• 30 نومبر, 2021

سانحہ ارتحال

مکرمہ امۃ الباری ناصر صاحبہ اعلان بھجواتی ہیں کہ:

اے خدا بر تربت او ابر رحمتہا ببار
داخلش کن از کمال فضل در بیت النعیم

مکرم عبد الخالق بٹ صاحب 25 دسمبر 2020ء کو بعمر بیاسی سال ہارٹ فیل ہوجانے سے کراچی میں وفات پا گئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

مرحوم ہمارے سمدھی ’چھوٹی بہو مکرمہ امۃ المتین اہلیہ محمود احمد قریشی کے والد محترم تھے۔ان کے خاندان میں احمدیت ان کے دادا محترم میاں احمد دین صاحب آف کوئٹہ کے 1930ء میں قبول احمدیت سے آئی۔ موصوف کو کچھ عرصہ درویشِ قادیان رہنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ پرخلوص خادم دین تھے ۔ ساری زندگی سادگی سے گزاری اپنی کمائی کا زیادہ حصہ چندے میں دے دیتے تھے ۔

جماعتی خدمات

آپ نےمنشی فاضل تک تعلیم حاصل کی ۔ کوئٹہ سے جماعتی خدمات شروع کیں، قائد خدام الاحمدیہ رہے ۔ پھر کسب معاش کے لئے ایران چلے گئے۔ جہاں اکتالیس سال تک قیام رہا ۔ تہران میں مجلس عاملہ کے فعال ممبر تھے ۔ مختلف شعبوں میں خدمات کی توفیق پائی ۔

بارہ سال تک بطور صدر جماعت ہائے ایران خدمت کا موقع ملا۔ وہاں آپ قرآن پاک کے فارسی زبان میں ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کرنے والوں کی ٹیم میں مکرم سید عاشق حسین صاحب کے ساتھ شامل رہے۔ قرآن پاک کے علاوہ کچھ دوسرے جماعتی لٹریچر کا ترجمہ بھی کیا ۔ جماعتی اجتماعات نمازجمعہ اور جلسہ میں لمبا سفر کرکے باقاعدگی سے شامل ہوتے۔

واپس کراچی آئے تو لجنہ اماء اللہ کراچی کے تحت فارسی درثمین کی نئی کتابت ’ٹرانسلٹریشن‘ اردو ترجمہ اور گلوسری کی تیاری میں انتہائی خلوص اور بے لوث محنت سے تعاون کیا ۔ اس کے علاوہ بھی لجنہ کراچی کی کئی کتب کی پروف ریڈنگ میں تعاون کیا ۔ اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

کراچی حلقہ النور میں 2010ء سے 2017ء تک سات سال سیکرٹری تعلیم رہے ۔

عائلی زندگی

مکرم بٹ صاحب کی بیگم صاحبہ مکرمہ ارشاد بیگم صاحبہ سات سال قبل وفات پاگئی تھیں ۔دونوں کا پچپن سال کا ساتھ رہا تھا ۔

مرحوم ایک محبت کرنے والے شوہر اور نہایت شفیق والد تھے ۔ اپنے عزیزوں رشتہ داروں اور جماعت میں اپنےاعلی اخلاق اور نرم برتاؤ کی وجہ سے مقبول تھے۔ منکسر المزاج ،صلح جو جماعت کے فدائی باقاعدگی سے تہجد پڑھنے والے صوم و صلوۃ کے پابند۔ محبت سے قرآن پاک پڑھتے۔ چندوں میں باقاعدہ تھے ۔ اپنی چاروں بیٹیوں سے بطور خاص شفقت سے پیش آتے ان کی تعلیم وتربیت میں کوئی کسر نہ رکھی دعا ہے کہ جنت الفردوس میں آنحضرت ﷺ کا ساتھ نصیب ہو ۔ آمین

ہماری بہو امۃ المتین کی آمد ہمارے گھر میں باعث برکت ثابت ہوئی اللہ تعالی اس کے والدین کے درجات بلند فرمائے، آمین ۔ متین بتاتی ہیں کہ ابو جان نے اپنی زندگی بہت محنت سے گزاری ایک وقت میں دو دو جاب بھی کئے۔ ایک دفعہ ایران سے سب جمع جوڑا اکٹھا کرکے کراچی آکر کاروبار شروع کیا مگر یہاں کے کاروباری مزاج کو نہ سمجھنے کی وجہ سے کامیابی سےچلا نہ سکے واپس ایران چلے گئے اور نقصان صبر سے برداشت کیا ۔ ایران کے قیام کا زمانہ بہت کشائش کا تھا ۔ ابو کو گھر کے لئے وقت کم ملتا تھا آفس سے آکرلازماً ترجمے کے کام کے لئے جانا ہوتا ۔ قرآن پاک کے فارسی ترجمے کے پیش لفظ میں ابو کا نام دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔ بچوں سے پیار سے پیش آتے۔ یاد نہیں کہ کبھی ڈانٹا ہو۔ پھر ہماری تعلیم و تربیت کے لئے فیملی سے جدائی برداشت کی اور ہمیں کراچی بھیج دیا ۔اکتالیس سال ایران میں رہ کر 2004ء میں مستقل کراچی آگئے۔ یہاں بھی جماعت کا کام مل گیا ۔ مطالعہ کا بہت شوق تھا ۔ علم بہت وسیع تھا ۔ اللہ کا کرم اورحسن اتفاق دیکھئے کہ جب آپ کراچی آئے کراچی لجنہ کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی فارسی درثمین کی مع ترجمہ اور فرہنگ اشاعت کا کام مل گیا۔ ابوکا فارسی کا علم کام آیا بہت محنت سے کام کیا ۔ حضور انور کی دعائیں ملیں۔ اس کتاب میں بھی ابو کا نام دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔

ہمارے والدین آپس میں محبت سے رہتے ایک دوسرے کی عزت کرتے۔ جب امی کو فالج ہؤا تو ابو نے بہت خدمت کی ۔ امی کی وفات ابو کے صبر کا بہت بڑا امتحان تھا ۔ اللہ تعالی نے انہیں بہت ہمت دی۔ نہ صرف خود کو سنبھالابلکہ ہمارے لئے بھی مضبوط سہارا بنے اور صبر کی تلقین کی ۔ پھر ہماری ایک بہن مکرمہ امۃ الاعلیٰ کا انتقال ہؤا اس پر بھی بہت حوصلے سے رہے۔ امی کے بعد سات سال جئے اور پھر اللہ تعالیٰ کا بلاوا آگیا۔ چھوٹے بھائی عطاء القیوم اور بھابھی ھبۃ النور بتاتے ہیں کہ نماز عشاء کے بعد بھی کچھ دیرہم سے باتیں کرتے رہے پھر اپنے کمرے میں چلے گئے ۔ صبح جب نماز فجر کے بعد بھائی ان کے کمرے میں گیا تو وہ اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو چکے ۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم موصی تھے النور سینٹرکراچی میں نماز جنازہ ہوئی پھر دونوں بھائی جنازہ ربوہ لے گئے وہاں مکرم محمود منیر بھٹی صاحب مربی سلسلہ استاد جامعہ احمدیہ نے نماز جنازہ پڑھائی اوربہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہو گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت فرمائے آمین اللھم آمین
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رضائے الہی حاصل کرسکیں ۔

اولاد

عبد الوہاب، عطاء القیوم، امۃ الباسط، امۃ لاعلیٰ (مرحومہ)، امۃ النصیر، امۃ المتین مونا ۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 13 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 فروری 2021