• 5 اکتوبر, 2022

خطبہ جمعہ فرمودہ 22؍جولائی 2022ء

خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 22؍جولائی 2022ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یوکے

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بابرکت دَور میں باغی مرتدین کے خلاف ہونے والی مہمات کا تذکرہ

جنگِ ذات السلاسل میں مسلمانوں کی فتح کی ایک بڑی وجہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ پالیسی بھی تھی جو انہوں نے عراق کے کاشتکاروں کے بارے میں وضع کی تھی اور جس پر خالدؓ نے سختی سے عمل کیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت انہوں نے کاشتکاروں سے مطلق تعرض نہ کیا۔ جہاں جہاں وہ آباد تھے انہیں وہیں رہنے دیا اور جزیہ کی معمولی رقم کے سوا اَور کسی قسم کا تاوان یا ٹیکس ان سے وصول نہ کیا

أَشْھَدُ أَنْ لَّآ إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِؕ﴿۴﴾ إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

جیساکہ مَیں نے گذشتہ جمعہ میں بتایا تھا کہ آج

حضرت ابوبکرؓ کے دَور ِخلافت میں ایرانیوں کے خلاف کارروائیوں کا بیان

ہو گا۔ اس سلسلہ میں ایک جنگ جو ہوئی اسے

جنگِ ذات السلاسل یا جنگِ کاظمہ

کہتے ہیں۔ یہ جنگ محرم الحرام 12؍ہجری میں ہوئی۔ یہ جنگ تین ناموں سے معروف ہے۔ جنگِ ذات السلاسل، جنگِ کاظمہ اور جنگِ حَفِیر۔ اس جنگ کو ذاتُ السَّلَاسِل یعنی زنجیروں والی جنگ اس لیے کہا جاتا ہے کہ عربی میں سلسلۃ زنجیر کو کہتے ہیں جس کی جمع سلاسل ہے۔ کیونکہ اس جنگ میں ایرانی فوج نے اپنے آپ کو ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں جکڑ لیا تھا تا کہ کوئی شخص جنگ سے بھاگنے نہ پائے۔ جنگِ ذات السلاسل کی اس روایت کو بعض مؤرخین تسلیم نہیں کرتے۔ یہ جنگ مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان کَاظِمَہ مقام کے قریب لڑی گئی تھی اس لیے اسے جنگِ کاظمہ کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ کاظمہ بصرہ سے بحرین جاتے ہوئے بحرسیف البحر پر ایک بستی ہے۔

(سیرت سیدنا صدیق اکبرؓ از استاذ عمر ابوالنصر، صفحہ664)
(ماخوذ از الکامل فی التاریخ، جلد2 صفحہ239، دار الکتب العلمیۃ بیروت،2003ء)
(ابوبکر صدیقِ اکبرؓ، از محمد حسین ہیکل، مترجم شیخ محمد احمد پانی پتی صفحہ 272، علم وعرفان پبلشرز لاہور2004ء)
(معجم البلدان جلد4 صفحہ488)

حَفِیر علاقہ میں ہونے کی وجہ سے اس جنگ کو جنگِ حفیر بھی کہا جاتا ہے۔

(الصدیقؓ، صفحہ127، مصنفہ پروفیسر علی محسن صدیقی)

مسلمانوں کی طرف سے اس جنگ کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ تھے اور ایرانیوں کی جانب سے سپہ سالار کا نام ہُرمز تھا۔ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد اٹھارہ ہزار تھی۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ309، دار الکتب العلمیۃ،بیروت، 2012ء)

جیساکہ گذشتہ خطبات میں بیان ہو چکا ہے کہ ہُرمُز ایرانیوں کی جانب سے اس علاقے کا حاکم تھا جو حسب و نسب اور شرف و عزت میں اکثر امرائے ایران سے بڑھا ہوا تھا۔ ایرانی معززین کی عادت تھی کہ وہ معمولی ٹوپیوں کی بجائے قیمتی ٹوپیاں پہنتے تھے اور حسب و نسب اور شرف و عزت میں جو شخص جس مرتبے کا ہوتا تھا اسی مناسبت سے قیمتی ٹوپی پہنتا تھا۔ سب سے بیش قیمت ٹوپی کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ درہم کی ہوتی تھی جسے وہی شخص پہن سکتا تھا جو شرف و عزت اور توقیر و وجاہت میں کمال درجہ پر پہنچا ہوا ہو اور

ہُرمُز کے مرتبے کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ
اس کی ٹوپی کی قیمت بھی ایک لاکھ درہم تھی۔

ایرانیوں کے نزدیک تو اس کی وجاہت مسلّم تھی لیکن عراق کی حدود میں بسنے والے عربوں میں اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کیونکہ وہ ان عربوں پر تمام سرحدی امراء سے زیادہ سختی اور ظلم کرتا تھا۔ عربوں کی نفرت اس حد تک پہنچی ہوئی تھی یعنی غیر مسلمان عرب جو تھے کہ وہ کسی شخص کی خباثت کا ذکر کرتے ہوئے ہُرمُز کا نام بطور ضرب المثل لینے لگے تھے۔ چنانچہ کہتے تھے کہ فلاں شخص تو ہُرمُز سے بھی زیادہ خبیث ہے۔ فلاں ہُرمُز سے بھی زیادہ بدفطرت اور بدطینت ہے۔ فلاں شخص ہُرمُز سے بھی زیادہ احسان فراموش ہے۔ اور اسی وجہ سے ہُرمُز کو عربوں کے پے در پے چھاپوں اور جھڑپوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا اور دوسری طرف ہُرمُز کی جھڑپیں ہندوستان کے بحری قزاقوں سے بھی ہوتی رہتی تھیں۔

(حضرت ابوبکرصدیقؓ، ازہیکل ، مترجم، صفحہ269-270)

بہرحال حضرت خالد بن ولیدؓ نے یمامہ سے روانگی سے قبل ہُرمُز کو خط لکھا تھا۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ اَمَّا بَعد! فرمانبرداری اختیار کر لو، تم محفوظ رہو گے یا اپنی اور اپنی قوم کے لیے حفاظت کی ضمانت حاصل کر لو اور جزیہ دینے کا اقرار کرو ورنہ تم بجز اپنے آپ کے کسی اَور کو ملامت نہیں کر سکو گے۔

میں تمہارے مقابلے کے لیے ایسی قوم کو لایا ہوں جو موت کو یوں پسند کرتی ہے
جیسے تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ309، دار الکتب العلمیۃ،بیروت، 2012ء)

جب حضرت خالدؓ کا خط ہُرمُز کے پاس پہنچا تو اس نے اردشیر شاہ ِکسریٰ کو اس کی اطلاع دی اور اپنی فوجیں جمع کیں اور ایک تیز رَو دستے کو لے کر فوراً حضرت خالدؓ کے مقابلے کے لیے کاظمہ پہنچا اور اپنے گھوڑوں سے آگے بڑھ گیا مگر اس نے اس راستے پر حضرت خالد بن ولیدؓ کو نہ پایا اور اس کو یہ اطلاع ملی کہ مسلمانوں کا لشکر حَفِیر میں جمع ہو رہا ہے۔ اس لیے پلٹ کر حفیر کی طرف روانہ ہوا۔ حفیر بصرہ سے مکہ کی طرف جاتے ہوئے پہلی منزل تھی۔ وہاں پہنچتے ہی اپنی فوج کی صف آرائی کی۔ ہُرمُز نے اپنے دائیں بائیں دو بھائیوں کو مقرر کیا۔ ان میں سے ایک کا نام قُبَاذْ اور دوسرے کا نام اَنُوْشَجَانَ تھا۔ ایرانیوں نے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ لیا تھا۔ اس روایت میں تو یہی بیان ہوا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس پر وہ لوگ جن کی رائے اس کے خلاف تھی جب انہوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ تم لوگوں نے دشمن کے لیے خود ہی اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ لیا ہے۔ ایسا نہ کرو۔ یہ بری فال ہے۔ اس کا انہوں نے جواب دیا جو اس حق میں تھے کہ زنجیروں سے جکڑا جائے کہ تمہارے متعلق ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تم بھاگنے کا ارادہ رکھتے ہو۔ جب حضرت خالدؓکو ہُرمُز کے حفیر پہنچنے کی اطلاع ملی تو آپ اپنے لشکر کو لے کر کاظمہ کی طرف مڑ گئے۔

ہُرمُز کو اس کا پتا چل گیا تو وہ فوراً کاظمہ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں پڑاؤ کیا۔ ہُرمُز اور اس کے لشکر نے صف آرائی کی اور پانی پر ان کا قبضہ تھا۔ جب حضرت خالد بن ولیدؓ آئے تو ان کو ایسے مقام پر اترنا پڑا جہاں پانی نہیں تھا۔ لوگوں نے آپؓ سے اس کی شکایت کی۔ آپؓ کے منادی نے اعلان کیا کہ سب لوگ اتر پڑیں اور سامان نیچے اتار لیں اور دشمن سے پانی کے لیے لڑائی کریں کیونکہ بخدا پانی پر اسی جماعت کا قبضہ ہو گا جو دونوں گروہوں میں سے زیادہ ثابت قدم رہے گی اور دونوں لشکروں میں زیادہ معزز ہو گی۔ اس پر سامان اتار لیا گیا۔ سوار فوج اپنی جگہ کھڑی رہی۔ پیدل فوج نے پیش قدمی کی اور دشمن پر حملہ آور ہوئی۔ دونوں طرف لڑائی شروع ہوئی تو اللہ نے ایک بدلی بھیجی۔ مسلمانوں کی صفوں کے پیچھے بارش ہوئی۔ مسلمانوں کو اس سے قوت ملی۔ ہُرمُز نے حضرت خالدؓ کے لیے ایک سازش تیار کی۔ اس نے اپنے دفاعی دستے سے کہا کہ مَیں حضرت خالدؓ کو مبارزت کی دعوت دیتا ہوں اور اس دوران کہ مَیں ان کو اپنے ساتھ مصروف رکھوں گا تم لوگ اچانک چپکے سے حضرت خالدؓ پر حملہ کر دینا۔ اس کے بعد ہُرمُز میدان میں نکلا۔ حضرت خالدؓ اپنے گھوڑے سے اتر پڑے۔ ہُرمُز بھی اپنے گھوڑے سے اترا اور اس نے حضرت خالدؓ کو مقابلے کی دعوت دی۔ حضرت خالدؓ چل کر اس کی طرف آئے اور دونوں میں مقابلہ ہوا۔ دونوں طرف سے وار ہونے لگے۔ حضرت خالدؓ نے ہُرمُز کو بھینچ لیا۔ اس پر ہُرمُز کے دفاعی دستے نے خیانت سے کام لیتے ہوئے حضرت خالدؓ پر حملہ کر دیا اور انہیں گھیرے میں لے لیا۔ جب اس طرح ایک ایک کی لڑائی ہو رہی ہو تو پھر دوسرے حملہ نہیں کرتے لیکن بہرحال ان کی فوج نے ان پہ حملہ کر دیا۔ اس کے باوجود

حضرت خالدؓ نے ہُرمُز کا کام تمام کر دیا۔

حضرت قَعْقَاعْ بن عَمروؓ نے جیسے ہی ایرانیوں کی یہ خیانت دیکھی تو ہُرمُز کے دفاعی دستے پر حملہ کر دیا اور انہیں گھیرے میں لے کر موت کی نیند سلا دیا۔ ایرانیوں کو شکستِ فاش ہوئی اور وہ بھاگ گئے۔ بھاگنے والوں میں قُبَاذْ اور اَنُوْشَجَانَ بھی تھے۔ مسلمانوں نے رات کے اندھیرے میں ایرانیوں کا تعاقب کیا اور دریائے فُرات کے بڑے پل تک جہاں آج کل بصرہ آباد ہے انہیں قتل کرتے چلے گئے۔ جنگ کے اختتام پر حضرت خالدؓ نے مالِ غنیمت جمع کرایا۔ اس میں ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر زنجیریں بھی تھیں۔ ان کا وزن ایک ہزار رَطَلْ تھا یعنی زنجیروں کا تقریبا ًتین سو پچہتر کلو۔جو مالِ غنیمت حضرت ابوبکرؓ کی طرف بھیجا گیا اس میں ہُرمُز کی ایک ٹوپی بھی تھی جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی اور وہ جواہرات سے مرصّع تھی۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ ٹوپی حضرت خالد بن ولیدؓ کو عطا فرما دی تھی۔ حضرت خالدؓ نے فتح کی خوشخبری، مال غنیمت میں سے خُمُس اور ایک ہاتھی مدینہ روانہ کیا اور ہر طرف اسلامی لشکر کی فتح کا اعلان کر دیا۔ زِرّْ بن کُلَیْب خُمُس اور ہاتھی کو لے کر مدینہ پہنچے۔ اہل مدینہ کو اس سے قبل ہاتھی دیکھنے کا کبھی اتفاق نہ ہوا تھا۔ مدینہ والوں کا تو ذکرہی کیا، عرب کے کسی اَور باشندے نے بھی ابرہہ کے ہاتھیوں کے سوا آج تک ہاتھی کی صورت نہ دیکھی تھی۔ جب لوگوں کو دکھانے کے لیے اس کو سارے شہر میں گشت کرایا گیا تو بوڑھی عورتیں اس ہاتھی کو دیکھ کر بہت متعجب ہوئیں اور کہنے لگیں جو ہم دیکھ رہی ہیں کیا یہ خدا کی تخلیق میں سے ہے؟ وہ یہ سمجھیں کہ کوئی بناوٹی چیز ہے۔ اس ہاتھی کو حضرت ابوبکرؓ نے زِرّْ کے ساتھ ہی حضرت خالدؓ کے پاس واپس بھیج دیا۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ309 – 310، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 2012ء)
(سیدنا ابوبکر صدیقؓ از ڈاکٹر علی محمدصلابی صفحہ405،404)
(حضرت ابوبکر صدیق اکبرؓ از ہیکل صفحہ271تا273)
(معجم البلدان جلد2 صفحہ319، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان)
(لغات الحدیث زیر لفظ رَطْلْ جلد2 صفحہ121)

اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح کی ایک بڑی وجہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ پالیسی بھی تھی جو انہوں نے عراق کے کاشتکاروں کے بارے میں وضع کی تھی

اور جس پر خالد نے سختی سے عمل کیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت انہوں نے کاشتکاروں سے مطلق تعرض نہ کیا۔ جہاں جہاں وہ آباد تھے انہیں وہیں رہنے دیا اور جزیہ کی معمولی رقم کے سوا اَور کسی قسم کا تاوان یا ٹیکس ان سے وصول نہ کیا۔

(حضرت ابوبکر صدیق اکبرؓ از محمد حسین ہیکل صفحہ272 مترجم شیخ محمد احمد پانی پتی علم وعرفان پبلشرز لاہور2004ء)

معرکہ ذَاتُ السَّلَاسِل میں جنگ میں شامل ہونے والے سوار کو ایک ہزار درہم کا حصہ دیا گیا اور پیدل کو اس کا ایک تہائی دیا گیا۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ311، دار الکتب العلمیۃ،بیروت، 2012ء)

جنگ کَاظِمَہ دوررَس نتائج کی حامل ثابت ہوئی۔

اس لڑائی نے مسلمانوں کی آنکھیں کھول دیں اور انہوں نے دیکھ لیا کہ وہ ایرانی جن کی سطوت کا شہرہ ایک عرصہ سے سننے میں آ رہا تھا اپنی پوری طاقت کے باوجود ان کی معمولی فوج کے مقابلے میں بھی نہ ٹھہر سکے۔ اس جنگ میں مالِ غنیمت کی جو مقدار ان کے ہاتھ لگی اس کا وہ تصور بھی نہ کر سکتے تھے۔

(حضرت ابوبکر صدیق اکبرؓ از محمد حسین ہیکل صفحہ272 مترجم شیخ محمد احمد پانی پتی علم وعرفان پبلشرز لاہور2004ء)

پھر

جنگ اُبُلَّہْ کا ذکر

ہے جو بارہ ہجری میں لڑی گئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالدؓ کو ہدایت کی تھی کہ وہ عراق میں جنگ کا آغاز اُبُلَّہ سے کریں جو خلیج فارس پر ایک سرحدی مقام تھا۔ ہندوستان اور سندھ کو جو تجارتی قافلے عراق سے آتے تھے سب سے پہلے اُبُلَّہ میں قیام کرتے تھے۔ اُبُلَّہ کی فتح کے متعلق دو روایتیں مذکور ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں نے اُبُلَّہ کو سب سے پہلے حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں فتح کیا لیکن بعد میں یہ دوبارہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا اور حضرت عمر بن خطابؓ کے زمانے میں مسلمان اس پر پوری طرح قابض ہوئے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ اس کی فتح حضرت عمرؓ کے زمانے میں ہوئی۔

(حضرت ابوبکر صدیق اکبرؓ از ہیکل صفحہ269)

بہرحال علامہ طبری نے اپنی کتاب میں حضرت ابوبکرؓ کے دور خلافت میں اس جنگ کا مختصر تذکرہ کیا ہے تاہم اس کے بعد وہ یہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ کے دور خلافت میں اُبُلّہ کی فتح کا قصہ عام سیرت نگاروں اور صحیح روایات کے خلاف ہے کیونکہ اُبُلّہ کی فتح حضرت عمرؓ کے عہد میں چودہ ہجری میں حضرت عُتْبہ بن غَزْوَانؓ کے ہاتھ سے عمل میں آئی تھی۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ310 دار الکتب العلمیۃ بیروت، 2012ء)

تاریخ کی اَور کتابوں میں جنگِ اُبُلَّہ کا ذکر اس طرح آیا ہے۔ بعض مؤرخین اس کو پہلی بار حضرت ابوبکرؓ کے عہد مبارک میں ہونا بیان کرتے ہیں اور بعض اس کی تردید کرتے ہیں کہ یہ جنگ حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں نہیں بلکہ حضرت عمرؓ کے عہد میں ہوئی تھی لیکن کتب تاریخ میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ اور دونوں کے عہد مبارک میں جنگ اُبُلَّہ اور اُبُلَّہ کی فتح کا ذکر ملتا ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس کی پہلی بار فتح حضرت ابوبکرؓ کے عہد مبارک میں ہوئی تھی لیکن بعد میں ایرانیوں کی بحری امداد کے بل بوتے پر اہلِ اُبُلَّہ نے بغاوت کر کے آزادی حاصل کر لی۔ پھر حضرت عمرؓ کے عہد مبارک میں یہ دوبارہ فتح ہوا۔

(الصدیقؓ، ازپروفیسر علی محسن صدیقی، صفحہ128)

بہرحال

اُبُلّہ کی جنگ کی تفصیل

کچھ یوں ہے جنگِ ذَاتُ السَّلَاسِل کے اختتام پر حضرت خالد بن ولیدؓ نے حضرت مُثَنّٰی کو ایرانیوں کے شکست خوردہ لشکر کے تعاقب میں بھیجا اور ساتھ ہی حضرت مَعْقَلؓ کو اُبُلَّہ بھیجا کہ وہاں پہنچ کر مال غنیمت جمع کر لیں اور قیدیوں کو گرفتار کر لیں۔ چنانچہ مَعْقَل وہاں سے روانہ ہو کر اُبُلَّہ پہنچے اور مالِ غنیمت اور قیدی جمع کر لیے۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ310)

بعد میں حضرت عمرؓ کے عہدِ مبارک میں اس کی فتح کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عتبہ بن غزوانؓ کو چودہ یا سولہ ہجری میں بصرہ کی طرف روانہ فرمایا۔ حضرت عتبہؓ وہاں ایک مہینہ رہے۔ اہلِ اُبُلّہ ان کے مقابلے کے لیے نکلے۔ یہ پانچ سو عجمی سپاہی تھے جو اُبُلّہ کی حفاظت پر مامور تھے۔ حضرت عتبہؓ نے ان لوگوں سے لڑائی کی اور انہیں شکست دی یہاں تک کہ ایرانی شہر کے اندر گھس گئے اور حضرت عتبہؓ اپنے لشکر میں لوٹ آئے۔ اللہ نے فارسیوں کے دل میں رعب ڈال دیا، وہ شہر سے نکل گئے اور تھوڑا بہت سامان لے کر کشتیوں میں بیٹھے اور دریا عبور کر کے چلے گئے۔ اس طرح پورا شہر خالی ہو گیا۔ مسلمان شہر میں داخل ہو گئے یہاں پر مسلمانوں کو کافی سامان ہتھیار اور دیگر مختلف چیزیں ہاتھ آئیں اور قیدی بھی ملے۔ اس سارے سامان کا خُمُس نکال کر باقی مالِ غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا گیا۔ مسلمانوں کی تعداد تین سو تھی۔

(ماخوذ از الکامل فی التاریخ جلد2 صفحہ335 دارالکتب العلمیۃ بیروت 2006ء)

پھر

ایک جنگ مَذَارْ

ہے۔ جنگِ مَذَارْ: یہ معرکہ صفر بارہ ہجری میں ہوا۔ جنگ بارہ ہجری میں لڑی گئی۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ311 دارالکتب العلمیۃ بیروت 2012ء)

مَذَارْ مَیْسَان کا قصبہ ہے۔ مَذَارْ اور بصرہ کے درمیان چار دن کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔

(معجم البلدان جلد5 صفحہ104، المَذَارْ، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

اس واقعہ کے روز لوگوں کی زبان پر یہ فقرہ تھا کہ صفر کا مہینہ آ گیا ہے اور اس میں ہر ظالم سرکش قتل ہو گا جہاں دریا اکٹھے ہوتے ہیں۔ ہُرمُز ذَاتُ السَّلَاسِل کی جنگ میں حضرت خالد بن ولیدؓ کے مدمقابل تھا اس نے اپنے بادشاہ کو مدد کے لیے لکھا تھا۔ بادشاہ نے اس کی مدد کے لیے قَارِن کی قیادت میں ایک لشکر بھیجا مگر وہ لشکر ابھی مَذَارْ کے مقام پر پہنچا تھا کہ اس کو جنگ ذَاتُ السَّلَاسِل میں ہُرمُز کی شکست کی اور اس کے مارے جانے کی اطلاع ملی اور ساتھ ہی ہُرمُز کی فوج کے شکست کھائے ہوئے دستے بھی مَذَارْ میں قَارِن سے آ ملے اور ان میں سے بعض دستوں کے سپاہیوں نے دوسرے دستوں کے سپاہیوں سے کہا کہ اگر آج تم متفرق ہو گئے تو پھر کبھی جمع نہیں ہو سکو گے۔ اس لیے ایک دم واپسی کے لیے اکٹھے ہوجاؤ۔ وہ دوڑی ہوئی فوج جو تھی وہ بھی اور جو نئی کمک آ رہی تھی یا نئی فوج جو ایران سے آرہی تھی دونوں مل گئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو اس بات پر جوش دلایا کہ جنگ ہونی چاہیے۔ جو دوڑے ہوئے تھے انہوں نے کہا یہ بادشاہ کی مدد پر مشتمل نیا لشکر آن پہنچا ہے۔ اور یہ اس کا سپہ سالار قَارِن ہمارے ساتھ ہے ممکن ہے کہ خدا ہمیں غلبہ عطا کرے اور ہمارے دشمن سے ہمیں نجات عطا فرمائے اور ہم اپنے نقصانات کی کسی قدر تلافی کر لیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے مَذَارْ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ قَارِن نے ہراول دستے پر قبُاَذ اور اَنُوشَجَان کو مقرر کیا جو جنگِ ذات السلاسل میں فرار ہو گئے تھے۔ دوسری طرف دشمن کی اس تیاری کی اطلاع حضرت مُثَنّٰی اور حضرت مُعَنّٰی نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو بھیج دی۔ حضرت خالدؓ نے قَارِن کی اطلاع پاتے ہی معرکہ ذات السلاسل میں حاصل ہونے والا مالِ غنیمت انہی مجاہدین میں تقسیم کر دیا جن کو خدا نے وہ مال غنیمت دیا تھا اور خُمُس میں سے مزید جس قدر چاہا دیا اور معرکۂ ذات السلاسل میں حاصل ہونے والا باقی مال غنیمت اور اس معرکے میں جو فتح ہوئی تھی اس کی خوشخبری حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں بھجوا دی اور اس امر سے بھی مطلع کر دیا کہ معرکۂ ذات السلاسل میں دشمنوں کی ہزیمت خوردہ افواج اور قَارِن کی سربراہی میں آنے والا نیا لشکر ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت خالدؓ روانہ ہوئے اور مَذَارْ میں قَارِن کی فوج کے مقابلے پر آئے اور اپنی فوج کی صف آرائی کی۔ دونوں طرف سے مقابلہ ہوا۔ دونوں حریفوں کی نہایت غیظ و غضب کی حالت میں مڈھ بھیڑ ہوئی۔ قَارِن مبارزت کے لیے میدان میں نکلا۔ دوسری طرف سے اس کے مقابل کے لیے حضرت خالدؓ اور حضرت معقل بن اَعْشیٰ آگے بڑھے۔ دونوں قَارِن کی طرف لپکے مگر حضرت مَعْقَلؓ نے حضرت خالدؓ سے پہلے قَارِن کوجا لیا اور اسے قتل کر دیا۔ حضرت عاصمؓ نے اَنُوشَجَان کو اور حضرت عدی نے قُبَاذ کو قتل کر دیا۔ ان تینوں سرداروں کے مارے جانے سے ایرانی حوصلہ ہار بیٹھے اور میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ اس جنگ میں اہل فارس کی بہت بڑی تعداد ماری گئی اور جو لوگ پسپا ہوئے وہ اپنی کشتیوں میں سوار ہو کر بھاگے۔ حضرت خالدؓ نے مَذَارْ میں قیام کیا اور ہر مقتول کا سامان خواہ وہ کسی قیمت کا ہو اسی مجاہد کو عطا کیا جس نے اسے قتل کیا تھا اور مال فَے کو بھی ان میں تقسیم کیا نیز خمس میں سے ان لوگوں کو حصہ دیا جنہوں نے نمایاں کارنامے سرانجام دیے تھے اور خمس کے باقی حصہ کو ایک وفد کے ساتھ حضرت سعید بن نعمان کی سرکردگی میں مدینہ روانہ کر دیا۔ ایک روایت کے مطابق اس جنگ میں تیس ہزار ایرانی قتل ہوئے اور یہ ان کے علاوہ ہیں جو نہر میں ڈوب کر مر گئے اور کہا جاتا ہے کہ اگریہ پانی مانع نہ ہوتا تو ان میں سے ایک بھی نہ بچتا۔ پھر بھی جو لوگ بچ کر بھاگے وہ بہت پراگندہ حال اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھاگے۔ جنگ کے بعد لڑائی میں حصہ لینے والوں اور ایرانی فوج کی حمایت کرنے والوں کو مع اہل و عیال کے قید کر لیا گیا۔ ان قیدیوں میں ابوالحسن بصری بھی شامل تھے۔ ابوالحسن بصری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امام حسن بصری کے والد تھے جو کہ بصرہ کے مشہور واعظ اور صوفی تھے، مسلمان ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ابوالحسن بصری کو قید کرنے کے بعد مدینہ لایا گیا جہاں ان کی مالکہ نے انہیں آزاد کر دیا تھا۔

(ماخوذ ازتاریخ الطبری جلد2 صفحہ312،311، دارالکتب العلمیۃ بیروت 2012ء)
(ماخوذ از اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد8 صفحہ262)

اس فتح کے بعد عام رعایا سے بے حد نرمی کا سلوک کیا گیا۔ کاشتکاروں اور ان تمام لوگوں کو بغیر کسی قسم کی تکلیف پہنچائے جزیہ کی ادائیگی پر آمادہ کر دیا گیا اور انہیں ان کی زمینوں اور جگہوں پر برقرار رکھا گیا۔ ان ابتدائی امور سے فراغت حاصل کر کے

حضرت خالدؓ نے مفتوحہ علاقے کے نظم و نسق کی طرف توجہ کی۔

جزیہ وصول کرنے کے لیے جا بجا عُمَّال مقرر کیے گئے۔ مفتوحہ علاقے کی حفاظت کے لیے انہوں نے حَفِیر اور جِسْرِِ اعظم یعنی سب سے بڑے پل پر فوجیں متعین کر رکھی تھیں، ان کا انتظام اَور بہتر بنایا گیا اور فوجوں کے تمام دستوں کو مختلف افسروں کے زیر نگرانی دے کر انہیں دشمنوں کی خفیہ اور اعلانیہ سرگرمیوں سے خبردار رہنے اور موقع پڑنے پر ان کا مقابلہ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ خالد کی جنگی مہارت کا ثبوت اس سے بڑھ کر اَور کیا ہو گا کہ

سرزمینِ ایران میں ان کی پیش قدمی کے آغاز ہی سے کسریٰ کی طاقتور فوجیں مغلوب ہونی شروع ہو گئیں اور ان کے دم خم، حوصلے اور ولولے سب سرد پڑ گئے۔

جنگ مَذَارْ حِیْرَہ سے کچھ ہی فاصلے پر ہوئی تھی۔ حِیْرَہ خلیج اور مدائن کے تقریباً درمیان میں واقع ہے۔

(حضرت ابوبکر صدیق اکبرؓ از محمد حسین ہیکل صفحہ275 مترجم شیخ محمد احمد پانی پتی علم وعرفان پبلشرز لاہور2004ء)

اس جنگ کے بعد کے معاملات سے فارغ ہونے کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ دشمن کی نقل و حرکت کی خبروں کی جستجو میں لگ گئے۔ (تاریخ الطبری جلد2 صفحہ312، دارالکتب العلمیۃ بیروت 2012ء) تا کہ دیکھیں دشمن کی کیا موومنٹ ہے۔ وہ دوبارہ اسلام کے خلاف اکٹھے تو نہیں ہو رہے؟

جنگ وَلَجہ

ایک جنگ ہے۔ جنگِ وَلَجَہ۔ صفر بارہ ہجری میں ہوئی۔ وَلَجَہ کَسْکَر کے قریب خشکی کا علاقہ ہے۔ جنگ مَذار میں ایرانیوں کو جس شرمناک شکست کا سامان کرنا پڑا کہ اس میں ان کے بڑے بڑے سردار بھی مارے گئے تھے۔ اس پر ایرانی شہنشاہ نے ایک اَور حکمت عملی طے کرتے ہوئے اَور زیادہ تیاری کے ساتھ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ چنانچہ ایرانی حکومت نے عراق میں بسنے والے عیسائیوں کے ایک بہت بڑے قبیلہ بَکْر بن وَائِل کے سرکردہ لوگوں کو دربارِ ایران میں بلایا اور ان کو مسلمانوں کے ساتھ لڑنے پر آمادہ کر کے ایک لشکر ترتیب دیا اور اس لشکر کی قیادت ایک مشہور شہسوار اَنْدَرْزَغَرْ کے ہاتھ میں دی اور یہ لشکر وَلَجَہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ عراق میں عیسائیوں کا ایک بہت بڑا قبیلہ بکر بن وائل آباد تھا۔ شہنشاہ اَرْدَشِیْر نے انہیں طلب کیا اور ان کی ایک فوج مرتب کر کے انہیں مسلمانوں سے معرکہ آرائی کے لیے وَلَجَہ کی جانب روانہ کر دیا۔ حِیْرَہ اور کَسْکَر کے نواحی علاقوں کے لوگ اور کسان بھی اس لشکر کے ساتھ مل گئے۔ حِیْرَہ کوفہ سے تین میل جنوب مغرب میں ایک شہر ہے۔ کَسْکَر کوفہ اور بصرہ کے درمیان ایک قصبہ تھا۔ بہرحال لیکن اس خیال سے کہ مسلمانوں پر فتح یابی کا فخر مکمل طور پر عیسائی عربوں کے حصہ میں نہ آئے اپنے ایک بڑے سپہ سالار بَہْمَنْ جَاذْوَیہ کو بھی ایک بھاری لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے ہی روانہ کر دیا۔

(تاریخ طبری جلد دوم صفحہ312۔ دار الکتب العلمیۃ 2012)
(حضرت ابو بکر صدیق از محمد حسین ہیکل مترجم صفحہ287-288)

جب اس فارسی سردار کو یہ محسوس ہوا کہ ان کی فوج بہت بڑی ہو گئی ہے تو اس نے حضرت خالد بن ولیدؓ پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو فارسی فوج کے وَلَجہ میں جمع ہونے کی خبر ملی اس وقت آپؓ بصرہ کے قریب تھے۔ آپؓ نے مناسب سمجھا کہ فارسی فوج پر تین جہات سے حملہ کریں تاکہ ان کی جمعیت منتشر ہو جائے اور اس طرح اچانک حملے سے فارسی فوج پریشانی کا شکار ہو جائے۔

(سیدنا ابو بکر صدیق از ڈاکٹر علی محمد صلابی مترجم صفحہ406)

چنانچہ آپؓ نے سُوَید بن مُقَرِّن کو قائمقام مقرر کیا اور انہیں حفیر میں ہی قیام پذیر ہونے کا حکم دیا اور ان لوگوں کے پاس پہنچے جن کو دِجْلَہ کے زیریں جانب چھوڑا ہو اتھا۔ ان کو حکم دیا کہ دشمن سے ہر وقت چوکنے رہیں اور غفلت اور فریب میں مبتلا نہ ہوں اور اپنی فوج کو لے کر وَلَجَہ کی طرف پیش قدمی کی اور دشمن کے لشکر اور اس کی معاون جماعتوں کے مقابلے پر اترے اور شدید ترین جنگ ہوئی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوج کے دونوں طرف مجاہدین کے ذریعہ گھات لگا رکھی تھی۔ آخر کار گھات لگائے ہوئے دونوں دستے دونوں طرف سے دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ ایرانیوں کی فوجیں شکست کھا کر بھاگیں مگر حضرت خالد بن ولیدؓ نے سامنے سے اَور گھات لگائے ہوئے دونوں دستوں نے پیچھے سے ان کو ایسا گھیرا کہ وہ بوکھلا گئے یہاں تک کہ کسی کو اپنے ساتھی کے قتل کی بھی پروا نہ رہی۔ دشمن فوج کا سپہ سالار ہزیمت خوردہ ہو کر بالآخر مارا گیا۔ کاشتکاروں کے ساتھ حضرت خالد بن ولیدؓ نے وہی سلوک کیا جو ان کا طریق تھا یعنی ان میں سے کسی کو قتل نہیں کیا۔ صرف جنگجو لوگوں کی اولاد اور ان کے معاونین کو گرفتار کیا اور عام باشندگان ملک کو جزیہ دینے اور ذِمّی بن جانے کی دعوت دی جس کو ان لوگوں نے قبول کر لیا۔

(تاریخ طبری جلد2 صفحہ312 دار الکتب العلمیۃ 2012ء)

پھر

جنگ اُلَّیْس

کا ذکر ہے۔ جنگ اُلَّیْس ماہ صفر بارہ ہجری میں ہوئی۔ اُلَّیْس بھی عراق میں اَنْبَار کی بستیوں میں سے ایک بستی تھی۔ حضرت خالدؓ کے ہاتھوں وَلَجَہ کے دن قبیلہ بکر بن وائل اور ایرانیوں کو پہنچنے والی ایک اَور عبرتناک شکست سے ان کے ہم قوم عیسائی غضبناک ہو گئے۔ انہوں نے ایرانیوں کو اور ایرانیوں نے ان کو خطوط لکھے اور اُلَّیْس کے مقام پر سب جمع ہو گئے۔ ان کا سردار عَبْدُالْاَسْوَد عِجْلِی مقرر ہوا۔ اسی طرح ایرانی بادشاہ نے بَہْمَنْ جَاذْوَیہ کو خط لکھا کہ تم اپنے لشکر کو لے کر اُلَّیْس پہنچو اور فارس اور عرب کے نصاریٰ میں سے جو لوگ وہاں جمع ہیں ان سے جا ملو لیکن بَہْمَنْ جَاذْوَیہ خود تو لشکر کے ساتھ نہ گیا البتہ اس نے اپنی جگہ ایک اَور نامور بہادر جَابَانْ کو روانہ کیا اور اس کو حکم دیا کہ لوگوں کے دلوں میں جنگ کا جوش پیدا کرو مگر میرے آنے تک دشمن سے لڑائی شروع نہ کرنا سوائے اس کے وہ خود پہل کریں۔ جَابَانْ اُلَّیْس کی طرف روانہ ہوا۔ بَہْمَنْ جَاذْوَیہ خود ایرانی بادشاہ اَرْدَشِیر کے پاس گیا تا کہ اس سے مشورہ کرے مگر یہاں آ کر دیکھا کہ بادشاہ بیمار پڑا ہے۔ اس لیے بَہْمَنْ جَاذْوَیہ تو اس کی تیمارداری میں لگ گیا اور جَابَانْ کو کوئی ہدایت نہ بھیجی۔ جَابَانْ اکیلا لشکر کے ہمراہ محاذ جنگ کی طرف روانہ ہو کر ماہ صَفَر میں اُلَّیْس پہنچا۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ313، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان 2012ء)
(معجم البلدان جلد1 صفحہ294، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مختلف قبائل اور حِیْرَہ کے نواحی علاقوں کے عرب عیسائی جَابَانْ کے پاس جمع ہو گئے۔ حضرت خالدؓ کو جب ان عیسائی گروہوں کے اکٹھا ہونے کی اطلاع ملی تو آپ ان کے مقابلے کے لیے نکلے مگر آپ کو معلوم نہ تھا کہ جَابَانْ بھی قریب آ گیا ہے۔ حضرت خالدؓ صرف ان عربوں اور نصرانیوں سے لڑنے کے ارادے سے آئے تھے مگر اُلَّیْس میں جَابَانْ سے سامنا ہو گیا۔ جب جَابَانْ اُلَّیْس پہنچا تو اس موقع پر عجمیوں نے جَابَانْ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے۔ آیا پہلے ہم ان کی خبر لیں یا لوگوں کو کھانا کھلا دیں۔ یعنی جنگ شروع کریں یا پہلے کھانا کھا لیں اور پھر کھانے سے فارغ ہو کر ان سے جنگ کریں۔ جَابَانْ نے کہا کہ اگر دشمن تم سے کوئی تعرض نہ کریں تو تم بھی خاموش رہو لیکن میرا خیال ہے کہ وہ تم پر اچانک حملہ کریں گے اور تمہیں کھانا نہیں کھانے دیں گے۔ ان لوگوں نے جَابَانْ کی بات نہ مانی۔ دسترخوان بچھائے۔ کھانا چنا گیا اور سب کو بلا کر کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے۔

(ماخوذا ز الکامل فی التاریخ جلد2 صفحہ241، دارالکتب العلمیۃ بیروت، 2006ء)

حضرت خالدؓ دشمن کے مقابل پر پہنچ کر ٹھہر گئے۔ سامان اتارنے کا حکم دیا۔ اس کام سے فراغت ہوئی تو دشمن کی طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت خالدؓ نے اپنے عقب کی حفاظت کے لیے محافظ دستے مقرر کیے اور دشمن کی صف کی طرف بڑھ کر للکارتے ہوئے کہا۔ اَبْجَر کہاں ہے؟ عبدالاسود کہاں ہے؟ مالک بن قَیس کہاں ہے؟ مالک کے علاوہ باقی سب بزدلی کی وجہ سے خاموش رہے۔ مالک آپ کے مقابلے کے لیے نکلا۔ حضرت خالدؓ نے اس سے کہا: ان سب میں سے تجھے میرے مقابل پر آنے کی کس بات نے جرأت دلائی ہے؟ تجھ میں میرا مقابلہ کرنے کی طاقت کہاں! یہ کہہ کر آپؓ نے اس پر وار کیا اور اسے قتل کر دیا اور عجمیوں کو قبل اس کے کہ وہ کچھ کھائیں، دستر خوان پر سے اٹھا دیا۔ جَابَانْ نے اپنے لوگوں سے کہا کیا مَیں نے تم سے پہلے نہیں کہا تھا کہ کھانا شروع نہ کرو۔ بخدا! مجھے کسی سپہ سالار سے ایسی دہشت نہیں ہوئی ہے جیسی کہ آج اس لڑائی میں ہو رہی ہے۔ جب وہ لوگ کھانا کھانے پر قادر نہ ہو سکے تو اپنی بہادری جتانے کے لیے کہنے لگے کہ کھانے کو فی الحال ہم چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ ہم مسلمانوں سے فارغ ہو لیں پھر ہم کھانا کھا لیں گے۔ جَابَانْ نے کہا کہ بخدا میرا گمان یہ ہے کہ تم نے یہ کھانا دشمن کے لیے رکھ چھوڑا ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ تم لوگ جیت جاؤ گے اور پھر کھا لو گے بلکہ مجھے لگتا ہے یہ کھانا تو تمہارا دشمن ہی کھائیں گے یعنی مسلمان ہی کھائیں گے جبکہ تم شعور نہیں رکھتے۔ تو پھر اس نے لوگوں کو کہا میری بات مانو تو یہ ہے کہ کھانے میں زہر ملا دو۔ اگر تمہاری فتح ہوئی تو یہ نقصان بہت کم ہے کھانا ضائع ہونے کا اور اگر فتح دشمن کی ہوئی تو تم کوئی ایسا کام کر چکے ہو گے جس سے دشمن زہریلا کھانا کھانے کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا ہوگا۔ مگر وہ لوگ جو تھے ان کو تو اپنی فتح کا پختہ یقین تھا۔ ان لوگوں نے کہا کہ نہیں اس کی، زہر ملانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم آرام سے جنگ جیتیں گے اور پھر کھانا کھائیں گے۔ حضرت خالدؓ نے اپنی فوج کی صف آرائی اس طرح کی جیسا کہ اس سے پہلے کی لڑائیوں میں کر چکے تھے۔ شدید ترین لڑائی ہونے لگی۔ ایرانیوں کو بَہْمَنْ جَاذْوَیہ کے آنے کی توقع تھی اس لیے خوب جم کر بڑی شدت سے لڑے کیونکہ جَابَانْ ان کو امید دلا رہا تھا کہ وہ ایک بڑا لشکر لے کر چل پڑا ہے اور ابھی پہنچنے ہی والا ہے جبکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ بہمن کو تو ایرانی بادشاہ کے بیمار ہونے کی وجہ سے نہ تو بادشاہ سے صورتحال ذکر کرنے کا موقع ملا اور نہ ہی وہ خود لشکر لے کر آ سکتا تھا بلکہ اس کا جَابَانْ سے کسی قسم کا رابطہ بھی نہ رہا تھا۔ بہرحال اس جنگ میں مسلمان بھی ان کے خلاف خوب جوش اور غضب میں آئے بڑی سخت جنگ ہوئی۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ313 دارالکتب العلمیۃ بیروت 2012ء)

ایرانی فوج کے جوش و جذبہ اور مسلمانوں کی کمزور پڑتی حالت کا ذکر کرتے ہوئے ایک سیرت نگار لکھتا ہے کہ

ایرانی لشکر میں سے پہلے عیسائیوں نے حملہ کیا لیکن ان کا سردار مالک بن قیس مارا گیا۔ اس کا مارا جانا تھا کہ ان کی ہوا اکھڑ گئی اور وہ بددل ہو گئے۔

یہ دیکھ کر جَابَانْ نے ایرانی فوج کو آگے جھونک دیا۔ ایرانی اس امید پر کہ ابھی بہمن نئی کمک لے کر آیا چاہتا ہے خوب دلیری سے لڑے۔ مسلمانوں نے بار بار حملے کیے لیکن ہر بار ایرانیوں نے کمال پامردی اور مستقل مزاجی سے حملے کو ناکام بنا دیا۔ بالآخر حضرت خالد بن ولیدؓ نے مادی اسباب و ذرائع کو ناکافی ہوتا دیکھ کر بڑی عاجزی سے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی اور عرض کی کہ اے اللہ! اگر تو مجھے دشمنوں پر غلبہ عطا فرمائے گا تو میں کسی ایک دشمن کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا اور یہ دریا ان کے خون سے سرخ ہو جائے گا۔ بعض کتب میں ہے کہ حضرت خالدؓ نے قَسم کھائی تھی یا نذر مانی تھی کہ اگر اس جنگ میں فتح ہو گئی تو کسی بھی دشمن جنگجو کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ بہرحال اس کے بعد حضرت خالدؓ نے جنگی چال چلتے ہوئے فوج کو دائیں اور بائیں جانب سے ایرانی لشکر کے عقب پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ اس حملے سے ایرانی لشکر تتر بتر ہو گیا اور اسے بھاگنے یا ہتھیار ڈالنے میں ہی عافیت نظر آئی۔ حضرت خالدؓ نے حکم دیا کہ دشمن کو پکڑ کر قیدی بنا لو اور مقابلہ کرنے والوں کے سوا کسی کو قتل نہ کرو۔ صرف ان کو قتل کرنا جو مقابلہ کرتے ہیں۔

(سیرت سیدنا صدیق اکبرؓ، صفحہ 671-672، منسوب بہ استاذ عمرابوالنصر، مترجم)
(تاریخ طبری اردو جلد2 صفحہ564 دارالاشاعت)

اس بارے میں ریسرچ سیل کا ایک نوٹ ہے اور میں نے بھی دیکھا ہے۔ یہی بات صحیح لگتی ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے تاریخ طبری سمیت اکثر سیرت نگاروں اور مورخین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت خالدؓ نے اپنی اس دعا میں جو عہد کیا تھا اس کے مطابق ایک دن اور ایک رات ان قیدیوں کو قتل کر کے نہر میں ڈالا گیا تاکہ اس کا پانی خون سے سرخ ہو جائے یعنی انہوں نے نہ صرف جنگ کرنے والوں سے جنگ لڑی بلکہ قیدیوں کو بھی قتل کر دیا اور اس وجہ سے یہ نہر آج تک نہر الدم یعنی خون کی نہر کے نام سے مشہور ہے۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ314 دار الکتب العلمیۃ بیروت 2012ء)

لیکن بہرحال

یہ حقیقت نہیں لگتی کہ قیدیوں کو قتل کر کے پھر نہر میں خون پھینکا گیا ہو اور سیرت نگاروں نے اس میں کچھ تساہل یا مبالغہ سے کام لیا ہے یا عین ممکن ہے کہ وہ ذہن جو اسلامی جنگوں میں جان بوجھ کر ظلم و بربریت کی جھوٹی کہانیاں شامل کرنے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے تھے انہوں نے جہاں موقع ملا اپنی طرف سے ایسے واقعات کو شامل کر دیا تھا۔

تاریخ نگاروں میں بعض دشمن بھی تھے تو ایسے دشمنی رکھنے والے یا کینہ رکھنے والے جو مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی ایسی بات لکھ دیا کرتے تھے انہوں نے لکھ دیا ہو کہ قیدیوں کو قتل کر کے نہر میں بہا دیا لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ بہرحال ایسی کوئی بات شامل کی گئی ہے تاکہ دجل اور فریب سے لوگوں کے سامنے یہ پیش کریں کہ دیکھیں کس طرح مسلمانوں نے ظلم و ستم کیے اور نہتے قیدیوں کو قتل کیا گیا۔ ہرچند کہ اول تو قیدیوں کو قتل کرنا اس وقت کے قواعد و ضوابط اور جاری جنگی اصولوں کی رو سے کوئی قابل اعتراض امر بھی نہیں تھا لیکن اسلامی جنگوں نے خصوصاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک اور عہد خلافت راشدہ کی جنگوں میں واقعۃً ایسا ہوا بھی نہیں کہ قیدیوں کو اس طرح قتل کیا گیا ہو۔ ہرچند کہ ان جنگوں میں ہزاروں لاکھوں تک مقتولین کی تعداد ملتی ہے لیکن یہ سب وہ تھے کہ جو حالتِ جنگ میں مارے گئے تھے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ جیسے سپہ سالار کی جنگوں کا مطالعہ کیا جائے تو انہوں نے بھی جہاں تک ممکن ہوا میدان جنگ میں بھی ہر اس شخص کی جان بخشی ہی کی ہے جس نے ہتھیار پھینک دیے یا اطاعت قبول کر لی اور جس کو بھی قتل کیا باوجود تاریخ نگاروں کی افسانہ طرازی کے تحقیق کرنے پر اس کے قتل کی ٹھوس وجوہ اور اسباب موجود پائے گئے ہیں۔ بہرحال اس واقعہ کو دیکھا جائے تو یہ بھی کچھ بناوٹی قصہ زیادہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ مورخین اور سیرت نگار جو کہ ان جگہوں کی تمام تر تفصیلات بیان کرتے ہیں اور بیان کرتے ہوئے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی ذکر کرتے ہیں ان میں سے بعض نے اس واقعہ کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بنائی گئی باتیں ہیں۔ اور ایک مصنف نے جو بہت آزادانہ رائے رکھتے ہوئے تاریخ کو بیان کرتے ہیں اور قابل اعتراض حد تک ایسی باتیں بھی بیان کر جاتے ہیں کہ جس سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا وہ بھی اس واقعہ کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ راویوں نے یہ روایت بیان کر کے مبالغہ آرائی کی انتہا کر دی ہے۔ اتنا یقینی ہے کہ خالد نے قتلِ دشمنانِ اسلام میں اتنا تشدد برتا تھا کہ اسے دیکھ کر قعقاع اور اس کے ساتھیوں سے رہا نہ گیا۔

(حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ از ڈاکٹر طٰہٰ حسین، صفحہ85-86)

اسی طرح ایک مصنف نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔ یعنی سختی تو کی تھی قیدیوں پر لیکن قتل کرنا یہ غلط ہے۔ اسی طرح ایک مصنف نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ

عملاً یا حقیقی طور پر ایرانیوں کو نہر میں قتل کر کے پھینکا نہیں گیا تھا۔

چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ حضرت خالدؓ نے پھرتی سے حملے کر کے عیسائیوں کو اس طرح کاٹنا اور ایرانی صفوں کو زیر و زبر کرنا شروع کیا جیسے وہ مٹی کے بنے ہوئے ہوں اور گوشت پوست کے انسان نہ ہوں۔ چونکہ ایرانی لمبائی میں دور تک پھیلے ہوئے تھے اس لیے انہوں نے ہلالی صورت میں آدھا دائرہ بنا لیا تھا اور بڑھ کر مسلمانوں کو نرغے میں لے لیا۔ اب صورت یہ ہو گئی کہ مسلمانوں کے چاروں طرف ایرانی اور عیسائی عرب چھا گئے اور بڑے جوش سے لڑنے لگے لیکن

جس جوش و خروش سے مسلمان لڑ رہے تھے وہ عیسائیوں میں نہیں تھا۔

ہر مسلمان خونخوار شیر بن گیا اور زور دار حملے کر کے عیسائیوں کو گھاس پھوس کی طرح کاٹ رہا تھا۔ اگرچہ ایرانی بھی مسلمانوں کو شہید اور زخمی کر رہے تھے لیکن مسلمان بہت کم گر رہے تھے اور جو زخمی ہوتا وہ اَور بھی جوش کے ساتھ لڑنے لگتا تھا۔ ایرانی اس کثرت سے مر رہے تھے کہ ان کی لاشوں سے میدان اٹا پڑا تھا اور جو ایرانی زخمی ہو جاتا تھا وہ میدان جنگ سے ہٹ جاتا تھا۔ مسلمانوں نے اس قدر خونریزی کی کہ ان کے کپڑوں پر خون کے دھبے جم گئے۔ خالد بن ولید کے کپڑوں کا بھی یہی حال تھا۔ ایرانیوں کے خون سے زمین سیراب ہو گئی اور فالتو خون پانی کی طرح بہنے لگا۔ آخر ایرانیوں کو ہزیمت ہوئی اور وہ بدحواس ہو کر بھاگے۔ مسلمان ان کے پیچھے لگ گئے اور دور تک انہیں قتل اور گرفتار کرتے چلے گئے اور ایرانی ایسے بدحواس ہو کر بھاگے کہ ان کے ہزاروں سپاہی دریا میں گر کر ڈوب گئے۔ جب ایرانی دور نکل گئے تب مسلمان واپس لوٹے۔ اس لڑائی میں ستر ہزار ایرانی مارے گئے۔ مسلمان ایک سو اڑتیس شہید ہوئے۔ بہرحال مورخین کو اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ مسلمانوں نے ایرانیوں کی اتنی بڑی تعداد کو کیسے مار ڈالا۔

(حضرت خالد بن ولیدؓ از صادق حسین صدیقی صفحہ161-162)

ایک تاریخ نگار نے یہ لکھا ہے۔ اس حوالے سے صاف نظر آتا ہے کہ اگر نہر کے پانی کے سرخ ہو جانے والے واقعہ کو درست تسلیم بھی کر لیا جائے تو وہ لوگ جن کی وجہ سے نہر خون سے سرخ ہو گئی وہ انہیں زخمی سپاہیوں کے ڈوبنے کی وجہ سے بھی تو ہو سکتی تھی۔ لہٰذا

کہا جا سکتا ہے کہ ایسے واقعات میں مبالغہ آرائی کی آمیزش بھی کسی حد تک شامل ہو گئی جس کی بنا پر اسلامی جنگوں اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی ذات پر رکیک حملے کرنے والوں کو مواقع ملے۔

یا جنگوں میں مسلمانوں پر وحشیانہ طرز اختیار کرنے کا الزام لگایا گیا۔ بہرحال اللہ بہتر جانتا ہے لیکن بظاہر یہی لگتا ہے کہ صرف الزام لگایا گیا۔

بہرحال جب دشمن ہزیمت اٹھا چکا اور اس کی فوج پراگندہ ہو گئی اور مسلمان ان کے تعاقب سے فارغ ہو کر واپس آ گئے تو حضرت خالدؓ کھانے کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور کہا یہ مَیں تم لوگوں کو دیتا ہوں یہ تمہارے لیے ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوات میں جب میدان چھوڑ کر بھاگنے والے دشمن کا تیار کھانا پاتے تو اس کو اپنی فوج میں تقسیم کر دیتے تھے۔ چنانچہ مسلمان رات کے کھانے کے طور پر اسے کھانے لگے اُلَّیْس کی جنگ میں دشمن کے ستر ہزار آدمی ہلاک ہوئے جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ314، دار الکتب العلمیۃ، بیروت،2012ء)

اَمْغِیْشِیَا کی فتح

کے بارے میں لکھا ہے۔ اَمْغِیْشِیَا کو اللہ نے صَفَر بارہ ہجری میں جنگ کے بغیر ہی فتح کرا دیا تھا۔ اَمْغِیْشِیَا عراق میں ایک جگہ کا نام ہے۔ جب حضرت خالدؓ اُلَّیْس کی فتح سے فارغ ہو گئے تو آپ نے تیاری کی اور اَمْغِیْشِیَا آئے مگر آپؓ کے آنے سے قبل ہی وہاں کے باشندے جلدی سے بستی چھوڑ کر بھاگ گئے اور سَوَادْ میں منتشر ہو گئے۔ عراق میں وہ بستیاں جن کو مسلمانوں نے حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں فتح کیا تو وہاں کھیتوں میں سرسبزی کی وجہ سے اسے سَوَاد کا نام دیا گیا۔ حضرت خالدؓ نے اَمْغِیْشِیَا اور اس کے قرب و جوار میں جو کچھ بھی تھا اسے منہدم کرنے کا حکم دیا۔ اَمْغِیْشِیَا حِیْرَہ کے برابر کا شہر تھا۔ اُلَّیْس اس مقام کی فوجی چوکی تھی۔

مسلمانوں کو اَمْغِیْشِیَا سے اس قدر مال غنیمت حاصل ہوا کہ ذات السلاسل سے لے کر اب تک کسی جنگ میں حاصل نہیں ہوا تھا۔

اس جنگ میں گھڑ سواروں کا حصہ پندرہ سو درہم تھا اور یہ حصہ ان اموال غنیمت کے علاوہ تھا جو کارہائے نمایاں انجام دینے والوں کو دیا گیا تھا۔ اُلَّیْس اور اَمْغِیْشِیَا کی فتح کی اطلاع حضرت خالدؓ نے بنو عِجْل کے ایک جَنْدَل نامی شخص کے ذریعہ روانہ کی تھی جو ایک بہادر گائیڈ کے طور پر مشہور تھے۔ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پہنچ کر اُلَّیْس کی فتح کی خوشخبری، مال غنیمت کی مقدار، قیدیوں کی تعداد، خُمُس میں جو چیزیں حاصل ہوئی تھیں اور جن لوگوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے تھے۔ ان سب کی تفصیل اور خاص طور پر حضرت خالدؓ کی بہادری کے کارنامے بہت عمدگی سے بیان کیے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی شجاعت، پختہ رائے اور فتح کی خبر سنانے کا یہ انداز بہت پسند آیا یعنی جو نمائندہ بھیجا تھا اس کا جو طریق تھا اور اس کی بہادری کے قصے تھے اور جو اندازِ بیان تھا اس کا، وہ حضرت ابوبکرؓ کو بڑا پسند آیا۔ آپؓ نے اس سے پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے عرض کیا میرا نام جَنْدَل ہے۔ آپ نے فرمایا بہت خوب جندل۔ اور پھر آپؓ نے اس کو مال غنیمت میں سے ایک لونڈی دینے کا حکم دیا جس سے اس کے ہاں اولاد پیدا ہوئی۔ اسی طرح اس موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: اب عورتیں حضرت خالد بن ولیدؓ جیسا شخص پیدا نہیں کر سکیں گی۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ314-315، دار الکتب العلمیۃ، بیروت،2012ء)
(حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ از ہیکل صفحہ312 اسلامی کتب خانہ)
(معجم البلدان جلد1 صفحہ301، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
(معجم البلدان جلد3 صفحہ309، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

باقی ان شاء اللہ آئندہ

(الفضل انٹرنیشنل 12؍اگست 2022ء صفحہ 5 تا 9)

پچھلا پڑھیں

نبی کریم ؐکو جو گالی دے اسے قتل کر دو؟

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اگست 2022