• 23 ستمبر, 2021

سینکڑوں عبداللطیف درکار ہیں

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک موقعہ پر بیان کیا:
ہمارے دوست اس بات پر خوش ہوا کرتے ہیں کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے سلسلہ کے لیے اپنی جان کو قربان کر دیا حالانکہ ایک عبد اللطیف نہیں جماعت کو زندہ کرنے کے لیے سینکڑوں عبد اللطیف درکار ہیں جو مختلف ملکوں میں جائیں اور اپنی جانیں اسلام اور احمدیت کے لیے قربان کر دیں۔جب تک ہر ملک اور علاقہ میں عبد اللطیف پیدا نہیں ہو جاتے اس وقت تک احمدیت کا رعب قائم نہیں ہو سکتا۔

(الفضل 10 جنوری 1945ء بحوالہ سوانح فضل عمر جلد3 صفحہ329)

حضرت مصلح مو عود رضی اللہ عنہ نے جماعت کو یہ تلقین کی ہے کہ ہمیں سینکڑوں عبد اللطیف چاہیے توضروری ہے کہ ان کی سیرت کی کچھ جھلک قارئین کے سامنے پیش کی جائے۔

آپ کا تعلق افغانستان کے علاقہ خوست کے گاؤں سید گاہ سے تھا آپ کا شجرہ نسب حضرت علی ہجویری المعروف داتاگنج بخش رحمہ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔ آپ کے والد صاحب کا نام محمد شریف تھا۔ آپ کا بچپن اور جوانی دینی تعلیم کے حصول اور سلوک کی منزلیں طے کرنے میں صرف ہوئی آپ نے علم کی پیاس بجھانے کے لئے مشکلات اور مصائب کی پرواہ کیے بغیر دور دور کا سفر اختیار کیا اسی شوق میں افغانستان سے روانہ ہو کر براستہ میرانشاہ بنوں، عیسی خیل پہنچے اور دریائے سندھ بذریعہ کشتی عبور کیا اور سہارنپور، دہلی، پشاور دیوبند اور دیگر مقامات کا سفر اختیار کیا۔ علم کی خاطر آپ کئی کئی سال تک گھر سے باہر رہتے آپ کا سامان سفر صرف دو جوڑے سوتی کپڑے اور ایک چمڑے کا لباس ہوتا جسے غالبا سردیوں میں بوقت ضرورت استعمال کرتے آپ نے مختلف دینی درس گاہوں میں تقریباً 13 سال تک تعلیم حاصل کی۔ آپ کو قرآن کریم حدیث فقہ اور منطق پر پورا عبور حاصل تھا اور زبانوں میں آپ کو عربی فارسی اردو اور پشتو میں کمال حاصل تھا۔ آپ کی ذہانت اور خداداد حافظہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کو تین لاکھ احادیث زبانی یاد تھی۔

سید گاہ واپسی اور درس و تدریس

تحصیل علم کے بعد آپ نے افغانستان واپس آ کر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ دور دراز سے لوگ آپ کے پاس دینی تعلیم حاصل کرنے اور آپ کے فیوض علمی اور روحانی سے بہرہ مند ہوتے۔ آپ ان افراد کے طعام و قیام کا انتظام بھی خود کرتے۔ خوست میں آپ کی تقریبا چار لاکھ کنال زمین تھی جس کی زیادہ تر آمدنی غرباء اور مسجد کے طالب علموں پر خرچ ہوتی تھی۔ آپ نہایت سادہ زندگی گزارتے معمولی قسم کے کپڑے، سفید پگڑی اور کندھے پر ململ کا کپڑا، آپ کا لباس تھا ہمیشہ ہاتھ میں عصا رکھتے اور ہر ایک سے بلا تفریق پیار اور شفقت سے پیش آتے۔

روحانی اور دنیوی مقام

آپ صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے۔ افغانستان میں اپنے علم و فضل اور تقویٰ کی وجہ سے ولی اللہ مانے جاتے تھے۔ امیر عبدالرحمٰن، شاہ کابل کی نظر میں آپ کو ایک برگزیدہ عالم اور تمام علمائے افغانستان کے سردار کی حیثیت اور عزت و مقام حاصل تھا گویا کہ آپ شمس العلماء تھے۔ آپ وہاں کے قاضی القضاۃ بھی تھے اور تمام شرعی فیصلے آپ کے مشورے سے طے پاتے۔ امیر عبدالرحمٰن کے یہاں تک منظور نظر تھے کہ اس کی وفات کے بعد امیرحبیب اللہ کی تاج پوشی کے وقت برکت کے لیے اس کے سر پر تاج حضرت شہید مرحوم کے دست مبارک سے ہی رکھوایا گیا۔ 1893ء میں جب برطانوی ہندوستان، اور افغانستان کے درمیان حد بندی کا واقعہ پیش آیا تو افغانستان کی طرف سے پیش ہونے والے وفد میں حضرت صاحبزادہ صاحب بھی شامل تھے اور وہیں ان کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے آپ سے ذکر کیا کہ پنجاب کے ایک گاؤں قادیان میں ایک شخص نے مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے۔ آپ نے یہ سن کر حیرت سے فرمایا کہ اچھا وہ شخص آ گیا ہے ہم تو مدت سے اس کے انتظار میں تھے اس شخص نے صاحبزادہ صاحب کو حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی کچھ کتب بھی دیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے علماء ان کا جواب دینے سے قاصر ہیں آپ ان کتابوں کو پڑھ کر ان کا جواب دیں۔ گویا اس شخص نے یہ کتابیں بھی اس نیت سے دی تھیں کہ آپ بھی ان کتابوں کو پڑھ کر نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود ؑ پر کفر کا فتویٰ صادر کریں گے لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ یہی کتابیں ان کے لیے شہادت کے اعلی مقام کا سبب بن جائیں گی۔

حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان کتب کے مطالعہ کے بعد فرمایا:
مجھ پر پہلے سے یہ کشفی طور پر واضح ہو چکا تھا کہ اس زمانے میں کسی بڑے اعلیٰ پایہ مجدد کا ظہور ہونے والا ہے اور مجھے ایسا وہم گزرتا تھا کہ شاید میں ہی نہ وہ شخص ہوں لیکن جب میں نے حضرت مرزا صاحب کی کتب پڑھیں معاَ میرے قلب نے تصدیق کی کہ یہ وہی شخص ہے جس کے ظہور کی عالمِ روحانیت میں تیاریاں تھی اور جب کتب کو زیادہ غور سے پڑھا تو حق بکُلی روشن ہوگیا۔

چنانچہ مزید تحقیق کے لیے آپ نے اپنے چند شاگرد وں جن میں مولوی عبدالرحمٰن شہید بھی شامل تھے کو قادیان روانہ کیا اور ان کے ہاتھ حضرت صاحب کی خدمت میں ایک خط بھی بھیجا۔ واپسی پر یہ لوگ خوست پہنچے اور انہوں نے حضور کے دعوے کی تصدیق کی اور خط کا جواب بھی پیش کیا جس میں حضرت صاحب نے صاحبزادہ صاحب کو سلام بھیجا۔

آپ کے شاگرد عبدالرحمٰن کو 1901ء میں احمدیت کی تبلیغ کی وجہ سے جیل میں قید کر دیا گیا اور پھر وہیں شہید کر دیا گیا۔1901ء میں ہی امیر عبد الرحمٰن کی وفات ہوگئی اور اس کے بعد تخت کا وارث اس کا بیٹا امیر حبیب اللہ ہوا۔

حج کے لیے روانگی

حضرت صاحب سے شوقِ ملاقات اس قدر بڑھا کہ آپ کے لیے انتظار کرنا مشکل ہوگیا چنانچہ آپ نے حج کا ارادہ کر لیا اور یہ کہ اس سفر میں حضرت اقدس سے ملاقات کا موقع بھی مل جائے گا۔ امیرِ کابل سے حج کے لئے اجازت حاصل کی اور روانہ ہوگئے امرتسر پہنچنے پر آپ کو معلوم ہوا کہ حج پر جانے کی تو پابندی ہے چنانچہ آپ نے دوسرے دوستوں کے مشورے سے قادیان جا کر حضرت اقدس کی زیارت کرنا مناسب سمجھا قادیان پہنچے تو آپ کو مہمان خانے میں ٹھہرایا گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میر ناصر نواب صاحب کو جو مہمان خانے کے مہتمم تھے کہا کہ صاحبزادہ صاحب سے معلوم کرلیں کہ وہ کیا کھانا پسند کریں گے؟ جس پر صاحبزادہ صاحب نے جواب دیا کہ، میں اللہ کا بندہ ہوں پیٹ کا بندہ نہیں جو مسیح کے لنگر میں پکے گا ہم وہی کھائیں گے۔

امام الزمان کی زیارت

امام وقت کے چہرے پر جب آپ کی نظر پڑی تو بے خودی کے عالم میں آپ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گئے۔ عشق و محبت کا وہ جذبہ صبح آپ پر طاری ہوا کہ بس وہیں کے ہو رہے۔ حضرت صاحب صاحب تذکرۃ الشہادتین میں اس ملاقات کے متعلق فرماتے ہیں:
جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی توقسم خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعوے کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا کہ جس سے بڑھ کر انسان کے لیے ممکن نہیں اور جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے ایسا ہی میں نے ان کو اپنی محبت سے بھرا ہوا پایا اور جیسا کہ ان کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی ان کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا۔ اس بزرگ مرحوم میں نہایت قابل رشک یہ صفت تھی درحقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے اور وہ در حقیقت ان راست بازوں میں سے تھا جو خدا سے ڈر کر اپنے تقوی اور اطاعتِ الہٰی کو انتہا تک پہنچاتے ہیں اور خدا کو خوش کرنے کے لیے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی جان، عزت اور مال کو ایک ناکارہ خس و خاشاک کی طرح اپنے ہاتھ سے چھوڑ دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ اس کی ایمانی قوت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اگر میں اس کو ایک بڑے سے بڑے پہاڑ سے تشبیہ دوں تو میں ڈرتا ہوں کہ میری تشریح ناقص نہ ہو۔

قادیان میں آپ تقریباً تین ماہ تک مقیم رہے اس قیام کے دوران آپ نے حضرت صاحب کی معیت میں جہلم کا سفر بھی کیا۔ حضرت شہید مرحوم کے ایک قریبی رفیق احمد نور صاحب کا بیان ہے کہ» انہیں قادیان میں بار بار یہ الہام ہوا کہ ’’اس راہ میں اپنا سر دے اور دریغ نہ کر کہ خدا نے کابل کی زمین کے لئے یہی چاہا ہے۔‘‘

مسیح الزمان سے رخصت ہوتے وقت

صاحبزادہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے رخصت ہونے لگے تو حضرت اقدس قادیان سے باہر دور تک ان کے ساتھ تشریف لے گئے۔ جب جدا ہونے لگے تو صاحبزادہ عبداللطیفؓ پر سخت رقت طاری ہوئی اور بے اختیار حضرت اقدسؑ کے قدموں پر گر گئے حضرت اقدس ؑکبھی کسی کو اجازت نہیں دیتے تھے کہ کوئی شخص آپ کے پیروں یا گھٹنوں کو تعظیماً ہاتھ لگائے۔ ایک دفعہ ایک سرحدی نوجوان آپ کے قدموں پر جھکا تو آپ نے فورا َروک دیا اور فرمایا کہ خدا کے فرستادے دنیا سے شرک کو مٹانے آتے ہیں نہ کہ اپنے آپ کو سجدہ کروانے جب صاحبزادہ صاحب رقت سے بے قرار ہو کر آپ کے قدموں پر گر ے تو ایک دفعہ آپ بھی (اپنے مخلص ساتھی سے محبت کی وجہ سے) بے قرار ہو گئے اور مشکل سے اپنی طبیعت کو ضبط کیا اور پھر انہیں اٹھنے کے لئے فرمایا۔ لیکن وہ بدستور اسی طرح پڑے رہے تو آپؑ نے فرمایا اَلْاَمْرُفَوْقَ الْاَدَبِ تو صاحبزادہ صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ میری بے قراری اور بے تابی کی وجہ یہ ہے کہ میرے دل کو یقین ہے اس زندگی میں پھر آپ کو نہیں دیکھوں گا۔ یہ اب آخری دیدار ہے جو میں کر رہا ہوں۔

ماننے والوں کے لیے پیار

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاحبزادہ صاحب کے لیے کھانا تیار کروایا تھا کھانا لایا گیا، تو وہ ایک کاغذ میں لپیٹا ہوا تھا۔ کہتے ہیں یہ دیکھ کر حضرت صاحب نے فرمایا کہ کسی صاف کپڑے میں لپیٹ کر لانا چاہیے تھا اور پھر اپنی پگڑی کا شملہ پھاڑ کر دیا اللہ تعالیٰ کے ماموروں کے دل میں اپنے ماننے والے مخلصین کے لیے حقیقی پیار اور اخلاص ہوتا ہے وہ عام پیروں کی طرح نہیں ہوتے کہ اپنی نفس پرستیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنے مریدوں سے پردوں میں چھپ کر رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل دل و نظر، ان کے قدموں میں جھک جاتے ہیں اور اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔

افغانستان واپسی اور تبلیغ

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کو مان کر جو روحانی خزانہ آپ کو ملا آپ یہی خزانہ اب دوسروں میں بانٹنے کے لیے بے چین ہوگئے اور جوش وخروش سے تبلیغ شروع کر دی۔ جس کے نتیجے میں گردونواح کے لوگ جوق در جوق احمدیت میں شامل ہونے لگ گئے۔

جس پر امیر نے 40 سپاہیوں کو آپ کی طرف قید کر کے لانے کے لیے بھجوایا۔ اور سید گاہ سے کابل تک 250 میل کا فاصلہ آپ نے پیدل طے کیا۔

بادشاہ نے آپ کو قید کر دیا اور غراغراب نامی زنجیر پہنا دی۔ جس کا وزن ایک من چوبیس سیر تھا اور اس کے علاوہ 8 سیر کی بیڑی پاؤں میں الگ تھی۔ بادشاہ نے آپ کو بار بار کہا، کہ قادیانی مسیح کا انکار کر دو تو ابھی رہا کر دوں گا۔ لیکن آپ یہی جواب دیتے کہ حق کو پاکر اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ میں صاحب علم ہوں اور حق و باطل کو شناخت کرنے کی خدا نے مجھے قوت عطا کی ہے۔ میں نے پوری تحقیق سے معلوم کر لیا ہے کہ یہ شخص درحقیقت مسیح موعود ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کابل کے امیروں کا یہ طریق نہیں ہے کہ اس قدر بار بار کسی کو توجہ دلائیں۔ لیکن مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی یہ خاص رعایت اس وجہ سے تھی کیونکہ آپ کابل کا گویا ایک بازو تھے اور ہزار ہا انسان اس کے معتقد تھے۔

امیر نے صاحبزادہ صاحب کو بحث کا موقعہ دیا اور مولویوں کے ساتھ ایک مباحثہ ہوا۔ یہ مباحثہ تحریری تھا۔اگر تقریری مباحثہ ہوتا تو لوگوں پر حق عیاں ہو جاتا۔ جب مولویوں کو کوئی جواب نہ آیا تو کہنے لگے کہ اگر مسیح موعود یہ قادیانی شخص ہے تو پھر تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہو؟ وہ واپس دنیا میں آئیں گے یا نہیں؟ تو انہوں نے بڑی استقامت سے جواب دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اب وہ ہرگز واپس نہیں آئیں گے۔

چنانچہ مولویوں نے آپ پر فتوی کفر لگایا اور امیر نے آپ کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔

لیکن پھر پوچھا کہ اگر اس عقیدہ سے تائب ہو جاؤ تو معاف کر دیا جائے گا۔ لیکن آپ نے جواب دیا موت کے خوف سے حق کا انکار نہیں کر سکتا۔

مولویوں نے جو فتویٰ لکھ کر امیر کے سامنے پیش کیا امیر نے اس کو تحریر کر کے آپ کے گلے میں ڈال دیا اور لکھا گیا کہ ایسے کافر کی سنگسار کرنا سزا ہے اس کے بعد امیر نے حکم دیا کہ صاحبزادہ صاحب کے ناک میں چھید کر کے اس میں رسی ڈالی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آپ کو نہایت بے دردی کے ساتھ اس رسی کے ساتھ کھینچ کر مقتل یعنی سنگسار کرنے کی جگہ تک لے جایا گیا اور جب مقتل پر پہنچے تو شہزادہ مرحوم کو زمین میں گاڑ دیا گیا ایسی حالت میں پھر امیر ان کے پاس گیا اور کہا کہ اگر قادیانی سے جو مسیح موعود کا دعویٰ کرتا ہے انکار کرے تو اب بھی میں تجھے بچا سکتا ہوں۔ اب تیرا آخری وقت ہے اور یہ آخری موقعہ ہے جو تجھے دیا جاتا ہے پس اپنی جان اور اپنے عیال پر رحم کر۔ اس پر صاحبزادہ صاحب نے جواب دیا کہ نعوذباللہ سچائی سے کیوں کر انکار ہو سکتا ہے؟ اور جان کی کیا حقیقت ہے؟ اور اطفال کیا چیز ہیں؟ جن کے لیے میں ان کو چھوڑ دوں مجھ سے ایسا ہرگز نہیں ہوگا اور میں حق کے لئے مروں گا۔ تب قاضیوں اور مفتیوں نے شور مچایا کہ کافر ہے کافر ہے اس کو جلد سنگسار کرو۔

تب امیر نے قاضی کو کہا کہ پہلا پتھر تمہیں چلاؤ کہ تم نے ہی اپنے ہاتھ سے فتویٰ لکھا ہے قاضی نے کہا آپ بادشاہ وقت ہیں آپ چلائیں۔ امیر نے کہا ہاں! مگر شریعت کے تمہیں بادشاہ ہو اور تمہارا ہی فتویٰ ہے۔ اس میں میرا کوئی دخل نہیں۔ تب قاضی نے گھوڑے سے اُتر کر ایک پتھر چلایا جس پتھر سے شہید مرحوم کو زخم کاری لگا اور گردن جھک گئی۔ پھر بعد اس کے بدقسمت امیر نے اپنے ہاتھ سے پتھر چلایا۔ پھر کیا تھا اس کی پیروی سے ہزاروں پتھر اس شہید پر پڑنے لگے اور کوئی حاضرین میں سے ایسا نہ تھا جس نے اس شہید مرحوم کی طرف پتھر نہ پھینکا ہو، یہاں تک کہ کثرتِ پتھروں سے شہید مرحوم کے سر پر ایک کو ٹھا پتھروں کا جمع ہوگیا۔ یہ ظلم یعنی سنگسار کرنا 14 جولائی 1903ء کو وقوع میں آیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی شہادت پر فرمایا:
شہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہو چکی۔ اب ظالم کا پاداش باقی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے عبداللطیف! تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد آباد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔

مزید فرمایا:
اے کابل کی زمین تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔ اے بد قسمت زمین! تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔

حضرت مسیح موعود ؑ اپنے فارسی کلام میں فرماتے ہیں:

؎بیں کہ عبداللطیف پاک مرد
چوں پئے حق خویشتن برباد کر

اس پاک مرد عبداللطیف کے نمونہ کو اپنے سامنے رکھو کہ کس طرح اس ن ےحق کی خاطر اپنے آپ کو برباد کر لیا۔۔

(ماخوز از تذکرۃ الشہید)

(ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

پہلا آن لائن اسلامک سیمینار یونان

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 ستمبر 2021