• 21 مئی, 2022

ڈی آر ایس کیسے کام کرتا ہے؟

ڈی آر ایس کیسے کام کرتا ہے؟
دور حاضرکی ایسی ٹیکنالوجی جو مسلسل تنازعات کا شکار ہے

ڈی آر ایس یعنی ڈسیژن ری ویوسسٹم دور حاضر میں کھیلوں کے دوران منصف کے کسی فیصلہ پر کھلاڑیوں کو اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ڈی آر ایس ویسے تو ٹینس سمیت دیگر کئی کھیلوں میں بھی کیا جاتا ہے لیکن سب سے زیادہ استعمال کرکٹ میں ہی ہوتا ہے۔کرکٹ میں ڈی آر ایس کا استعمال 2008ء میں انڈیا اور سری لنکا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے دوران کیا گیا تھا۔ اس سسٹم کی مدد سے سب سے پہلے آؤٹ ہونے والے بھارت کے جارح مزاج بلے باز وریندر سہواگ تھے۔2009ء میں باقائدہ طور پر ڈی آر ایس سسٹم کو متعارف کروایا گیا تھا جو دم تحریر تنازعات کا شکار ہے۔ یکم اکتوبر 2017ء کو آئی سی سی نے جو کہ کرکٹ کے انتظام و انصرام کا مجاز عالمی ادارہ ہے اس سسٹم کا استعمال ٹیسٹ اور ون ڈے کے بعد مختصر طرز کی کرکٹ یعنی ٹی 20 میں بھی لازمی قرار دے دیاتھا۔اپنے آغاز سے اس کے طریقہ کار میں کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ایمپائر کے کسی فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست صرف ٹیم کا کپتان ہی کر سکتا ہے۔ دوسری طرف وہ بلے باز ہی فیصلے کو چیلنج کر سکتا ہے جس کے خلاف اپیل ہوئی ہو۔ایمپائر کے فیصلہ دینے کے بعد فیلڈنگ کر رہے کھلاڑی یا بلے باز ہاتھ سے ڈی کا نشان بنا کر ڈی آر ایس سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہیں۔کھلاڑیوں کے پاس فیصلے کو چیلنج کرنے کرنے کے لیے 15 سیکنڈ کا وقت ہوتا ہے۔

ڈی آر ایس سسٹم کے فیصلوں پر کئی تنازعات نے جنم لیا جیساکہ انڈیا اور آسٹریلیا کے مابین ایک ٹیسٹ میچ کے دوران اسٹیون سمتھ کو جب آؤٹ قرار دیا گیا تو انہوں نے ڈی آر ایس لینے سے پہلے اپنے ڈریسنگ روم کی طرف دیکھا۔تاکہ وہاں موجود اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے اشارہ پا کر ڈی آر ایس لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کریں۔ اس پر آن فیلڈ ایمپائر نے فوری مداخلت کرتے ہوئے انہیں ڈی آر ایس کا حق دینے سے انکار کر دیا اور انہیں آؤٹ دینے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ انڈین کھلاڑی بھی اس پر کافی ناراض ہوئے اور اس معاملہ پر سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر کافی لے دے ہوئی۔

اگر چیلنج کیے گئے فیصلے کی توثیق ڈی آر ایس سے ہو جائے تو فیصلہ برقرار رہتا ہے۔اسی طرح اگر ڈی آر ایس فیصلے کی توثیق نا کرے تو چیلنج کرنے والی ٹیم کا ایک چانس ضائع ہو جاتا ہے۔ ٹیسٹ کی ہر اننگ میں ایک ٹیم دو بار ڈی آر ایس کا استعمال کر سکتی ہے۔اسی طرح ون ڈے اور ٹی 20 میں بھی ایک ٹیم دو بار فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق رکھتی ہے۔جب کوئی فیصلہ چیلنج ہوتا ہے تو سب سے پہلے نو بال دیکھی جاتی ہے۔اس کے بعد تھرڈ ایمپائر تین طریقوں سے فیصلے کو پرکھتا ہے۔اس میں سب سے پہلے سنیکو میٹر سے مدد لی جاتی ہے جو آواز کو محسوس کرتا ہے کہ گیند نے بیٹ کو چھوا ہے یا نہیں۔جیسے ہی گیند بیٹ کے قریب سے گزرتی ہے تو میٹر کی سیدھی لائن پر ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔سنیکو میٹر گیند کے بلے کو چھونے پر پیدا ہونے والی انتہائی مدھم آواز کو بھی پکڑ نے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسے الٹرا ایج بھی کہا جاتا ہے۔پھر اس کے بعد ہاٹ اسپاٹ سے بھی مدد لی جاتی ہے جو انفراریڈ شعائیں ڈٹیکٹ کرتا ہے۔ اس میں گیند کے بیٹ کو چھونے پر بیٹ اور گیند پر نشان آجانے سے بیٹ اور گیند کے تعلق کی تصدیق یا تردید ہوتی ہے۔ہاٹ اسپاٹ کا نظام زیادہ مقبول نہیں ہو سکا کیونکہ بعض اوقات بالکل واضح ایج کو پکڑنے میں بھی ناکام رہتا تھا۔اس کے بعد گیند،پچ اور وکٹ کی ایک ورچوئل وڈیو میں دیکھا جاتا ہے کہ بال کہاں گری ہے اور آیا بال وکٹ کو لگ رہی ہے یا نہیں۔اس سسٹم کو بال ٹریکنگ یا ہاک آئی بھی کہا جاتا ہے۔کھیل کے دوران اگر بلے باز گیند کو اپنے پیڈ پر لیتا ہے تو ہاک آئی سے پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ بال عین وکٹ کے سامنے پیڈ، یا جسم کے کس حصے پر اور کس زاویے پر لگی ہے۔یہاں تک کہا جا سکتا ہے کہ ہاک آئی نے سوفیصد درست بال کو ٹریک کیا ہے لیکن ڈیٹا سے حاصل شدہ معلومات کی بنا پر سسٹم نے بال کے وکٹ تک فاصلہ کی پیشن گوئی کرنا ہوتی ہے جس میں ایک ملی میٹر کی غلطی کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ہاک آئی گو کہ ایک عمدہ ٹریکنگ سسٹم ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ گیند کے حقیقی رخ کو دیکھنے والے کیمرے درست سمت میں نصب ہوں۔ 2013ء کے ایشز سیریز کے دوران ڈی آر ایس کے ذریعے جوناتھن ٹراٹ کا آؤٹ اس وجہ سے متنازعہ ہوا کہ مچل اسٹارک کی اندر آتی ہوئی گیند کے ہاٹ اسپاٹ پکڑنے والا کیمرہ درست اینگل سے تصاویر نہیں دے رہا تھا۔یہ ایک آپریشنل ایرر تھا جس پر اس سسٹم کو کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ 2016ء میں آئی سی سی نے ایمپائر کال کو اس سسٹم کا حصہ بنایا۔اس کے تحت فیلڈ میں موجود ایمپائر کو ری ویو سے پہلے ابتدائی فیصلہ کا اختیار دیا گیا جسے سوفٹ سگنل کہا جاتا ہے۔ اس طرح اگر ڈی آر ایس سے کسی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہ ہو توآن فیلڈ ایمپائر کے سوفٹ سگنل کو شک کا فائدہ دے کر ایمپائر کے فیصلے کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

اس سسٹم کو کھیل کے نشریاتی حقوق رکھنے والے براڈکاسٹر بھی آپریٹ کرتے ہیں اور الگ سے ڈی آر ایس کی سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کی بھاری معاوضہ کے عوض خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ صرف ڈی آر ایس سے متعلقہ آلات کی نقل و حمل کے لیے الگ سے ایک ٹرک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سسٹم میں بالعموم 4 ہائی اسپیڈ جدید کیمروں کا استعمال کیا جاتا ہے جو 200 فریم فی سیکنڈ کی رفتا سے بال کو ٹریک کرکے تھری ڈی امیج بناتے ہیں جو تھرڈ اپمائر اور میدان میں لگی ہوئی بڑی اسکرین پر براہ راست دکھایا جاتا ہے۔تمام سینسرز اور کیمرہ سے آنے والے ڈیٹا کو پراسس کرکے تھری ڈی امیج بنایا جاتا ہے جس سے گیند کی سمت اور بلے باز کی قسمت طے کی جاتی ہے۔اس سسٹم کا بہت زیادہ انحصار بال ٹریک کرنے والے کیمروں کےدرست زاویوں پر نصب کرنے پر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ہونے والے انڈیا اور ساؤتھ افریقہ کے میچ کے دوران ڈی آر ایس سسٹم کو اس وقت بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب ایشوین کی گیند پر ڈین ایلگر کو آن فیلڈ اپمائر نے آؤٹ قرار دیا، ایلگر نے ریوو لیا اور تھرڈ ایمپائر نے ڈی آر ایس کی مدد سے ایلگر کو ناٹ آؤٹ قرار دیا کیونکہ گیند وکٹوں کے اوپر سے جاتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔اس فیصلہ پر سب حیران ہوئے،کوہلی شدید غصے میں آئے اور وکٹ کے مائیکرو فون پر جا کر براڈ کاسٹر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں پر بھی توجہ دو جب وہ بال کو چمکا رہے ہوتے ہیں نہ کہ صرف مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو ہی گھیرنے میں لگے رہو‘‘۔

آؤٹ دینے والے آن فیلڈ ایمپائر بھی ڈی آر ایس کے اس فیصلے پر حیران رہ گئے اور وکٹ پر لگے مائیکرو فون نے انہیں بار بار ’’that is impossible‘‘ کہتے ہوئے سنا۔اس پر کوہلی نے دوبارہ کہا ’’listen to the umpire he said how can the ball go up‘‘۔ دریں اثناء ایشوین اور دیگر کھلاڑی بھی وکٹ کے مائیکروفون میں بڑبڑاتے رہے۔ایشون نے کہا ’’surely find batter way to win supersports‘‘۔

اس پر سپر اسپورٹس نے ردعمل دیتے ہوئے وضاحت کی کہ گیند کو معمول سے زیادہ اچھال کیپ ٹاؤن کی پچ کی وجہ سے ملا ہے۔اس پر شور مچانا بیکار ہے۔گو کہ ڈی آر ایس میں کئی فیصلے تنازعات کا شکار رہے ہیں لیکن یہ ایک عمدہ سسٹم ہے جس نے ماضی کے مقابلہ میں طویل اور مختصر دورانیہ کی کرکٹ میں میچز کو فیصلہ کن بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس طرح کے تنازعات اس سسٹم میں اصلاح کا موجب بھی بنے ہیں۔اور امید ہے کہ آنے والے وقت میں یہ سسٹم سوفیصد درست قرار دے دیا جائے۔

(مدثر ظفر)

پچھلا پڑھیں

This Week with Huzoor مؤرخہ 18 فروری 2022ء

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ