• 20 ستمبر, 2020

نویں صدی کے مجدد علامہ جلال الدین سیوطیؒ

نام و نسب

علامہ جلال الدین سیوطی ؒ کا نام عبدالرحمٰن، کنیت ابوالفضل اور لقب جلال الدین ہے۔ آپ کا ایک اور لقب ’’ابن الکتب‘‘ بھی مشہور ہے جس کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک دفعہ آپ کے والد محترم نے آپ کی والدہ محترمہ سے کوئی کتاب طلب کی جس کے لیے آپ کی والدہ کتب خانے گئیں اور وہاں اچانک انہیں درد زہ شروع ہوگئی اور وہیں آپ کی ولادت ہوئی۔ اسی وجہ سے ’’ابن الکتب‘‘ یعنی کتابوں کا بیٹا بھی آپ کی کنیت ہوگئی۔

(النور السافر جزء1 صفحہ51)

آپ کا نسب نامہ یہ ہے: عبد الرحمٰن بن کمال الدین ابی بکر بن محمد بن سابق الدین ابی بکر بن فخر الدین عثمان بن ناظر الدین محمد بن سیف الدین خضر بن نجم الدین ابی الصلاح ایوب بن ناصر الدین محمد بن شیخ ہمام الدین الھمام الخضیری الاسیوطی۔

آپ کے جدّ اعلیٰ ہمام الدین صوفی بزرگ اور آپ کے والد محترم ایک عالم اور شافعی فقیہ تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ ایک ترکی خاتون تھیں۔

(مقدمہ ذیل الطبقات جزء1 صفحہ223)

سیوطی کی وجہ تسمیہ

مصرمیں دریائے نیل کے مغربی کنارے پر واقع شہراسیوط میں ولادت کی وجہ سےآپ سیوطی کہلائے۔ آپ کے آباء و اجداد میں سے کسی نے وہاں ایک مدرسہ بنایا تھا اور اسے اللہ کی راہ میں وقف کردیا تھا۔

ولادت باسعادت

علامہ سیوطی کی ولادت یکم رجب 849ھ بروز اتوار بعد نماز مغرب اسیوط میں ہوئی۔ چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں:
’’میری پیدائش اوائل ماہ رجب 849ھ اتوار کی شام بعد مغرب ہوئی۔ میرے والد محترم کی زندگی میں ہی مجھے شیخ محمد مجذوب کے پاس لے جایا گیا جو کبار اولیاء اللہ میں سے تھے اور مشہد نفیسی کے پڑوس میں رہتے تھے تو انہوں نے مجھے برکت کی دعا دی۔‘‘

(حسن المحاضرة جزء1 صفحہ336)

ابتدائی تعلیم و تربیت

علامہ سیوطی کی نشوونما ایک دینی و علمی ماحول میں ہوئی۔ آپ کے والد محترم آپ کو بہت چھوٹی عمر سے ہی دینی مجالس میں لے جایا کرتے تھے۔ آپ تین سال کے تھے جب علامہ ابن حجر عسقلانی کی مجلس میں آپ کو ساتھ لے گئے۔ لیکن آپ ابھی پانچ سال اور سات ماہ کے ہی ہوئے تو والد محترم کی وفات ہوگئی۔ وفات سے قبل انہوں نے آپ کوشہاب بن طباخ اور کمال الدین ابن ہمام کی کفالت میں دے دیا۔ چنانچہ ان کی سرپرستی میں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ابن ہمام نے آپ کو شیخونیہ میں داخل کروادیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنا خاص فضل فرمایا اور آپ کوغیر معمولی ذہانت اور فہم وفراست عطا کی اورعلوم کی تحصیل کوآپ پر آسان فرمادیا۔ چنانچہ قریباًآٹھ سال کی عمر میں ہی آپ نےقرآن کریم حفظ کرلیا پھر مختلف معروف کتب کو یاد کیا۔ چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں:
’’میری نشوونما یتیمی کی حالت میں ہوئی۔ قریباً آٹھ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرلیا۔ پھر ’’العمدة‘‘، ’’منہاج الفقہ‘‘، ’’الاصول‘‘ اور ’’الفیة ابن مالک‘‘ کو یاد کرلیا۔‘‘

(حسن المحاضرةجزء1 صفحہ336)

تحصیل علم اور اساتذہ

علامہ سیوطی نے باوجود یتیمی کے اپنے زمانہ کے کبار علماء سے علم حاصل کرنے کی توفیق پائی۔ آپ نے 864ھ میں پندرہ سال کی عمر میں باقاعدہ علم حاصل کرنا شروع کیا۔ آپ نے اپنے زمانہ کے ماہر فن علامہ شیخ شہاب الدین الشار مساحی سےعلم الفرائض سیکھا۔ علامہ سیوطی لکھتے ہیں :
’’میں نے شیخ شہاب الدین کی خدمت میں ان کی شرح علی المجموع پڑھ کر سنائی تو انہوں نے مجھے 866ھ میں لغت عربی کی تدریس کی اجازت دی۔ پھر میں نے اسی سال تعوذ اور تسمیہ کی شرح تحریر کی اور شیخ الاسلام علم الدین بلقینی کو بغرض رہنمائی پیش کی جس پر انہوں نے تقریظ لکھی۔‘‘

(حسن المحاضرةجزء 1صفحہ336)

آپ شیخ الاسلام علم الدین بلقینی کی وفات تک ان سے فقہ کی تعلیم حاصل کرتےرہے۔ بعدہ ان کے بیٹے سے زانوئے تلمذ تہہ کیااور متعددمشہور کتب کے متعلقہ اہم حصے انہیں سنائے جس کے بعد انہوں نے علامہ سیوطی کو تدریس اور فتویٰ کی اجازت 876ھ میں دی جبکہ آپ کی عمر ستائیس سال تھی۔

(حسن المحاضرة جزء1 صفحہ337)

878ھ میں جب شیخ الاسلام علم الدین کے بیٹے بھی وفات پاگئے تو علامہ سیوطی نے شیخ الاسلام شرف الدین مناوی کی شاگردی اختیار کی۔

علوم حدیث اور علوم عربیہ آپ نے علامہ تقی الدین شبلی حنفی سے سیکھے اور چار سال تک ان سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ انہوں نے آپ کی کتب شرح الفیہ ابن مالک اور جمع الجوامع پر تقریظ یعنی دیباچہ لکھا۔

امام سیوطی نےعلامہ تقی الدین کی وفات کے بعد علامہ محی الدین کافیجی کے پاس چودہ سال رہ کر متعدد علوم حاصل کیے جن میں علم تفسیر، علم الاصول، علم العربیة، علم المعانی وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے آپ کو سند اجازت سے بھی نوازا۔ اس کے بعد شیخ سیف الدین حنفی سے کشاف، توضیح، تلخیص المفتاح وغیرہ کے دروس لیے۔

آپ نے فقہ و نحو علماء کی ایک جماعت سے سیکھا۔ غرضیکہ آپ نے اپنے زمانہ کے چوٹی کے علماء و فضلاء سے اکتساب علم کیا۔ آپ نے جن اساتذہ سے علوم کا سماع کیا یا ان کے سامنے بیٹھ کر کتابوں کی قرأت کی، یا جن سے آپ کو محض اجازت حاصل تھی،آپ نے اپنی کتب میں ان کی تعداد ایک سو اٹھانوےلکھی ہے۔

اسفار

علامہ سیوطی نے تحصیل علم کے لیے متعدد اسفار کیے۔ آپ بلاد شام بھی گئے۔ حجاز، یمن، ہندوستان، مغرب، تکرور المحلة، الدمیاط اور الفیوم وغیرہ کا طویل سفر اختیار کیا۔آپ جب بھی حج کرتے تویہ دعا کرتے کہ میدان فقہ میں اللہ تعالیٰ آپ کو شیخ سراج الدین بلقینی اورحدیث کے میدان میں حافظ ابن حجر جیسا مقام و مرتبہ عطا فرمادے۔

(حسن المحاضرة جزء1 صفحہ338)

تلامذہ

علامہ سیوطی نے متعدد درسگاہوں میں اپنے علم کی روشنی سے سینکڑوں طلباء کو منور کیا۔ دوردراز سے متلاشیان علم آپ کے پاس آکر فیضیاب ہوتے۔ آپ کے مشہور تلامذہ میں سےایک حافظ شمس الدین محمد بن علی داؤد مصری شافعی ہیں۔

فتویٰ

آپ نے 871ھ میں 22سال کی عمر میں فتویٰ دینا شروع کیا۔ آپ نئے پیش آمدہ مسائل میں شافعی فقہ کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔

اہم خدمات

علامہ سیوطی872ھ میں شیخونیہ میں فقہ کے مدرس مقرر ہوئے پھر جامع ابن طولون میں کچھ دیر املاء حدیث کروائی۔ پھر آپ کوجلال بکری کے بعد بیبرس کے مشیخة الحدیث کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ آپ نے بڑی محنت اور تندہی سے وہاں اس ذٍمہ داری کو ادا کیا۔ مخالفین کو یہ بات ہضم نہ ہوئی اور جوڑتوڑ شروع کردی۔ آپ کے خلاف اندرونی تانے بانے اور حسد و بغض کی وجہ سے سلطان الملک العادل طومنبای اول نے آپ کورجب906ھ کو اس عہدے سے ہٹا دیا۔ اس کے بعد آپ پھر اپنے روضة المقیاس میں گوشہ نشین ہوگئے۔ 909ھ میں امراء و حکام نے بہت اصرار کیا کہ آپ بیبرس کی درسگاہ کو دوبارہ سنبھالیں لیکن آپ نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا اور اپنی گوشہ نشینی میں ہی رہے۔

اعیان حکومت اور امراء آپ کے پاس تشریف لاتے اور آپ کی خدمت میں تحائف پیش کرتے لیکن آپ انہیں قبول نہ کرتے۔ سلطان الملک الاشرف نے ایک دفعہ آپ کو ایک ہزار دینار اور ایک مینڈھا بھیجا۔ آپ نے دینار توواپس کردئیے لیکن مینڈھا رکھ لیا۔ آپ کو سلطان نے متعدد بار بلا بھیجا لیکن آپ کبھی محل میں نہ گئے۔

(مقدمہ ذیل الطبقات جزء1 صفحہ224)

902ھ میں آپ کو خلیفہ متوکل کی طرف سے قاضی القضاة کے عہدہ کی بھی پیشکش ہوئی۔

تصنیفات

علامہ سیوطی نے تصنیف کے کام کا آغاز 866ھ سے کیا اور 872ھ میں حدیث املاء کروانی شروع کی۔ علامہ سیوطی نے درس و تدریس چھوڑ کر جب گوشہ نشینی اختیار کی تو دیگر بزرگان کی طرف ذکر و اذکار اور وظائف وغیرہ میں ہی مصروف نہ رہے بلکہ آپ نے تصنیفی کام کی طرف توجہ دی اور ہر موضوع پر قلم اٹھایااور علمائے اسلام کو متعدد شاہکار تصانیف سے مستفیض کیا اور یوں آپ نے قلم کا جہاد کیااوریہ آپ کے تجدیدی کارناموں میں سے ایک اہم کارنامہ ہے۔

آپ کی تصانیف کی تعداد کے بارہ میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ تعداد چھ سو تک ہے۔ آپ کے شاگرد داودی کے نزدیک ان کی تعداد پانچ سو سے زائد ہے۔ آپ نےخود اپنی کتاب ’’حسن المحاضرة‘‘ میں اپنی تصانیف کی تعداد تین سوتحریر فرمائی ہے۔ اور ساتھ لکھا ہے کہ ’’یہ تعداد ان کتب کے علاوہ کی ہے جو میں نے ضائع کردیں یا جن سے میں نے رجوع کرلیا۔‘‘

(حسن المحاضرة جزء1 صفحہ338)

حسن المحاضرہ آپ نے اپنی وفات سے 12 سال قبل تصنیف فرمائی۔ اس لحاظ سے ممکن ہے کہ آپ کی کتب کی تعداد چھ سو سے بھی زائد ہو۔

آپ کی چند مشہور کتب کے نام یہ ہیں الاتقان فی علوم القرآن، الدر المنثور فی التفسیر الماثور، ترجمان القرآن، لباب النقول فی اسباب النزول، شرح سنن ابن ماجہ، الخصائص الکبریٰ، تقریب التقریب، طبقات الحفاظ، بغیة الوعاة، جمع الجوامع، تاریخ الخلفاء، حسن المحاضرة، مناقب ابی حنیفہ، انباہ الاذکیاء فی حیاة الانبیاء وغیرہ

علمی مقام و مرتبہ

علامہ سیوطی خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے اور علوم و فنوں کے بحر بیکراں تھے۔ ایک متبحر عالم اور ماہر فنون تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں متعدد علوم جس محنت اور لگن سے حاصل کیے اس کا ثمر اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں دیا کہ علم تفسیر، علم حدیث، علم فقہ، علم تاریخ و سیرت، علم اصول وغیرہ میں آپ کی تصانیف علمائے متاخرین کے لیے ایک رہنما اور مشعل راہ کے طور پرہیں اور آپ کی ان کتب کو بطور حوالہ اور مراجع و مصادر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

آپ علماء کے سامنے علم و فضل کا مینار ہیں۔ آپ کی تصنیفات آپ کی علمیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ آپ تحدیث نعمت کے طور پرلکھتے ہیں
’’میں چاہوں تو ہر مسئلہ کے متعلق نقلی، عقلی دلائل، اس کے اصول و اعتراضات مع جوابات، اس بارے میں مختلف مذاہب کے اختلاف او ران کے مابین موازنہ وغیرہ کے بارے میں رسالہ لکھنا چاہوں تو اپنی قوت یا طاقت سے نہیں بلکہ اللہ کے فضل اور توفیق سے لکھ سکتا ہوں۔‘‘

(حسن المحاضرة جزء1صفحہ339)

آپ بڑے زود نویس، حاضر جواب، متواضع، قناعت پسند اور بڑے عبادت گزار تھے۔

مجتہد مطلق اورمجدد ہونے کا دعویٰ

علامہ سیوطی کی طرف اجتہاد مطلق کا دعویٰ کی نسبت بھی بیان کی جاتی ہے لیکن علامہ سیوطی نے اس کی وضاحت خود کردی کہ اس سے مراد ائمہ اربعہ کی طرح کا اجتہادمطلق نہیں ہے بلکہ اجتہادمنتسب ہے۔ اگر میں اجتہاد مطلق کے مرتبہ پر پہنچ گیا ہوتا تو اپنے فتاویٰ شافعی فقہ کے مطابق نہ دیتا۔

(مقدٍمة ذیل طبقات الحفاظ جزء1 صفحہ224)

علامہ سیوطی نے نویں صدی ہجری کے مجدد ہونےکا دعویٰ بھی کیا ہے۔ چنانچہ آپ اپنی کتاب ’’رسالہ فیمن یبعث اللہ لھذا الامة علی راس کل مائة‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ جس طرح امام غزالی کو اپنے مجدد ہونے کا خیال تھا اسی طرح مجھے امید ہے کہ میں نویں صدی کا مجدد ہونگا۔

عظیم مفسر و محدث اور مورخ

اللہ تعالیٰ نےعلامہ سیوطی کونہ صرف مجتہدانہ و فقیہانہ صلاحیتوں سے نوازا تھا بلکہ آپ ایک عظیم مفسر، محدث اور مورخ بھی تھے۔ آپ کا حافظہ اس قدر اچھا تھا کہ آپ کو دو لاکھ احادیث یاد تھیں۔ علماء و محدثین کے نزدیک علامہ سخاوی علل حدیث کے ماہر، علامہ دیمی اسماء الرجال کے ماہر اور علامہ سیوطی حفظ المتون کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

(مقدمة ذیل طبقات الحفاظ جزء1 صفحہ225)

آپ احادیث کے بارہ میں خواب میں رسول اللہﷺ سے رہنمائی لیا کرتے تھے۔

علامہ سیوطی ایک عظیم مفسر بھی تھے۔ آپ نے تفسیر بالماثورتصنیف فرمائی جو الدر المنثور کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں آپ نے صرف روایات کو جمع کیاہے اپنی رائے وغیرہ کو بالکل بیان نہیں کیا۔ یہ تفسیر چھ جلدوں میں موجود ہے۔ اسی طر آپ نے قرآن کریم کی آیات کے شان نزول کے بارہ میں ایک کتا ب لباب النقول دی اسباب النزول تالیف فرمائی۔

وفات

علامہ سیوطی نےاپنی عمر کے آخری عشروں میں عبادت کے لیے انقطاع الی اللہ اختیار کرلیا۔ آپ روضة المقیاس میں گوشہ نشین ہوگئے۔ آخری عمر میں آپ ایک مرض میں مبتلا ہوگئے اور بائیں بازو میں ورم ہوگیا۔ بالآخر19 جمادی الاولیٰ 911ھ جمعہ کی رات کو قریباًباسٹھ62سال کی عمر میں آپ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ وفات کے وقت آپ نے سورة یٰسین کی خود تلاوت کی۔ نماز جنازہ جمعہ کے بعد الروضہ کی ’’جامع الشیخ احمد اباریقی‘‘ میں امام شعرانی نے پڑھائی۔ آپ قاہرہ میں باب القرافہ کے باہر حوش قوصون (کیسون) میں دفن کئے گئے۔

(باسل احمد بشارت)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 15 اگست 2020ء