• 25 ستمبر, 2020

افغانستان میں احمدیت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

ذکر شاں ہم مے دہد یاد از خدا
صدق و رزاں در جناب کبریا

ان کا ذکر بھی خدا کی یاد دلاتا ہے اس لئے کہ وہ خدا کے حضور میں راست باز ہیں۔

The Ahmadiyya is considered a movement that began in the late 19th century by Mirza Ghulam Ahmad in Qadian, India. It was seen Apostasy by all other groups, and accordingly only 12 years after Mirza’s claim of Mahdihood, a couple of Ahmadiyya members were stoned to death in Kabul during 1901 to 1903. Later in the 1920s, King Amanullah had served Ahmadiyya members forcibly reverted, and in 1924 affiliation with Ahmadiyya became a capital offence. (Wikipedia)

1901ء اور 1903ء کے دوران حضرت میاں عبدالرحمن صاحب کو امیر عبدالرحمن خان (1844ء۔1901ء) کے دور میں شہید کیا گیا اور حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو امیر حبیب اللہ خان (1901ء-1919ء) کے دور میں سنگسار کرکے شہید کیا گیا۔ قرآن کریم میں ہے۔ وَجَآءَ مِنْ اَقْصَاالمَدِینَۃِ رَجُل یَسْعَی قَالَ یٰا قَومِ اتَّبِعُوا المُرْسَلُون۔ (یٰس:21) یعنی اور شہر کے دور کے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا اے میری قوم ان بھیجے ہوؤوں کی اطاعت کرو۔

حضرت مسیح موعودؑ نے حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیفؓ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔

’’وہ بھی تو دور کی زمین کا رہنے والا تھا جس کے صدق اور وفا اور اخلاص اور استقامت کے آگے پنجاب کے بڑے بڑے مخلصوں کو بھی شرمندہ ہونا پڑتا ہےاور کہنا پڑتا ہے کہ وہ ایک شخص تھا کہ ہم سب سے پیچھے آیا اور سب سے آگے بڑھ گیا‘‘

(تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 75)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔

’’ اَقْصَا المَدِینَۃِ ……. موسیٰ کی طرف ایک شخص آیا (القصص:21) اور عیسٰی کی طرف آرمینیا کی طرف سے اور ہمارے آقا کی طرف صحابہ میں سے ایک شخص یعنی ابوبکر وغیرہ، اور مسیح موعود کی طرف اطراف خوست کابل سے صاحبزادہ عبداللطیف شہید۔

(بحوالہ حاشیہ یٰس:21 – قرآن مجید مترجمہ حضرت مولانا مولوی محمد سعید)

(از درس قرآن حضرت خلیفۃ المسیح حاجی حافظ مفسر محدث فقیہ حکیم الامت مولانا اعظم مولوی نور الدین….. قدس سرہ الشریف)

شہادت حضرت میاں عبد الرحمٰن

حضرت میاں عبدالرحمن صاحب سید الشہداء سید عبد اللطیف صاحب کے شاگرد رشید تھے جنہیں آپ نے اپنا نمائندہ بنا کر اور بیعت کا خط دے کر اور کچھ تحائف دے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں قادیان بھجوایا تھا جب وہ واپس کابل تشریف لائے تو انہیں امیر کابل عبدالرحمن خان نے گلا گھونٹ کر شہید کروا دیا۔ حضرت سید نور احمد کابلی صاحب اپنی کتاب چشمدید واقعات میں لکھتے ہیں۔

’’حضرت میاں عبد الرحمٰن صاحب شہید نے قادیان دارالامان میں چند روز قیام فرمایا اور نور بصیرت رکھتے ہوئے حق کو فوراً پہچان لیا اور.. بیعت کرنے میں جلدی کی اور احمدیت قبول کرنے کے بعد جب افغانستان تشریف لائے.. ہر خاص وعام تک اس انمول پیغام کو پہنچانے میں دیر نہ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان کے پہاڑوں میں کثرت سے بوستان احمد کے پھول کھلنے لگے۔

یہ امیر عبد الرحمن کی بادشاہت کا دور تھا سخت گیر کج فہم ملا نے ہمیشہ کی طرح احمدیت کی ایسی خوفناک تصویر کشی کی کہ دربار شاہی میں موجود مفاد پرستوں نے بادشاہ کو بھی خوف زدہ کر دیا اور بادشاہ نے بھی اس بابرکت آواز کو سن کر سمجھنے کی بجائے خطرہ کی گھنٹی تصور کیا اور اپنے تند مزاج کے مطابق فرعونیت کی راہ اپنا لی اور بغیر کسی قسم کی تحقیق کے حضرت میاں عبد الرحمٰن کو شہید کروا دیا‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے تخمیناً دو برس پہلے ان کے ایما اور ہدایت سے میاں عبدالرحمن شاگرد رشید ان کے قادیان میں شاید دو یا تین دفعہ آئے اور ہر یک مرتبہ کئی کئی مہینہ تک رہے اور متواتر صحبت اور تعلیم اور دلائل سننے سے ان کا ایمان شہداء کا رنگ اختیار کر گیا اور آخری دفعہ جب کابل واپس گئے تو وہ میری تعلیم سے پورا حصہ لے چکے تھے اور اتفاقاً ان کی حاضری کے ایام میں بعض کتابیں میری طرف سے جہاد کی ممانعت میں چھپی تھیں………. کابل میں جا کر جابجا انہوں نے یہ ذکر شروع کیا کہ انگریزوں سے جہاد کرنا درست نہیں کیونکہ وہ ایک کثیر گروہ مسلمانوں کے حامی ہیں اور کئی کروڑ مسلمان امن و عافیت سے ان کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے ہیں تب یہ خبر رفتہ رفتہ امیر عبدالرحمٰن کو پہنچ گئی…….

تب امیر یہ بات سن کر بہت برافروختہ ہوگیا…… تب اس مظلوم کو گردن میں کپڑا ڈال کر اور دم بند کر کے شہید کیا گیا کہتے ہیں کہ اس کی شہادت کے وقت بعض آسمانی نشان ظاہر ہوئے‘‘

(تذکرۃالشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ48)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’شیخ عبدالرحمٰن امیر عبدالرحمٰن کے سامنے اس سلسلہ کے لئے گلا گھونٹ کر مارا گیا اور اس نے ایک بکری کی طرح اپنے تئیں ذبح کرا لیا۔ کیا وہ ابدال میں داخل نہ تھا؟

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ357)

جہاد کا موقوف ہونے کے بارے میں آپؑ فرماتے ہیں۔
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں مسیح ابن مریم کے رنگ اور صفت میں اس راقم کو مبعوث فرمایا اور میرے زمانہ میں رسم جہاد کو اٹھا دیا جیسا کہ پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد کو موقوف کر دیا جائے گا‘‘

(لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 213)

دراصل امیر عبدالرحمٰن خان نے جہاد کے واجب ہونے کے بارے میں ایک رسالہ لکھا تھا جو حضرت مسیح موعودؑ کے شائع کردہ رسالوں کے بالکل مخالف تھا۔اسی جاہلانہ تصور کی وجہ سے افغانستان میں آج تک قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔

حضرت صاحبزادہ مولوی سید عبداللطیف ؓ
صحابی مسیح موعودؑ

آپ امیر حبیب اللہ خان کے زمانے میں اور اس کی اجازت سے حج کے لئے کابل سے روانہ ہوئے اور چاہا کہ پہلے قادیان حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر شرف ملاقات حاصل کریں۔ آپ چند ماہ حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت میں رہے اس دوراں حج کے ایام گزر گئے۔ آپ نے واپس افغانستان پہنچ کراپنے مریدوں اوردیوان آف رائل کورٹ کے ہر عہدیدار تک بڑی حکمت، شجاعت اور سرعت کے ساتھ مسیح موعودؑ کا پیغام پہنچایا جس کا امیر کابل اور حکومت کی طرف سے سخت ردعمل ہوا۔ اس حسین جرم میں آپ کو سنگسار کرنے کا خفیہ منصوبہ بنایا گیا تاکہ اس ظالمانہ کارروائی سے کسی افغان کو حضرت مسیح موعودؑ کو قبول کرنے کی جرات نہ ہو سکے۔

14 جولائی 1903ء کو آپ کوسنگسار کرکے شہید کردیا گیا۔ اس سے قبل آپ کو سخت Torture کیا گیا۔ آپ کا افغانستان میں بہت بڑا روحانی اور سیاسی مقام تھا۔ جب چند لاکھ کی ریاست کی آبادی تھی اس وقت 50 ہزار افغان آپ کا مرید تھا۔ آپ امیر کابل کے Religious Adviser تھے آپ کو ڈیورنڈ باؤنڈری لائن کے لئے حکومت کا نمائندہ بنایا گیا تھا آپ نے ہی امیر عبدالرحمٰن خان کی وفات پر اس کے بیٹے امیر حبیب اللہ خان کی تاج پوشی کی تھی آپ کو آپ کے گاؤں سیدگاہ علاقہ خوست سے گرفتار کر کے کابل لانا کوئی آسان کام نہ تھا لیکن آپ نے خدا کی رضا کے آگے سر تسلیم خم کر دیا اپنے مریدوں کو کسی قسم کی مزاحمت کرنے سے باز رکھا۔

ڈیڑھ ماہ سے چار ماہ تک سخت اذیت ناک کئی من وزنی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے قید کاٹی تلواروں کے سائے میں علماء سوء سے تحریری مناظرہ کیا ۔طے شدہ منصوبے کے تحت آپ پر کفر کا فتوی لگا کر کئی بار آپ کو مسیح موعودؑ کے انکار کے لئے انتہائی کوشش کی گئی اور ان تمام مصائب سے گزر کر بھی جب آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی تو آپ کی ناک میں نکیل ڈال کر آپ کو مقتل کی طرف لے جایا گیا اور گڑھا کھود کر اس میں اتارا گیا آخری بار پھر کوشش کی گئی کہ امیر کے کان میں ہی مسیح موعود کے کفر کا اقرار کردیں لیکن آپ نے ان ظالموں کی بات نہ مانی اور بالآخر آپ کو پتھر مار مار کر سنگسارکردیا گیا اس وقت آپ کی زبان سے یہ الفاظ سنے گئے۔ اَنْتَ ولی فی الدنیا ولآخرہ توفنی مُسْلِمًا والحقنی من الصالحین

یہ وہ درد ناک واقعات ہیں جن کو پڑھتے اور لکھتے ہوئے بھی انسان لرز اٹھتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک آپ کی شہادت کی جوخبریں نور احمد کابلی صاحب کے ذریعے اور دوسرے ذرائع سے پہنچیں ان کی بنیاد پر ایک نہایت اہم اور شاندار کتاب تذکرۃالشھادتین آپ کی شہادت پر لکھی۔ اس کے علاوہ ملفوظات میں بھی کئی جگہ آپ کا پیار بھرا ذکر فرمایا۔

ایک جگہ فرمایا۔ ’’مولوی صاحبزادہ عبداللطیف جو محدث اور فقیہہ اور سر آمدعلماء کابل تھے اس سلسلہ کے لئےسنگسار کئے گئے اور باربار سمجھایا گیا کہ اس شخص کی بیعت چھوڑ دو پہلے سے زیادہ عزت ہوگی لیکن انہوں نے مرنا قبول کیا اور بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی بھی کچھ پرواہ نہ کی اور چالیس دن تک پتھروں میں ان کی لاش پڑی رہی۔کیا وہ ابدال میں سے نہ تھے‘‘

(روحانی خزائن جلد 21 صفحہ357)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔
’’صاحبزادہ عبد اللطیف شہید کی شہادت کا واقعہ تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ تذکرۃ الشہادتین کو بار بار پڑھو‘‘

(الحکم 24 جنوری 1904ء)

حضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے دعوۃ الامیر میں صفحہ 272 تا 280 پر اس کا تفصیلی ذکر فرمایا ہے۔جماعت کے بعض بزرگوں نے بھی آپ پر کتب لکھی ہیں اور گاہے بگاہے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں آپ کے ایک سعادتمند پوتے صاحبزادہ جمیل لطیف نے آپ کے بارےمیں ایک کتاب سید الشہداء کے نام سے لکھی ہے جسے پڑھ کر اس واقعہ پر آنکھیں آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتیں۔
حضرت مسیح موعود نے اپنے منظوم کلام میں فرمایا۔

زیر ایں موت است پنہاں صد حیات

اس موت کے اندر سینکڑوں زندگیاں مخفی ہیں۔
آپ کی عظیم شہادت کے بعد آپ کے خاندان کو ایک بہت لمبا عرصہ قید و بند، ملک بدری، ہجرت در ہجرت کے نہایت تکلیف دہ حالات سے گزرنا پڑا آپ کے دو صاحبزادوں کی قید کے دوران موت واقعہ ہو گئی اور بالآخر خاندان کے جو افراد بچ گئے وہ اضطراری طور پر ہجرت کرکے بنوں سرائے نورنگ کے پاس اپنی بچی کھچی زمینوں پر آگئے حضرت مسیح موعودؑ اور سید الشہداء کی قوت قدسیہ کے نتیجے میں آپ کی اولاد در اولاد نے بھی استقامت شجاعت اور اخلاص کا عظیم الشان نمونہ دکھایا اور آج اس عظیم قربانی کے ثمرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالی نے صاحبزادہ عبد اللطیف شہید کی نسل کو دنیا کے کئی ملکوں میں پھیلا دیا ہے۔ حکومت افغانستان کے ایک بہت سینئر آرکیٹکٹ نے اسی جگہ کابل میں قومی مینار ڈیزائن کر کے کھڑا کیا ہے جہاں اس نے بچپن میں صاحبزادہ صاحب کو پابند سلاسل مقتل کی طرف لے جاتے ہوئے نفس مطمئنہ کی حالت میں دیکھا تھا اس قومی یادگار کا ذکر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا تھا۔

جب میں حضرت مسیح موعود کی آپ کےکبار صحابہ کے بارے میں تعریفی عبارتیں پڑھتا ہوں تو سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ شاید سرزمین کابل کے پیشوا حضرت سید الشہداء کے بارے میں سب سے زیادہ محبت کا اظہار فرمایا ہے جیسا کہ فرمایا۔

’’جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعوی کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں اور جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے ایسا ہی ان کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا……. اس کی ایمانی قوت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اگر میں اس کو ایک بڑے سے بڑے پہاڑ سے تشبیہہ دوں تو میں ڈرتا ہوں کہ میری تشبیہہ ناقص نہ ہو…. اپنے مال اور آبرو اور جان کو میری پیروی میں یوں پھینک دیا کہ جس طرح کوئی ردی چیز پھینک دی جاتی ہے‘‘

شاتان تذبحان کا عظیم الشان الہام پورا ہؤا۔ یہ الہام براہین احمدیہ کے زمانے میں ہوا تھا جو 23 سال بعد پورا ہوا فرمایا۔

’’تیری جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی…… ۔ یہ خدا تعالی کی کتابوں میں محاورہ ہے کہ بے گناہ اور معصوم کو بکرے یا بکری سے تشبیہہ دی جاتی ہے….. اور یہ پیشگوئی شہید مرحوم مولوی عبداللطیف اور ان کے شاگرد عبدالرحمٰن کے بارے میں ہےکہ جو براہین احمدیہ کے لکھے جانے کے بعد پورے تیئیس برس بعد پوری ہوئی‘‘

اللہ تعالی نے الہاماً بتایا کہ ’’ان شہیدوں کے مارے جانے سے غم مت کر ان کی شہادت میں حکمت الہی ہے‘‘

اسی طرح فرمایا۔
’’اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہوں گے۔ اور کابل کی زمین دیکھ لےگی کہ یہ خون کیسے کیسے پھل لائے گا یہ خون کبھی ضائع نہیں جائے گا‘‘

ادھر حضرت صاحبزادہ صاحب کو قادیان کے سفر کے دوران بار بار پشتو زبان میں الہام ہوا کہ ’’سر بدہ‘‘ کہ اس راہ میں اپنا سر دے دے اور دریغ نہ کر کہ خدا نے کابل کی زمین کی بھلائی کے لئے یہی چاہا ہے۔ حضرت مسیح موعود کو جو دکھ اس شہادت سے پہنچا اس کا اظہار اس طرح بھی فرمایا۔

’’اے کابل کی زمین! تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔اے بدقسمت زمین تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے‘‘

(تذکرۃالشہادتین روحانی خزائن جلد 20)

امیر حبیب اللہ خان اور اس سے پہلے اس کے باپ امیر عبدالرحمین خان کی عبرت ناک موت سے لے کر اب تک اس بدقسمت زمین پر بیماریوں آسمانی آفات اور قتل و غارت اور جنگ وجدال اور ظلم و بر بریت کا نہ ختم ہونے والا دور جاری ہے اور کبھی امن نصیب نہیں ہوا۔ اپنے منظوم کلام میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام صاحبزادہ صاحب کو خراج عقیدت دیتے ہوئےفرماتے ہیں۔

صد ہزاراں فرسخے تا کوئے یار
دشت پر خار و بلائش صد ہزار
بنگر ایں شوخی ازاں ںشیخ عجم
ایں بیاباں کرد طے از یک قدم

کوچہ محبوب تک لاکھوں کوس کا فاصلہ ہوتاہے اور اس کے اندر کانٹے دار جنگل اور سو بلائیں ہوتی ہیں لیکن اس شیخ عجم کی یہ شوخی دیکھ کہ اس نے اس بیاباں کو ایک ہی قدم میں طے کرلیا۔

یادگاری کتبہ۔ آپ کا یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان کے قطعہ خاص میں نصب کیا ہوا ہے جہاں ہر سال ہزاروں زائرین حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفۃ المسیح اول کے ساتھ آپ کے لئے بھی دعائیں کرتے چلے آرہے ہیں افغانستان میں آپ کی قبر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاتی رہی اور کچھ علم نہیں ہے کہ اب کہاں ہے

اے خدا بر تربت او ابر رحمتہا ببار
داخلش کن از کمال فضل در بیت النعیم

(انجینئر محمود مجیب اصغر)

پچھلا پڑھیں

روزنامہ الفضل کا پرنٹ سے ڈیجیٹل میڈیا تک کا کامیاب سفر

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جنوری 2020