• 23 ستمبر, 2021

مطالعہ کتب حضرت مسیح موعودؑ حصول برکات کا ذریعہ

حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے مطالعہ سے جہاں ایک احمدی روحانی علوم ومعارف کے خزانے پاتا ہے اور اسکا ذہن بھی منور ہوتا وہاں اسکا ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ پڑھنے والے پر برکات کا نزول بھی ہوتا ہے خواہ وہ کسی معرفت کے نقطہ مکمل یا جزوی طور پر سمجھ پاتا ہے لیکن اس پر رحمتوں اور برکتوں کا نزول ضرور ہورہا ہوتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ حقیقۃ الوحی میں انبیاء واولیاء اللہ کے روحانی فیوض کے متعلق فرماتے ہیں ‘‘اور بباعث نہایت درجہ فنا فی اللہ ہونے کےاسکی زبان ہروقت خدا کی زبان ہوتی ہے اور اسکا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ ایسا ہی انکے ہاتھوں میں اور پیروں میں اور تمام بدن میں ایک برکت دی جاتی ہے جسکی وجہ سے ان کا پہنا ہوا کپڑا بھی متبرک ہوجاتا ہے اور اکثر اوقات کسی شخص کو چھونا یا اسکو ہاتھ لگانا اسکےامراض روحانی یا جسمانی کے ازالہ کا موجب ٹھہرتا ہے ۔اسی طرح انکے رہنے کے مکانات میں بھی خدائے عزوجل ایک برکت رکھ دیتا ہے وہ مکان بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے خدا کے فرشتے اسکی حفاظت کرتے ہیں۔ اسی طرح انکے شہر یا گاؤں میں بھی ایک برکت اور خصوصیت دی جاتی ہے۔ اسی طرح اس خاک کو بھی کچھ برکت دی جاتی ہے جس پر ان کا قدم پڑتا ہے‘‘ (حقیقۃ الوحی ص18،19) اسی طرح ایک اور جگہ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں ’’اور اسکی زبان اور بیان اورتمام افعال اور اقوال اور حرکات و سکنات میں ایک برکت رکھی جاتی ہے‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص229) چونکہ انکی ہر چیز میں برکت رکھی جاتی ہے اور انکی چیزوں کے قریب جانے والا بھی ان برکتوں سے حصہ پاتا ہے اس لئے حضرت مسیح موعودؑ کی تحریروں کو پڑھنے والا بھی ان برکات اور فیوض سے حصہ پاتا ہے جوان تحریروں میں اس پاک وجود کی وجہ سے رکھی گئی ہیں یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے حدیث میں آیا ہے ’’آپﷺ نے فرمایا جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھے گا اسکو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہوگی میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے‘‘ (سنن ترمذی حدیث نمبر 2919) اسی طرح علی حسب مراتب خدا تعالی اپنے پیاروں کی تحریروں میں بھی برکت رکھتا ہے اسی پہلو کو مزید اجاگر کرنے کیلئے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں

چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں ’’یہ رسائل جو لکھے گئے ہیں تائید الہی سے لکھے گئے ہیں میں انکا نام وحی الہام تو نہیں رکھتا مگریہ ضرور کہتا ہوں کہ خدا تعالی کی خاص اور خارق عادت تائید نے یہ رسالے میرے ہاتھ سے نکلوائے ہیں‘‘ (سر الخلافہ ص6) ایک اور جگہ فرماتے ہیں ’’میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کیلئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کوذندگی بخشتی ہے‘‘

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد3 ص403)

آپؑ کی تحریرات کس قدر برکتیں سمیٹی ہوئی ہیں اسکا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ان تحریرات کے لکھنے والے کو اللہ تعالی نے تحریری خطاب سے نوازا چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالی نے اس عاجز کا نام سلطان القلم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار علی فرمایا‘‘

(تذکرہ ص408)

اس پہلو کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے کیا خوب اجاگر کیا ہے آپؓ فرماتے ہیں ’’جو کتابیں ایک ایسے شخص نے لکھی ہوں جس پر فرشتے نازل ہوتے تھے ان کے پڑھنے سے بھی ملائکہ نازل ہوتے ہیں چنانچہ حضرت صاحب کی کتابیں جو شخص پڑھے گا اس پر فرشتے نازل ہوں گے‘‘ (ملائکۃ اللہ از انوارالعلوم جلد5 ص560) اور فرشتوں کے نزول کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے مِن کُل اَمرٍ سَلام کہ وہ سلامتی اور رحمتوں برکتوں کے سامان لے کر اترتے ہیں لہذاحضورؑ کی کتب کامطالعہ جہاں ہمیں علمی میدان میں نکھارتا ہے وہیں ہمیں پڑھنے کا ثواب بھی ساتھ مل رہا ہوتا ہے۔

پھر خدا تعالی آپؑ کو الہاما فرمایا ’’یا احمدُ فاضَتِ الرَّحمۃ علی شَفَتیک۔ کلام اُفصحت من لدن رب کریم‘‘ (حقیقۃ الوحی ص105) اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری ہے تیرا کلام خدا کی طرف سے فصیح کیا گیا۔ یہ انہی ہونٹوں سے نکلی ہوئی تحریریں ہیں جن پر خدا نے رحمت جاری کی تو جو ان تحریروں کو اپنے ہونٹوں پر لے گا وہ بھی اس رحمت سے حصہ پائیگا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’جماعت کی تربیت کیلئے آج کے زمانے حضرت مسیح موعودؑ کے اقتباسات کو پڑھ کر سنانے سے بہتر اور کوئی طریق نہیں ہے اتنا گہرا اثر رکھتے ہیں‘‘

(الفضل 19اپریل 1998)

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ ’’کتب حضرت مسیح موعودؑکی اہمیت تربیتی پہلو سے بھی بہت ذیادہ ہےان کتب کو پڑھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ خود حضرت مسیح موعودؑ کی مبارک معیت میں موجود ہے اور یوں انسان کے اعمال بہتر سے بہتر ہوتے جاتے ہیں اور انسانی کجیاں روز بروز دور ہوتی جاتی ہیں‘‘ (مشعل راہ جلد دوم ص45) ایک اور موقع پر فرمایا ’’یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہمیں اس امام مہدی اور مسیح محمدی کو ماننے کی توفیق ملی اور ان روحانی خزائن کا ہمیں وارث ٹھہرایا گیا اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم ان بابرکت تحریروں کا مطالعہ کریں تا کہ ہمارے دل اور ہمارے سینے اور ہمارے ذہن اس روشنی سے منور ہوجائیں کہ جس کے سامنے دجال کی تمام تاریکیاں کافور ہوجائیں گی اللہ کرے کہ ہم اپنی اور اپنی نسلوں کی ذندگیاں ان بابرکت تحریرات کے ذریعہ سنوار سکیں‘‘

(پیغام حضور انور۔ برموقع اشاعت روحانی خزائن کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن مؤرخہ 10اگست 2008)

(عدنان ورک)

پچھلا پڑھیں

گفتگو کا سلیقہ

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 ستمبر 2021