• 3 جولائی, 2020

سگریٹ نوشی اور نفسیاتی دباؤ

انسانی جسم پر سگریٹ نوشی کے بد اثرات سے کس کو انکار ہے؟سگریٹ نوشی کینسر جیسی موذی مرض، دل کی جان لیوا بیماری،سانس کی تکلیف، دانتوں کے مسائل، معدے کے السر ، ہڈیوں کی کمزوری کئی اور متعدد بیماریوں کی وجہ بن جاتی ہے لیکن پھر بھی لاکھوں لوگ اس بری عادت میں نہ صرف مبتلا ہیں بلکہ اس کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مختلف قسم کی تحقیقات سے انسانی صحت پر سگریٹ نوشی کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کا تو سب کو علم ہے لیکن جدید مطالعہ سے اس کے ذہن پر پڑنے والےاثر نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اس کا لوگوں میں شعور بیدار کیا جائے۔ دماغی امراض کے ماہرین اس تجسس میں ہیں کہ یہ جان لیں کہ سگریٹ نوشی دماغی صحت پریاان لوگوں پر جو کہ پہلے ہی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں کس طرح اثر انداز ہوتی ہے ۔

سربیا کی بلگراد یونیورسٹی اور کوسووو کی پریسٹینا یونیورسٹی کے ایک مطالعہ سے معلوم ہؤا ہے کہ ذہنی دباؤ کا سگریٹ نوشی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس مقصد کے لئے 2138طلبا ء پر تحقیق کی گئی اور نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ سگریٹ نوشی کرنے والوں میں ذہنی دباؤ کی زیادتی کی مثبت علامات پائی گئیں نیز سگریٹ نوشی کرنے والے طلباء کے سگریٹ نوشی نہ کرنے والےطلباء کے مقابلہ میں اس بیماری میں مبتلا ہونے کا دو سے تین گناہ زیادہ امکان ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ وہ طلباء جو مستقل اس عادت میں مبتلاہیں ان میں ذہنی دباؤ اور دماغی کمزوری کی زیادہ علامات پائی گئیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ صحت مند لوگوں کی نسبت ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں میں سگریٹ نوشی کی عادت کا زیادہ رجحان ہے۔ صرف یو کے میں ہی ذہنی دباؤ کے شکار لوگوں میں ان لوگوں کی نسبت جن میں یہ بیماری نہیں ہے سگریٹ نوشی کا رجحان دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ ایک سروے کے مطابق انگلینڈ میں کل استعمال شدہ سگریٹ کا 42 فیصد ایسے لوگ استعمال کرتے ہیں جو اس ذہنی عارضہ میں مبتلا ہیں۔ ایک اور بات یہ کہ اس مرض میں مبتلا لوگ چھوٹی عمر میں ہی سگریٹ کا استعمال شروع کر دیتے ہیں، بہت زیادہ سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور عام پبلک کی نسبت اس نشہ کے عادی ہو جاتے ہیں۔ پس سگریٹ نوشی اور ذہنی دباؤ کے مریضوں میں دوہرا تعلق ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ سگریٹ نوشی میں ملوث زیادہ تر لوگ اس کے استعمال سے فوری طور پر سکون اورا ٓرام محسوس کرتے ہیں جس وجہ سے وہ اس دھوکے میں رہتے ہیں کہ شاید سگریٹ نوشی بے چینی، گھبراہٹ اور ذہنی دباؤ کو کم کرتی ہے۔ ان کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ان کے موڈ میں اس قسم کی بہتری انتہائی عارضی اور وقتی ہوتی ہے اور سگریٹ کی مزید طلب کے ساتھ ساتھ بے چینی اور چڑچڑے پن میں اضافہ کرتی ہے۔اور اس طرح تمباکو کے زہرنکوٹین کے مستقل استعمال سے اس نشہ کی لت پڑ جاتی ہے اور پھر اگر انسان سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہے تو اس میں اس سے علیحدگی کے نتیجہ میں انتہائی خطرناک علامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جنہیں میڈیکل کی زبان میں Withdrawal Symptoms کہا جاتا ہے ۔

سگریٹ نوشی ترک کرنا اتنا آسان نہیں لیکن انتہائی لائق تحسین فعل ہے اور اس کی قدرو قیمت کااندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ دماغ سے لے کر ڈی این اے تک یہ جسم کے ہر حصہ پر مثبت اور مفید اثر ڈالتا ہے۔ دماغی اور جسمانی صحت پر پڑنے والے چند مثبت اثرات کا ذکر درج ذیل ہے۔

  • سگریٹ نوشی ترک کرنے سے ذہنی دباؤ، بے چینی اور گبھراہٹ میں کمی آتی ہے اور زندگی پر مثبت اثرات دیکھنے میں آتے ہیں۔
  • مزاج بہتر ہوتا ہے، خوداعتمادی اور کچھ کرنے کی تمنا میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • ان کا یہ فعل بالآخر دیگر دماغی امراض کے خلاف حفاظتی عنصر کا کام کرتا ہے۔
  • نفسیاتی بیماریوں جیسا کہ ذہنی تناؤ کو کم کرنے والی ادویات کا استعمال کم ہو جاتا ہے۔
  • شراب نوشی اور دوسرے نشوں سے بچنے کی قوت ملتی ہے۔
  • دائمی دمہ، سانس کی بیماریوں ، تمباکو سے متعلقہ کینسر اور دل کی امراض کے خطرہ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔
  • کولیسٹرول لیول میں کمی ہوتی ہے۔
  • پیٹ کی بیماریوں جیسے تیزابیت، معدہ کے السر اور انتڑیوں کی بیماریوں کا خدشہ بھی کم ہو جاتا ہے۔
  • ہمارے جسم میں جانے والی خوراک سے جسم زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
  • جسم کے دیگر عضلات، دانتوں اور ہڈیوں میں بہتری آتی ہے۔
  • وائرس اور بیکٹیریا کے خلاف جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • الغرض مجموعی طور پر زندگی کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

چندت جاویز

  • سگریٹ نوشی کے ترک کرنے کے لئے خوداپنی مدد آپ کے لئے ذیل میں چند مفید تجاویز پیش خدمت ہیں۔
  • سگریٹ نوشی کے ترک کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علامات، جو کہ ہر دوسرے بندے میں مختلف ہوتی ہیں ، جن میں سے سردرد، متلی، مزاج کا اتار چڑھاؤ، اضطراب، بے چینی، چڑچڑا پن، دماغی غیر حاضری، دل کی دھڑکن میں تیزی(اختلاج قلب) عام ہیں، جن کے لئے تیار رہنا چاہئے۔
  • اپنی فیملی اور دوستوں سے بات کریں۔ ان کی مدد اور تعاون اس مقصد میں کامیابی کے لئے یقینی طور پر آپ کو قوت ، مظبوط عزم، حوصلہ اور ارادہ بخشے گا۔
  • ان محرکات سے پرہیز کریں جو آپ کو سگریٹ نوشی کی یاد دلاتے ہوں۔ جیسے وہ جگہیں جو آپ کو سگریٹ نوشی کی یاد لاتے ہیں یا وہ لوگ جو سگریٹ نوشی کی عادت میں ملوث ہوں، ان سے دور رہیں اور قطیعت سے ان کو بتائیں کہ جب آپ ان کے پاس ہوں تو وہ سگریٹ نوشی نہ کریں۔ اپنے گھر سے ہر اس چیز کو ہٹا دیں جو آپ کو سگریٹ نوشی کی یاد دلائیں۔ کوشش کریں کہ ان لوگوں کے واقعات پڑھیں جنہوں نے سگریٹ نوشی ترک کی ہو اور وہ نشہ سے پاک کامیاب زندگی گزار رہے ہوں اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔
  • زندگی کے بارہ میں مثبت نقظہ نظر کو اپنانے کی کوشش کریں۔
  • زیادہ آکسیجن حاصل کرنے کے لئے اور پھیپھڑوں کی گنجائش بڑھانے کے لئے غور و فکر، یوگا آسن اور سانس کی ورزش پر زور دیں۔
  • نکوٹین کے متبادل کے طور پر نکوٹین چیونگم، لوزینجز اور پیچز وغیرہ کا استعمال کریں۔ (نوٹ) مزید تفصیل کے لئے کسی سپیشلسٹ فزیشن سے ملنا چاہئے۔
  • سگریٹ نوشی کی وجہ سے وٹامن اور دھات کی کمی کو پورا کرنے کے لئے متوازن غذا کا استعمال کریں۔ سوزش کو کم کرنے والی وٹامن اے، سی، ای، ڈی اور غذا میں اناج، سبزیوں، مالٹوں، لیموں، پنیر، شملہ مرچ، براکلی، پالک، انڈوں، مچھلی، خشک میوہ جات اور بیج وغیرہ کا استعمال بڑھائیں۔ اسی طرح نظام ہضم کو بہتر کرنے کے لئے دہی ، لسی اور خمیروغیر ہ کا استعمال کریں۔
  • جسم کو سگریٹ نوشی کی وجہ سے زہر آلود مادے سے پاک کرنے کے لئے روزانہ کم ازکم ڈھائی تین لٹر پانی کا استعمال کریں۔ سکنجبین،مارگریٹا وغیرہ کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ سگریٹ نوشی کے ترک کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علامات کوبہت سے لوگوں میں کافی حد تک کم کرتا ہے۔
  • ذہنی اور جسمانی دباؤ پیدا کرنے والے بیرونی عناصر سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنے جسم کو متحرک اور فعال بنانے اور قلبی صلاحیت کو بڑھانےکے واسطے ورزش یا اپنی پسند کی کھیل میں حصہ لینا ضروری ہے۔
  • نشہ کے عادی لوگوں سے نمٹنے کے لئے ماہر ڈاکٹرز کو مل کر اصل وجہ جاننے کی کوشش کرنی چاہئے۔
  • بہرحال سگریٹ نوشی کے ترک کرنے کے نتیجہ میں ان مسائل سے افاقہ ممکن ہے۔ہمیشہ ان کے لئے راستہ بھی ہوتا ہے اور امید بھی ہوتی ہے، جو مضبوط ارادے اور حوصلے کے ساتھ ماہرین، دوستوں اور اپنے چاہنے والوں کی مدد سے اس عادت کو ترک کرنا چاہتے ہیں۔ دیر آید درست آید۔شام کا بھولا گھر آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ کسی بھی وقت اپنی دماغی صحت کی طرف متوجہ ہونا بہتر ہے۔ آجکل کے ہنگامہ خیز اور پر شور دور میں ہر وہ عادت جو آپ کی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے ، اس کو اپنی زندگی سے علیحدہ کر دینا اوراور اپنے آپ کو صحت مند رکھنا اور آجکل کی تیزی سے پھیلتی ہوئ بین الاقوامی وبا کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرناانتہائی ضروری ہےاور سگریٹ نوشی کو ترک کرنا آپ کی صحت کی طرف ایک اہم قدم ہو گا۔نیک تمناؤں کے ساتھ۔اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔آمین

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ14۔مئی2020ء