• 21 مئی, 2022

درخت پر طوطا اور گاؤں کے بچے

درخت پر طوطا اور گاؤں کے بچے
(کلام حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ)

’’چڑیا‘‘ والی نظم تو کھڑے کھڑے شاید پانچ منٹ میں آپ نے کہی تھی اورمتین کو یاد کروا کے سنی بھی۔کچھ عرصے کے بعد ایک دن آئے تو ایک کاغذ پر اپنے ہاتھ سے ’’طوطے‘‘ پر ایک نظم لکھی ہوئی تھی۔ کہنے لگے لو میں تمہارے لیے نظم لکھ کر لایا ہوں یاد کر لو۔متین کو طوطا پالنے کا بچپن میں بہت شوق تھا۔ یہ نظم بھی درج ذیل کرتی ہوں۔ یہ حضور کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی میرے پاس محفوظ ہے۔

پیارے طوطے بھولے بھالے
ہم ہیں تیرے چاہنے والے

تیرا سبز لباس غضب ہے
کیا ہی پھبن ہے، کیسی چھب ہے

اوپر لال سی جاکٹ ہے
سج کر بیٹھا ہے بن گہنے

جب بیٹھا ہو پیڑ کے اوپر
کھیل رہے ہو پر پھیلا کر

اس کی سبزی تجھ کو چھپائے
رنگ ترا اس سے مل جائے

کیوں بیٹھا ہے پیڑ پہ جا کر
بیٹھ ہمارے پاس تو آکر

تجھ کو ہم چوری ڈالیں گے
پیار و محبت سے پالیں گے

بیر اور گنے لائیں گے ہم
تجھ کو خوب کھلائیں گے ہم

پنجرہ اک اچھا سا بنا کر
رکھیں گے تجھے اس میں چھپا کر

میٹھے بول سکھائیں گے ہم
تجھ کو خوب پڑھائیں گے ہم

بیٹھ کے تیری باتیں سنیں گے
تجھ سے کوئی کام نہ لیں گے

اچھے طوطے گر نہیں آتا
اپنا نام تو ہم کو بتا جا

طوطا بولا نام ہمارا
میٹھو ہے، کیوں ہے ناں پیارا؟

یہ کہتے ہی پر پھیلا کر
تول کے دم اور چونچ دبا کر

اڑگیا طوطا شور مچا کر
چھپ گیا وہ بادل میں جا کر

(سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحہ392-393)

پچھلا پڑھیں

This Week with Huzoor مؤرخہ 18 فروری 2022ء

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ