• 21 مئی, 2022

رب کل شیء خادمک

رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِ مُکَ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں :
رمضان کے شروع ہونے سے ایک دو روز پہلے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک رات مجھے بار بار اس دعا کی طرف متوجہ فرمایا:
رَبِّ کُلُّ شَیْ ءٍ خَا دِ مُکَ رَبِّ فا حْفَظْنَا وَ انْصُرْنَا وَارْحَمْنَا اور یہ نظارہ بار بار میں دیکھتا رہا کہ ابھی کچھ آفات جماعت کے سامنے باقی ہیں۔ ان آفات کو ٹالنے کے لئے میں مختلف دعائیں کرتا ہوں اور کچھ اثر پڑتا ہے اور پھر بھی وہ باقی رہتی ہیں۔ پھر میری توجہ اس طرف مبذول ہوتی ہے رَبِّ کُلُّ شَیْ ءٍ خَا دِ مُکَ کی دعا کرنی چاہئے اور جب میں یہ دعا کرتا ہوں تو جس طرح تیزاب سے زنگ گھل جاتا ہے یا صبح صادق سے اندھیرے دھل جاتے ہیں اسی طرح وہ آفات بالکل زائل ہو جاتی ہیں ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا۔ تو چونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بات صرف اپنے تک محدود رکھنے کے لئے نہیں بلکہ ساری جماعت کو بتانے کی خاطر مجھ پر ظاہر فرمائی ہے۔ اس لئے رمضان کے آخری عشرہ میں خصوصیت سے ساتھ اس دعا کا بھی ورد کریں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو ایک موقع پر یہ فرمایا کہ یہ دعا اسم اعظم ہے۔

رَبِّ کُلُّ شَیْ ءٍ خَا دِ مُکَ رَبِّ فا حْفَظْنَی وَ انْصُرْنَی وَارْحَمْنَی۔ اسم اعظم ہے اس سے بڑی اور کوئی دعا نہیں۔ جو ہر کیفیت پر حاوی ہے۔

(ملفوظات جلد2 صفحہ568)

(خطبہ جمعہ 30مئی 1986ء)

پچھلا پڑھیں

رمضان کے دوسرے عشرہ، مغفرت اور اس میں بخشش طلب کرنے کی ادعیہ ماثورہ

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ