• بدھ 19 فروری 2020   (25 جمادى الآخرة 1441)

ذکر الٰہی ۔۔۔تعلق باللہ اور حصول نور کا گُر

ذکر خدا پہ زور دے ظلمت دل مٹائے جا

قرآن کریم یہ ابدی سچائی بیان کرتا ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اس کا عبد بن کر اس کا نور حاصل کرے۔ اور یہی انسان کی روحانی زندگی کی بنیاد اور مقصود ہے۔ جس شخص کا خدا تعالی سے جتنا تعلق اور رشتہ ہوگا اتنا ہی وہ روحانی زندگی پائے گا ورنہ خدا کی نظرمیں وہ مردہ اور بے حیثیت ہے۔ پس خدا سے تعلق کاپہلا مرحلہ یقیناً خدا کی یاد اور اس کا ذکر ہے۔ یہی ذکر آگے بڑھ کرشکر اور عبادت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اسی لیے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ

مَثَلُ اَّلذِی یَذْکُرُ رَبَّہُ وَالَّذِی لَا یَذْکُرُ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ

(بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذکر اللہ تعالیٰ حدیث نمبر 6407)

یعنی ذکر الہیٰ کرنے والے اور ذکر الہی نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ

مَثَلُ الْبَیْتِ الَّذِی یُذْکَرُ اللّٰہُ فِیْہِ وَالَّذِی لَا یُذْکَرُ فِیہِ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ یعنی جس گھر میں خدا کا ذکر کیا جاتا ہے اور جس گھر میں خدا کا ذکر نہیں کیا جاتا ان کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے

(مسلم کتاب الصلاۃ باب استحباب صلاۃ النافلہ فی بیتہ)

مجسم ذکر الٰہی رسول اور نور مبین

اس سچائی کی سب سے بزرگ مثال ہمارے آقا و مولا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپﷺ کے مخالفین کی ہے۔ آپﷺ کے دشمن جو خدا کے منکر تھے وہ بے روح اجسام اور حقیقتاً مردے تھے اور دنیا اور آخرت میں رسوا ہوئے مگر خدا کے رسولﷺ نے خدا کا اتنا ذکر کیا کہ خدا نے اسے ذِکْرًا رَّسُوْلًا قراردیا یعنی مجسم ذکرالہی رسول (الطلاق :11 ۔12) جس کے نتیجے میں اسے نور مبین کا لقب دیا گیا یعنی خدا کے نور کا کامل مظہر۔

(النسا٫ :175 )

رسول کریم ﷺ کے شب وروز کو دیکھیں تو ہروقت ذکرالٰہی کا ایک غلغلہ ہے کسی بھی شکل میں ہو صبح بیداری سے لے کر رات کو سونے تک۔ پھر نیند کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ‘‘میری آنکھیں تو سوتی ہیں دل نہیں سوتا’’ (صحیح بخاری کتاب المناقب باب کان النبی تنام عینہ ۔حدیث نمبر 3569) یعنی خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہو جاتا ہے

صبح اٹھتے ہیں تودعاؤں کے ساتھ تہجد، باجماعت نمازیں، نوافل اور پھرہرکام سے پہلے دعا۔ کھانا شروع کرنے کی دعا، کھانا ختم کرنے کی دعا، کپڑے پہننے کی دعا، بازار جانے کی دعا، سونے کی دعا، اٹھنے کی دعا، خدا کی مغفرت رحمت اور نصرت، اسلام کے غلبہ کی بے قرار دعائیں۔ ہر ملاقات کے وقت السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہنا بھی ایک دعا ہے۔

جن بزرگوں نے احادیث سے رسول اللہﷺ کی دعائیں اکٹھی کی ہیں انہوں نے موٹی موٹی کتا بیں ترتیب دی ہیں۔دن رات کا کوئی مرحلہ کوئی ضرورت کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کے لئے آپﷺ نے دعا نہ سکھائی ہو۔ اور پھر یہ دعا بھی کرتے تھے۔

اَللّٰہُمَّ اَعِنِّی عَلٰی ذِکرِکَ وَ شُکرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ

(مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الدعا٫ باب ما امر النبیﷺ)

اے اللہ میری مدد فرما کہ میں تیرا مزید ذکر کروں میری مدد کر کہ میں تیرا مزید شکر کروں اور میری مدد فرما کہ میں تیری بہترین رنگ میں عبادت کر سکوں۔

یہ وہ عبادت ہے جس میں رات کو آپﷺ کے پاؤں سوج جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

(بخاری کتاب التہجد باب قیام النبی ﷺ حدیث نمبر 1130 )

اس لیے آپﷺ کے ساتھی گواہی دیتے ہیں کہ آپﷺ تو ہر وقت ہر حال میں خدا کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ (بخاری کتاب الحیض) اور آپﷺ کے دشمن کہتے ہیں عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَّبَّہُ۔ محمدﷺ تو اپنے رب کا عاشق ہوگیا ہے۔

(المنقذ من الضلال از امام غزالی صفحہ 51 ۔لاہور 1971ء)

ایک مشہور مستشرق ڈاکٹر سپرنگر اقرار کرتا ہے کہ
اس نبی عربی کے خیال میں ہمیشہ خدا کا تصور غالب رہتا تھا۔ اس کو نکلتے ہوئے آفتاب اور برستے ہوئے پانی اور اگتی ہوئی روئیدگی میں خدا ہی کا دست قدرت نظر آتا تھا اور رعد اور طیور کے نغمہ الہی میں خدا ہی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ سنسان جنگلوں اور پرانے شہروں کے کھنڈرات میں خدا ہی کے قہر کے آثار دکھائی دیتےتھے۔

(برگزیدہ رسول غیروں میں مقبول صفحہ 29)

غم اور خوشی کے اوقات میں بھی خدا ہی کی یاد ہے۔ جب لوگ غم کے وقت بین کرتے ہیں، جزع فزع کرتے ہیں، گریبان پھاڑتے ہیں اور سر میں مٹی ڈالتے ہیں خدا کے شکوے کرتے ہیں اس وقت آپﷺ فرماتے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ہم خدا ہی کے ہیں اور اسی کی طرف جانے والے ہیں۔ آپﷺ کا اللہ کہنا بھی رسمی نہیں تھا۔ اس کے اندر وہ جلال اور جمال تھا کہ حیران کر دیتا تھا۔ جب سفر کے دوران ایک ویران مقام پر ایک د شمن نے درخت سے آپﷺ کی تلوار اتار لی اور پوچھا تمہیں کون بچائے گا تو آپﷺ نے فرمایا ’’اللہ‘‘۔ اور یہ سن کر اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی مگر آپﷺ نے اسے زندگی بخش دی۔

(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ ذات الرقاع ،حدیث نمبر4135)

آپﷺ سینکڑوں ابتلاؤں سے گزرے مصائب کی آندھیاں آپﷺ پر چلیں مگر کبھی آپﷺ نے کسی سے کوئی شکوہ نہیں کیا۔ آپ کے بیٹے ابراہیم ؓ کی وفات پر یہ قول سونے کے پانی سے لکھا جانا چاہیے۔ اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبُ یَحْزُنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلَّامَایَرْضٰی رَبُّنَاوَاِنَّابِفِرَاقِکَ یَااِبْرَاھِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْن۔ (بخاری کتاب الجنائز باب قول النبی حدیث نمبر 1303) یعنی آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اوردل فگار ہےمگرہم خدا کی رضا پر مکمل طور پر راضی ہیں۔

خوشی کے موقع پر لوگ ہلہ گلہ کرتے ہیں، تالیاں اور ڈرم بجاتے ہیں۔ مہذب پارلیمنٹوں میں ڈیسک بجائے جاتے ہیں مگر آپﷺ نے ہر موقع پر اَللّٰہُ اَکْبَر اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہنا سکھایا۔ آپﷺ نے اسلام کے دونوں تہواروں یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دنوں میں شکرانہ کی ایک نماز اور بڑھا دی اور ہر رکعت میں تکبیرات کا بھی اضافہ کر دیا۔ جس میں ہر دو رکعت میں بالترتیب ہاتھ اٹھا کر سات دفعہ اور پانچ دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہا جاتا ہے۔ آپﷺ فرماتے تھے ’’اللہ کا ذکر میرا مونس و مددگار ہے اور میرے دل کا پھل ذکر الہی میں ہے۔‘‘ ( شفا٫ عیاض صفحہ 85) قرآن سچ کہتا ہے دلوں کا سچا اطمینان ذکر الہی سے ہی عطا ہوتا ہے (رعد: 29)

کوئی مشکل پیش آتی تو نفل نماز میں دعا کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ جب آپﷺ کو تاریخ انبیا, کی سب سے بڑی فتح نصیب ہوئی تو کوئی بڑا ئی نہیں اور تکبر کا اظہار نہیں بلکہ عاجزی اور انکساری کا مظاہر ہ تھا۔ سرخدا کے حضور جھکا ہوا اور ہونٹوں پر قرآنی آیات تھیں کہ ‘‘اے اللہ! مجھے برکتوں کے ساتھ مکہ میں داخل کر جیسا کہ تو نے رحمتوں کے ساتھ مجھے مکہ سے نکالا تھا اور مجھے اپنے حضور سے بہترین ین مددگار عطا فرما۔‘‘

(بنی اسرائیل: 81 )

صحابہ رسولؓ ۔سلطان نصیر

اور اللہ نے آپ کو وہ سلطان نصیر عطا فرمادیے آپ کو ایسے صحابہ دیے جو آپ کے تتبع میں میں خدا کے عشق میں مست تھے خدا گواہی دیتا ہے۔ کہ ان کو کوئی تجارت اور دنیا کا کوئی سودا ذکر الٰہی سے روک نہیں سکتا

(النور: 38)

یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا اَللّٰہُ اللّٰہُ فِی اَصْحَابِی (جامع ترمذی کتاب المناقب۔ باب فی من سب اصحاب النبیﷺ حدیث نمبر :3862) یعنی میرے صحابہؓ میں خدا ہی خدا نظر آئے گا ۔

ان میں حضرت بلالؓ اور ان کے ساتھی بھی شامل تھے تھے جو تپتی ریت اور ابلتے پتھروں کا بوجھ اٹھا کر بھی احد احد کہتے تھے۔ وہ خباب ؓ بھی جنہوں نے محنت سے جمع کردہ سرمائے کی قربانی دے کر خدا کی خاطر ہجرت کی توفیق پائی۔

( بخاری کتاب البیوع باب ذکر القین والحدادحدیث نمبر: 2091)

وہ اصحاب صفہ بھی تھے جو رسول اللہﷺ سے ذکر الہی سننے کے لیے مسجد نبویؐ میں چبوترہ پر دھونی مارکربیٹھ گئے تھے ان میں سے بعض دن میں جنگل میں جا کر لکڑیاں کاٹتے اور روزی کما تے اور رات کو دیر تک دین کا علم اور قرآن سیکھتے۔ انہی کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَ یْمَانِھِمْ یعنی ان کا نور ان کے آگے بھی دوڑے گا اور بائیں بھی یعنی ہرطرف نور ہوگا۔

(الحدید: 12 )

صحابہؓ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے بعض معجزانہ نظارے بھی دکھائے۔ رسول کریمﷺ کی مجلس سے رات گئے دو صحابہؓ نکلے تو سخت اندھیرا تھا اور کچھ سُجھائی نہ دیتا تھا کہ اچانک ایک نور ظاہر ہوا اور دونوں کے آگے ان کے مطلوبہ راستے پر چلنے لگا اور جب دونوں صحابؓہ اپنے اپنے گھروں کے لئے جدا ہونے لگے تو وہ نور دو حصوں میں تقسیم ہوگیا اور گھروں تک پہنچا کر ختم ہوا۔

(بخاری کتاب المناقب حدیث نمبر :3805 )

یہ سب ذکر الہی اور محبت الہی کی برکات تھیں۔ دنیا والے فانی اموال جمع کرتے ہیں مگر خدا والوں نے سب کچھ دے کر خدا کو پالیا۔

ذکر کب اور کیسے کیا جائے

اب سوال یہ ہے کہ ذکر الٰہی کب اور کیسے کیا جائے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الٰہی کی سب سے اعلیٰ شکل نماز باجماعت ہے۔ جس کے متعلق فرمایا اَقِمِ الصَّلَاۃَ لِذِکْرِی (طٰہ ٰ:15) میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔پانچ نمازیں تو باجماعت ہیں۔ ان کے علاوہ انفرادی نوافل، تہجد، اشراق و غیرہ سب ذکر الہی کی اقسام ہیں ۔حدیث میں اندھیرے کی نمازوں یعنی عشا٫ اور فجر کا خصوصی ذکر ہے۔ فرمایا بَشِّرِ الْمَشَاءِیْنَ فِی الظُّلْمِ اِلَی الْمَسَاجِدِ یعنی اندھیروں کے اوقات میں مسجدوں کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن نورِتام کی بشارت دو۔

(جامع ترمذی کتاب الصلوٰۃباب فضل العشا٫ ۔حدیث نمبر: 223)

دوسرا بڑا ذریعہ تلاوتِ قرآن ہے۔ اس کا ایک نام ذکر ہے اور اول سے آخرتک اس کا موضوع ہی ہستی باری تعالیٰ ہے ۔ہر دو چار آیات میں اللہ کا نام اور اس کی صفات کا کثرت سے بیان ہے۔ قرآن کی 6600 سےزیادہ آیات ہیں جن میں صرف لفظ اللہ2697 مرتبہ آیا ہے جس کا مطلب ہے ہر دوسری آیت میں اللہ کے نام کا ذکر ہے۔ دیگر اشارے اور صفات الگ ہیں۔

قرآن کریم میں اس کے پڑھنے، تلاوت کرنے کا خاص حکم ہے۔ ان کا بھی ذکر ہے جوآیات پڑھتے یاسنتے ہیں توان کی آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اورجلدیں نرم ہو جاتی ہیں اور دل کانپ اٹھتے ہیں

(المائدہ: 84 ۔الزمر: 24 )

حدیث میں ہے کہ عاشق قرآن سے کہا جائے گاکہ قرآن پڑھتا جا اور روحانی ترقی کرتا جا۔ تیری ترقی اس آخری آیت تک مقدر ہے جو تو پڑھے گا۔

(ترمذی کتاب فضائل القرآن حدیث نمبر: 2914)

اسی طرح رسول اللہﷺ نے قرآن کو خوش الحانی سے پڑھنے کاحکم دیا ہے کہ اس میں اللہ نے خاص تاثیرات رکھی ہیں۔

(مسند ابو داؤ د طیالسی حدیث نمبر 198)

ذکر کا تیسرا بڑا ذریعہ دعا ہے ہے۔ قرآن کریم نے خفیہ اور اعلانیہ اور تضرع کے ساتھ دعا کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’دعا مومن کا ہتھیار ہے دین کا ستون ہے اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔‘‘

(مستدرک حاکم کتاب الدعا٫ جلد نمبر 1 حدیث نمبر:1812)

دعا کیا ہے؟ عاجزی اور انکساری کے ساتھ خدا کو یاد کرنا ۔خدا کی اطاعت کرتے ہوئے اپنی حاجات اس کے حضور پیش کرنا کبھی بیٹھ کر ،کبھی کھڑے ہو کر ،کبھی پہلوؤں کے بل، ذکر الٰہی کا ایک طریق دینی مجالس میں شرکت بھی ہےکہ وہ انسان کے قلب پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا:۔ اے لوگو!جنت کے باغوں میں چرنے کی کوشش کرو۔ ہم نے عرض کیا جنت کے باغ سے کیا مراد ہے فرمایا: ذکر ِالٰہی کی مجالس جنت کے باغات ہیں۔ فرمایا صبح اور شام کے وقت خصوصاً اللہ کا ذکر کرو۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے اس قدرو منزلت کا علم ہو جو اللہ کے ہاں اس کی ہے تو وہ یہ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا کیا تصور ہے کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی ایسی ہی قدر کرتا ہے جیسی اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ہے۔

(تفسیر در منثور جلد 1 صفحہ 367 زیر آیت بقرہ: 153 فَاذْکُرُوْنِی اَذْکُرُکُمْ )

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ سے پوچھا گیا کہ کس کے پاس بیٹھنا مفید ہے۔ فرمایا وہ جس کو دیکھنے سے تمہیں خدا یاد آئے اور جس کی باتوں سے تمہارے علم میں اضافہ ہو اور جس کے عمل کو دیکھ کر تمہیں آخرت کا خیال آئے۔

(المنتخب من مسند عبد بن حمید۔ جلد 1 صفحہ 213 حدیث نمبر:631)

ذکر الہی کا ایک آسان طریقہ تسبیحات بھی ہیں جو انسان چلتے پھرتے اور دوسرے کاموں میں مشغولیت کے باوجود کرسکتا ہے۔ وہ حمدیہ کلمات بھی جو رسول کریم ﷺ نے نماز وں کے بعد اور رات کو سونے سے پہلے پڑھنے کا ارشاد فرمای اہے جیسے الحمدللہ ، سبحان اللہ ، اللہ اکبر ، لاالہ اللہ درود شریف اور استغفار ہے جو کثرت سے پڑھا جا سکتا ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کی تحریکات

اس ضمن میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بیان فرمودہ ذکر الہی کی بعض تحریکات کی یاددہانی بھی ضروری ہے۔ صبح اور شام سورۃ مومن کی ابتدائی چار آیات، آیت الکرسی ،رات کو سونے سے پہلے آخری تین سورتوں کی تلاوت اور پھر پھونک مار کر جسم پر پھیر لینا۔ وہ دعائیں بھی ہیں جن کی صدسالہ جوبلی اور پھرخلافت جوبلی کیلئے تحریک کی گئی تھی مگر وہ دعائیں مستقل ہیں جوہمیشہ کرتی رہنی چاہئیں کیونکہ وہ سراسر برکت اور نصرت اور حصول نور کا موجب ہیں۔

پس یہ ذکر الٰہی ہے جو تعلق باللہ کی پہلی منزل ہے۔ نور الٰہی کے حصول کا پہلا زینہ ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو آپ کے سینہ و دل کو منور کر دے گی۔ یہ وہ آفتاب ہے جو نفسانیت کے اندھیروں کو دور کر کے عاجزی اور انکساری کی شعاعیں مہیا کرے گا اور پھر صرف آپ کونہیں بلکہ آپ کے پورے ماحول کو روشن کرے گا تا آنکہ ساری زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے۔

ذکر خدا پہ زور دے ظلمت دل مٹائے جا
گوہر شب چراغ بن دنیا میں جگمگائے جا
خود سراپا نور بن جانے سے کب چلتا ہے کام
تجھ کو اس ظلمت کدے میں نور پھیلانا بھی ہے

(عبدالسمیع خان)

پچھلا پڑھیں

روزنامہ الفضل کا پرنٹ سے ڈیجیٹل میڈیا تک کا کامیاب سفر

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جنوری 2020