• 1 اکتوبر, 2020

رسولِ اکرمﷺ نے حجرِ اسود کو کیوں بوسہ دیا؟

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے حجرِ اسود کے متعلق سوال

سوال: رسول کریم ﷺ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ اس کی وجہ پوچھنی ہے؟

جواب:۔ اس لئے کہ اللہ نے آپ کو یہ تعلیم دی۔ کسی چیز کی محبت اور تقدس ذاتی تو ہوتا ہی کچھ نہیں۔ اصل محبت الله کی تھی ناں تو اللہ نے تعلیم دی کہ بوسہ دو تو آپ نے دے دیا۔ اطاعت ہی میں اصل کمال ہے۔ وہ کیوں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اس کی وضاحت جہاں تک میرا علم ہے کوئی موجود نہیں ہے۔ 100 فیصدی قطعی وضاحت کہ کیا واقعہ ہوا ہوگا لیکن بعض باتوں سے ہم نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔ مثلاً

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا

پہلا گھر جو انسانوں کے لئے بنایا گیا خدا کی عبادت کی خاطر وہ مکہ تھا۔ تو پہلے گھر میں کوئی پتھروتھر استعمال ہوا ہو گا ناں۔ پھر وہ مٹ گیا۔ پھر وہ دوبارہ آباد ہوتا رہا پھرکھنڈروں میں تبدیل ہوتا رہا۔ مگر حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے بھی کھنڈر سے ہی تلاش کیا تھا۔ تو کوئی بنیادیں موجود رہی ہیں آخر تک ۔بعید نہیں کہ یہ وہ پہلا پتھر ہو جو خانہ کعبہ کی تعمیر میں استعمال ہوا ہو۔ گھستے گھستے چھوٹا رہتے رہتے آخر وہ یہاں تک پہنچ گیا ہے۔ تو چونکہ اس کو ایک عظمت حاصل ہوگئی تاریخی۔ پہلا پتھر جو خدا کی عبادت کے لئے استعمال ہوا اس لئے پیار کے لائق بن گیا۔ یعنی یہ میں امکان بتارہا ہوں۔ امکان ہے اس بات کا لیکن قطعی طور پر ہمیں سند سے یہ معلوم نہیں ہے۔

(مجلس سوال و جواب منعقدہ 25نومبر 1982ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 14 اگست 2020ء