• 4 مارچ, 2024

فقہی کارنر

انسانی پیدائش کی غرض عبادت ہے

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: کس قدر ضرورت ہے کہ تم سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔ دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو۔ میں اس لئے بار بار اس امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے اور یہی بات ہے جس سے وہ دور پڑا ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو۔ بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل یا پہا ڑ میں جا بیٹھو۔ اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشاء نہیں۔ اسلام تو انسان کو چُست اور ہو شیار اور مُستعد بنانا چاہتا ہے، اس لئے میَں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار کو جدو جہد سے کرو۔ حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کا تردد نہ کرے تو اس سے مواخذہ ہو گا۔ پس اگر کوئی اس سے یہ مُراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جائے وہ غلطی کرتا ہے۔ نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کاروبار جو تم کرتے ہو اس میں دیکھ لو خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو اور اُس کے ارداہ سے باہر نکل کر اپنی اغراض و جذبات کو مقدّم نہ کرے۔

( ملفوطات جلد اول صفحہ 170 ایڈیشن 2016ء)
(مرسلہ: داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ )

پچھلا پڑھیں

ریجنل اجتماع لجنہ اماءاللہ این۔بی۔آر۔ گیمبیا

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 مارچ 2023