاوی برائیاں ہیں۔ ٹی وی کھول لیں وہاں برائیاں۔ انٹرنیٹ کھول لیں وہاں برائیاں۔ بازار میں چلے جائیں وہاں برائیاں۔ سکول میں چلے جائیں وہاں برائیاں۔ نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے میں کوئی ایسی محفوظ جگہ نہیں ہے جہاں برائیاں نہ ہوں۔ پس ان سے بچنے کے لئے توبہ اور استغفار ضروری ہے۔‘‘

(الفضل لندن 21 جنوری 2020ء)

اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کے مطابق اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ میں صحیح معاشرہ تشکیل دینے کی توفیق دے۔

؏ ہمیں بھی بادہ یثرب سے عشق ہے ساقی
ہمارا نام بھی لکھ لینا بادہ خواروں میں

(سید شمشاد احمد ناصر۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ14۔مئی2020ء