• 2 جون, 2020

مجاہدہ اور دعا کے بغیر دل کی تاریکی دور نہیں ہوتی

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔

’’اللہ تعالیٰ کے رسول کا وہ اسوہ ہے جو بڑا اعلیٰ نمونے کا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی تم نے پیروی کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنانے کا حکم دیا ہے تو پھر اس کے لئے کوشش اور مجاہدے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اس بارے میں بیان فرماتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے گا، دعا سے کام نہ لے گا وہ غمرہ جو دل پر پڑ جاتا ہے دُور نہیں ہو سکتا۔‘‘ (وہ سختی اور تاریکی روک جو دل میں پیدا ہو گئی ہے وہ دُور نہیں ہو سکتی جب تک مجاہدہ نہ کرو، جب تک دعا نہ کرو۔ پھر اس کے ساتھ ہی کوشش اور دعا دونوں چیزیں ضروری ہیں۔) ’’چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ (الرعد:12) یعنی خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی آفت اور بلا کو جو قوم پر آتی ہے دُور نہیں کرتا ہے جب تک خود قوم اس کو دُور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ہمت نہ کرے۔ شجاعت سے کام نہ لے تو کیونکر تبدیلی ہو۔‘‘ فرماتے ہیں ’’یہ اللہ تعالیٰ کی ایک لَا تبدیل سنّت ہے جیسے فرمایا۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا۔ پس ہماری جماعت ہو یا کوئی ہو وہ تبدیل اخلاق اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب کہ مجاہدہ اور دعا سے کام لیں ورنہ ممکن نہیں ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ مؤرخہ 9جون 2017ء)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 افریقہ ڈائری نمبر28 ، 14 ۔مئی 2020ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 مئی 2020