• 1 اکتوبر, 2020

خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین مورخہ 13؍ جنوری 2017ء

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

فرمودہ مورخہ 13؍ جنوری 2017ء بمطابق 13؍ صلح1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح۔ مورڈن

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دین اور مذہب ان کی آزادی کو سلب کرتا ہے اور ان پر پابندیاں لگاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ (الحج: 79) یعنی دین کی تعلیم میں تم پر کوئی بھی تنگی کا پہلو نہیں ڈالا گیا بلکہ شریعت کی غرض تو انسان کے بوجھوں کو کم کرنا اور صرف یہی نہیں بلکہ اسے ہر قسم کے مصائب اور خطرات سے بچانا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ دین یعنی دین اسلام جو تمہارے لئے نازل کیا گیا ہے اس میں کوئی بھی ایسا حکم نہیں جو تمہیں مشکل میں ڈالے بلکہ چھوٹے سے چھوٹے حکم سے لے کر بڑے سے بڑے حکم تک ہر حکم رحمت اور برکت کا باعث ہے۔ پس انسان کی سوچ غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام غلط نہیں ہو سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہو کر ہم اس کے حکموں پر نہیں چلیں گے تو اپنا نقصان کریں گے۔ اگر انسان عقل نہیں کرے گا تو شیطان جس نے روز اول سے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ میں انسانوں کو گمراہ کر کے نقصان پہنچاؤں گا وہ انسان کو تباہی کے گڑھے میں گرائے گا۔ پس اگر اس کے حملے سے بچنا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننا ضروری ہے۔ بعض باتیں بظاہر چھوٹی لگتی ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کو معمولی سمجھنے کی وجہ سے ان کے نتائج انتہائی بھیانک صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ پس ایک مومن کو کبھی بھی کسی بھی حکم کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے۔

آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی اکثریت دین سے دور ہٹ گئی ہے اس لئے ان کے برائی اور اچھائی کے معیار بھی بدلتے جا رہے ہیں۔ مثلاً اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ آزادی اور فیشن کے نام پر عورتوں مردوں میں ننگ عام ہو رہا ہے۔ ترقی یافتہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ کھلے عام بے حیائی کی جائے۔ حیا نام کی کوئی چیز نہیں رہی اور ظاہر ہے اس کا اثر پھر ہمارے بچوں اور بچیوں پر بھی ہو گا جو یہاں رہتے ہیں اور کچھ حد تک ہو بھی رہا ہے۔

بعض بچیاں جب جوانی میں قدم رکھنے لگتی ہیں تو مجھے لکھتی ہیں کہ اسلام میں پردہ کیوں ضروری ہے؟ کیوں ہم تنگ جین اور بلاؤز پہن کر بغیر برقع کے یا کوٹ کے گھر سے باہر نہیں جا سکتیں؟ کیوں ہم یہاں یورپ کی آزاد لڑکیوں جیسا لباس نہیں پہن سکتیں؟

پہلی بات تو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ اگر ہم نے دین پر قائم رہنا ہے تو پھر ہمیں دینی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا۔ اگر ہم نے یہ اعلان کرنا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور دین پر قائم ہیں تو پھر پابندی بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر، ان کے حکموں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الایمان باب امور الایمان حدیث 9)

پس حیا دار لباس اور پردہ ہمارے ایمان کو بچانے کے لئے ضروری ہے۔ اگر ترقی یافتہ ملک آزادی اور ترقی کے نام پر اپنی حیا کو ختم کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دین سے بھی دُور ہٹ چکے ہیں۔ پس ایک احمدی بچی جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے اس نے یہ عہد کیا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گی۔ ایک احمدی بچے نے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے، ایک احمدی شخص نے، مردنے، عورت نے مانا ہے، اس نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے اور یہ مقدم رکھنا اُسی وقت ہوگا جب دین کی تعلیم کے مطابق عمل کریں گے۔ یہ بھی ہماری خوش قسمتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں ہر بات کھول کھول کر بیان فرما دی ہے۔ چنانچہ اس بے پردگی اور بے حیائی کے بارے میں آپ ایک جگہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
‘‘یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی لوگ زور دے رہے ہیں لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں۔ یہی عورتوں کی آزادی فسق وفجور کی جڑ ہے۔ جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو۔ اگر اس کی آزادی اور بے پردگی سے ان کی عفّت اور پاکدامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔ لیکن یہ بات بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطرناک ہوں گے۔ بدنظر ڈالنی اور نفس کے جذبات سے اکثر مغلوب ہو جانا انسان کا خاصّہ ہے۔ پھر جس حالت میں کہ پردہ میں بے اعتدالیاں ہوتی ہیں اور فسق و فجور کے مرتکب ہو جاتے ہیں تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہو گا۔ مَردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔ نہ خدا کا خوف رہا ہے، نہ آخرت کا یقین ہے۔ دنیاوی لذات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ پس سب سے اوّل ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مَردوں کی اخلاقی حالت درست کرو۔ اگر یہ درست ہو جاوے اور مَردوں میں کم ازکم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے نفسانی جذبات کے مغلوب نہ ہو سکیں تو اُس وقت اِس بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں۔ ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گویا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے۔ اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے۔ کم از کم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں کہ آیا مَردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورتوں کو بے پردہ ان کے سامنے رکھا جاوے‘‘۔

(ملفوظات جلد 7 صفحہ 134-135۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

آجکل کے معاشرے میں جو برائیاں ہمیں نظر آ رہی ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ایک لفظ کی تصدیق کرتی ہیں۔ پس ہر احمدی لڑکی لڑکے اور مرد اور عورت کو اپنی حیا کے معیار اونچے کرتے ہوئے معاشرے کے گند سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ یہ سوال یا اس بات پر احساس کمتری کا خیال کہ پردہ کیوں ضروری ہے؟ کیوں ہم ٹائٹ جِین اور بلاؤز نہیں پہن سکتیں؟ یہ والدین اور خاص طور پر ماؤں کا کام ہے کہ چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو اسلامی تعلیم اور معاشرے کی برائیوں کے بارے میں بتائیں تبھی ہماری نسلیں دین پر قائم رہ سکیں گی اور نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کے زہر سے محفوظ رہ سکیں گی۔ ان ممالک میں رہ کر والدین کو بچوں کو دین سے جوڑنے اور حیا کی حفاظت کے لئے بہت زیادہ جہاد کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے اپنے نمونے بھی دکھانے ہوں گے۔

پھر اسی طرح ایک بچی نے پچھلے دنوں مجھے خط لکھا کہ میں بہت پڑھ لکھ گئی ہوں اور مجھے بینک میں اچھا کام ملنے کی امید ہے۔ مَیں پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر وہاں حجاب لینے اور پردہ کرنے پر پابندی ہو، کوٹ بھی نہ پہن سکتی ہوں تو کیا مَیں یہ کام کر سکتی ہوں؟ کام سے باہر نکلوں گی تو حجاب لے لوں گی۔ کہتی ہے کہ مَیں نے سنا تھا کہ آپ نے کہا تھا کہ کام والی لڑکیاں اپنے کام کی جگہ پر اپنا برقع، حجاب اتار کر کام کر سکتی ہیں۔ اس بچی میں کم از کم اتنی سعادت ہے کہ اس نے پھر ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ آپ منع کریں گے تو کام نہیں کروں گی۔ یہ اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ یہ ایک نہیں کئی لڑکیوں کے سوال ہیں، تو پہلی بات یہ ہے کہ مَیں نے اگر کہا تھا تو ڈاکٹرز کو بعض حالات میں مجبوری ہوتی ہے۔ وہاں روایتی برقع یا حجاب پہن کر کام نہیں ہو سکتا۔ مثلاً آپریشن کرتے ہوئے۔ ان کا لباس وہاں ایسا ہوتا ہے کہ سر پر بھی ٹوپی ہوتی ہے، ماسک بھی ہوتا ہے، ڈھیلا ڈھالا لباس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تو ڈاکٹر بھی پردے میں کام کر سکتی ہیں۔ ربوہ میں ہماری ڈاکٹرز تھیں۔ ڈاکٹر فہمیدہ کو ہمیشہ ہم نے پردہ میں دیکھا ہے۔ ڈاکٹر نصرت جہاں تھیں بڑا پکّا پردہ کرتی تھیں۔ یہاں سے بھی انہوں نے تعلیم حاصل کی اور ہر سال اپنی قابلیت کو نئی ریسرچ کے مطابق ڈھالنے کے لئے، اس کے مطابق کرنے کے لئے یہاں لندن بھی آتی تھیں لیکن ہمیشہ پردہ میں رہیں بلکہ وہ پردہ کی ضرورت سے زیادہ پابند تھیں۔ ان پر یہاں کے کسی شخص نے اعتراض کیا، نہ کام پر اعتراض ہوا، نہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت میں اس سے کوئی اثر پڑا۔ آپریشن بھی انہوں نے بہت بڑے بڑے کئے تو اگر نیّت ہو تو دین کی تعلیم پر چلنے کے راستے نکل آتے ہیں۔ اسی طرح مَیں نے ریسرچ کرنے والیوں کو کہا تھا کہ کوئی بچی اگر اتنی لائق ہے کہ ریسرچ کر رہی ہے اور وہاں لیبارٹری میں ان کا خاص لباس پہننا پڑتا ہے تو وہ وہاں اس ماحول کا لباس پہن سکتی ہیں بیشک حجاب نہ لیں۔ وہاں بھی انہوں نے ٹوپی وغیرہ پہنی ہوتی ہے لیکن باہر نکلتے ہی وہ پردہ ہونا چاہئے جس کا اسلام نے حکم دیا ہے۔ بینک کی نوکری کوئی ایسی نوکری نہیں ہے کہ جس سے انسانیت کی خدمت ہو رہی ہو۔ اس لئے عام نوکریوں کے لئے حجاب اتارنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جبکہ نوکری بھی ایسی جس میں لڑکی روزمرّہ کے لباس اور میک اَپ میں ہو، کوئی خاص لباس وہاں نہیں پہنا جانا۔ پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حیا کے لئے حیادار لباس ضروری ہے اور پردہ کا اس وقت رائج طریق حیادار لباس کا ہی ایک حصہ ہے۔ اگر پردہ میں نرمی کریں گے تو پھر اپنے حیا دار لباس میں بھی کئی عذر کر کے تبدیلیاں پیدا کر لیں گی اور پھر اس معاشرے میں رنگین ہو جائیں گی جہاں پہلے ہی بے حیائی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ دنیا تو پہلے ہی اس بات کے پیچھے پڑی ہوئی ہے کہ کس طرح وہ لوگ جو اپنے مذہب کی تعلیمات پر چلنے والے ہیں اور خاص طور پر مسلمان ہیں انہیں کس طرح مذہب سے دُور کیا جائے۔ سوئٹزرلینڈ میں ایک لڑکی نے مقدمہ کیا کہ مَیں لڑکوں کے ساتھ سوئمنگ کرنے میں حجاب محسوس کرتی ہوں مجھے سکول پابند کرتا ہے کہ مِکس سوئمنگ ہو گی۔ مجھے اس کی اجازت دی جائے کہ علیحدہ لڑکیوں کے ساتھ مَیں سوئمنگ کروں۔ ہیومن رائٹس والے جو انسانی حقوق کے بڑے علمبردار بنے پھرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے تم یہ چاہتی ہو کہ علیحدہ کرو، یہ تمہارا ذاتی حق تو ہے لیکن یہ کوئی ایسا بڑا اِیشو نہیں ہے جس کے لئے تمہارے حق میں فیصلہ دیا جائے۔ جہاں اسلام کی تعلیم اور عورت کی حیا کا معاملہ آیا تو وہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بہانے بنانے لگ جاتی ہیں۔ پس ایسے حالات میں احمدیوں کو پہلے سے بڑھ کر زیادہ محتاط ہونا چاہئے۔ اگر سکولوں میں چھوٹے بچوں کے لئے بعض ملکوں میں سوئمنگ لازمی ہے تو پھر چھوٹے بچے بچیاں پورا لباس پہن کر یعنی جو سوئمنگ کا لباس پورا ہوتا ہے جسے آجکل برقینی (Burkini) کہتے ہیں وہ پہن کر سوئمنگ کریں۔ تا کہ ان کو احساس پیدا ہو کہ ہم نے بھی حیادار لباس رکھنا ہے۔ ماں باپ بھی بچوں کو سمجھائیں کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی علیحدہ سوئمنگ ہونی چاہئے۔ اس کے لئے کوشش بھی کرنی چاہئے۔

اسلام مخالف قوتیں بڑی شدت سے زور لگا رہی ہیں کہ مذہبی تعلیمات اور روایات کو مسلمانوں کے اندر سے ختم کیا جائے۔ یہ لوگ اس کوشش میں ہیں کہ مذہب کو آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ ضمیر کے نام پر ایسے طریقے سے ختم کیا جائے کہ ان پر کوئی الزام نہ آئے کہ دیکھو ہم زبردستی مذہب کو ختم کر رہے ہیں اور یہ ہمدرد سمجھے جائیں۔ شیطان کی طرح میٹھے انداز میں مذہب پر حملے ہوں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس زمانے میں اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے سپرد ہے اور اس کے لئے ہمیں بھر پور کوشش کرنی پڑے گی اور تکلیفیں بھی اٹھانی پڑیں گی۔ ہم نے لڑائی نہیں کرنی لیکن حکمت سے ان لوگوں سے معاملہ بھی کرنا ہے۔ اگر آج ہم ان کی ایک بات مانیں گے جس کا تعلق ہماری مذہبی تعلیم سے ہے تو پھر آہستہ آہستہ ہماری بہت سی باتوں پر، بہت ساری تعلیمات پر پابندیاں لگتی چلی جائیں گی۔ ہمیں دعاؤں پر بھی زور دینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان شیطانی چالوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور توفیق بھی دے اور ہماری مدد بھی فرمائے۔ اگر ہم سچائی پر قائم ہیں اور یقینا ہیں تو پھر ایک دن ہماری کامیابی بھی یقینی ہے۔ اسلام کی تعلیمات نے ہی دنیا پر غالب آنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
’’سچ میں ایک جرأت اور دلیری ہوتی ہے۔ جھوٹا انسان بزدل ہوتا ہے۔ وہ جس کی زندگی ناپاکی اور گند گناہوں سے ملوّث ہے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ایک صادق انسان کی طرح دلیری اور جرأت سے اپنی صداقت کا اظہار نہیں کرسکتا اور اپنی پاکدامنی کاثبوت نہیں دے سکتا۔ دنیوی معاملات میں ہی غور کرکے دیکھ لو کہ کون ہے جس کو ذرا سی بھی خدانے خوش حیثیتی عطاکی ہو اور اس کے حاسدنہ ہوں۔ ہر خوش حیثیت کے حاسد ضرور ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی لگے رہتے ہیں۔ یہی حال دینی امور کا ہے۔ شیطان بھی اصلاح کا دشمن ہے۔ پس انسان کو چاہئے کہ اپنا حساب صاف رکھے اور خدا سے معاملہ درست رکھے۔ خداکو راضی کرے پھر کسی سے نہ خوف کھائے اور نہ کسی کی پرواہ کرے۔ ایسے معاملات سے پرہیز کرے جن سے خود ہی مورد عذاب ہوجاوے۔ مگر یہ سب کچھ بھی تائید ِغیبی اور توفیق الٰہی کے سوانہیں ہوسکتا۔ صرف انسانی کوشش کچھ بنا نہیں سکتی جب تک خداکا فضل بھی شامل حال نہ ہو۔ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا (النساء: 29)۔ انسان ناتواں ہے۔ غلطیوں سے پُر ہے۔ مشکلات چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ پس دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کی توفیق عطا کرے اور تائیدات غیبی اور فضل کے فیضان کا وارث بنادے‘‘۔

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 252۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس دعاؤں کے ساتھ ہم نے دنیا کو قائل کرنا ہے اور اس کے لئے خدا تعالیٰ سے پختہ تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دوسرے مذاہب ہمیشہ کے لئے نہیں ہیں۔ اپنے اپنے وقت پر آئے اور اپنے زمانے کی تربیتی ضروریات پوری کیں اور ختم ہو گئے۔ تبھی تو ان کی مذہبی کتابوں میں بھی بے شمار کانٹ چھانٹ ہو چکی ہے اور تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ لیکن ان میں اسلام ہے جو اَب تک محفوظ ہے اور اسلام ہمیشہ رہنے کے لئے ہے۔ قرآن کریم کی تعلیمات قیامت تک کے لئے ہیں۔ اس لئے ہمیں بغیر کسی احساس کمتری کے اپنی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس پر قائم رہنا چاہئے اور دوسروں کو بھی بتانا چاہئے کہ تم جو باتیں کرتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے خلاف ہیں اور تباہی کی طرف لے جانے والی ہیں۔ اسلام کوئی ایسا مذہب نہیں جو انسان کو غلط قسم کی پابندیوں میں جکڑ دیتا ہے بلکہ حسب ضرورت اس میں اپنی تعلیمات میں نرمی کے پہلو بھی ہیں۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ بعض مریض ایسے ہیں کہ مرد ڈاکٹر کو دکھانا ہوتا ہے تو ڈاکٹر وغیرہ کے لئے، مریض کے لئے، پردہ کی کوئی سختی نہیں ہے۔ انسانی جان کو بچانا اور انسانی جان کو تکلیف سے نکالنا اصل مقصد ہے، پہلا مقصد ہے تبھی تو اضطرار اور مجبوری کی حالت میں مُردار اور سؤر کے گوشت کھانے کی بھی اجازت ہے لیکن صرف زندگی بچانے کی خاطر۔ اسی طرح دوائیوں میں الکحل (alcohol) بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ لیکن بہرحال جس طریق پر شیطانی قوتیں ہمیں چلانا چاہتی ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ آہستہ آہستہ دین کی حدود ختم کر دی جائیں اور مذہب کا خاتمہ کر دیا جائے اور اس بات کے خلاف ہم احمدیوں نے ہی جہاد کرنا ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اسلامی تعلیمات کو ہم ہر چیز پر اہمیت دیں گے اور خدا تعالیٰ کے آگے جھکیں گے تا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہماری کامیابیاں ہوں۔ مسیح موعودؑ کے زمانے میں تلوار کا جہادنہیں ہے بلکہ نفس کی اصلاح کا جہاد ہے۔ ان ترقی یافتہ ملکوں میں رہنے والے مسلمان اور خاص طور پر دنیا میں رہنے والے احمدی مسلمان ہی اس کے لئے میرے مخاطب ہیں۔ ان کو ملک سے وفا اور ملک کی خاطر قربانی اور ملک کی کسی بھی شکل میں ترقی کے لئے اعلیٰ مقام پر پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اور جب یہ ہو گا تو شیطانی قوتوں کے منہ بند ہو جائیں گے کہ یہ مسلمان وہ ہیں جو ملک و قوم کی بہتری کے حقیقی معیاروں کی طرف لے جانے والے ہیں نہ کہ ملک کے خلاف کچھ کرنے والے۔ ہم نے ان لوگوں کو اور حکومتوں کو باور کرانا ہے کہ اگر ہم اپنی مذہبی تعلیم کی وجہ سے اپنے آپ کو کسی چیز کے پابند کرتے ہیں یا کسی چیز سے پابند کرتے ہیں اور اپنے اوپر پابندی لگاتے ہیں تو حکومتوں یا عدالتوں کا کوئی کام نہیں کہ دخل اندازی کریں۔ اس سے بیچینیاں پیدا ہوں گی۔ مقامی لوگوں میں اور مہاجرین میں دُوریاں پیدا ہوں گی۔ گو کہ جن کو یہ مہاجر کہتے ہیں ان کو بھی ان ملکوں میں آئے بعضوں کو تو دوسری تیسری نسل ہے۔ ہاں اگر ملک کو کوئی نقصان پہنچا رہا ہے، ملک سے کوئی بے وفائی کر رہا ہے، ملک میں جھوٹ اور نفرتیں پھیلا رہا ہے تو پھر حکومتوں کو بھی حق ہے کہ پکڑیں اور سزائیں بھی دیں۔ لیکن یہ کوئی حق نہیں کہ کسی مذہبی تعلیم پر عمل کرنے سے روک کر کہیں کہ اگر تم یہ کرو گے تو اس کا مطلب ہے کہ ملک کے ماحول میں تم جذب نہیں ہو رہے۔

ہم احمدیوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھناچاہئے کہ یہ زمانہ بہت خطرناک زمانہ ہے۔ شیطان ہر طرف سے پُرزور حملے کر رہا ہے۔ اگر مسلمانوں اور خاص طور پر احمدی مسلمانوں، مَردوں اور عورتوں، نوجوانوں سب نے مذہبی اقدار کو قائم رکھنے کی کوشش نہ کی تو پھر ہمارے بچنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ ہم دوسروں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں ہوں گے کہ ہم نے حق کو سمجھا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں سمجھایا اور ہم نے پھر بھی عمل نہ کیا۔ پس اگر ہم نے اپنے آپ کو ختم ہونے سے بچانا ہے تو پھر ہر اسلامی تعلیم کے ساتھ پُراعتماد ہو کر دنیا میں رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ نہ سمجھیں کہ ترقی یافتہ ملکوں کی یہ ترقی ہماری ترقی اور زندگی کی ضمانت ہے اور اس کے ساتھ چلنے میں ہی ہماری بقا ہے۔ ان ترقی یافتہ قوموں کی ترقی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور اب جو ان کی اخلاقی حالت ہے اخلاق باختہ حرکتیں ہیں۔ یہ چیزیں انہیں زوال کی طرف لے جا رہی ہیں اور اس کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو یہ آوازیں دے رہے ہیں اور اپنی تباہی کو بلا رہے ہیں۔ پس ایسے میں انسانی ہمدردی کے تحت ہم نے ہی ان کو صحیح راستہ دکھا کر بچانے کی کوشش کرنی ہے بجائے اس کے کہ ان کے رنگ میں رنگین ہو جائیں۔ اگر ان لوگوں کی اصلاح نہ ہوئی جو ان کے تکبر اور دین سے دوری کی وجہ سے بظاہر بہت مشکل نظر آتی ہے تو پھر آئندہ دنیا کی ترقی میں وہ قومیں اپنا کردار ادا کریں گی جو اخلاقی اور مذہبی قدروں کو قائم رکھنے والی ہوں گی۔

پس جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا کہ ہمیں خاص طور پر نوجوانوں کو اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا سے متأثر ہو کر اس کے پیچھے چلنے کی بجائے دنیا کو اپنے پیچھے چلانے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ پردہ اور لباس کے حوالے سے مَیں نے بات شروع کی تھی اس حوالے سے یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں اور افسوس سے کہنا چاہتا ہوں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کیا اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے صرف پردہ ہی ضروری چیز ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ تعلیم اب فرسودہ ہو چکی ہے اور اگر ہم نے دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو ان باتوں کو چھوڑنا ہو گا (نعوذباللہ)۔ لیکن ایسے لوگوں پر واضح ہو کہ اگر دنیا داروں کے پیچھے چلتے رہے اور ان کی طرح زندگی گزارتے رہے تو پھر دنیا کے مقابلے کی بجائے خود دنیا میں ڈوب جائیں گے۔ نمازیں بھی آہستہ آہستہ ظاہری حالت میں ہی رہ جائیں گی یا اور کوئی نیکیاں ہیں یا دین پر عمل ہیں تو وہ بھی ظاہری شکل میں رہ جائے گا اور پھر آہستہ آہستہ وہ بھی ختم ہو جائے گی۔

پس اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔ اسلام کی ترقی کے لئے ہر وہ چیز ضروری ہے جس کا خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ پردہ کی سختیاں صرف عورتوں کے لئے نہیں ہیں۔ اسلام کی پابندیاں صرف عورتوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ مَردوں اور عورتوں دونوں کو حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے مَردوں کو حیا اور پردے کا طریق بتایا تھا۔ چنانچہ فرمایا کہ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ۔ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ۔ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ (النور: 31) مومنوں کو کہہ دے کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ بات ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا موجب ہے۔ یقینا اللہ جو وہ کرتے ہیں اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو پہلے کہا کہ غضّ بصر سے کام لو۔ کیوں؟ اس لئے کہ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ کیونکہ یہ بات پاکیزگی کے لئے ضروری ہے۔ اگر پاکیزگی نہیں تو خدا نہیں ملتا۔ پس عورتوں کے پردہ سے پہلے مَردوں کو کہہ دیا کہ ہر ایسی چیز سے بچو جس سے تمہارے جذبات بھڑک سکتے ہوں۔ عورتوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا، ان میں مِکس اَپ (mix up) ہونا، گندی فلمیں دیکھنا، نامحرموں سے فیس بُک (facebook) پر یا کسی اور ذریعہ سے چَیٹ (chat) وغیرہ کرنا، یہ چیزیں پاکیزہ نہیں رہتیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بارے میں کئی جگہ بڑی کھل کر نصیحت فرمائی ہے۔ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ:
’’یہ خدا ہی کا کلام ہے جس نے اپنے کھلے ہوئے اور نہایت واضح بیان سے ہم کو ہمارے ہر یک قول اور فعل اور حرکت اور سکون میں حدود معیّنہ مشخّصہ پر قائم کیا اور ادبِ انسانیت اور پاک رَوِشی کا طریقہ سکھلایا۔ وہی ہے جس نے آنکھ اور کان اور زبان وغیرہ اعضاء کی محافظت کے لئے بکمال تاکید فرمایا قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ۔ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ۔ … یعنی مومنوں کو چاہئے کہ وہ اپنی آنکھوں اور کانوں اور سترگاہوں کو نامحرموں سے بچاویں اور ہر یک نادیدنی اور ناشنیدنی اور ناکردنی سے پرہیز کریں کہ یہ طریقہ ان کی اندرونی پاکی کا موجب ہو گا۔ یعنی ان کے دل طرح طرح کے جذبات نفسانیہ سے محفوظ رہیں گے کیونکہ اکثر نفسانی جذبات کو حرکت دینے والے اور قوائے بہیمیہ کو فتنہ میں ڈالنے والے یہی اعضاء ہیں۔ اب دیکھئے کہ قرآن شریف نے نامحرموں سے بچنے کے لئے کیسی تاکید فرمائی اور کیسے کھول کر بیان کیا کہ ایماندار لوگ اپنی آنکھوں اور کانوں اور سترگاہوں کو ضبط میں رکھیں اور ناپاکی کے مواضع سے روکتے رہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ 209 حاشیہ)

پھر غَضِّ بصر کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:
’’خوابیدہ نگاہ سے غیر محل پر نظر ڈالنے سے اپنے تئیں بچا لینا اور دوسری جائز النظر چیزوں کو دیکھنا اس طریق کو عربی میں غَضِّ بصر کہتے ہیں‘‘۔ یعنی آدھی کھلی آنکھوں سے جو چیزیں دیکھنے والی نہیں ہیں ان کو صرف دیکھنا اور نظر بچا لینا اور دوسری جو جائز چیزیں ہیں ان کو کھول کر آنکھیں دیکھنا اس کو عربی میں غض بصر کہتے ہیں۔ ’’اور ہر ایک پرہیزگار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہیں چاہئے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے بے محابا نظر اٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس کے لئے اس تمدّنی زندگی میں غَضِّ بصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے اور یہ وہ مبارک عادت ہے جس سے اس کی یہ طبعی حالت ایک بھاری خُلق کے رنگ میں آ جائے گی اور اس کی تمدّنی ضرورت میں بھی فرق نہیں پڑے گا۔ یہی وہ خُلق ہے جس کو اِحصان اور عفّت کہتے ہیں۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد10صفحہ344)

پھر ایک جگہ آپ نے مزید کھول کر بیان فرمایا کہ:
’’مومنوں کو کہہ دے کہ نامحرم اور محل شہوت کے دیکھنے سے اپنی آنکھیں اس قدر بند رکھیں کہ پوری صفائی سے چہرہ نظر نہ آسکے اور نہ چہرہ پرکشادہ اور بے روک نظر پڑسکے اور اِس بات کے پابند رہیں کہ ہرگز آنکھ کو پورے طور پر کھول کر نہ دیکھیں۔ نہ شہوت کی نظر سے اور نہ بغیر شہوت سے۔ کیونکہ ایساکرنا آخر ٹھوکر کاباعث ہے یعنی بے قیدی کی نظر سے نہایت پاک حالت محفوظ نہیں رہ سکتی اور آخر ابتلا پیش آتا ہے اور دِل پاک نہیں ہوسکتا جب تک آنکھ پاک نہ ہو اور وہ مقامِ اَزْکٰی جس پر طالب حق کے لئے قدم مارنا مناسب ہے، حاصل نہیں ہوسکتا۔ اور اِس آیت میں یہ بھی تعلیم ہے کہ بدن کے ان تمام سوراخوں کومحفوظ رکھیں جن کی راہ سے بدی داخل ہوسکتی ہے۔ سوراخ کے لفظ میں جو آیت ممدوح میں مذکور ہے آلاتِ شہوت اور کان اور ناک اور مُنہ سب داخل ہیں۔ اب دیکھو کہ یہ تمام تعلیم کس شان اور پایہ کی ہے جو کسی پہلو پر نامعقول طور پر اِفراط یا تفریط سے زور نہیں ڈالا گیا اور حکیمانہ اعتدال سے کام لیا گیا ہے۔ اور اس آیت کا پڑھنے والا فی الفور معلوم کرلے گا کہ اِس حکم سے جو کھلے کھلے نظر ڈالنے کی عادت نہ ڈالو یہ مطلب ہے کہ تا لوگ کسی وقت فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں اور دونوں طرف مرد اور عورت میں سے کوئی فریق ٹھوکر نہ کھاوے۔‘‘

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 164-165)

پس یہ ہے اسلام کی تعلیم مَردوں کے لئے کہ انہیں پہلے ہر طرح پابند کیا گیا ہے۔ پھر عورتوں کو حکم دیا ہے کہ ان احتیاطوں کے بعد بھی تم نے بھی اپنے پردہ کا خیال رکھنا ہے۔ اور ان ملکوں میں جہاں بالکل ہی بے حیائی ہے ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ پردے کی ضرورت نہیں ہے۔ بے حجابی اور دوستیاں بہت سی قباحتیں پیدا کر رہی ہیں ان سے بچنے کی ہمیں بہت کوشش کرنی چاہئے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اگر عورتوں کو مَردوں کے ساتھ سوئمنگ کی اجازت نہیں ہے تو مَردوں کو بھی نہیں ہے کہ عورتوں میں جا کر سوئمنگ کریں۔ پس یہ پابندیاں صرف عورت کے لئے نہیں بلکہ مَرد کے لئے بھی ہیں۔ مَردوں کو اپنی نظریں عورتوں کو دیکھ کر نیچے کرنے کا حکم دے کر عورت کی عزت قائم کی گئی ہے۔ پس اسلام کا ہر حکم حکمت سے پُر ہے اور برائیوں کے امکانات کو دُور کرتا ہے۔

جرمنی میں گزشتہ جلسہ سالانہ پر مَیں نے عورتوں میں عورتوں اور مردوں کے فرق اور ان کے فرائض اور ان کے کام یعنی ہر ایک کے جو مختلف کام ہیں نیز عورتوں کے حقوق کی بات کی تو ایک جرمن خاتون آئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اس دوران پوری تقریر سنی تو کہنے لگیں کہ پہلے مَیں سمجھتی تھی کہ اسلام عورتوں کے حقوق غصب کرتا ہے لیکن آج آپ کی باتیں سن کر مجھے پتا چلا کہ اسلام عورتوں کے حقوق اور اس کی عزت اور اس کا احترام زیادہ باریکی میں جا کر بیان کرتا ہے اور قائم کرتا ہے۔ پس کسی احمدی لڑکی یا عورت کو یا کسی لڑکے کو کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلام کی تعلیم ہی ہے جس نے دنیا کو پُرامن اور اللہ تعالیٰ کی طرف لانے والا بنانا ہے۔ دنیا کو ایک وقت میں احساس ہو جائے گا کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ اسلام کی تعلیم پر ہی غور کریں اور عمل کریں۔ مَردوں کو یہ حکم دینے کے بعد کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھو، عورت کی عزت قائم کرو، پھر عورت کو تفصیل سے حکم دیا کہ تم نے بھی اپنی نظریں نیچی رکھنی ہیں۔ اور پردہ کس طرح کرنا ہے اور کس کس سے کرنا ہے۔ اگر تم ان باتوں پر عمل کرو گی تو کامیاب ہو جاؤ گی۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ پردہ اور حیا تمہاری کامیابی کی نشانی ہے۔ تمہاری دنیا اور آخرت سنور جائے گی۔ چنانچہ فرمایا کہ وَ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَ لَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ (النور: 32) اور مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے کہ جو اس میں سے ازخود ظاہر ہو۔ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے خاوندوں کے لئے یا اپنے باپوں یا اپنے خاوندوں کے باپوں یا اپنے بیٹوں کے لئے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لئے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا اپنی عورتوں یا اپنے زیرنگیں مردوں کے لئے یا مَردوں میں ایسے خادموں کے لئے جو کوئی جنسی حاجت نہیں رکھتے یا ایسے بچوں کے لئے جو عورتوں کی پردہ دار جگہوں سے بے خبر ہیں۔ اور وہ اپنے پاؤں اس طرح نہ ماریں کہ لوگوں پر وہ ظاہر کردیا جائے جو عورتیں عموماً اپنی زینت میں سے چھپاتی ہیں۔ اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

مردوں کی نظریں بھی اور عورتوں کی نظریں بھی نیچی رکھنے اور پردہ سے ہی عورت کی عزت اور عصمت کی حفاظت ہو گی۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو عزت اور عصمت کی حفاظت کے معیار بدل گئے ہیں۔ نامحرموں کے آپس کے تعلقات اگر لڑکے اور لڑکی کی مرضی سے ہیں تو پھر زنا نہیں کہلاتا۔ یہ اگر مرضی کے خلاف ہیں تو پھر زنا کہلایا جاتا ہے۔ جب ایسی گراوٹیں آ جائیں تو ایک مومن کو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لئے بہت زیادہ دعاؤں اور کوشش کی ضرورت ہے۔

اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ عورت کو حجاب اوڑھا کر، پردہ کا کہہ کر اس کے حقوق سلب کئے گئے ہیں اور اس سے کچے ذہن کی لڑکیاں جو ہیں بعض دفعہ متاثر ہو جاتی ہیں۔ اسلام پردہ سے مراد جیل میں ڈالنا نہیں لیتا۔ گھر کی چاردیواری میں عورت کو بند کرنا اس سے مرادنہیں ہے۔ ہاں حیا کو قائم کرنا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
’’آجکل پردہ پر حملے کئے جاتے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردہ سے مراد زندان نہیں۔‘‘ (یعنی قید خانہ نہیں ہے) ’’بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔ جب پردہ ہو گا ٹھوکر سے بچیں گے۔ ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مرد و عورت اکٹھے بلاتأمّل اور بے محابا مل سکیں، سیریں کریں کیونکر جذباتِ نفس سے اضطراراً ٹھوکر نہ کھائیں گے۔ بسا اوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد اور عورت کے ایک مکان میں تنہارہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں۔ یہ گویا تہذیب ہے۔ انہی بدنتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ ایسے موقع پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مرد وعورت ہر دو جمع ہوں تیسرا اُن میں شیطان ہوتا ہے۔ ان ناپاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیع الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔ بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جارہی ہے۔ یہ انہی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ اگر کسی چیز کوخیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو۔ لیکن اگرحفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یاد رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہو گی۔ اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مردو عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس کے باعث یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خود کُشیاں دیکھیں۔ بعض شریف عورتوں کا طوائفانہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اُس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کے لئے دی گئی۔‘‘

(ملفوظات جلداول صفحہ 34-35۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر پردہ کے طریق کے بارے میں آپ نے بتایا کہ کس طرح پردہ ہونا چاہئے؟ فرمایا کہ:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’ایماندار عورتوں کو کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نامحرم مَردوں کے دیکھنے سے بچائیں اور اپنے کانوں کو بھی نامحرموں سے بچائیں یعنی ان کی پُرشہوات آوازیں نہ سنیں اور اپنے سَتر کی جگہ کو پردے میں رکھیں اور اپنی زینت کے اعضاء کو کسی غیر مَحرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آ جائے۔ یعنی گریبان اور دونوں کان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کے پردہ میں رہیں اور اپنے پیروں کو زمین پر ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں۔ یہ وہ تدبیر ہے کہ جس کی پابندی ٹھوکر سے بچا سکتی ہے۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10صفحہ341-342)

یہاں یہ بات بھی واضح کر دوں کہ بعض عورتیں یہ بھی سوال اٹھا دیتی ہیں کہ ہم نے میک اَپ کیا ہوتا ہے اگر چہرے کو نقاب سے ڈھانک لیں تو ہمارا میک اَپ خراب ہو جاتا ہے۔ تو کس طرح پردہ کریں۔ اوّل تو میک اَپ نہ کریں تو پھر یہ پردہ، کم از کم پردہ ہے جس کا معیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ چہرہ، ہونٹ ننگے ہو سکتے ہیں۔ باقی چہرہ ڈھانکا ہو۔

(ماخوذ از ریویو آف ریلیجنز جلد 4 نمبر 1 صفحہ 17 ماہ جنوری 1905ء)

اور اگر میک اَپ کرنا ہے تو بہرحال ڈھانکنا ہو گا۔ ان کو یہ سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر چلتے ہوئے اپنی زینت کو چھپانا ہے یا دنیا کو اپنی خوبصورتی اور اپنا میک اَپ دکھانا ہے۔

جن کے سامنے زینت ظاہر کرنے کا حکم ہے وہ قریبی رشتہ دار ہیں، بہن بھائی ہیں، خاوند ہے، باپ ہے، ماں ہے، ان کے بچے ہیں۔ ان کے سامنے بھی صرف یہ ہے کہ ان سے پردہ نہیں ہے۔ میک اَپ وغیرہ اگر ہو سکتا ہے تو ان کے سامنے تو ہو سکتا ہے اس کے علاوہ نہیں۔ زینت ظاہر کرنے کا حکم جن کے سامنے ہے اس کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دے دی اور وہ تمام رشتے بیان کر دئیے ہیں۔ اور یہ زینت بھی وہ ہے جو خود بخود ظاہر ہوتی ہو یعنی اس قسم کی زینت جیسے شکل ہے، قدکاٹھ وغیرہ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے سامنے بھی گھر میں بھی تنگ جِین اور بلاؤز پہن کے پھر رہی ہوں یا ننگا لباس ہو۔ یہ پردہ مَحرم رشتہ داروں کے لئے بھی ہے۔

اسی طرح ایک اور بات مَیں مربّیان اور ان کی بیویوں سے بھی کہوں گا کہ وہ بھی اپنے لباس اور اپنی نظروں میں بہت زیادہ احتیاط کریں۔ ان کے نمونے جماعت دیکھتی ہے۔ مربی اور مبلغ کی بیوی بھی مربی ہوتی ہے اور اس کو اپنی ہر معاملے میں اعلیٰ مثال قائم کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہمارے مرد بھی اور ہماری عورتیں بھی حیا کے اعلیٰ معیاروں کو قائم کرنے والے ہوں اور اسلامی احکامات کی ہر طرح ہم سب پابندی کرنے والے ہوں۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 14 اگست 2020ء