• 20 ستمبر, 2020

مریم شادی فنڈ میں شمولیت کی تحریک

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نصیحت فرمائی:۔

مریم شادی فنڈ میں شمولیت کی تحریک

اس ضمن میں امراء کو میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اب بھی یہ کہتا ہوں، دوبارہ تحریک کر دیتا ہوں کہ مریم شادی فنڈ میں ضرور شامل ہوا کریں اور خاص طور پر جو صاحبِ حیثیت ہیں اور جب ان کے بچوں کی شادیاں ہوتی ہیں اس وقت یہ ضرور ذہن میں رکھا کریں کہ کسی نہ کسی غریب کی شادی کروانی ہے۔

حق مہر کا مسئلہ

پھر شادی بیاہوں میں مہر مقرر کرنے کا بھی ایک مسئلہ ہے۔ یہ بھی رہتا ہے ہروقت۔ اور اگر کبھی خدانخواستہ کوئی شادی ناکام ہو جائے تو پھر لڑکے کی طرف سے اس بارے میں لیت و لعل سے کام لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پھر ان کے خلاف ایکشن بھی ہوتا ہے۔ اس لئے پہلے ہی سوچ سمجھ کر مہر رکھنا چاہئے دنیا دکھاوے کے لئے نہ رکھنا چاہئے بلکہ ایسا ہو جو ادا ہو سکے۔ ایسا مہر مقرر نہ ہو، جیسا کہ مَیں نے کہا، صرف دکھاوے کی خاطر ہو اور پھر معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والا ہو۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مَیں نے انصار کی ایک عورت کو شادی کا پیغام بھجوایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کوئی چیز ہوتی ہے۔ اس نے کہا مَیں نے اسے دیکھ لیا ہے۔ آپ نے فرمایا تو مہر کیا رکھ رہے ہو؟ اس نے کہا چار اوقیہ چاندی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا چار اوقیہ؟۔ سوال کیا۔ چاراوقیہ گویا تم اس پہاڑ کے گوشے سے چاندی کھود کر اسے دو گے۔ ہمارے پاس اتنا نہیں ہے جو ہم تجھے دیں لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ ہم تمہیں کسی مہم پر بھجوا دیں وہاں سے تم کچھ مال غنیمت حاصل کر لو۔ پھر آپ نے ایک دستہ بنی عبس کی طرف بھجوایا تو اس شخص کو اس میں شامل کیا۔

(مسلم کتاب النکاح۔باب ندب من اراد نکاح امرأۃ الی ان ینظر الی وجھھا وکفیھا قبل خطبتھا)

تو دیکھیں مہر کے بارے میں بھی آپ نے یہ پسند نہیں فرمایا کہ طاقت سے بڑھ کر ہو۔ جو اس کی حیثیت کے مطابق نہیں تھا تو کہا یہ بہت زیادہ ہے۔ اور پھر یہ بھی پتہ تھا کہ آپ سے مانگے گا، نظام سے درخواست کرے گا۔ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا کہ مہم پر جاؤ مال غنیمت مل گیا تو اس سے اپنا مہر ادا کر دینا اور یہی بات ہے کہ مہر جو ہے سوچ سمجھ کر رکھنا چاہئے جتنی توفیق ہو جتنی طاقت ہو۔

مہر ایک ایسا معاملہ ہے جس کی وجہ سے بہت سی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔ قضاء میں بہت سارے کیس آتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر تو بڑی عجیب صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ شادی سے پہلے لڑکی والے لڑکے کو باندھنے کی غرض سے زیادہ مہر لکھوانے کی کوشش کرتے ہیں اور شادی کے بعد اگر کہیں جھگڑے کی صورت پیدا ہو جائے، طلاق کی صورت ہو جائے، تو لڑکے بہانے بنا کر اس کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر نظام کے لئے اورمیرے لئے اور بھی زیادہ تکلیف دہ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں سزا بھی دینی پڑتی ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر2005ء) (الفضل انٹرنیشنل 16تا22دسمبر2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 14 اگست 2020ء