• 21 مئی, 2022

ماہِ رمضان

رمضان کی عظمت کو کروں کیسے بیاں مَیں
طاقت یہ کہاں میرے تصور میں گماں میں

رحمت کا ہے غفراں کا ہے بخشش کا مہینہ
مولیٰ تو اثر رکھ دے مری آہ و فغاں میں

عصیاں کی شبِ تار میں پُر نور سویرا
کھِل اُٹھا ہو لالے کا چمن گویا خزاں میں

اُس رمزکو سمجھو کہ جو ہے رمض میں پنہاں
ایماں کی حرارت ہے سبھی خورد و کلاں میں

یہ رمض کچھ ایسی ہے کہ اس رمض کے آگے
شعلے میں وہ گرمی ہے نہ ہے برق تپاں میں

نازل ہوا قرآن اسی ماہ مبیں میں
پھر پھیلی ہدایت کی ضیا اس سے جہاں میں

وہ روشنی دیتا ہے ہر اک نوعِ بشر کو
جو نور محمد کے عمل میں ہے زباں میں

اِک شب ہے شبِ قدر اِسی ماہ مبیں میں
اِس شب کی بیاں عظمت و شوکت ہے قرآں میں

ہر شب ہو شبِ قدر تو دن عید ہو یارب
لمحاتِ محبت ہوں شفا سوزِ نہاں میں

نادِم ہے گناہوں پہ نِگہ اُٹھ نہیں سکتی
ناصرؔ ترا اِک چاکرِ ادنیٰ ہے جہاں میں

(تنویر احمد ناصر۔ قادیان)

پچھلا پڑھیں

رمضان کے دوسرے عشرہ، مغفرت اور اس میں بخشش طلب کرنے کی ادعیہ ماثورہ

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ