• 25 جنوری, 2022

خلاصہ خطبہ جمعتہ المبارک مؤرخہ 12؍نومبر 2021ء

خلاصہ خطبہ جمعتہ المبارک

امیر المؤمنین  سیدنا حضرت  خلیفتہ المسیحِ الخامس ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مؤرخہ 12؍نومبر 2021ء بمقام بیت المبارک، اسلام آباد؍ٹلفورڈ یوکے

الله کی قسم! جہاں تک مجھ میں طاقت ہو گی مَیں رسول الله ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کی زندگیوں کی سختی میں شامل رہوں گا تاکہ شائدمَیں اِن دونوں کی راحت کی زندگی میں بھی شریک ہو جاؤں۔

رسولِ کریمﷺ کا زمانہ خوف و خطر کا زمانہ تھا، اُس وقت آپؐ نے مسلمانوں کو جو احکام دیئے تھے ہم اُن سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔

خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عبادالرّحمٰن وہ ہوتے ہیں جو اپنے مالوں میں اسراف نہ کرتے ہوں، وہ اپنے مالوں کو رِیاء اور دکھاوے کے لیئے خرچ نہ کرتے ہوں بلکہ فائدہ اور نفع کے لیئے صَرف کرتے ہوں ۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا! عوف ؓنے سچ بولا ۔۔۔الله کی قسم! ابوبکرؓ مُشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہیں اور  مَیں اپنے گھر کے اونٹوں سے بھی زیادہ بھٹکا ہؤا ہوں۔

کیا یہ تعجّب کی بات نہیں کہ اونٹوں کو چرانے والا ایک شخص عظیم الشّان بادشاہ بن گیا اور صِرف دنیاوی بادشاہ نہیں بنا بلکہ روحانی بھی۔۔۔ آج دنیا اُن کے آگے سَر جھکاتی ہے ۔

اُن کو قرآن شریف سے سب کچھ مِلا۔۔۔قرآنِ شریف ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جب اِس کے ساتھ دل کو صیقل کیا جائے تو ایسا صاف ہو جاتا ہے کہ تمام دنیا کے علوم اُس  میں  نظر آ جاتے ہیں ۔

عِلِّیِّین  والوں میں سے کوئی شخص جنّت  والوں پر جھانکے گا تو اُس کے چہرہ کی وجہ سےجنّت جگمگا اُٹھے گی گویا ایک چمکتا ہؤا ستارہ ہے، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی اُن میں سے ہیں۔

ہر نبی کے آسمان والوں اور زمین والوں میں سے بھی دو وَزیر ہوتے ہیں، آسمان والوں میں سے میرے دو وَزیر جبرائیل اور میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وَزیر ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں۔

حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشہّد، تعوّذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد ارشاد فرمایا!حضرت عمرؓ کا ذکر ہو رہا تھا گزشتہ خطبات میں، آج بھی وہی ہے۔

حضرت عمرؓ کی دنیا سے بے رغبتی اور زُہد

حضرت حفصہؓ بنت عمرؓ۔۔۔ بیان فرماتی ہیں کہ اُنہوں نے ایک دفعہ اپنے والدِ بزرگوار سے کہا، اے امیر المؤمنین! الله نے رزق کو وسیع کیا ہے اور آپؓ کو فتوحات عطاء کی ہیں اور کثرت سے مال عطاء کیا ہے کیوں نہ آپؓ اپنے کھانے سے زیادہ نرم غذا کھایا کریں اور اپنے اِس لباس سے زیادہ نرم لباس پہنا کریں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا! مَیں تم سے ہی اِس امر کا فیصلہ چاہوں گا، کیا تمہیں یاد نہیں کہ رسول اللهﷺ کو زندگی میں کتنی سختیاں گزارنی پڑیں، راوی کہتے ہیں کہ آپؓ مسلسل حضرت حفصہؓ کو یہ یاد دلاتے رہے یہاں تک کہ حضرت حفصہؓ کو رُلا دیا پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا، الله کی قسم! جہاں تک مجھ میں طاقت ہو گی مَیں رسول الله ؐ اور حضرت ابوبکرؓ کی زندگیوں کی سختی میں شامل رہوں گا تاکہ شائدمَیں اِن دونوں کی راحت کی زندگی میں بھی شریک ہو جاؤں۔

اِسی حوالہ سے حضور انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت عِکرمہ بن خالدؓ سے مروی ایک روایت بھی پیش فرمائی۔

ہم اُن سے سبق حاصل کر سکتے ہیں

حضرت المصلح الموعودؓ ایک خطبہ میں تحریک جدید کے سلسلہ میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسولِ کریمؐ کا زمانہ خوف و خطر کا زمانہ تھا، اُس وقت آپؐ نے مسلمانوں کو جو احکام دیئے تھے ہم اُن سے سبق حاصل کر سکتے ہیں، آپؐ کا اپنا طریق بھی یہ تھا اور ہدایت بھی آپؐ نے یہ کر رکھی تھی کہ ایک سے زیادہ سالن استعمال نہ کیا جائے۔۔۔ چنانچہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے سامنے سرکہ اور نمک رکھا گیا تو آپؓ نے فرمایا! یہ دو کھانے کیوں رکھے گئے ہیں جبکہ رسولِ کریمؐ نے صِرف ایک کھانے کا حکم دیاہے، آپؓ سے کہا گیا! یہ دو نہیں بلکہ دونوں مِل کر ایک سالن ہوتا ہے(نمک اور سرکہ) مگرآپؓ نے کہا! یہ دو ہیں۔ اگرچہ حضرت عمرؓ کا یہ فعل رسولِ کریمؐ کی محبّت کے جذبہ کی وجہ سے غُلّو کا پہلو رکھتا ہؤا معلوم ہوتا ہے، غالبًارسولِ کریمؐ کا یہ منشاء نہ تھا لیکن اِس مثال سے یہ ضرور پتا چلتا ہے کہ آپؐ نے دیکھ کر کہ مسلمانوں کو سادگی کی ضرورت ہے، اِس کی کس قدر تاکید کی تھی، حضرت عمرؓ والا مطالبہ تو مَیں نہیں کرتا اور یہ نہیں کہتا کہ نمک ایک سالن ہے اور سرکہ دو سرا، مگر یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ آج سے تین سال کے لیئے، جس کے دوران مَیں ایک ایک سال کے بعد دوبارہ اعلان کرتا رہوں گا تاکہ اگر اِن تین سالوں میں حالتِ خوف بدل جائے تو احکام بھی بدلے جا سکیں، ہر احمدی جو اِس جنگ میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہے،یہ اقرار کرے کہ وہ آج سے صِرف ایک سالن استعمال کرے گا۔

الله تعالیٰ کے فضل سے اب حالات مختلف ہیں

حضور انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اِس ضِمن میں تصریح فرمائی کہ یہ اُس زمانہ کی بات ہے جب تحریکِ جدید کا اعلان فرمایا تھا اور اُس وقت ضرورت تھی جماعت کو اور تحریک کی کہ اپنے خرچے کم کر کے چندہ دو، الله تعالیٰ کے فضل سے اب حالات مختلف ہیں اِس لیئے یہ پابندی نہیں ہے لیکن پھر بھی اسراف سے کام نہیں لینا چاہیئے۔

اگر کوئی عبدالرّحمٰن بننا چاہے

حضرت المصلح الموعودؓ آیت وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا۔ (الفرقان: 68) کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی عبدالرّحمٰن بننا چاہے تو اُس کے لیئے یہ بھی شرط ہے کہ وہ اپنا مال خرچ کرتے وقت دو باتوں کا لحاظ کرے، اوّل یہ کہ وہ اپنے مال میں اسراف نہ کرے، اُس کا کھانا صِرف مزے اور تکلف کے لیئے نہیں ہوتا بلکہ قوت، طاقت اور بدن کو قائم رکھنے کے لیئے ہوتا ہے، اُس کا پہننا آرائش کے لیئے نہیں ہوتا بلکہ بدن کو ڈھانکنے اور خدا تعالیٰ نے جو اُسے حیثیت دی ہے اُس کے محفوظ رکھنے کے لیئے ہوتا ہے ۔۔۔پس صحابہؓ کا عمل بتاتا ہے کہ اسراف سے کیا مراد ہے، اِس سے یہی مراد ہے کہ مال ایسی اشیاء پر نہ خرچ کرے جن کی ضرورت نہیں اور جن کا مدعاء صِرف آرائش و زیبائش ہو۔ غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عبادالرّحمٰن وہ ہوتے ہیں جو اپنے مالوں میں اسراف نہ کرتے ہوں، وہ اپنے مالوں کو رِیاء اور دکھاوے کے لیئے خرچ نہ کرتے ہوں بلکہ فائدہ اور نفع کے لیئے صَرف کرتے ہوں، پھر اپنے مالوں کو ایسی جگہ دینے سے نہ روکیں جہاں دینا ضروری ہو اور اُن کا قوام ہو (یعنی درمیانی ہو)اِس فائدہ کا ذریعہ بن رہا ہو، نہ اپنے مالوں کو اِس طرح لُوٹائیں جو الله تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت نہ ہو اور نہ اِس طرح روکیں کہ جائز حقوق کو بھی ادا نہ کریں، یہ دو شرطیں عبادالرّحمٰن کے لیئے مال خرچ کرنے کے متعلق ہیں لیکن بہت لوگ ہیں یا تو اسراف کی طرف چلے جاتے ہیں یا بُخل کی طرف چلے جاتے ہیں۔

دکھاوے اور شان و شوکت والے لباس کے خلاف

حضرت عمرؓ دکھاوے اور شان و شوکت والے لباس کے اِس قدر خلاف تھے کہ مفتوح دشمن کے لیئے بھی یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ وہ کوئی ایسا لباس پہن کےاُن کے سامنے آئے جو شان و شوکت والا ہو، اِس کی بابت حضور انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فارسیوں کے سپۂ سالار ہُرمزان کے واقعہ کی مختصر تفصیل پیش فرمائی۔

حضرت عمرؓ کی عاجزی اور تقویٰ کے معیار

حضرت عُروہ بن زبیرؓسے روایت ہے کہ مَیں نے عمرؓ بن خطاب کو کندھے پر پانی کا ایک مشکیزہ اٹھائے ہؤا دیکھا تو مَیں نے کہا، اے امیرالمؤمنین!آپؓ کے لیئے یہ مناسب نہیں ہے، آپؓ نے فرمایا کہ جب وفود اطاعت و فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرے پاس آئےتو میرے دل میں اپنی بڑائی کا احساس ہؤا، اِس لیئے مَیں نے اِس بڑائی کو توڑنا ضروری سمجھا!

جو کچھ تمہیں نظر آتا ہے اُس کی کوئی حقیقت نہیں

حضرت یحیٰ ؓعبدالرّحمٰن بن حاطب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمرؓ بن خطاب کے ساتھ مکّہ سے قافلہ کی صورت میں واپس آ رہے تھے، یہاں تک کہ ہم ضجنان کی گھاٹیوں میں پہنچے تو لوگ رک گئے۔۔۔ تو کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے فرمایا! مجھے اِس جگہ پر وہ وقت بھی یاد ہے جب مَیں اپنے والد خطاب کے اونٹ پر ہوتا تھا اور بہت سخت طبیعت کے انسان تھے وہ، ایک مرتبہ مَیں اِن اونٹوں پر لکڑیاں لے کر جاتا تھا اور دوسری مرتبہ اُن پر گھاس لے کر جاتا تھا، آج میرا یہ حال ہے کہ لوگ میرے علاقے کے دُور دراز میں سفر کرتے ہیں اور میرے اوپر کوئی نہیں ۔۔۔پھر یہ شعر پڑھا!

لَا شَیْءَ فِی مَا تَرٰی اِلَّا بَشَاشَۃَ
یَبْقَی الْاِلٰہُ وَ یُوْدِی الْمَالُ وَالْوَلَدُ

یعنی جو کچھ تمہیں نظر آتا ہے اُس کی کوئی حقیقت نہیں سوائے ایک عارضی خوشی کے صِرف خدا کی ذات باقی رہے گی جبکہ مال اور اَولاد فنا ہو جائے گی۔

حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اِس بارہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الاوّلؓ اور حضرت المصلح الموعودؓ کے ارشادات بھی پیش کیئے۔

کیا یہ تعجّب کی بات نہیں

حضرت المصلح الموعود ؓ فرماتے ہیں کہ کیا یہ تعجّب کی بات نہیں کہ اونٹوں کو چرانے والا ایک شخص عظیم الشّان بادشاہ بن گیا اور صِرف دنیاوی بادشاہ نہیں بنا بلکہ روحانی بھی ۔۔۔ یہ قصہ مَیں نے اِس لیئے سنایا ہے کہ دیکھو ایک اونٹ چرانے والے کو دین و دنیا کے وہ علم سکھائے گئے جو کسی کو سمجھ نہیں آ سکتے۔۔۔ایک اونٹ کا چرواہا اور سلطنت کیا تعلق رکھتے ہیں لیکن دیکھو! اُنہوں نے وہ کچھ کیا کہ آج دنیا اُن کے آگے سَر جھکاتی ہے اور اُن کی سیاست دانی کی تعریف کرتی ہے۔۔۔پھر دیکھو! حضرت ابوبکرؓ ایک معمولی تاجر تھے لیکن اب دنیا حیران ہے کہ اِن کو یہ فہم، عقل اور فکر کہاں سے مِل گیا؟ مَیں بتاتا ہوں کہ اُن کو قرآن شریف سے سب کچھ مِلا، اُنہوں نے قرآنِ شریف پر غور کیا اِس لیئے اُن کو وہ کچھ آ گیا جو تمام دنیا کو نہ آتا تھا کیونکہ قرآنِ شریف ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جب اِس کے ساتھ دل کو صیقل کیا جائے تو ایسا صاف ہو جاتا ہے کہ تمام دنیا کے علوم اُس میں نظر آ جاتے ہیں اور انسان پر ایک ایسا دروازہ کُھل جاتا ہے کہ پھر کسی کے روکے وہ علوم جو اِس کے دل پر نازل کیئے جاتے ہیں نہیں رک سکتے، پس ہر ایک انسان کے لیئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کو پڑھنے اور غور کرنے کی کوشش کرے۔

حضرت عمرؓ کی عاجزی اور انکساری

جُبیربن نُفیرؓ سے روایت ہے کہ ایک جماعت نے عمرؓ بن خطاب سے کہا، اے امیر المؤمنین! الله کی قسم! ہم نے کسی شخص کو آپؓ سے زیادہ انصاف کرنے والا، زیادہ حق گو اور منافقین پر سختی کرنے والا نہیں دیکھا، بے شک آپ رسول اللهﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ہیں۔ عوفؓ بن مالک نے کہا، الله کی قسم! تم نے جھوٹ بولا ہے، یقینًا ہم نے نبیٔ کریمؐ کے بعد اِن سے بہتر کو دیکھا ہے یعنی حضرت عمرؓ سے بہتر کو بھی دیکھا ہے تو حضرت عمرؓ نے پوچھا،اے عوفؓ! وہ کون ہے تو اُنہوں نے کہا! ابوبکرؓ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا! عوف ؓنے سچ بولا اور اُس شخص کو کہا! تم نے جھوٹ بولا۔الله کی قسم! ابوبکرؓ مُشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہیں اور مَیں اپنے گھر کے اونٹوں سے بھی زیادہ بھٹکا ہؤا ہوں۔

اِس کے بعد حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت المصلح الموعودؓ کا ارشاد فرمودہ، حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ کی کسی بات پرتکرار سے متعلقہ حدیثوں میں آنے والا واقعہ بیان کیانیزحضرت عمرؓ سے مروی عورت کے جنین کے اسقاط کی صورت میں دیّت کے بارہ میں لوگوں سے مشورہ کرنے والی حدیث پیش فرمائی۔

اجازت طلبی تین بار ہے

حضرت ابو سعیدخُدریؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ الاشعریؓ نے عمرؓ سے اُن کے پاس حاضر ہونے کی اجازت تین مرتبہ طلب کی ۔۔۔ جب تین بار اُنہوں نے اجازت لے لی اور جواب نہیں سنا حضرت عمرؓ کا تو واپس چلے گئے، عمرؓ نے دربان سے کہا ۔۔۔ اُنہیں بُلا کر میرے پاس لاؤ پھر جب وہ اُن کے پاس آئے تو حضرت عمر ؓ نے کہا! یہ آپؓ نے کیا کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا ! مَیں نے سنّت پر عمل کیا ہے، عمرؓ نے کہا! سنّت پر؟ قسم الله کی! تمہیں اِس کے سنّت ہونے پر دلیل اور ثبوت پیش کرنا ہو گا ورنہ مَیں تمہارے ساتھ سخت برتاؤ کروں گا۔ ابو سعیدخُدریؓ کہتے ہیں کہ پھر وہ ہمارے پاس آئے، اُس وقت ہم انصار کی ایک جماعت کے ساتھ تھے، ابو موسیٰ الاشعریؓ نے کہا! اے انصار کی جماعت کیا تم رسول اللهﷺ کی حدیث کو دوسرے لوگوں سے زیادہ جاننے والے نہیں ہو، کیا رسول اللهؐ نے یہ نہیں فرمایا! اَلْاِسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ یعنی اجازت طلبی تین بار ہے، اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو گھر میں جاؤ اور اجازت نہ دی جائے تو لَوٹ جاؤ۔۔۔ابو سعیدخُدریؓ کہتے ہیں کہ مَیں نے اپناسَر ابو موسیٰ الاشعریؓ کی طرف اونچا کر کے کہا! اِس سلسلہ میں جو بھی سزا آپؓ کو ملے گی مَیں اِس میں حصہ دار ہوں۔۔۔ پھر وہ عمرؓ کے پاس آئے اور اُن کو اِس حدیث کی خبر دی، حضرت عمرؓ نے کہا! ٹھیک ہے، مجھے اِس حدیث کا علم نہیں تھا اور اب مجھے علم ہو گیا ہے۔

بڑی محتاط طبیعت تھی حضرت عمرؓ کی

پھر صحیح مسلم کی حضرت ابوہریرہؓ سے مروی روایت کا تذکرہ ہؤا ، جس کا پسِ منظر یہ تھا کہ رسولِ کریم ﷺ کے پوچھنے پرحضرت ابو ہریرہؓ نے کہا! آپؐ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے اور پھر آپؐ اٹھ کھڑے ہوئے مگر واپسی میں آپؐ کو دیر ہو گئی تو ہم ڈر گئے کہ آپؐ ہم سے کَٹ نہ جائیں، ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے مجھے فکر پیدا ہوئی اور مَیں اِس باغ کے پاس آیا اَور لومڑی کی طرح سِمٹ کر اِس باغ میں داخل ہؤا اَور وہ لوگ میرے پیچھے ہیں۔۔۔ مجھے اپنے جُوتے دیئے آنحضرتؐ نے اور فرمایا! میرے یہ دونوں جُوتے لے جاؤ اور جو کوئی اِس باغ کے پرے تمہیں ملے اور یہ گواہی دیتا ہو کہ الله کے سواء کوئی قابلِ عبادت نہیں اور دل سے اِس بات پر یقین رکھتا ہواُسے جنّت کی بشارت دے دو، کہتے ہیں مَیں جب گیا تو سب سے پہلے حضرت عمرؓ ملے، اُنہوں نے کہا، اے ابو ہریرہؓ! یہ جُوتے کیسے ہیں۔۔۔ اے ابوہریرہؓ، واپس جاؤ! کوئی ضرورت نہیں کسی کو کچھ کہنے کی، کہتے ہیں مَیں رسول اللهؐ کے پاس واپس گیا اور رونے ہی لگا تھا کہ حضرت عمرؓ بھی میرے پیچھے پیچھے آ پہنچے، رسول اللهؐ نے فرمایا! اے ابوہریرہ ؓتمہیں کیا ہؤا؟ مَیں نے کہا! مَیں عمرؓ سے مِلا تھا اور اُن سے جو آپؐ نے مجھے دے کر بھیجا تھا، بیان کیا تو عمرؓ نے مجھے سینہ پر زور سے ہاتھ مارا ، مَیں پُشت کے بَل گر گیا، اُنہوں نے کہا واپس جاؤ! رسول اللهؐ نے فرمایا، اے عمرؓ! تم نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عمرؓ نے کہا، یارسول اللهؐ! میرے ماں باپ آپؐ پر فداء ہوں، کیا آپؐ نے اپنی جُوتیوں کے ساتھ ابوہریرہؓ کو بھیجا تھا کہ جو اُسے ملے اور گواہی دیتا ہو الله کے سواء کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اُس کا دل اِس بات پر یقین رکھتا ہو، اُسے جنّت کی بشارت دے دے، آپؐ نے فرمایا، ہاں! اِس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا! ایسا نہ کی جیئے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ لوگ پھر اِسی پر بھروسہ کرنے لگ جائیں گے، اِس لیئےبہتر یہی ہے کہ آپؐ اُن کو عمل کرنے دیں ۔۔۔ نہیں تویہ صِرف اِسی بات پر قائم ہو جائیں گے کہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللهُ کہنا ہی جنّت کی بشارت ہے، رسول اللهؐ نے فرمایا، اچھا! رہنے دو، ٹھیک ہے اِسی طرح کرتے ہیں، بڑی محتاط طبیعت تھی حضرت عمرؓ کی۔

حضرت عمرؓ سے ڈرکر شیطان بھی بھاگتا ہے

حضرت عمرؓ سے ڈرکر شیطان بھی بھاگتا ہے، اِس بارہ میں بھی بعض روایات کا تذکرہ حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا، جن میں حضرت سعدؓ بن ابی وقاص ،حضرت عائشہؓ اور حضرت بُریدہؓ سے مروی روایات شامل تھیں نیز اِس ضِمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کا ارشاد بھی پیش فرمایا کہ نبیﷺ نے حضرت عمرؓ کو کہا تھا کہ اگر شیطان تجھ کو کسی راہ میں پاوے تو دوسری راہ اختیار کرے اور تجھ سے ڈرے اور اِس دلیل سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان حضرت عمرؓ سے ایک نامرد ذلیل کی طرح بھاگتا ہے۔

حضرت عمرؓ کی زبان اور دل پر حق اور سکینت

حضرت عبدالله ؓ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللهﷺ نے فرمایا!

الله نے حق کو عمرؓ کی زبان اور دل پر جاری کر دیا ہے،مزید اِس حوالہ سے

حضرت ابنِ عبّاسؓ کی اپنے بھائی فضلؓ سے بیان کردہ روایت اور حضرت علیؓ کی روایت کا تذکرہ نیز حضرت المصلح الموعود ؓ کا ارشاد پیش فرمایا۔

حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی فضیلت

بعدازاں حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی فضیلت کے بارہ میں سولہ روایات پیش فرمائیں جن میں سے چند بطورِ نمونہ یہ ہیں۔

وہ دونوں کیا ہی خوب ہیں

حضرت ابو سعید خُدریؓ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریمؐ نے فرمایا!عِلِّیِّین والوں میں سے کوئی شخص جنّت والوں پر جھانکے گا تو اُس کے چہرہ کی وجہ سےجنّت جگمگا اُٹھے گی گویا ایک چمکتا ہؤا ستارہ ہے،حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی اُن میں سے ہیں اور وہ دونوںکیا ہی خوب ہیں۔

آپؐ کو کون زیادہ پیارا ہے

ابو عثمانؓ سے روایت ہے ، رسول الله ﷺ نے حضرت عَمروؓ بن العاص کو ذات السلاسل کی فوج پر افسر مقرر کر کے بھیجا۔۔۔حضرت عَمروؓ کہتے ہیں کہ جب مَیں آپؐ کے پاس واپس آیا تو مَیں نے آپؐ سے پوچھا لوگوں میں سےآپؐ کو کون زیادہ پیارا ہے؟ آپؐ نے فرمایا! عائشہؓ، مَیں نے کہا! مردوں میں کون زیادہ پیارا ہے ، آپؐ نے فرمایا! اِس عائشہؓ کا باپؓ، مَیں نے کہا! پھر کون، آپؓ نے فرمایا! عمرؓ، پھر آپؐ نے کئی مردوں کا نام لیا۔

یہ دونوں کان اور آنکھ ہیں

حضرت عبدالله ؓ بن حنطب سے مروی ہے کہ رسول اللهﷺ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو دیکھ کر فرمایا! یہ دونوں کان اور آنکھ ہیں۔

اوّلین اور آخرین، تمام بڑی عمر کے لوگوں کے سردار

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے بارہ میں فرمایا کہ یہ دونوں جنّت کے اوّلین اور آخرین کے تمام بڑی عمر کے لوگوں کے سردار ہیں سوائے انبیاء اور مرسلین کے۔

میرے بعد اِن دونوں کی پیروی کرنا

حضرت حُذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللهﷺ نے فرمایا! میرے بعد اں دونوں ابوبکرؓ اور عمرؓ کی پیروی کرنا۔

ہر نبی کے آسمان اور زمین والوں میں سے دو وَزیر ہوتے ہیں

حضرت ابو سعیدخُدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللهﷺ نے فرمایا! ہر نبی کے آسمان والوں میں سے دو وَزیر ہوتے ہیں اور زمین والوں میں سے بھی دو وَزیر ہوتے ہیں، آسمان والوں میں سے میرے دو وَزیر جبرائیل اور میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وَزیر ابوبکرؓ او رعمرؓ ہیں۔

امّت میں نبیﷺ کے بعد سب سے بہترین

ابو جُحیفہؓ کہتے ہیں کہ مَیں نے حضرت علیؓ سے سناکہ اِس امّت میں نبیﷺ کے بعد سب سے بہترین ابوبکرؓ ہیں، پھر عمرؓ ہیں۔

خطبۂ ثانیہ سے قبل مرحومین کا ذکرِ خیر

حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبۂ ثانیہ سے قبل شہید مکرم کامران احمد؍ پشاور، مکرم ڈاکٹر مرزا نُبیر احمد و اہلیہ مکرمہ عائشہ عنبرین سیّد؍ امریکہ، مکرم چوہدری نصیر احمد؍ کراچی اور مکرمہ سرداراں بی بی؍ ربوہ کا ذکرِ خیر فرمایا نیز نماز جمعتہ المبارک کے بعد اِن کی نمازِ جنازہ غائب بھی پڑھانے کا اعلان فرمایا۔

(خاکسار قمر احمد ظفر۔ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 نومبر 2021

اگلا پڑھیں

تکمیل عملی بدوں تکمیل علمی محال ہے